Share
 
Comments
"Policy making should incorporate inputs from universities and think tanks: Narendra Modi"
"Focus needs to shift from Highways to Information Highways. We need optical fibre network across the country: Narendra Modi"
"PM gives Mantra of “per drop, more crop” for water conservation"
"Skill development is a priority area for us. We believe in our demographic dividend: Narendra Modi"

The Prime Minister gave a timely glimpse into how policy making in the country needs to evolve with the times. Speaking on the occasion of release of "Getting India Back on track – an Action agenda for reform", in a function at 7, Race Course Road, New Delhi he said policy making should incorporate inputs from universities and intellectual think tanks. The Prime Minister, Shri Narendra Modi, today said "the input of intellectual think tanks" should be substantially enhanced for better policy frameworks. Focussing on the need for  better long term planning he said, “Universities should also be actively involved in research and analysis of the developmental process, to contribute in the best possible way for policy-related decisions.”

Sharing a futuristic vision, he said infrastructure focus needs to shift from highways to "information highways which he says are I-ways.  Stressing on the need for building better optical fibre networks he said while cities in the past were built on river-banks, they will now be built based on availability of optical-fibre networks and next-generation infrastructure.

The Prime Minister said that he wants the country to treat urbanisation as an opportunity and not a problem. He said if we have to generate employment and change for the better, we plan to build 100 smart cities. Using anecdotes and analogies, the Prime Minister cited the three colours of the National Flag, to suggest revolutionary agendas of futuristic growth.

meet-080614-in1

Beginning with green, he said we need to bring about a second green revolution – focusing on increased agro-productivity, value addition, agro technology, and decentralization of warehousing. Referring to white, he said a white revolution must now focus on increasing milk productivity, and developing a support system for ensuring cattle health. The Prime Minister said, saffron colour represents energy – and we need a saffron revolution that focuses on renewable energy sources such as solar energy, to meet India's growing energy demand. Inspired by the blue colour of the Ashok Chakra in the National Flag, he said the blue revolution should focus on the fisheries sector, including ornamental fish.

Shri Modi stressed on the need for water conservation, and emphasized the importance of micro-irrigation, which would lead to "per drop, more crop." He said that micro-irrigation had been successful in improving productivity and quality in crops like sugarcane in Gujarat.

He said we need to exploit the demographic dividend, as 65 percent of our population was below 35 years of age. For this skill development needs to be a priority area. Referring to skills such as teaching, nursing and paramedics, he said good teachers were one of the biggest needs of society, but there are very few good teachers available. He asked the audience why India should not aim to become an exporter of good teachers who would capture the imagination of an entire generation globally. He said if India has to compete with China, the focus should be on skill, scale and speed.

Talking about the need to combat the challenge of global warming and climate change, the Prime Minister said that a civilization that treated rivers as mothers, did not need to learn about environment protection from a western mindset. Overall, the speech gave  insights into  how India’s economic policy making is set to  undergo a much needed change with a promise of bigger and better opportunities  for the citizens of the country.

Speaking on the occasion, Minister for Finance, Corporate Affairs and Defence, Shri Arun Jaitley said there could not have been a more appropriate time for release of the book. He said Governments should not only have the will to rule, but also the credibility to rule. He said the international community was once again looking at India, and it is an opportunity that we cannot afford to miss.

Modi Govt's #7YearsOfSeva
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
429 Lakh Metric Tonnes of wheat procured at MSP, benefiting about 48.2 Lakh farmers

Media Coverage

429 Lakh Metric Tonnes of wheat procured at MSP, benefiting about 48.2 Lakh farmers
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
کووِڈ-19صف اول کے کارکنان کے لئے مخصوص کریش کورس پروگرام کے آغاز کے موقع پر وزیر اعظم کی تقریر کا متن
June 18, 2021
Share
 
Comments
ایک لاکھ نوجوانون کو 2 سے 3 مہینوں میں اس پہل قدمی کے تحت تربیت فراہم کی جائے گی
26 ریاستوں میں 111 مراکز سے سہولت کے مطابق تیار کیے گئے 6 کریش کورس لانچ کیے گئے
وائرس موجود ہے اور اس کی شکل میں تغیر واقع ہونے کے امکانات موجود ہیں، ہمیں مستعد رہنا ہے: وزیر اعظم
کورونا کی مدت نے ہنرمندی، ازسر نو ہنر مندی حاصل کرنے اور ہنرمندی کو فروغ دینے کی اہمیت ثابت کر دی ہے: وزیر اعظم
وبائی مرض نے دنیا کے ہر ملک، ادارے، معاشرے، کنبے اور فرد قوت کو آزمایا ہے: وزیر اعظم
45 برس سے کم کی عمر کے لوگوں کو 21 جون سے ٹیکہ کاری کے لئے وہی طریقہ علاج فراہم کیا جائے گا جیسا کہ 45 برس سے زائد کے افراد کے لئے فراہم کرایا گیا: وزیر اعظم
وزیر اعظم نے گاؤوں کے شفاخانوں میں تعینات آشا کارکنان، اے این ایم، آنگن واڑی اور صحتی کارکنان کے کا م کی ستائش کی

