Mann Ki Baat: PM Modi pays tribute to Shaheed Udham Singh and other greats who sacrificed their lives for the country
Mann Ki Baat: Many railway stations in the country are associated with the freedom movement, says PM
As part of the Amrit Mahotsav, from 13th to 15th August, a special movement – 'Har Ghar Tiranga' is being organized: PM
There is a growing interest in Ayurveda and Indian medicine around the world: PM Modi during Mann Ki Baat
Through initiatives like National Beekeeping and Honey Mission, export of honey from the country has increased: PM
Fairs are, in themselves, a great source of energy for our society: PM
Toy imports have come down by nearly 70%, the country has exported toys worth about Rs. 2600 crores: PM
Be it classroom or playground, today our youth, in every field, are making the country proud: PM Modi during Mann Ki Baat

میرے پیارے ہم وطنوں ، نمسکار !

یہ ’من کی بات ‘کی 91ویں کڑی ہے۔ ہم  لوگوں نے پہلے اتنی ساری باتیں کی ہیں، الگ الگ موضوعات پر اپنی باتوں کو ساجھا کیا ہے  لیکن اس مرتبہ ’ من کی بات ‘ بہت خاص ہے۔ اس کی وجہ ہے ، اس مرتبہ  کا یوم آزادی  ، جب  بھارت اپنی آزادی کے 75 سال مکمل کرے گا۔  ہم سبھی بہت ہی شاندار اور تاریخی لمحے کے گواہ بنیں گے ۔ ایشور نے ہمارے لئے بہت بڑی خوش قسمتی رکھی ہے۔ آپ بھی سوچیئے  ، اگر ہم غلامی کے دور میں پیدا ہوئے  ہوتے تو اس دن کا تصور ہمارے لئے کیسا ہوتا ؟ غلامی سے  نجات کی وہ تڑپ،غلامی کی زنجیروں سے آزادی کی وہ بے چینی- کتنی زیادہ رہی ہوگی۔ وہ دن ، جب ہم ہر دن لاکھوں ہم وطنوں کو آزادی کے لئے لڑتے ، جوجھتے ، قربانی دیتے دیکھ رہے  ہوتے ۔ اب ہم ہر صبح  اس خواب کے ساتھ جاگتے کہ میرا بھارت کب آزاد ہوگا اور  ہو سکتا ہے ، ہماری زندگی میں وہ دن بھی آتا ، جب بندے ماترم اور بھارت ماتا کی جے بولتے ہوئے ، ہم آنے والی نسلوں کے لئے اپنی زندگی قربان کر دیتے ، زندگی کھپا دیتے  ۔

ساتھیو ، 31 جولائی یعنی  آ ج ہی کے دن ، ہم تمام اہل وطن، شہید اودھم سنگھ جی کی شہادت کو سلام پیش کرتے ہیں۔ میں ، ایسے دیگر تمام عظیم انقلابیوں کو  اپنا خراج عقیدت پیش کرتا ہوں  ، جنہوں نے ملک کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیا ۔

ساتھیو ،  مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے کہ آزادی کا امرت مہوتسو ایک عوامی تحریک کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ اس سے متعلق مختلف پروگراموں میں زندگی کے تمام شعبوں اور معاشرے کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ شرکت کر رہے ہیں۔ ایسا ہی ایک پروگرام اس ماہ کے شروع میں میگھالیہ میں  منعقد ہوا ۔ میگھالیہ کے بہادر مجاہد  ، یو  تیروت سنگھ  جی کی برسی پر لوگوں نے انہیں یاد کیا ۔ تروت سنگھ جی نے خاصی ہلس پر کنٹرول کرنے اور وہاں کی ثقافت پر حملہ کرنے کی برطانوی سازش کی شدید مخالفت کی تھی ۔ اس پروگرام میں بہت سے  فن کاروں نے  خوبصورت فن کا مظاہرہ کیا ۔ انہوں نے تاریخ کو زندہ کر دیا ۔ اس میں ایک کارنیوال کا بھی اہتمام کیا گیا تھا  ، جس میں میگھالیہ کی عظیم ثقافت کو بہت خوبصورت انداز میں دکھایا گیا تھا۔ اب سے کچھ ہفتے پہلے کرناٹک میں امرتا بھارتی کناڈارتھی کے نام سے ایک انوکھی مہم بھی چلائی گئی تھی۔ اس میں ریاست کے 75 مقامات پر آزادی کے امرت مہوتسو سے متعلق عظیم الشان پروگراموں کا انعقاد کیا گیا تھا ۔ ان میں کرناٹک کے عظیم آزادی پسندوں کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی ادبی کارناموں کو بھی منظر عام پر لانے کی کوشش کی گئی تھی۔

