ہندوستان -اٹلی اسٹریٹجک شراکت داری کی بے مثال صلاحیت کے پیش نظر، ہندوستان کے وزیر اعظم جناب نریندر مودی اور اٹلی کی وزیر اعظم محترمہ جورجیا میلونی نے 18 نومبر 2024 کو برازیل کے ریو ڈی جنیرو میں ہونے والی جی-20 چوٹی کانفرنس میں اپنے ملاقات کے دوران مندرجہ ذیل نکات پرتوجہ مرکوز، وقت کے پابند اقدامات اور اسٹریٹجک ایکشن کے مشترکہ منصوبے کے ذریعے مزید رفتار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے، اٹلی اور بھارت متفق ہیں:

I سیاسی مکالمہ

  1. سربراہان حکومت، خارجہ امور، تجارت اور دفاع کے وزراء کے درمیان مستقل بنیادوں پر  بشمول کثیر جہتی تقریبات کے موقع پر ملاقاتیں اور باہمی دوروں کو برقرار رکھنا۔
  2. دونوں وزارت خارجہ کے درمیان سینئر حکام کی سطح پر سالانہ دو طرفہ مشاورت کا انعقاد  بشمول دفتر خارجہ کی مشاورت جاری رکھنا۔
  3. مشترکہ دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے کے لیے دیگر وزارتوں کے سربراہان کے درمیان ملاقاتوں اور بات چیت کو تیز کرنا۔

II  اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری

  1. دوطرفہ تجارت، بازار تک رسائی اور سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لیے اقتصادی تعاون کے مشترکہ کمیشن اور فوڈ پروسیسنگ پر اٹلی-انڈیا جوائنٹ ورکنگ گروپ کے کام کا فائدہ اٹھانا،  خاص طور پر نقل و حمل، زرعی مصنوعات اور مشینری، کیمیکل ۔فارماسیوٹیکل، لکڑی اور فرنیچر، اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، فوڈ پروسیسنگ، پیکیجنگ اور کولڈ چین، سبز ٹیکنالوجیز اور پائیدار نقل و حرکت، بشمول مشترکہ ترقی اور مشترکہ پیداوار اور بڑی کمپنیوں اور ایس ایم ایز کے درمیان مشترکہ منصوبے جیسے اعلیٰ صلاحیت والے شعبے شامل ہیں۔
  2. صنعتی اور اقتصادی ایسوسی ایشن اور چیمبرز آف کامرس کی شمولیت کے ساتھ تجارتی میلوں اور وقتاً فوقتاً کاروباری فورموں میں شرکت کو فروغ دینا۔
  3. صنعتی شراکت داری، تکنیکی مراکز اور باہمی سرمایہ کاری ، آٹوموٹیو، سیمی کنڈکٹرز، انفرااسٹرکچر اور جدید مینوفیکچرنگ میں بھی  فروغ دینا ۔

III کنیکٹویٹی

  1. ماحولیاتی استحکام اور موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں پائیدار نقل و حمل پر تعاون کو فروغ دینا۔
  2. ہندوستان - مشرق وسطی - یورپ اقتصادی راہداری (آئی ایم ای ای سی) کے فریم ورک میں بھی بحری اور زمینی بنیادی ڈھانچے میں تعاون کو بڑھانا اور سمندری اور بندرگاہ کے شعبے میں تعاون کے معاہدے پر دستخط کرنا۔