نئی دہلی،18 جون: نمسکار، مرکزی کابینہ کے میرے ساتھی جناب مہیندر ناتھ پانڈے جی، آ رکے سنگھ جی، دیگر تمام ہی سینیئر وزرا، اس پروگرام سے جڑنے والے تمام نوجوان دوست، پروفیشنلس، دیگر معززین اور بھائیوں و بہنوں

کورونا کے خلاف عظیم جنگ میں آج ایک اہم ترین مہم کا ایک نیا مرحلہ شروع کیا جا رہا ہے۔ کورونا کی پہلی لہر کے دوران ملک میں ہزاروں پروفیشنلس، اسکل ڈولپمنٹ مہم سے جڑے۔ اس کوشش نے ملک کو کورونا سے مقابلہ کرنے کی طاقت دی۔ اب کورونا کی دوسری لہر کے بعد جو تجربات حاصل ہوئے ہیں، وہ تجربات آج کے اس پروگرام کی اہم وجہ بنے ہیں۔کورونا کی دوسری لہر میں ہم لوگوں نے دیکھا کہ کورونا وائرس کا تبدیل ہونا اور بار بار اس کی بدلتی شکل کس طرح کے چیلنجز ہمارے سامنے لا سکتی ہے۔ یہ وائرس ہمارے درمیان ابھی بھی ہے اور جب تک یہ ہے، اس کے میوٹیٹ(تبدیل) ہونے کا امکان بھی زندہ ہے۔ اس لیے ہر علاج، ہر احتیاط کے ساتھ ساتھ آنے والے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہمیں ملک کی تیاریوں کو اور زیادہ بڑھانا ہوگا۔ اسی ہدف کے ساتھ آج ملک میں کورونا وائرس سے مقابلہ کرنے کے لیے1 لاکھ ہر اول کارکنان تیار کرنے کی بہت بڑی مہم شروع ہورہی ہے۔

ساتھیوں!

اس وبا نے دنیا کے ہر ملک ، ہر ادارہ، ہر سماج، ہر خاندان، ہر انسان کی لیاقت و صلاحیت کو، ان کے حدود کو بار بار پرکھا ہے۔ وہیں، اس وبا نے سائنس، حکومت، سماج، ادارہ اور فرد کے طور پر بھی ہمیں اپنی صلاحیتوں میں  اضافہ کرنے کے لیے مہمیز بھی دی ہے۔ پی پی ای کٹس اور ٹیسٹنگ انفراسٹرکچر سے  لے کر کووڈ کیئر اور ٹریٹمنٹ سے جڑے میڈیکل انفراسٹرکچر کو جو بڑا نیٹ ورک آج بھارت میں بنا ہے، وہ کام اب بھی چل رہا ہے اور وہ اسی کا نتیجہ ہے۔ آج ملک کے دور دراز علاقوں میں اسپتالوں تک بھی وینٹیلیرس،آکسیجن کنسنٹریٹرس پہنچانے کی  کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ڈیڑھ ہزار سے زائد آکسیجن پلانٹس بنانے کا کام جنگی سطح پر جاری ہے اور ہندوستا ن کے ہر ضلع میں پہنچنے کی ایک مشترکہ  کوشش  جاری و ساری ہے۔ ان کوششوں کے درمیان ایک ماہر افرادی قوت کاپل ہونا، اس پل میں نئے لوگوں کے جڑتے رہنا، یہ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اسی کے پیش نظر ، کورونا سے لڑرہی موجودہ فورس کا تعاون کرنے کے لیے، ملک میں تقریباًایک لاکھ نوجوانوں کو ٹرینڈ کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ یہ کورس 2-3 مہینوں میں پورا ہوجائے گا، اس لیے یہ لوگ فوراً ہی اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے دستیاب بھی ہوگے اور ایک تربیت یافتہ معاون کے طور پرموجودہ نظام کی کافی کچھ مدد کرسکیں گے، ان کا بوجھ ہلکا کریں گے۔ ملک کی ہر ریاست اور مرکز کے زیرا نتظام علاقوں کی مانگ کی بنیاد پر، ملک کے ٹاپ اکسپرٹس نے کریش کورس ڈیزائن کیا ہے۔ آج کووِڈ-19 ہراول دستے کے کارکنان کی سہولت کے مطابق بنائے گئے 6 نئے کریش کورس پروگرام کو لانچ کیا جا رہاہے۔نرسنگ سے جڑا معمول کا کام ہو، ہوم کیئر ہو، کریٹیکل کیئر میں مددہو، سیمپل کلکشن ہو، میڈیکل ٹکنیشین ہوں، نئے نئے آلات کی تربیت ہو،اس کے لیے نوجوانوں کو تیار کیا جا رہا ہے۔ اس میں جڑنے والے نوجوانوں کی اسکلنگ بھی ہوگی اور جو پہلے سے اس طرح کے کام میں تربیت یافتہ ہیں، ان کی اپ-اسکلینگ بھی ہوگی۔ اس مہم سے ، کووڈ سے لڑ  رہے ہمارے ہیلتھ سیکٹر کو، فرنٹ لائن فورس کو نئی توانائی بھی ملے گی اور ہمارے نوجوانوں کو  روزگار کے نئے مواقع تلاش کرنے میں سہولت بھی ہوگی۔