ساتھیو  ، اسی جولائی میں ایک بہت ہی دلچسپ کوشش کی گئی ہے، جس کا نام  ہے ، آزادی کی ریل گاڑی اور ریلوے اسٹیشن ۔ اس کوشش کا مقصد جدوجہد آزادی میں بھارتی ریلوے کے کردار سے لوگوں کو آگاہ کرنا ہے۔ ملک میں ایسے کئی ریلوے اسٹیشن ہیں، جو تحریک آزادی کی تاریخ سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان ریلوے اسٹیشنوں کے بارے میں جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے۔ جھارکھنڈ میں گومو جنکشن کو اب سرکاری طور پر نیتا جی سبھاش چندر بوس جنکشن گومو کے نام سے جانا جاتا ہے۔ پتہ ہے کیوں؟ دراصل اس اسٹیشن پر نیتا جی سبھاش کالکا میل میں سوار ہو کر انگریز افسروں کو چکمہ دینے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ آپ سب نے لکھنؤ کے قریب کاکوری ریلوے اسٹیشن کا نام بھی سنا ہوگا۔ اس اسٹیشن سے رام پرساد بسمل اور اشفاق اللہ خان جیسے بہادر لوگوں کا نام جڑا ہے۔ بہادر انقلابیوں نے یہاں ٹرین کے ذریعے جانے والے انگریزوں کے خزانے کو لوٹ کر انگریزوں کو اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا تھا۔ جب بھی آپ تمل ناڈو کے لوگوں سے بات کریں گے، آپ کو تھوتھکوڈی ضلع کے وانچی مانیاچی جنکشن کے بارے میں سننے کو ملے گا ۔ اس اسٹیشن کا نام تمل مجاہد آزادی وانچی ناتھن  جی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ وہی جگہ ہے ، جہاں 25 سالہ نوجوان وانچی نے برطانوی کلکٹر کو اس کے کئے کی سزا دی تھی۔

ساتھیو ،  یہ فہرست بہت لمبی ہے۔ ملک بھر کی 24 ریاستوں میں پھیلے ہوئے ایسے 75 ریلوے اسٹیشنوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان 75 اسٹیشنوں کو بہت خوبصورتی سے سجایا جا رہا ہے۔ ان میں کئی طرح کے پروگرام بھی منعقد کئے جا رہے ہیں۔ آپ کو اپنے قریب کے ایسے تاریخی اسٹیشن پر جانے کے لئے بھی وقت نکالنا چاہیئے۔ آپ کو تحریک آزادی کی  ایسی تاریخ کے بارے میں تفصیل سے معلوم ہو جائے گا ، جس سے آپ انجان رہے ہیں ۔ میں آس پاس کے اسکولوں کے طلباء سے گزارش کروں گا، اساتذہ سے گزارش کروں گا کہ وہ اپنے اسکول کے چھوٹے بچوں کو اسٹیشن لے جائیں اور ان بچوں کو سارا واقعہ سنائیں اور سمجھائیں ۔

میرے پیارے ہم وطنو، آزادی کے امرت مہوتسو کے تحت 13 سے 15 اگست تک ایک خصوصی تحریک ’’ ہر گھر ترنگا، ہر گھر ترنگا ‘‘  کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس تحریک کا حصہ بن کر 13 سے 15 اگست تک، آپ اپنے گھر پر ترنگا ضرور لہرائیں یا اسے اپنے گھر  پر لگائیں ۔ ترنگا ہمیں متحد کرتا ہے، ہمیں ملک کے لئے کچھ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ میرا یہ بھی مشورہ ہے کہ 2 اگست سے 15 اگست تک ہم سب اپنی سوشل میڈیا پروفائل تصویروں میں ترنگا لگا سکتے ہیں۔ ویسے کیا آپ جانتے ہیں کہ 2 اگست کا ہمارے ترنگے سے بھی خاص تعلق ہے۔ یہ دن پنگلی وینکیا جی کا یوم پیدائش ہے ، جنہوں نے ہمارے قومی پرچم کو ڈیزائن کیا تھا۔ میں ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ ہمارے قومی پرچم کی بات کرتے ہوئے ، مجھے عظیم انقلابی میڈم کاما بھی یاد  آ رہی ہیں ۔ ترنگے کو شکل دینے میں  ، ان کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔

ساتھیو ، آزادی کے نام پر منعقد ہونے والی ان تمام تقریبات کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ ہم تمام اہل وطن اپنی ذمہ داری پوری لگن کے ساتھ ادا کریں۔ تب ہی ہم ان لاتعداد آزادی پسندوں کے خواب کو پورا کر سکیں گے۔ ہم ان کے خوابوں کا بھارت بنانے میں کامیاب ہوں گے۔ اس لئے ہمارے اگلے 25 سالوں کا یہ امرت کال ہر اہل وطن کے لئے فرائض  کی انجام دہی کے عہد کی طرح ہے۔ ملک کو آزاد کرانے کے لئے ہمارے بہادر جنگجوؤں نے ہمیں یہ ذمہ داری سونپی ہے اور ہمیں اسے پوری طرح نبھانا ہے۔