V I  سائنس، ٹیکنالوجی، آئی ٹی، اختراعات اور اسٹارٹ اپس

  1. اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر تعاون کو وسعت دینا، دونوں ممالک میں ٹیلی کام، مصنوعی ذہانت اور خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن جیسے شعبوں میں ٹیکنالوجی ویلیو چین پارٹنرشپ کو فروغ دینا۔
  2. صنعت 4.0 ،جدید مینوفیکچرنگ، صاف توانائی، اہم معدنیات نکالنے اور ریفائننگ میں تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنا، جس میں تعلیمی ادارے اور صنعتیں بشمول ایس ایم ایز اور دونوں ممالک کے اسٹارٹ اپس شامل ہیں۔
  3. اٹلی اور ہندوستان کی قومی تحقیقی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے، مشترکہ دلچسپی کے شعبوں میں، ہند-بحرالکاہل سمندری  پہل (آئی پی او آئی) کے تناظر میں جدت اور تحقیقی تعاون کو بڑھانا۔
  4. تعلیمی اور تحقیقی مواقع میں اضافہ کرنا، خاص طور پر ایس ٹی ای ایم ڈومین میں، اسکالرشپ پر بھی توجہ مرکوز کرتے ہوئے، معروف سائنسی تنظیموں اور مشترکہ منصوبوں کے درمیان اشتراک کو فروغ دینا۔
  5. دونوں ممالک کے اسٹارٹ اپس اور متعلقہ اختراعی ماحولیاتی نظام کے درمیان  دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ فن ٹیک، ایجوٹیک، ہیلتھ کیئر، لاجسٹکس اور سپلائی چین، ایگریٹیک، چپ ڈیزائن اور سبزتوانائی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے تعاون کو فروغ دینا ۔
  6. تعلیمی اور تحقیقی اداروں کے سائنسی اختراعات اور انکیوبیشن ماحولیاتی نظام کو فروغ دینے کے لیے اجتماعی مہارت اور صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے واسطے ہند-اطالوی انوویشن اینڈ انکیوبیشن ایکسچینج پروگرام شروع کرنا۔
  7. تعاون کے ایگزیکٹو پروگرام کی وراثت کو تسلیم کرنا، جس سے تعاون کے نئے دوطرفہ آلات کے ذریعے افزودہ کیا جا سکے۔
  8. سال 2025سے27 کے لیے سائنسی اور تکنیکی تعاون کے واسطے ایگزیکٹو پروگرام کو نافذ کرنا، جو اس سال کے آخر میں شروع کیا جائے گا، جس کے ذریعے دونوں فریق اہم تحقیق اور نقل و حرکت پر مبنی مشترکہ پروجیکٹوں کی مشترکہ بنیاد رکھیں گے۔

V. خلائی شعبہ

  1. اطالوی خلائی ایجنسی (اے ایس آئی) اور انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (آئی ایس آر او) کے درمیان تعاون کو وسعت دینا، تاکہ قمری سائنس پر زور دینے کے ساتھ زمین کے مشاہدے، ہیلیو فزکس اور خلائی تحقیق میں مشترکہ دلچسپی کے منصوبوں کو شامل کیا جا سکے۔
  2. بیرونی خلا کے پرامن اور پائیدار استعمال میں متعلقہ وژن، تحقیق اور ترقی کو آگے بڑھانے میں تعاون کو بڑھانا۔
  3. بڑی صنعتوں، ایم ایس ایم ایز اور اسٹارٹ اپس سمیت باہمی تجارتی خلائی تعاون کو دریافت اور سہولت فراہم کرنا۔
  4. خاص طور پر 2025 کے وسط تک، تحقیق، خلائی تحقیق اور تجارتی تعاون پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، خلائی صنعت کے نمائندوں کے ایک اطالوی وفد کے ذریعے ہندوستان کے لیے ایک مشن منظم کرنا۔

VI توانائی کی منتقلی

  1. بہترین طریقوں اور تجربات کا اشتراک کرنے، ایک دوسرے کے صنعتی ماحولیاتی نظام کے بارے میں علم کو فروغ دینے اور صنعتی شراکت داری کو آسان بنانے کے لیے "ٹیک سمٹ" کا اہتمام کرنا۔
  2. ٹیکنالوجی کی ترقی اور مشترکہ آر اینڈ ڈی میں تعاون کو  ہموار کرنا۔
  3. گرین ہائیڈروجن، بائیو ایندھن، قابل تجدید ذرائع اور توانائی کی کارکردگی میں مذکورہ بالا تعاون کو آسان بنانے کے لیے قابل تجدید توانائی پر مشترکہ ورکنگ گروپ کو مزید تحریک دینا۔
  4. گلوبل بائیو فیولز الائنس اور انٹرنیشنل سولر الائنس کو مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کرنا۔
  5. قابل تجدید توانائی سے متعلق جدید گرڈ ڈیولپمنٹ سلوشنز اور ریگولیٹری پہلوؤں کے بارے میں معلومات کا اشتراک کرنا۔

