مہاگٹھ بندھن کنبہ جاتی سیاست کا ایک مظاہرہ ہے: وزیراعظم نریندر مودی
وزیر اعظم مودی کا کہنا ہے کہ حزب مخالف کی پارٹیوں کا جعلی اتحاد ایک انتخابی شعبدہ بازی ہے
یہ بات قابل فخر ہے کہ بھارت کاروبار کرنے کو آسان بنانے کے معاملے میں ایک سال کے اندر 100 کی بجائے 77 ویں مقام پر پہنچ گیا ہے: وزیراعظم مودی
کاروبار کرنے کو آسان بنانے کے معاملے میں بھارت نے درجہ بندی میں جو ترقی حاصل کی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک تیز اور مضبوط ترقیاتی عمل سے ہمکنار ہے: وزیراعظم
عوام بی جے پی کے ذریعے متعارف کرائی گئی ترقیات اور حزب مخالف کے سنسنی خیز ایجنڈے کے درمیان فرق کو محسوس کرتے ہیں: وزیراعظم مودی
وہ جب کبھی بھی بولتے ہیں ، اے کے -47 کی طرح الفاظ کی گولی باری کرتے ہیں: حزب مخالف کے رہنماؤں پر وزیراعظم مودی کا طنز

وزیراعظم نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے توسط سے بلند شہر ، کوٹا، کوربا، سیکر اور ٹیکم گڑھ لوک سبھا حلقہ ہائے انتخابات کے بی جے پی بوتھ کارکنان سے گفت شنید کی۔ یہ گفت وشنید ’میرا بوتھ سب سے مضبوط‘ پروگرام کے تحت اپنے سلسلے کی چھٹویں گفت وشنید تھی۔

’مہا گٹھ بندھن ‘کے سلسلے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم مودی نے کاریہ کرتاؤں سے کہا کہ وہ اس کے متعلق فکرمند نہ ہوں اور بھارتی افراد کی فلاح وبہبود کیلئے کام کرتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہاگٹھ بندھن کنبہ جاتی سیاست کا ایک مظاہرہ ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ حزب مخالف جماعتوں کا یہ جعلی اتحاد ایک سیاسی شعبدہ بازی ہے اور حزب مخالف کی جماعتوں کے پاس اکیسویں صدی کے بھارت کی توقعات کی کسوٹی پر پورا اترنے والا کوئی بھی ایجنڈا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے شہری بی جے پی کو موجودہ اور مستقبل کی پارٹی کے طور پر ترجیح دیتے ہیں۔

وزیراعظم نے پارٹی کارکنان سے کہا ہے کہ وہ عوام کی سوجھ بوجھ میں یقین رکھیں۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ عوام بی جے پی حکومتوں کے ذریعے متعارف کرائی گئی ترقیات اور حزب مخالف کے سنسنی خیز ایجنڈے کے مابین تمیز کرنے کے اہل ہیں۔

جناب مودی نے ڈاکٹر رمن سنگھ کی قیادت میں چھتیس گڑھ حکومت کی حصولیابیوں مثلاً خوراک پیداوار ، سوائل ہیلتھ کارڈ اسکیم کی قابل ذکر کارکردگی، عالمی درجے کا سرکاری نظام تقسیم قائم کرنے اور کوالٹی کے حامل بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کیلئے چھتیس گڑھ حکومت کی ستائش کی۔ انہوں نے اس امر پر مسرت کااظہار کیا کہ چھتیس گڑھ سابق وزیراعظم جناب اٹل بہاری واجپئی کے ذریعے طے کیے گئے وژن کو پایہ تکمیل تک پہنچا رہا ہے۔

کاریہ کرتاؤں کو پارٹی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے ان سے گزارش کی کہ وہ عوام الناس کو سرکاری پہل قدمیوں اور حصولیابیوں سے متعلق صحیح اطلاعات فراہم کریں، اس پس منظر میں ا نہوں نے کارکنان سے کہا کہ وہ اطلاعات کے معتبر وسیلے کے طور پر نریندر مودی ایپ کا استعمال کریں۔

کاریہ کرتاؤں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سرکاری اسکیمیں مثلاً سب کے لئے صحت ، سب کے لئے رہائش گاہوں کی فراہمی، بینک اور بیمہ خدمات اور ڈیجیٹل انڈیا کا مقصد نادار ترین افراد کو بااختیار بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتیودے کے اس رہنما اصول کو اپنا کر بی جے پی نے بھارت کے شہریوں کا اعتماد جیتا ہے۔