میرے پیارے ہم وطنو، ہمارے ہم وطنوں کی کورونا کے خلاف جنگ ابھی بھی جاری ہے۔ پوری دنیا آج بھی جدوجہد کر رہی ہے۔ مجموعی حفظانِ صحت میں لوگوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی نے ، اس میں سب کی بہت مدد کی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ بھارتی روایتی طریقے اس میں کتنے کارآمد  ہیں۔ کورونا کے خلاف جنگ میں آیوش نے  تو ، عالمی سطح پر اہم کردار ادا کیا ہے۔ پوری دنیا میں آیوروید اور بھارتی ادویات میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ یہ ایک بڑی وجہ ہے ، جس کی وجہ سے آیوش بر آمدات میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور یہ بھی بہت خوشگوار ہے کہ اس شعبے میں بہت سے نئے اسٹارٹ اپس بھی ابھر رہے ہیں۔ حال ہی میں ایک گلوبل آیوش انویسٹمنٹ اینڈ انوویشن سمٹ کا انعقاد کیا گیاتھا ۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس میں تقریباً دس ہزار کروڑ روپئے  کی سرمایہ کاری کی تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ ایک اور بہت اہم بات یہ ہوئی ہے کہ کورونا کے دور میں ادویاتی پودوں پر تحقیق میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ اس بارے میں کئی تحقیقی مطالعات شائع ہو رہے ہیں۔ یقیناً یہ ایک اچھی شروعات ہے۔

ساتھیو ، ملک میں مختلف قسم کے ادویاتی پودوں اور جڑی بوٹیوں کے حوالے سے ایک اور شاندار کوشش کی گئی ہے۔ انڈین ورچوئل ہربیریم جولائی کے مہینے میں ہی لانچ کیا گیا تھا۔ یہ اس بات کی بھی ایک مثال ہے کہ ہم ڈیجیٹل دنیا کو اپنی جڑوں سے جوڑنے کے لئے کس طرح استعمال کر سکتے ہیں۔ انڈین ورچوئل ہربیریم محفوظ پودوں یا پودوں کے حصوں کی ڈیجیٹل تصاویر کا ایک دلچسپ مجموعہ ہے، جو ویب پر مفت دستیاب ہیں۔ اس ورچوئل ہربیریم پر ایک لاکھ سے زیادہ نمونے اور ان سے متعلق سائنسی معلومات دستیاب ہیں۔ ورچوئل ہربیریم میں بھارت کے نباتاتی تنوع کی بھرپور تصویر بھی نظر آتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ بھارتی ورچوئل ہربیریم بھارتی نباتات پر تحقیق کے لئے ایک اہم وسیلہ بن جائے گا۔

میرے پیارے ہم وطنو،’من کی بات ‘میں ، ہم ہر مرتبہ ہم وطنوں کی ایسی کامیابیوں پر گفتگو کرتے ہیں ، جو ہمارے چہروں پر میٹھی مسکراہٹ لاتی ہیں۔ اگر کامیابی کی کہانی میٹھی مسکراہٹیں پھیلاتی ہے اور ذائقہ بھی میٹھا ہے، تو آپ اسے یقینی طور پر سون پر سہاگا کہیں گے۔ ان دنوں ہمارے کسان شہد کی پیداوار میں ایسا معجزہ کر رہے ہیں۔ شہد کی مٹھاس بھی ہمارے کسانوں کی زندگی بدل رہی ہے، ان کی آمدنی میں اضافہ کر رہی ہے۔ ہریانہ میں، یمنا نگر میں، شہد کی مکھیاں پالنے والے ایک ساتھی رہتے ہیں - سبھاش کمبوج جی۔ سبھاش جی نے سائنسی طریقے سے شہد کی مکھیاں پالنے کی تربیت لی۔ اس کے بعد  انہوں نے صرف چھ ڈبوں سے اپنا کام شروع کیا۔ آج وہ تقریباً دو ہزار  ڈبوں میں شہد کی مکھیاں پال رہا ہے۔ ان کا شہد کئی ریاستوں میں سپلائی کیا جاتا ہے۔ ونود کمار جی جموں کے پلّی گاؤں میں ڈیڑھ ہزار سے زیادہ کالونیوں میں شہد کی مکھیاں پال رہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ سال رانی مکھی پالنے کی تربیت لی ہے۔ اس کام سے وہ سالانہ 15 سے 20 لاکھ روپئے کما رہے ہیں۔ کرناٹک کے ایک اور کسان ہیں - مدھوکیشور ہیگڈے جی۔ مدھوکیشور جی نے بتایا کہ انہوں نے مکھیوں کی 50 کالونیوں کے لئے حکومت ہند سے سبسڈی لی تھی ۔ آج ان کے پاس 800 سے زیادہ کالونیاں ہیں اور وہ  کئی ٹن شہد فروخت کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے کام میں جدت پیدا کی ہے اور وہ جامن شہد، تلسی شہد، آملہ شہد جیسے نباتاتی شہد بھی بنا رہے ہیں۔ مدھوکیشور جی، شہد کی پیداوار میں آپ کی اختراع اور کامیابی بھی آپ کے نام کو معنی خیز بناتی ہے۔