VII دفاعی تعاون

  1. معلومات کے تبادلے، دوروں اور تربیتی سرگرمیوں کو مربوط کرنے کے لیے جوائنٹ ڈیفنس کنسلٹیو (جے ڈی سی) میٹنگز کے ساتھ ساتھ جوائنٹ اسٹاف ٹاکس (جے ایس ٹی) کے سالانہ بنیادوں پر باقاعدہ انعقاد کو یقینی بنانا۔
  2. ہند-بحرالکاہل خطے میں اٹلی کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کے فریم ورک میں متعلقہ مسلح افواج کے درمیان بات چیت کا خیرمقدم کرتے ہیں، جس کا مقصد باہمی تعاون اور تعاون کو بڑھانا ہے، جس میں اس طرح کے تعاون کی حمایت کرنے والے کسی بھی مفید انتظام کے مذاکرات شامل ہیں۔
  3. ٹیکنالوجی کے تعاون، مشترکہ پیداوار اور دفاعی پلیٹ فارمز اور آلات کی مشترکہ ترقی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، عوامی اور نجی شراکت داروں کے درمیان بہتر شراکت داری اور مکالمے کی راہیں تلاش کرنا۔
  4. سمندری ، بشمول سمندری آلودگی کے ردعمل اور سمندری تلاش اور بچاؤ کے شعبے میں تعاون  کو بڑھانا ۔
  5. دفاعی صنعتی روڈ میپ پر گفت و شنید کرنا، دونوں وزارت دفاع کے درمیان اور سوسائٹی آف انڈین ڈیفنس مینوفیکچررز  (ایس آئی ڈی ایم ) اور اٹیلین انڈسٹریز فیڈریشن فار ایرو اسپیس، ڈیفنس اینڈ سیکورٹی ( اے آئی اے ڈی) کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) کو فروغ دینا۔
  6. دفاعی تحقیق میں دونوں اطراف کے سائنسدانوں اور تکنیکی ماہرین کو شامل کرتے ہوئے باقاعدگی سے بات چیت کرنا۔

VIII   سیکورٹی تعاون

  1. سائبر سیکورٹی اور سائبر کرائمز جیسے مخصوص شعبوں میں باقاعدہ تبادلے اور صلاحیت سازی کی سرگرمیوں کے ذریعے سیکورٹی تعاون کو بڑھانا۔
  2. سائبر ڈائیلاگ جیسے شعبے سے متعلق بات چیت، پالیسیوں، طریقوں اور تربیت کے مواقع پر اپ ڈیٹس کا تبادلہ کرنا اور جب مناسب ہو،کثیر جہتی فورمز میں تعاون کے حوالے سے مشاورت کرنا۔
  3. بین الاقوامی دہشت گردی اور بین الاقوامی جرائم سے نمٹنے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ کے سالانہ دو طرفہ اجلاسوں کا انعقاد جاری رکھنا۔

 

  1. دوطرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی فورمز پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کو مضبوط بنانا۔ اس تعاون کی روح کی بنیاد پر، دونوں فریق متفق ہیں:
  1. عدالتی معاملات میں اور متعلقہ پولیس اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان تعاون، بشمول صلاحیت سازی کے پروگراموں کے ذریعے  مضبوط بنانا ؛
  2. دہشت گردی کے خلاف جنگ میں معلومات اور بہترین طریقوں کا اشتراک کرنا۔
  1. خفیہ معلومات کے باہمی تحفظ اور تبادلے کے لیے ایک معاہدہ طے کرنا۔

IX. نقل مکانی اور نقل و حرکت

  1. محفوظ اور قانونی نقل مکانی کے ذرائع کے ساتھ ساتھ منصفانہ اور شفاف لیبر ٹریننگ اور بھرتی کے طریقہ کار کو فروغ دینا۔ ایک پائلٹ پروجیکٹ ہندوستان میں صحت کے پیشہ ور افراد کی تربیت اور ان کے بعد اٹلی میں ملازمت کا احاطہ کرے گا۔
  2. بے قاعدہ نقل مکانی کی سہولت کا مقابلہ کرنے کے لیے تعاون کو بڑھانا۔
  3. طلبا، محققین اور ماہرین تعلیم کی نقل و حرکت میں اضافہ کرنا، اعلیٰ تعلیم کے انچارج متعلقہ انتظامیہ کے درمیان معاہدوں کو بھی انجام دینا۔

X. ثقافت، علمی اور عوام کے درمیان تبادلے، سنیما اور سیاحت

  1. دونوں ممالک کی یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون اور تبادلوں کو بڑھانا نیز فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم کے شعبے میں تعاون کو بڑھانا۔
  2. باہمی علم کو گہرا کرنے کے لیے نمائشوں اور ثقافتی اقدامات کے ساتھ، عجائب گھروں کے درمیان شراکت داری کے قیام کے ذریعے بھی فروغ دینا۔
  3. اپنے اپنے ممالک میں فلم کی مشترکہ پروڈکشن اور فلم سازی کو بڑھانے پر کام کرنا۔
  4. پرانے اور تاریخی مقامات اور عمارتوں کے تحفظ اور بحالی پر دو طرفہ تعاون کو مضبوط بنانا۔
  5. روابط  اور دونوں سمتوں میں سیاحوں کے بہاؤ کو فروغ دینا۔
  6. دوطرفہ اور ثقافتی تعلقات اور دوستی کے دیرینہ  تعلقات کو فروغ دینے میں متحرک ہندوستانی اور اطالوی برادریوں کے تعاون کو تسلیم کرنا۔
  7. 2023 میں دستخط شدہ ثقافتی تعاون کے ایگزیکٹو پروگرام کو نافذ کرنے پر کام کرنا۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets

Media Coverage

PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
India-Myanmar Joint Statement during the Official Visit of the President of Myanmar to India
June 01, 2026

At the invitation of H.E. Shri Narendra Modi, Prime Minister of India, H.E. U Min Aung Hlaing, President of the Republic of the Union of Myanmar paid his first Official Visit to India from 30 May to 3 June 2026.