ساتھیوں!

اسکل،ری-اسکل اور اپ-اسکل، یہ منتر کتنا اہم ہے، یہ کورونا کے دور میں پھر سے اہمیت کا حامل ہوا ہے۔ صحت کے شعبے سے منسلک لوگ اسکلڈ تو تھے ہی ، انہوں نے کورونا سے نمٹنے کے لیے بہت کچھ نیا سیکھا بھی۔ یعنی ایک طرح سے انہوں نے خود کو ری-اسکل کیا۔ اس کے ساتھ ہی، ان میں جو اسکل پہلے سے موجود تھی، اس کو بھی انہوں نے مزید ڈیولپ کیا۔تبدیل ہوتے حالات  کے مطابق اپنے اسکل کو اپ گریڈ یا ویلیو ایڈیشن کرنا،  یہ اپ اسکیلنگ ہے اور وقت کا یہی تقاضہ ہے اور جس رفتار سے ٹکنالوجی زندگی کے ہر شعبے میں داخل ہور ہی ہےتب مسلسل منفرد انتظام اپ اسکیلنگ ضروری ہے۔ اسکل،ری-اسکل اور اپ-اسکل، کی اسی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ہی ملک میں اسکل انڈیا مشن شرو ع کیا گیا تھا۔ پہلی بار الگ سے ہنرمندی کے فروغ کی وزارت کی تشکیل ہو، ملک بھر میں پردھان منتری کوشل وکاس کیندر کھولنا ہو، آئی ٹی آئیز کی تعداد میں اضافہ کر نا ہو، ان میں لاکھوں نئی نششتیں جوڑنی ہوں، اس پر متواتر کام کیا گیا ہے۔ آج اسکل انڈیا مشن ہر سال لاکھوں نوجوانوں کو آج کی ضرورت کے مطابق تربیت دینے میں بہت بڑی مدد کر رہا ہے۔ اس بات پر ملک میں بہت زیادہ بحث نہیں ہوپائی کہ اسکل ڈولپمنٹ کی اس مہم نے ، کورونا کے اس وقت میں ملک کو کتنی بڑی طاقت دی۔ گذشتہ برس جب سے کورونا کا چیلنج ہمارے سامنے آیا ہے، تب سے ہی ہنرمندی کے فروغ کی وزارت نے ملک بھر کے لاکھوں ہیلتھ ورکرز کو تربیت فراہم کرانے میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔ Demand Driven Skill Sets تیار کرنے کی جس نیت کے ساتھ اس وزارت کی تشکیل کی گئی تھی، اس پر آج مزید تیزی سے کام ہو رہا ہے۔

ساتھیوں!

ہماری آبادی کے پیش نظر ، صحت کے شعبے میں ڈاکٹرز، نرس اور پیرا میڈیکس سے جڑی جو اہم ترین خدمات ہیں ، ان کی توسیع کرنا اتنا ہی اہم ہے ۔اس تعلق سے بھی گذشتہ کچھ برسوں میں  پوری یکسوئی کے ساتھ اور ایک خاص طریقے سے کام کیا گیا ہے۔ گذشتہ 7 سال میں نئے اے آئی آئی ایم ایس(ایمس)، نئے میڈیکل کالجز اور نئے نرسنگ کالجزکی تعمیر پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ ان میں سے تو بیشتر نے کام کرنا بھی شروع کردیا ہے۔ اسی طرح، طبی تعلیم اور اس سے منسلک اداروں میں اصلاحات کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ آج جس رفتار سے، جس سنجیدگی سے ہیلتھ پرفیشنلز تیار کرنے پر کام چل رہا ہے، وہ غیر معمولی ہے۔

ساتھیوں!