ساتھیو ، آپ سب جانتے ہیں کہ ہماری روایتی صحت سائنس میں شہد کو کتنی اہمیت دی گئی ہے۔ آیوروید  کی کتابوں میں شہد کو امرت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ شہد نہ صرف ہمیں ذائقہ دیتا ہے بلکہ صحت بھی دیتا ہے۔ آج شہد کی پیداوار میں اتنی صلاحیت ہے کہ پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان بھی اسے اپنا روزگار بنا رہے ہیں۔ ایسے ہی ایک نوجوان ہیں – یو پی میں گورکھپور کے نیمت سنگھ  جی۔ نمت جی نے بی ٹیک کیا ہے۔ ان کے والد بھی ڈاکٹر ہیں لیکن تعلیم کے بعد نمت جی نے نوکری کے بجائے خود روزگار کا فیصلہ کیا۔  انہوں نے شہد کی پیداوار شروع کی۔ انہوں نے معیار کی جانچ کے لئے لکھنؤ میں اپنی لیب بھی بنوائی۔ نمت جی اب شہد اور مکھی کے موم سے اچھی کمائی کر رہے ہیں اور مختلف ریاستوں میں جا کر کسانوں کو تربیت بھی دے رہے ہیں۔ ایسے نوجوانوں کی محنت کی وجہ سے آج ملک اتنا بڑا شہد پیدا کرنے والا ملک بن رہا ہے۔ آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ ملک سے شہد کی برآمد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ملک نے شہد کی مکھیوں کو پالنے اور شہد کے مشن جیسی مہم شروع کی، کسانوں نے محنت کی اور ہمارے شہد کی مٹھاس پوری دنیا تک پہنچنے لگی۔ اس میدان میں اب بھی بہت زیادہ امکانات موجود ہیں۔ میں چاہوں گا کہ ہمارے نوجوان ، ان مواقع میں شامل ہوں اور ان سے فائدہ اٹھائیں اور نئے امکانات   کو حقیقت شکل دیں ۔

میرے پیارے ہم وطنو، مجھے ’من کی بات ‘ کے سننے والے جناب آشیش بہل جی کا ہماچل پردیش سے ایک خط موصول ہوا ہے ۔ انہوں نے اپنے خط  میں  چمبا ک ’ منجر میلہ ‘کا ذکر کیا ہے۔  در اصل  منجر مکا کے پھولوں کو کہتے ہیں ، جب مکا میں پھول آتے ہیں ، تو منجر میلہ بھیا منایا جاتا ہے اور اس میلے میں ملک بھر سے سیاح شرکت کے لئے دور دور سے آتے ہیں۔ اتفاق سے اس وقت منجر کا میلہ بھی چل رہا ہے، اگر آپ ہماچل کی سیر کرنے گئے ہیں تو اس میلے کو دیکھنے کے لئے چمبہ جا سکتے ہیں۔چمبا تو اتنا خوبصورت ہے کہ یہاں لوک گیتوں میں بار بار کہا جاتا ہے -

’’ چمبے ایک دن اونا کنے مہینا رینا ‘‘

یعنی جو لوگ ایک دن کے لئے چمبہ آتے ہیں، وہ اس کی خوبصورتی کو دیکھ کر  مہینے بھر کے لئے یہاں رک جاتے ہیں۔

ساتھیو ، ہمارے ملک میں میلوں کی بھی بڑی ثقافتی اہمیت رہی ہے، میلے  انسانوں اور دلوں کو جوڑتے ہیں۔  ہماچل میں بارش کے بعد ، جب خریف کی فصلیں پکتی ہیں ، تب ستمبر میں شملہ ، منڈی ، کلو اور سولن میں سیری یا سیر منایا جاتا ہے  ۔ ستمبر میں جاگرا بھی آنے والا ہے  ۔ جاگرا کے میلوں میں مہاسو دیوتا  کا آہوان کرکے بیسو گیت گائے جاتے ہیں۔ مہاسو دیوتا کا یہ جاگر ہماچل  میں شملہ، کنور اور  سرمور کے ساتھ ساتھ اتراکھنڈ میں  بھی ہوتا ہے۔

ساتھیو ، ہمارے ملک میں مختلف ریاستوں میں قبائلی سماج کے بھی کئی روایتی میلے ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ میلے قبائلی ثقافت سے جڑے ہیں، تو کچھ کا انعقاد آدی واسی تاریخ اور وراثت سے جڑا ہے ، جیسا کہ  ، اگر آپ کو موقع ملے تو آپ کو تلنگانہ کے میڈارم میں چار روزہ سمکا-سرلمہ جاترا میلہ ضرور دیکھنا چاہیئے۔ اس میلے کو تلنگانہ کا مہا کمبھ کہا جاتا ہے۔ سرلمہ جاترا میلہ دو قبائلی خواتین ہیروئنوں - سمکا اور سرلمہ کے  احترام میں منایا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف تلنگانہ بلکہ چھتیس گڑھ، مہاراشٹر اور آندھرا پردیش کی کویا قبائلی برادری کے لئے بھی عقیدے کا ایک بڑا مرکز ہے۔ آندھرا پردیش میں ماری دماّ کا میلہ بھی قبائلی سماج کے عقائد سے جڑا ایک بڑا میلہ ہے۔ ماریدماّ  میلہ جیشٹھ اماوسیہ سے اساڑھ اماوسیہ تک چلتا ہے اور یہاں کا قبائلی معاشرہ اسے شکتی پوجا کے ساتھ جوڑتا ہے۔ یہاں، مشرقی گوداوری کے پیدھاپورم میں، ماریدماّ  مندر بھی ہے۔ اسی طرح راجستھان میں گراسیا قبائل کے لوگ  ویساکھ  شکل چتر دشی کو ’ سیاوا کا میلا ‘ ، یا ’ منکھارو میلہ ‘ کا انعقاد کرتے ہیں ۔

