"ਜਦੋਂ ਮਹਿਲਾਵਾਂ ਸਮ੍ਰਿੱਧ ਹੁੰਦੀਆਂ ਹਨ, ਤਾਂ ਦੁਨੀਆ ਸਮ੍ਰਿੱਧ ਹੁੰਦੀ ਹੈ"
"ਭਾਰਤ ਵਿੱਚ ਗ੍ਰਾਮੀਣ ਸਥਾਨਕ ਸੰਸਥਾਵਾਂ ਵਿੱਚ ਚੁਣੇ ਗਏ ਨੁਮਾਇੰਦਿਆਂ ਵਿੱਚੋਂ 46% ਮਹਿਲਾਵਾਂ ਹਨ, ਜੋ ਗਿਣਤੀ ਵਿੱਚ 14 ਲੱਖ ਹਨ"
"ਭਾਰਤ ਵਿੱਚ ਮਹਿਲਾਵਾਂ ਨੂੰ 'ਮਿਸ਼ਨ ਲਾਈਫ' - ਵਾਤਾਵਰਣ ਲਈ ਜੀਵਨ ਸ਼ੈਲੀ ਦਾ ਬ੍ਰਾਂਡ ਅੰਬੈਸਡਰ ਬਣਾਇਆ ਗਿਆ ਹੈ"
"ਕੁਦਰਤ ਨਾਲ ਉਨ੍ਹਾਂ ਦੇ ਨਜ਼ਦੀਕੀ ਸਬੰਧਾਂ ਨੂੰ ਦੇਖਦੇ ਹੋਏ, ਮਹਿਲਾਵਾਂ ਕੋਲ ਜਲਵਾਯੂ ਤਬਦੀਲੀ ਦੇ ਨਵੀਨਤਾਕਾਰੀ ਸਮਾਧਾਨਾਂ ਦੀ ਕੁੰਜੀ ਹੈ"
"ਸਾਨੂੰ ਉਨ੍ਹਾਂ ਰੁਕਾਵਟਾਂ ਨੂੰ ਦੂਰ ਕਰਨ ਲਈ ਕੰਮ ਕਰਨਾ ਚਾਹੀਦਾ ਹੈ ਜੋ ਮਹਿਲਾਵਾਂ ਦੀ ਬਾਜ਼ਾਰਾਂ, ਗਲੋਬਲ ਵੈਲਯੂ-ਚੇਨ ਅਤੇ ਕਿਫਾਇਤੀ ਵਿੱਤ ਤੱਕ ਪਹੁੰਚ ਨੂੰ ਸੀਮਤ ਕਰਦੀਆਂ ਹਨ"
"ਭਾਰਤ ਦੀ ਜੀ-20 ਪ੍ਰੈਜ਼ੀਡੈਂਸੀ ਦੇ ਅਧੀਨ, 'ਮਹਿਲਾ ਸਸ਼ਕਤੀਕਰਨ' 'ਤੇ ਇੱਕ ਨਵਾਂ ਕਾਰਜ ਸਮੂਹ ਸਥਾਪਤ ਕਰਨ ਦਾ ਫੈਸਲਾ ਕੀਤਾ ਗਿਆ ਹੈ"

وزیراعظم  جناب نریندرمودی نے آج گجرات کے شہر گاندھی نگر میں منعقدہ  خواتین اختیارکاری کے بارے میں جی ٹوئنٹی وزارتی کانفرنس سے ویڈیو پیغام کے ذریعے خطاب کیا۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، وزیراعظم جناب نریندرمودی نے ممتاز شخصیات کا مہاتما گاندھی کے نام سے منسوب شہر گاندھی نگر میں، اس کے یوم تاسیس کے موقع پر خیرمقدم کیا اور خوشی کا اظہار کیا کہ انہیں احمدآباد میں گاندھی آشرم کا دورہ کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ وزیراعظم نے آب وہوا کی تبدیلی اور عالمی تمازت جیسے مسائل کے فوری اور پائیدار حل تلاش کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی گاندھی آشرم میں گاندھی جی کی طرز زندگی اور ہمہ گیریت، خود کفالت اور مساوات سے متعلق  ان کی بصیرت افروز نظریات کا بذات خود مشاہدہ کرسکتا ہے۔ جناب مودی نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ممتاز شخصیات اس سے ترغیب حاصل کریں گی۔ انہوں نے ڈانڈی کُٹیر میوزیم کے اپنے دورے کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ گاندھی جی کے کتائی کے مشہور چرخہ کو گنگابین نامی ایک خاتون نے پڑوس کے ایک گاؤں میں تلاش کیا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس کے بعد سے گاندھی جی نے کھادی پہننا شروع کردیا جو خود کفالت اور ہمہ گیری کی ایک علامت بن گئی۔