The President was accompanied by the Union Ministers for President’s Office, Foreign Affairs, Finance & Revenue, Agriculture, Livestock & Irrigation, and Industry & MSME Business Development, and Governor of the Central Bank of Myanmar. A business delegation from diverse sectors including agriculture, pharmaceuticals, energy, banking, construction, IT, communications, trading and logistics, as well as members of the Myanmar-India Friendship Association, were part of the Myanmar delegation.

The Prime Minister of India and the President of Myanmar held talks on 1 June 2026, during which they reviewed bilateral, regional and global issues of mutual interest and charted the way forward for the relationship. The Prime Minister hosted a luncheon in honour of the visiting dignitary. Hon’ble President of India Smt. Droupadi Murmu received the President of Myanmar on the same day. Earlier, External Affairs Minister Dr. S. Jaishankar and National Security Adviser Shri Ajit Doval separately called on the President of Myanmar.

At the commencement of the visit, the President visited Bodh Gaya on 30 May 2026, where he offered prayers at Mahabodhi Temple, Mahabodhi Meditation Centre and Sujata Temple. These visits to deeply revered sites underscored the enduring spiritual and Buddhist ties, as well as the people-to-people links, between the two countries.

The President delivered a keynote speech at the India-Myanmar Business Conclave, jointly organised by the UMFCCI and CII, in New Delhi on 31 May 2026, where business heads from both sides discussed avenues for further strengthening and expanding bilateral trade and commercial opportunities. The President also toured the NTPC Energy Technology Research Alliance (NETRA) complex in Greater Noida to observe advanced R&D work, including in clean energy innovation, energy efficiency, renewable energy integration and grid resilience.

In his interaction with the President, the Prime Minister stated that Myanmar lies at the confluence of India’s Neighbourhood First, Act East and MAHASAGAR (Mutual and Holistic Advancement for Security and Growth Across Regions) policies. The discussions underscored the importance of strengthening bilateral cooperation, including trade and economic ties, defence and security, border management, development assistance and cultural exchanges. Both sides noted ongoing discussions on various bilateral Agreements and Memoranda of Understanding and looked forward to their early conclusion.

The Prime Minister underlined that enhanced connectivity would foster mutually beneficial economic linkages and shared prosperity in the region. In this regard, both sides shared the importance of working closely towards the completion of Kaladan Multi-Modal Transit Transport project and the India-Myanmar-Thailand trilateral highway.

The Prime Minister conveyed that the Mekong Ganga ICCR scholarships for Myanmar students would be enhanced from 36 to 100 from 2026 onwards.

Both sides agreed to facilitate and enhance bilateral trade including through the Rupee-Kyat settlement mechanism, and appreciated the steady growth in the volume of transactions recorded since its operationalisation in May 2024. Both sides also expressed support for closer trade and investment cooperation in the areas of mutual interest such as agro-processing, petroleum, energy, mining sectors, in accordance with their respective national laws and regulations.

The Prime Minister reaffirmed India’s support for the sovereignty and territorial integrity of the Republic of the Union of Myanmar. Both sides underscored the importance of preventing the misuse of sovereign territory for activities inimical to their security interests. The President reiterated Myanmar’s assurance that its territory would not be permitted to be used against India’s security interests. The Prime Minister affirmed that India, as a steadfast and trusted partner of Myanmar, remained committed to deepening security cooperation between the two countries.

The Prime Minister conveyed support for Myanmar-led efforts towards achieving peace, stability, national reconciliation and socio-economic development. He also offered continued assistance and cooperation, based on mutual respect and friendly relations between the two countries. The President appreciated India’s constructive support and cooperation.

The Prime Minister expressed confidence that the meetings of the President with the Governor of Maharashtra and the Chief Minister, as well as his business engagements during his upcoming visit to Mumbai on 02 - 03 June 2026 would further strengthen existing bilateral cooperation and economic ties.

The official visit of President U Min Aung Hlaing reaffirmed the long-standing friendship and close partnership between Myanmar and India and the shared commitment of both countries to further strengthen cooperation for the mutual benefit of the two countries. Both sides agreed to continue close engagement at all levels.

President U Min Aung Hlaing expressed his sincere appreciation to Prime Minister Shri Narendra Modi for the warm hospitality extended to him and to the members of his delegation during their stay in India. The President also extended an invitation to the Prime Minister of India to visit Myanmar at mutually convenient dates.