چھتیس گڑھ میں بستر کے نارائن پور کا ’ماولی میلہ ‘ بھی بہت خاص  ہوتا ہے۔ اس کے قریب ہی مدھیہ پردیش کا بھگوریا میلہ بھی بہت مشہور ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بھگوریا میلہ راجہ بھوج کے زمانے میں شروع ہوا تھا۔ پھر بھیل بادشاہوں، کسومار اور بلون نے پہلی بار اپنے اپنے دارالحکومتوں میں ان تقریبات کا اہتمام کیا۔ اس کے بعد سے آج تک یہ میلے یکساں جوش و خروش سے منائے جا رہے ہیں۔ اسی طرح  گجرات میں ترنیتر اور مادھوپور جیسے کئی میلے بہت مشہور ہیں۔ میلے اپنے آپ میں ہمارے معاشرے، زندگی کے لئے توانائی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ آپ کے آس پاس بھی ایسے کئی میلے ضرور ہوں گے۔ جدید دور میں، ’ایک بھارت- شریشٹھ بھارت ‘ کے جذبے کو مضبوط کرنے کے لئے سماج کے یہ پرانے روابط بہت اہم ہیں۔ ہمارے نوجوانوں کو ان سے ضرور جڑنا چاہیئے اور جب بھی آپ ایسے میلوں میں جائیں تو وہاں کی تصاویر سوشل میڈیا پر بھی شیئر کریں۔ اگر آپ چاہیں تو ایک مخصوص ہیش ٹیگ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اس سے دوسرے لوگ بھی ان میلوں کے بارے میں جان جائیں گے۔ آپ وزارت ثقافت کی ویب سائٹ پر بھی تصاویر اپ لوڈ کر سکتے ہیں۔ آئندہ چند روز میں وزارت ثقافت ایک مقابلہ بھی شروع کرنے جا رہی ہے، جہاں میلوں کی بہترین تصاویر بھیجنے والوں کو انعامات سے بھی نوازا جائے گا ۔  اس لئے دیر نہ کریں، میلوں کا دورہ کریں، ان کی تصاویر شیئر کریں، اور شاید آپ انعام بھی حاصل کر سکیں ۔

میرے پیارے ہم وطنو، آپ کو یاد ہو گا ، ’من کی بات ‘ کے ایک ایپی سوڈ میں میں نے کہا تھا کہ بھارت میں کھلونوں کی برآمدات میں پاور ہاؤس بننے کی تمام صلاحیتیں موجود ہیں۔ میں نے خاص طور پر کھیلوں میں بھارت کے  شاندار  وراثت پر بات کی تھی ۔ بھارت کے مقامی کھلونے ماحول دوست ہیں، روایت اور فطرت دونوں کے مطابق ہیں۔ آج میں آپ کے ساتھ انڈین ٹوائز کی کامیابیاں بانٹنا چاہتا ہوں۔ ہماری کھلونا صنعت نے ، جو کامیابی ہمارے نوجوانوں، اسٹارٹ اپس اور کاروباری افراد کی وجہ سے حاصل کی ہے ، اس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ آج جب بھارتی کھلونوں کی بات آتی ہے تو ہر طرف ووکل فار لوکل کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ آپ یہ بھی جاننا پسند کریں گے کہ اب بھارت میں بیرون ملک سے آنے والے کھلونوں کی تعداد میں مسلسل کمی آرہی ہے۔ پہلے جہاں 3 ہزار کروڑ روپئے  سے زیادہ کے کھلونے باہر سے آتے تھے، اب ان کی درآمد میں 70 فی صد کمی آئی ہے اور یہ خوشی کی بات ہے کہ اس عرصے کے دوران بھارت نے  2 ہزار 600  کروڑ روپئے سے زیادہ کے کھلونے  بیرونی ملکوں میں برآمد کئے ہیں ،  جب کہ پہلے بھارت سے باہر صرف 300-400 کروڑ روپئے  کے کھلونے جاتے تھے اور آپ جانتے ہیں کہ یہ سب کچھ کورونا کے دور میں ہوا تھا۔ بھارت کے کھلونا سیکٹر نے خود کو بدل کر دکھایا ہے۔ بھارتی صنعت کار اب بھارتی افسانوں، تاریخ اور ثقافت پر مبنی کھلونے بنا رہے ہیں۔ ملک میں ہر جگہ کھلونوں کے جھرمٹ ہیں، چھوٹے کاروباری جو کھلونے بناتے ہیں، انہیں اس سے کافی فائدہ ہو رہا ہے۔ ان چھوٹے کاروباریوں کے بنائے ہوئے کھلونے اب پوری دنیا میں جا رہے ہیں۔ بھارت کے کھلونا بنانے والے بھی دنیا کے معروف عالمی کھلونا برانڈز کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ مجھے یہ بھی  بہت اچھا لگا کہ ہمارا اسٹارٹ اپ سیکٹر بھی کھلونوں کی دنیا پر پوری توجہ دے رہا ہے۔ وہ اس شعبے میں بہت مزے کی چیزیں بھی کر رہے ہیں۔ بنگلور میں شمّی ٹوئیز نام کا ایک سٹارٹ اپ ماحول دوست کھلونوں پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ گجرات میں آر کڈ زو کمپنی اے آر پر مبنی فلیش کارڈز اور اے آر پر مبنی اسٹوری بکس بنا رہی ہے۔ پونے کی کمپنی فن وینشن  آموزش  ، کھلونے اور ایکٹیویٹی پزل کے ذریعے سائنس، ٹیکنالوجی اور ریاضی میں بچوں کی دلچسپی بڑھانے میں مصروف ہے۔ میں اسٹارٹ اپس کو مبارکباد دینا چاہوں گا، ایسے تمام مینوفیکچررز ، جو کھلونوں کی دنیا میں شاندار کام کر رہے ہیں۔ آئیے ، ہم سب مل کر بھارتی کھلونوں کو پوری دنیا میں مزید مقبول بنائیں۔ اس کے ساتھ، میں والدین سے یہ بھی گزارش کرنا چاہوں گا کہ وہ زیادہ سے زیادہ بھارتی کھلونے، پہیلیاں اور گیمز خریدیں۔