وزیر اعظم نے یہ رائے زنی کرتے ہوئے کہ ’’جب خواتین ترقی کرتی ہیں تو دنیا ترقی کرتی ہے‘‘، اس بات کونمایاں کیا کہ انہیں معاشی لحاظ سے بااختیاربنانے سے ترقی کو فروغ حاصل ہوتا ہے اور تعلیم تک ان کی رسائی،  عالمی ترقی کو آگے بڑھاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کی قیادت سبھی کی شمولیت کو فروغ دیتی ہے اور ان کی آوازوں سے مثبت تبدیلی کی تحریک ملتی ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ،خواتین کی زیر قیادت ترقی کاطریقۂ کارہی  خواتین کو بااختیار بنانے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے اور ہندوستان اس سمت میں زبردست پیش رفت کر رہا ہے۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی صدر، محترمہ دروپدی مرمو خود ایک متاثر کن مثال قائم کر رہی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی رہنمائی کرتی ہیں اور دنیا کی دوسری سب سے بڑی دفاعی فورس کی کمانڈر انچیف کے طور پرفرائض ادا کرتی ہیں ،حالانکہ ان کا تعلق  یک معمولی  قبائلی پس منظر سے ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ  اس مدر آف ڈیموکریسی یعنی مادر جمہوریت میں ہندوستانی آئین نے شروع سے ہی ’ووٹ کا حق‘ خواتین سمیت تمام شہریوں کو مساوی طور پر دیا تھا اور انتخابات میں حصہ لینے کا حق بھی برابری کی بنیاد پر دیا گیا تھا۔وزیر اعظم نے نوٹ کیا کہ منتخبہ خواتین  معاشی، ماحولیاتی اور سماجی تبدیلی کا کلیدی ذریعہ  رہی ہیں اور بتایا کہ ہندوستان کے دیہی بلدیاتی اداروں میں منتخب نمائندگان  میں سے 46 فیصد خواتین ہیں جن کی تعداد14 لاکھ ہے ۔ اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ خواتین کو خود اپنی مدد کرنے والے گروپوں میں متحرک کرنا بھی تبدیلی کے لیے ایک طاقتور قوت ثابت ہوئی  ہے، وزیر اعظم نے ان خود اپنی مدد کرنے والے گروپوں اور منتخب خواتین نمائندگان کو نمایاں کیا ، جو وبائی امراض کے دوران ہماری برادریوں کے لیے معاونت کے ستون کے طور پر ابھری ہیں۔وزیر اعظم نے ان کی کامیابیوں کی مثالیں پیش کیں اور ماسک اور سینیٹائزر کی ملک میں ہی  تیاری اور انفیکشن سے بچاؤ کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کا ذکر کیا۔انہوں نے مزید کہاکہ، "ہندوستان میں 80 فیصد سے زیادہ نرسیں اور دائیاں خواتین ہیں۔ وہ وبائی امراض کے دوران ہمارے دفاع کی پہلی قطار تھیں اور، ہمیں ان کی کامیابیوں اورحصولیابیوں پر فخر ہے"۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ خواتین کی زیر قیادت ترقی حکومت کی کلیدی ترجیح رہی ہے، وزیر اعظم نے ذکر کیا کہ پردھان منتری مدرا یوجنا کے تحت بہت چھوٹی سطح کے  یونٹس کی معاونت  کے لیے 10 لاکھ روپے تک کے تقریباً 70فیصد  قرض خواتین کو منظور کیے گئے ہیں۔ اسی طرح، اسٹینڈ اپ انڈیا کے تحت فائدہ اٹھانے والوں میں 80فیصد خواتین ہیں، جو گرین فیلڈ پروجیکٹوں کے لیے بینک قرض  حاصل کر رہی ہیں۔ اس بات کو اجاگر کرتے ہوئے کہ کھانا پکانے کا صاف ایندھن ،ماحول پر براہ راست اثر ڈالتا ہے اور خواتین کی صحت کو بہتر بناتا ہے، وزیر اعظم نے پردھان منتری اجولا یوجنا کا وضاحت سے ذکر کیا اور بتایا کہ دیہی خواتین کو کھانا پکانے کے تقریباً 100 ملین گیس کنکشن فراہم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ صنعتی تربیتی اداروں میں تکنیکی تعلیم میں خواتین کی تعداد 2014  کے بعدسے دوگنا  ہو گئی ہے۔ ہندوستان  میں ا  یس ٹی ای ایم  (سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، اور ریاضی) کی تقریباً 43 فیصد گریجویٹ خواتین ہیں، اورہندوستان میں تقریباً ایک چوتھائی خلائی سائنسداں  خواتین ہیں۔  انہوں نے کہا کہ ’چندریان، گگن یان اور مشن مارس جیسے ہمارے اہم پروگراموں کی کامیابی کے پیچھے ان خواتین سائنسدانوں کی قابلیت اور محنت ہے‘۔وزیر اعظم نے کہا کہ  آج ہندوستان میں مردوں کے مقابلے زیادہ خواتین اعلیٰ تعلیم میں داخلہ لے رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہندوستان میں شہری ہوابازی  کے شعبے میں خواتین پائلٹوں  کافیصد  سب سے زیادہ ہے جبکہ ہندوستانی فضائیہ میں خواتین پائلٹ بھی لڑاکا طیارے اڑا رہی ہیں۔ جناب مودی نے نوٹ کیا کہ خواتین افسران کو ہماری تمام مسلح افواج میں آپریشنل رول اور لڑائی کے پلیٹ فارم پر تعینات کیا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم نے دیہی زرعی کنبوں کی ریڑھ کی ہڈی اور چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے طور پر ،خواتین کی طرف سے ادا کیے جارہے  اہم کرداروں کو اجاگر کیا۔ وزیراعظم نے فطرت کے ساتھ ان کے قریبی تعلق کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اختراعی حل کی کلید خواتین کے پاس ہے۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ کس طرح خواتین نے 18 ویں صدی میں ہندوستان میں پہلی نمایاں موسمیاتی کارروائی کی قیادت کی ،جب امریتا دیوی کی قیادت میں راجستھان کی بشنوئی برادری نے درختوں کی غیر منظم کٹائی کو روکنے کے لیے 'چپکو تحریک' شروع کی تھی۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ اس نے کئی دیگر گاؤں والوں کے ساتھ مل کر فطرت کی خاطر اپنی جان قربان کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ "ہندوستان میں خواتین 'مشن لائف – آب وہوا کے لیے طرز زندگی ' کے لیے برانڈ ایمبیسیڈر بھی رہی ہیں"، جب کہ  انھوں نے اپنی روایتی حکمت کو کم کرنے، از سرنو استعمال کرنے، از سرنوقابل استعمال بنانے کواجاگر کیا ہے۔وزیر اعظم نے مزید کہا  کہ مختلف پہل قدمیوں کے تحت، خواتین سولر پینلز اور لائٹس بنانے کی سرگرمی سے تربیت حاصل کر رہی ہیں۔ انہوں نے 'سولر ماماس' پہل کا ذکر کیا جو گلوبل ساؤتھ  یعنی خطہ جنوب کے پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ساجھیداری کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