وزیراعظم نے گزشتہ چار برسوں کے دوران حکومت کے ذریعے حاصل کی گئی کامیابیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کاروبار کرنے کو آسان بنانے، ملک بھر میں تعمیر کیے گئے کوالٹی کے حامل بنیادی ڈھانچے اور تعلیمی اصلاحات سے متعلق گفتگو کی۔ انہوں نے ایم ایس ایم ای شعبے کو تقویت پہنچانے کیلئے حکومت کی جانب سے لیے گئے تاریخی فیصلوں کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے کارکنان سے کہا کہ وہ سماجی کاموں کیلئے بھی اپنا وقت رضاکارانہ طور پر صرف کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ذریعے ان کی شخصیت کو جلا حاصل ہوگی اور انہیں بے پناہ ذاتی آسودگی فراہم ہوگی۔ وزیراعظم نے ملک بھر کے کاریہ کرتاؤں کو دیوالی کی گرم جوشانہ مبارکباد بھی پیش کی۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's strong growth outlook intact despite global volatility: Govt

Media Coverage

India's strong growth outlook intact despite global volatility: Govt
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister urges MPs to vote in favour of Nari Shakti Vandan Adhiniyam Amendment, Calls it Historic Opportunity
April 17, 2026

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, has highlighted that a discussion is currently underway in Parliament on the amendment to the Nari Shakti Vandan Adhiniyam, noting that deliberations continued till 1 AM last night.

He stated that all misconceptions surrounding the amendment have been addressed with logical responses, and every concern raised by members has been resolved. The Prime Minister added that necessary information, wherever lacking, has also been provided to all members, ensuring that issues of opposition have been clarified.

Emphasising that the issue of women’s reservation has witnessed political debates for nearly four decades, the Prime Minister said that the time has now come to ensure that women, who constitute half of the country’s population, receive their rightful representation.

He observed that even after decades of independence, the low representation of women in the decision-making process is not appropriate and needs to be corrected.

The Prime Minister informed that voting in the Lok Sabha is expected shortly and urged all political parties to take a thoughtful and sensitive decision by voting in favour of the women’s reservation amendment.

Appealing on behalf of the women of the country, he urged all Members of Parliament to ensure that no action hurts the sentiments of Nari Shakti. He noted that crores of women are looking towards the Parliament, its intent, and its decisions.

The Prime Minister called upon MPs to reflect upon their families-mothers, sisters, daughters, and wives—and listen to their inner conscience while making the decision.

He described the amendment as a significant opportunity to serve and honour the women of the nation and urged members not to deprive them of new opportunities.

Expressing confidence, the Prime Minister said that if the amendment is passed unanimously, it will further strengthen Nari Shakti as well as the country’s democracy.

Calling it a historic moment, he urged all members to come together to create history by granting rightful representation to women, who form half of India’s population.

The Prime Minister wrote on X;

“संसद में इस समय नारीशक्ति वंदन अधिनियम में संशोधन पर चर्चा चल रही है। कल रात भी एक बजे तक चर्चा चली है।

जो भ्रम फैलाए गए, उनको दूर करने के लिए तर्कबद्ध जवाब दिया गया है। हर आशंका का समाधान किया गया है। जिन जानकारियों का अभाव था, वो जानकारियां भी हर सदस्य को दी गई हैं। किसी के मन में विरोध का जो कोई भी विषय था, उसका भी समाधान हुआ है।

महिला आरक्षण के इस विषय पर देश में चार दशक तक बहुत राजनीति कर ली गई है। अब समय है कि देश की आधी आबादी को उसके अधिकार अवश्य मिलें।

आजादी के इतने दशकों बाद भी भारत की महिलाओं का निर्णय प्रक्रिया में इतना कम प्रतिनिधित्व रहे, ये ठीक नहीं।

अब कुछ ही देर लोकसभा में मतदान होने वाला है। मैं सभी राजनीतिक दलों से आग्रह करता हूं… अपील करता हूं...

कृपया करके सोच-विचार करके पूरी संवेदनशीलता से निर्णय लें, महिला आरक्षण के पक्ष में मतदान करें।

मैं देश की नारी शक्ति की तरफ से भी सभी सदस्यों से प्रार्थना करूंगा… कुछ भी ऐसा ना करें, जिनसे नारीशक्ति की भावनाएं आहत हों।

देश की करोड़ों महिलाओं की दृष्टि हम सभी पर है, हमारी नीयत पर है, हमारे निर्णय पर है। कृपया करके नारीशक्ति वंदन अधिनियम में संशोधन का साथ दें।”

“मैं सभी सांसदों से कहूंगा...

आप अपने घर में मां-बहन-बेटी-पत्नी सबका स्मरण करते हुए अपनी अंतरात्मा को सुनिए ...

देश की नारीशक्ति की सेवा का, उनके वंदन का ये बहुत बड़ा अवसर है।

उन्हें नए अवसरों से वंचित नहीं करिए।

ये संशोधन सर्वसम्मति से पारित होगा, तो देश की नारीशक्ति और सशक्त होगी… देश का लोकतंत्र और सशक्त होगा।

आइए… हम मिलकर आज इतिहास रचें। भारत की नारी को… देश की आधी आबादी को उसका हक दें।”