ساتھیو ، کلاس روم ہو یا کھیل کا میدان، آج ہمارے نوجوان ہر میدان میں ملک کا سر فخر سے بلند کر رہے ہیں۔ اس ماہ پی وی سندھو نے سنگاپور اوپن کا اپنا پہلا خطاب جیتا ہے۔ نیرج چوپڑا نے بھی اپنی شاندار کارکردگی کو جاری رکھتے ہوئے عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں ملک کے لئے چاندی کا تمغہ جیتا ہے۔ آئرلینڈ پیرا بیڈمنٹن انٹرنیشنل میں بھی ہمارے کھلاڑیوں نے 11 میڈلز جیت کر ملک کا نام روشن کیا ہے۔ روم میں منعقدہ ورلڈ کیڈٹ ریسلنگ چیمپئن شپ میں بھی بھارتی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ ہمارے کھلاڑی سورج نے گریکو رومن ایونٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے 32 سال کے طویل وقفے کے بعد اس ایونٹ میں ریسلنگ کا گولڈ میڈل جیتا ہے۔ کھلاڑیوں کے لئے یہ پورا مہینہ ایکشن سے بھرپور رہا۔ چنئی میں 44ویں شطرنج اولمپیاڈ کی میزبانی کرنا بھارت کے لئے بھی ایک بڑا اعزاز ہے۔ یہ ٹورنامنٹ 28 جولائی کو شروع ہوا ہے اور مجھے اس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کا شرف حاصل ہوا۔ اسی دن برطانیہ میں کامن ویلتھ گیمز کا آغاز بھی ہوا۔ نوجوانوں کے جوش سے بھرپور بھارتی ٹیم وہاں ملک کی نمائندگی کر رہی ہے۔ میں ہم وطنوں کی طرف سے تمام کھلاڑیوں کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔ مجھے اس بات کی بھی خوشی ہے کہ بھارت فیفا  کے 17 سال سے کم عمر کی خواتین کے عالمی کپ  کی بھی میزبانی کرنے جا رہا ہے۔ یہ ٹورنامنٹ اکتوبر کے آس پاس منعقد ہوگا ، جس سے ملک کی بیٹیوں کا کھیلوں کے تئیں جوش و جذبہ بڑھے گا۔

ساتھیو ، ابھی کچھ دن پہلے ہی ملک بھر میں دسویں اور بارہویں جماعت کے نتائج کا اعلان کیا گیا ہے۔ میں ان تمام طلباء کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ، جنہوں نے اپنی سخت محنت اور لگن سے کامیابی حاصل کی ہے۔ پچھلے دو سال، وبائی امراض کی وجہ سے، انتہائی چیلنجنگ رہے ہیں۔ ان حالات میں ہمارے نوجوانوں نے ، جس ہمت اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے ، وہ قابل تعریف ہے۔ میں سب کے روشن مستقبل کی نیک خواہشات رکھتا ہوں۔

میرے پیارے ہم وطنو، آج ہم نے آزادی کے 75 سال پر اپنی گفتگو کا آغاز ملک کے دورے سے کیا۔ اگلی بار جب ہم ملیں گے تو ہمارا اگلے 25 سالوں کا سفر شروع ہو چکا ہوگا۔ ہم سب کو اپنے پیارے ترنگے کو اپنے گھروں اور اپنے پیاروں کے گھروں پر لہرانے کے لئے جمع ہونا ہے۔ اس بار آپ نے یوم آزادی کیسے منایا، کیا آپ نے کوئی خاص کام کیا، وہ بھی میرے ساتھ شیئر کریں۔ اگلی بار، ہم اپنے اس امرت کے تہوار کے مختلف رنگوں کے بارے میں دوبارہ بات کریں گے، تب تک مجھے اجازت دیں۔ بہت شکریہ ۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26