وزیراعظم نے یہ کہتے ہوئے کہ "کاروباری خواتین عالمی معیشت میں اہم شراکت دار ہیں"،  انہوں نے ہندوستان میں خواتین صنعت کاروں کے کردار پر زور دیا۔  انہوں نے کہا  کہ دہائیوں پہلے ، 1959 میں ممبئی میں سات گجراتی خواتین نے  امداد باہمی پر مبنی ایک تاریخی تحریک - شری مہیلا گرہ ادیوگ بنانے کے لیے اکٹھا  ہوئیں، جس نے لاکھوں خواتین اور ان کے خاندانوں کی زندگیوں کو یکسرتبدیل کر دیا۔ جناب مودی نے ان کے سب سے مشہور پروڈکٹ، لجت پاپڑ پر روشنی ڈالی، اور کہا کہ شاید یہ گجرات کے کھانے کے مینو میں ہو گا! انہوں نے دودھ اور دودھ سے بنی مصنوعات کے شعبے کی مثال بھی دی اور بتایا کہ صرف گجرات میں 36 لاکھ خواتین اس شعبے سے وابستہ ہیں۔ جناب مودی نے نشاندہی کی کہ ہندوستان میں تقریباً 15فیصد یونی کورن اسٹارٹ اپس کے بانیوں میں  کم از کم ایک خاتون شامل ہے اور ان خواتین کی زیر قیادت یونی کورن کی مشترکہ قدر  40 بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔ وزیر اعظم نے ایک ایسی سازگار فضا ہموار کرنے پر زور دیا جس میں کامیاب خواتین ایک نمائندہ مثال بن جائیں ۔ انہوں نے اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ دیکھ بھال اور گھریلو کام کاج کے بوجھ کو ایک ہی وقت میں مناسب طریقے سے حل کیا جائے ان رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے کام کرنے پر زور دیا جو  خواتین  کی منڈیوں تک رسائی، عالمی ویلیو چین اور سستے قرض تک رسائی کو محدود کرتی ہیں ۔