آج کے اس پروگرام میں ، میں ہمارے صحت کے شعبے کے ایک بہت مضبوط ستون کا تذکرہ کرنا بھی ضروری خیال کرتا ہوں ۔اکثر،ہمارے ان ساتھیوں کا تذکرہ چھوٹ جاتا ہے۔ یہ ساتھی ہیں۔ ہماری آشا-این ایم-آنگن واڑی ورکرز اور گاؤں گاؤں میں ڈسپنسریوں میں تعینات ہمارے صحت کارکنان۔ہمارے یہ ساتھی انفیکشن کو روکنے کے لیے دنیا کی سب سے بڑی ٹیکہ کاری مہم میں بہت ہی اہم ترین اور کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔تیزی سے بدلتے موسم،جغرافیائی صورتحال خواہ کتنی ہی برعکس ہوں، یہ ساتھی  ملک کے ایک ایک شہری کی حفاظت کرنے میں دن رات مسلسل تگ ودو کر رہے ہیں۔گاؤں میں وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں،دور دراز کے علاقوں میں ، پہاڑی اور قبائلی علاقوں میں ٹیکہ کاری مہم کو کامیابی کے ساتھ چلانے میں ہمارے ان ساتھیوں نے کلیدی رول ادا کیا ہے۔21 جون سے ملک میں ٹیکہ کاری کی مہم کی جو توسیع ہو رہی ہے، اسے بھی ہمارے یہ تمام ساتھی تقویت فراہم کر رہے ہیں اور بھرپورتوانائی فراہم کرا رہے ہیں۔ میں آج عوامی طور پر ان کی خدمات کی  بھر پور ستائش  اور تعریف کرتا ہوں۔

21 جون سے ٹیکہ کاری کی جو مہم شروع ہو رہی ہے۔اس سے جڑی کئی طرح کی گائیڈ لائنز جاری کی گئی ہیں۔ اب 18 سال سے زائد کے ساتھیوں کو وہی سہولیات ملیں گی، جو ابھی تک 45 سال سے زائد عمر کےمعزز لوگوں کو مل رہی تھیں۔مرکزی حکومت، ملک کے ہر شہری کو ٹیکہ لگانے  کے لیے،'مفت'ٹیکہ لگانے کے لیے، پرعزم ہے۔ ہمیں کورونا پروٹوکال کا بھی پورا خیال رکھنا ہے۔ماسک اور دو گز کی دوری، یہ بہت ضروری ہے۔ آخر میں، میں یہ کریش کورس کرنے والے سبھی نوجوانوں کو بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔ مجھے پورا یقین ہے ،آپ کی نئی اسکلس، ملک کے لوگوں کی زندگیاں بچانے میں مسلسل کام آئیں گی اور آپ کو بھی اپنی زندگی میں اس نئی پہل سے بڑا اطمینان و سکون حاصل ہوگاکیوں کہ آپ جب پہلی بار روزگار کے لیے زندگی کی نئی شروعات کر رہے تھے تب آپ  بنی نوع انساں کی حفاظت میں خود کو مامور کر رہے تھے۔ لوگوں کی زندگیوں کو بچانے کے لیے جڑ رہے تھے۔ گذشتہ ڈیرھ برس سے رات-دن مسلسل کام کر رہے ہمارے ڈاکٹرز، ہماری نرسز نے اتنا بوجھ اٹھایا ہے،برداشت کیا ہے، آپ کے آنے سے انہیں مدد ملنے والی ہے۔ان کو ایک نئی طاقت ملنے والی ہے۔ اس لیے یہ کورس اپنے آپ میں، آپ کی زندگی میں ایک نیا موقع لے کر آ رہا ہے۔ انسانیت کی خدمت، عوام کی فلاح و بہبودکا ایک خاص موقع آپ کو ملنے جا رہا ہے۔ اس مقدس کام کے لیے ، انسانیت کی خدمت کے کام کے لیے خدا بزرگ و برتر آپ کو تقویت فراہم کرے،آپ جلد از جلد اس کورس کی ہر باریکی کو سیکھ لیں۔خود کو بہترین انسان بنانے کی کوشش کریں۔ آپ کے پاس وہ ہنر ہو جو ہر کسی کی زندگی بچانے کے کام آئے۔ اس کے لیے میری طرح سے  بہت بہت مبارکباد و نیک خواہشات۔