Media Coverage

India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
I assure every woman of this nation that every obstacle in the path of women’s reservation will be removed: PM Modi
April 18, 2026
Women may forget everything, but will never forget insult to their pride: PM
Those parties that have opposed the Nari Shakti Vandan Adhiniyam Amendment in Parliament are taking women's power for granted: PM
Nari Shakti Vandan Adhiniyam Amendment was a 'Mahayagya' to empower women of the 21st century : PM
One major reason for opposition to Nari Shakti Vandan Adhiniyam by dynastic parties is their fear : PM
The blessings of the country's 100 percent Nari Shakti are with us: PM
We will remove every obstacle coming in the way of women's reservation: PM
Snatching away women's rights, these people were thumping the tables ; That was an assault on the dignity of women, on their self-respect: PM
For opposing women’s reservation, the opposition will be punished for the sin they have committed: PM

Today I have come to speak on a very important subject, especially to the mothers, sisters, and daughters of the country! Today every citizen of India is watching how the flight of women power has been stopped. Their dreams have been ruthlessly crushed. Despite our utmost efforts, we could not succeed, the amendment to the Nari Shakti Vandan Act could not be passed! And for this, I seek forgiveness from all the mothers and sisters.

Friends,

For us, national interest is paramount, but when for some people party interest becomes everything, when party interest becomes bigger than national interest, then women power and national interest have to bear the consequences. This time too, the same has happened. The selfish politics of parties like Congress, DMK, TMC, and Samajwadi Party has harmed the women power of the country.

Friends,

Yesterday, the eyes of crores of women in the country were on Parliament, the women power of the nation was watching. I too felt very sad to see that when this proposal in favor of women fell, parties like Congress, DMK, TMC, and SP, family-oriented parties, were clapping with joy. By snatching away the rights of women, they were thumping the tables. What they did was not just thumping on the tables, it was a blow to the self-respect and dignity of women. And women forget everything, but they never forget their insult. Therefore, the pain of the behavior of Congress and its allies in Parliament will always remain in the hearts of women. Whenever the women of the country see these leaders in their areas, they will remember that it was these very people who celebrated in Parliament when women’s reservation was stopped, they rejoiced. To those parties who opposed the Nari Shakti Vandan amendment in Parliament yesterday, I will say clearly: these people are taking women power for granted. They are forgetting that the women of the 21st century are watching every event in the country, they are sensing their intentions, and they have fully understood the truth. Therefore, for opposing women’s reservation, the sin committed by the opposition will surely bring punishment to them. These parties have also insulted the sentiments of the framers of the Constitution, and they will not escape the punishment from the people either.

Friends,

The Nari Shakti Vandan amendment was not about taking anything away from anyone. The Nari Shakti Vandan amendment was about giving something to everyone, it was an amendment to give. It was about giving women the right that has been pending for 40 years, from the 2029 Lok Sabha elections onwards.

The Nari Shakti Vandan amendment was a great effort to give new opportunities, new flight, and to remove obstacles from the path of the women of 21st century India. It was a sacred effort made with clear intent and honesty to give rights to 50% of the country’s population. It was an effort to make women co-travelers in India’s journey of development and to include everyone. The Nari Shakti Vandan amendment is the demand of the time. The Nari Shakti Vandan amendment was an effort to equally increase the strength of every state, North, South, East, West. It was an effort to give more strength to the voice of every state in Parliament. Whether the state is small or big, whether the population is less or more, it was an effort to increase everyone’s strength in equal proportion. But this honest effort has been subjected to foeticide in Parliament by Congress and its allies, foeticide. Congress, TMC, Samajwadi Party, DMK—these parties are guilty of this foeticide. They are criminals against the Constitution of the country, they are criminals against the women power of the country.

Friends,

Congress hates the subject of women’s reservation, it has always conspired to stop women’s reservation. Every time efforts were made in this direction, Congress obstructed them. This time too, Congress and its allies relied on one falsehood after another to stop women’s reservation. Sometimes about numbers, sometimes in other ways, Congress and its allies tried to mislead the country. By doing so, these parties have revealed their true face before the women power of India. They have removed their mask.

Friends,

Personally, I had hoped that Congress would correct its decades-old mistake. Congress would repent for its sins. But Congress lost the opportunity to create history, to stand in favor of women. Congress has already lost its existence in most parts of the country. Congress is surviving like a parasite, riding on the back of regional parties. But Congress does not even want regional parties to grow stronger, so Congress conspired politically to push the future of many regional parties into darkness by making them oppose this amendment.

Friends,

Congress, Samajwadi Party, DMK, TMC, and other parties have, for so many years, every time created the same excuses, the same false arguments, always inserting some technical snag, and they have looted the rights of women. The country has understood this ugly pattern of politics, and it has also understood the reason behind it.

Brothers and sisters,

One big reason for the opposition to the Nari Shakti Vandan Act is the fear of these family-oriented parties. They fear that if women become empowered, then the leadership of these family-oriented parties will be in danger. They will never want women outside their families to move forward. Today, in Panchayats and local bodies, thousands and millions of women have proven their capability. When they want to move forward into Lok Sabha and Legislative Assemblies, when they want to serve the country, these family-oriented parties feel insecure. After delimitation, there will be many more seats for women, women’s stature will increase, and that is why these people opposed the Nari Shakti Vandan amendment. The women power of the country will never forgive Congress and its allies for this sin.