اپنا خطاب مکمل کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے خواتین کی صنعت کاری ، قیادت اور تعلیم کے بارے میں وزارتی کانفرنس کی جانب سے توجہ مرکوز کیے جانے کی ستائش  کی اور خواتین کے لیے ڈیجیٹل اور مالیاتی خواندگی  میں اضافہ کرنے کے لیے ’ٹیک-ایکویٹی پلیٹ فارم‘ کا آغاز کیے جانے پر مسرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہندوستان کی جی20 صدارت کے تحت ’خواتین کو بااختیار بنانے‘ کے سلسلے میں ایک نیا ورکنگ گروپ قائم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ گاندھی نگر میں انتھک کوششوں کی بدولت  دنیا بھر کی خواتین کو بے پناہ امید اور اعتماد حاصل ہو گا۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
How Varanasi epitomises the best of Narendra  Modi’s development model

Media Coverage

How Varanasi epitomises the best of Narendra Modi’s development model
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
“If today the world thinks India is ready to take a big leap, it has a powerful launchpad of 10 years behind it”
“Today 21st century India has stopped thinking small. What we do today is the best and biggest”
“Trust in government and system is increasing in India”
“Government offices are no longer a problem but are becoming allies of the countrymen”
“Our government created infrastructure keeping the villages in mind”
“By curbing corruption, we have ensured that the benefits of development are distributed equally to every region of India”
“We believe in Governance of Saturation, not Politics of Scarcity”
“Our government is moving ahead keeping the principle of Nation First paramount”
“We have to prepare 21st century India for its coming decades today itself”
“India is the Future”

The Prime Minister, Shri Narendra Modi addressed the News 9 Global Summit in New Delhi today. The theme of the Summit is ‘India: Poised for the Big Leap’.

Addressing the gathering, the Prime Minister said TV 9’s reporting team represents the diversity of India. Their multi-language news platforms made TV 9 a representative of India's vibrant democracy, the Prime Minister said.

The Prime Minister threw light on the theme of the Summit - ‘India: Poised for the Big Leap’, and underlined that a big leap can be taken only when one is filled with passion and enthusiasm. He said that the theme highlights India’s self-confidence and aspirations owing to the creation of a launchpad of 10 years. In these 10 years, the Prime Minister said, the mindset, self-confidence and good governance have been the major factors of transformation.

The Prime Minister underlined the centrality of the commission citizen in the destiny of India. He emphasized that a mindset of defeat can not lead to victory, in this light, he said that the change in mindset and leap that India has taken is incredible. PM Modi recalled the negative view exposed by the leadership of the past and the overhang of corruption, scams, policy paralysis and dynasty politics had shook the foundation of the nation. The Prime Minister mentioned the turnaround and India entering into the top 5 economies of the world. “India of 21st century India does not think small. Whatever we do, we do best and biggest. World is amazed and sees the benefit of moving with India”, he said.

Highlighting the achievements of the last 10 years compared to the ten years before 2014, the Prime Minister mentioned the record increase in FDI from 300 billion US dollars to 640 billion US dollars, India’s digital revolution, trust in India’s Covid vaccine and the growing number of taxpayers in the country which symbolizes the increasing trust of the people in the government. Speaking about mutual fund investments in the country, the Prime Minister informed that people had invested Rs 9 lakh crore in 2014 while 2024 has seen a meteoric rise to Rs 52 lakh crores. “This proves to the citizens that the nation is moving forward with strength”, PM Modi continued, “The level of trust toward self and the government is equal.”

The Prime Minister said that the government's work culture and governance are the cause of this turn-around. “Government offices are no longer a problem but are becoming allies of the countrymen”, he said.

The Prime Minister said that for this leap, a change of gear was needed. He gave examples of long pending projects such as Saryu Canal Project in Uttar Pradesh, Sardar Sarovar Yojana, and Krishna Koena Pariyojana of Maharashtra which were lying pending for decades and were completed by the government. The Prime Minister drew attention to the Atal Tunnel whose foundation stone was laid in 2002 but remained incomplete till 2014, and it was the present government that accomplished the work with its inauguration in 2020. He also gave the example of Bogibeel Bridge in Assam, commissioned in 1998 but finally completed 20 years later in 2018, and Eastern Dedicated Freight Corridor commissioned in 2008 but completed 15 years later in 2023. “Hundreds of such pending projects were completed after the present government came to power in 2014”, he added. The Prime Minister also explained the impact of regular monitoring of the big projects under PRAGATI and informed that in the last 10 years projects worth 17 lakh crore have been reviewed under the mechanism. The Prime Minister gave examples of a few projects that were completed very quickly such as Atal Setu, Parliament Building, Jammu AIIMS, Rajkot AIIMs, IIM Sambalpur, New terminal of Trichy Airport, IIT Bhilai, Goa Airport, undersea cable up to Lakshadweep, Banas Dairy at Varanasi, Dwarka Sudarshan Setu. Foundation stones of all these projects were laid by the Prime Minister and he dedicated them to the nation also. “When there is willpower and respect for the taxpayers' money, only then the nation moves forward and gets ready for a big leap”, he added.

The Prime Minister illustrated the scale by listing the activities of just one week. He mentioned a massive educational push from Jammu with dozens of higher education institutes like IIT, IIMs and IIIT on 20th February, on 24 th February he dedicated 5 AIIMs from Rajkot, and more than 2000 projects including revamping more than 500 Amrit Stations was done this morning. This streak will continue during his visit to three states in the coming two days, he informed. “We lagged in the first, second and third revolutions, now we have to lead the world in the fourth revolution”, the Prime Minister said.

He continued by furnishing the details of the nation's progress. He gave figures like 2 new colleges daily, a new university every week, 55 patents and 600 trademarks every day, 1.5 lakh Mudra loans daily, 37 startups daily, daily UPI transaction of 16 thousand crore rupees, 3 new Jan Aushadhi Kendras per day, construction of 14 KM road everyday, 50 thousand LPG connections everyday, one tap connection every second and 75 thousand people came out of poverty everyday.

Referring to a recent report on the consumption pattern of the country, the Prime Minister highlighted the fact that poverty has reached its lowest level till date into single digit. As per data, he said that consumption has increased by 2.5 times as compared to a decade ago as people's capacity to spend on different goods and services has increased. “In the last 10 years, consumption in villages has increased at a much faster rate than that in cities. This means that the economic power of the village people is increasing, they are having more money to spend”, he said.

The Prime Minister said that the government has developed infrastructure keeping rural needs in mind resulting in better connectivity, new employment opportunities and income for women. This strengthened rural India, he said. “For the first time in India, food expenditure has become less than 50 per cent of the total expenditure. That is, the family which earlier used to spend all its energy in procuring food, today its members are able to spend money on other things”, the Prime Minister added.

Pointing out the trend of vote bank politics adopted by the previous government, the Prime Minister underscored that India has broken out of the scarcity mindset in the last 10 years by putting an end to corruption and ensuring that the benefits of development are distributed equally. “We believe in governance of saturation instead of politics of scarcity”, PM Modi emphasized, “We have chosen the path of santushti (contentment) of the people instead of tushtikaran.” This, the Prime Minister said, has been the mantra of the government for the past decade. “This is Sabka Saath Sabka Vikas”, the Prime Minister said, elaborating that the government has transformed vote bank politics into politics of performance. Highlighting the Modi Ki Guarantee Vehicle, the Prime Minister said that the government of today is going door-to-door and providing facilities to the beneficiaries. “When saturation becomes a mission, there is no scope for any kind of discrimination”, PM Modi exclaimed.

“Our government is moving forward keeping the principle of Nation First paramount”, the Prime Minister remarked, as he mentioned the critical decisions taken by the government to resolve old challenges. He touched upon the abrogation of Article 370, construction of the Ram Mandir, ending of triple talaq, Nari Shakti Vandan Adhiniyam, One Rank One Pension, and creation of the post of Chief of Defense Staff. He underlined that the government completed all such incomplete tasks with the thinking of Nation First.

The Prime Minister stressed the need to prepare the India of the 21st century and threw light on the rapidly progressing plans. “From space to semiconductor, digital to drones, AI to clean energy, 5G to Fintech, India has today reached the forefront of the world”, he said. He highlighted India’s growing prowess as one of the biggest forces in digital payments in the global world, the fastest-growing country in Fintech Adoption Rate, the first country to land a rover on the south pole of the Moon, among the leading countries in the world in Solar Installed Capacity, leaving Europe behind in the expansion of 5G network, rapid progress in the semiconductor sector and rapid developments on future fuels like green hydrogen.

Concluding the address, the Prime Minister said, “Today India is working hard towards its bright future. India is futuristic. Today everyone says – India is the future.” He also drew attention to the importance of the next 5 years. He reaffirmed the belief to take India's potential to new heights in the third term and wished that the coming 5 years be years of progress and praise for India’s journey to Viksit Bharat.