My dear countrymen,

Congress and its allied parties are continuously, continuously lying about delimitation. They want to ignite the fire of division under this pretext. Because “divide and rule” politics is something Congress inherited from the British. And Congress is still running on that same path today. Congress has always fueled sentiments that create rifts in the country. Therefore, this lie was spread that delimitation would harm some states! Whereas the government has made it clear from the very first day that neither the proportion of participation of any state will change, nor will anyone’s representation be reduced. In fact, the seats of all states will increase in equal proportion. Yet Congress, DMK, TMC, and Samajwadi Party were not ready to accept this.

Friends,

This amendment bill was an opportunity for all parties and all states. If this bill had passed, Tamil Nadu, Bengal, Uttar Pradesh, Kerala, every state’s seats would have increased. But because of their selfish politics, these parties betrayed even the people of their own states. For example, DMK had the chance to make more Tamil people MPs and MLAs, to strengthen Tamil Nadu’s voice! But it lost that chance. TMC also had the chance to advance the people of Bengal. But TMC too lost that chance. Samajwadi Party had the chance to reduce the stain of its anti-women image. But SP missed it too. SP has already forgotten Lohia ji. By opposing the Nari Shakti Vandan amendment, SP trampled all of Lohia ji’s dreams underfoot. SP is anti-women reservation, and the women of UP and the country will never forget this.

Friends,

By opposing women’s reservation, Congress has once again proved one thing. Congress is an anti-reform party. For a developed India in the 21st century, whatever decisions, whatever reforms are necessary, whatever decisions the country takes, Congress opposes them, rejects them, obstructs them. This is the history of Congress and this is Congress’s negative politics.

Friends,

This is the same Congress that opposed the trinity of Jan Dhan–Aadhaar–Mobile. Congress opposed digital payments. Congress opposed GST. Congress opposed reservation for the poor in the general category. Congress opposed the law against triple talaq. Congress opposed the removal of Article 370. Our Constitution, our courts, have said that the Uniform Civil Code, UCC, is necessary, but Congress opposes that too. At the very mention of reform, Congress runs with placards of protest. Any work that strengthens the country, Congress puts all its strength into creating obstacles in it. Congress opposes One Nation One Election. Congress opposes driving out infiltrators from the country. Congress opposes purification of the voter list, SIR. Congress opposes reforms in the Waqf Board.

Friends,

Congress even opposed the CAA law that gave security to refugees. By lying and spreading rumors, it created a storm in the country. Congress obstructs the country’s efforts to end Maoist–Naxalite violence. Congress has had only one pattern: whenever a reform comes, lie, spread confusion. History is witness, Congress has always chosen this negative path.

Friends,

Whatever decision is necessary for the country, Congress sweeps it under the carpet. Because of this attitude of Congress, India has not reached the heights of development it deserves. At the time of independence, many other countries were freed along with us. Most of those countries went far ahead of us, and the reason was that Congress kept blocking every reform. Delay, diversion, obstruction—this was Congress’s principle, this was Congress’s work culture. Congress delayed border disputes with neighboring countries. Congress delayed water-sharing disputes with Pakistan. Congress delayed the decision on OBC reservation for 40 years. Congress delayed One Rank One Pension for soldiers for 40 years.

Friends,

This attitude of Congress has always caused great harm to the country. The nation has suffered from every opposition, every indecision, every deceit of Congress. Generations of the country have suffered. Today, all the major challenges before the country have arisen from this attitude of Congress. Therefore, this fight is not just about one law, this fight is against Congress’s anti-reform mentality, which is filled only with negativity. And I have no doubt that the women and daughters of the country will give a strong reply to this mentality of Congress.

Friends,

Some people are calling the breaking of the dreams of the women of the country a failure of the government. But this subject was never about success or failure, never about credit. I had said in Parliament too: let half the population get their rights, I will give the credit to the opposition by publishing advertisements with all their photos. But those who look at women with outdated thinking still stuck to their lies, remained firm!

Friends,

The fight to give women power participation has been going on for decades. For years, I too have been among those making efforts for it. So many women have raised this subject before me. So many sisters have written letters to me explaining everything. My country’s mothers, sisters, daughters—I know you are all sad today. I too share in your sorrow. Today, even though we did not get the required 66 percent votes to pass the bill, I know that 100 percent of the women power of the country has blessed us. I assure every woman of the country: we will remove every obstacle in the path of women’s reservation. Our courage is high, our determination unbreakable, and our resolve unwavering. The parties opposing women’s reservation will never be able to stop the women power of this country from increasing their participation in Parliament and Legislative Assemblies. It is only a matter of time. The BJP–NDA’s resolve for the empowerment of women power is intact. Yesterday we did not have the numbers, but that does not mean we lost. Our inner strength is invincible. Our effort will not stop, our effort will not pause. We will have more opportunities ahead. For the dreams of half the population, for the future of the country, we must fulfill this resolve. Thank you all very much.