جمہوریہ پولینڈ کے وزیر اعظم عزت مآب جناب ڈونلڈ ٹسک کی دعوت پر ، جمہوریہ ہند کے وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 21 سے 22 اگست 2024 تک پولینڈ کا سرکاری دورہ کیا۔ یہ تاریخی دورہ، اس وقت ہوا جب دونوں ممالک اپنے سفارتی تعلقات کی   70 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔

اپنے دیرینہ تعلقات کو تسلیم کرتے ہوئے، اپنے ملکوں اور عوام کے درمیان دوستی کے گہرے رشتوں کی تصدیق کرتے ہوئے اور اپنے تعلقات کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے، دونوں لیڈروں نے ہندوستان-پولینڈ کے باہمی تعلقات کو ’’جامع شراکت داری ‘‘ کی سطح تک بلند کرنے کا فیصلہ کیا۔

دونوں وزرائے اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ جمہوریت، آزادی اور اصولوں پر مبنی بین الاقوامی نظم کی مشترکہ اقدار، تاریخی تعلقات کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی دوطرفہ شراکت داری کا مرکز ہیں۔ انہوں نے مزید مستحکم، خوشحال اور پائیدار دنیا کے لیے دوطرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کو گہرا کرنے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ سیاسی مذاکرات کو مضبوط بنانے اور باہمی فائدہ مند اقدامات کو فروغ دینے کے لیے، باقاعدہ اعلیٰ سطحی رابطوں کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

رہنماؤں نے دو طرفہ اقتصادی تعلقات کو مزید تیز کرنے، تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور تعاون کے نئے باہمی فائدہ مند شعبوں کو تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے اقتصادی تعاون کے مشترکہ کمیشن سے بھرپور استفادہ کرنے پر اتفاق کیا۔ رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ دوطرفہ تجارت میں توازن پیدا کرنے اور تجارتی باسکٹ کو وسعت دینے کے لیے کوششیں کی جائیں۔

دونوں رہنماؤں نے ٹیکنالوجی، زراعت، رابطے، کان کنی، توانائی اور ماحولیات جیسے شعبوں میں اقتصادی تعاون کو بڑھانے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو تسلیم کیا۔

اقتصادی اور سماجی ترقی میں ڈیجیٹلائزیشن کے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہوئے، دونوں فریقوں نے ،دونوں ممالک کے درمیان استحکام اور اعتماد کو بڑھانے کے لیے، سائبر سیکیورٹی سمیت اس شعبے میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

وزرائے اعظم نے، دونوں ممالک اور متعلقہ خطوں کے درمیان رابطے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازوں کے رابطوں کے آغاز کا خیرمقدم کیا اور دونوں ممالک میں نئی ​​منزلوں کے لیے براہ راست پروازوں کے رابطوں میں مزید اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں ملکوں نے بحری تعاون کو مستحکم کرنے اور بنیادی ڈھانچے کی راہداریوں کی پختگی کی اہمیت پر زور دیا۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کی دو سب سے بڑی جمہوریتوں کے طور پر، یورپی یونین اور ہندوستان ایک کثیر قطبی دنیا میں سلامتی، خوشحالی اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانے میں مشترکہ مفاد رکھتے ہیں۔ انہوں نے ہندوستان-یورپی یونین جامع پشراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا، جس سے نہ صرف دونوں فریقوں کو فائدہ پہنچے گا ،بلکہ عالمی سطح پراس کے دور رس مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

دونوں وزرائے اعظم نے، امن اور قوانین پر مبنی بین الاقوامی نظم کے لیے اپنی وابستگی کا اظہار کیا ،جس میں اقوام متحدہ کے چارٹر کی بنیاد ہے ۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں سنگین تنازعات اور تناؤ کے دوران سلامتی کے شعبے میں ،اس کی متعدد جہتوں میں تعاون بہت ضروری ہے۔ انہوں نے قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظم کے احترام کو فروغ دینے اور عالمی امن، استحکام اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے کثیر الجہتی فورمز پر تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا۔

دونوں اطراف نے دفاعی شعبے میں تعاون کو مضبوط اور گہرا کرنے کی ضرورت کو تسلیم کیا۔ اس مقصد کے لیے، انہوں نے دفاعی تعاون کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ سمیت ،موجودہ دو طرفہ طریقہ کار کو مکمل طور پر استعمال کرنے پر اتفاق کیا۔

دونوں رہنماؤں نے یوکرین میں جاری جنگ کے خوفناک اور انسانیت پر ہونے والے اس کے المناک نتائج سمیت ،اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی قانون کے مطابق ، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام  سمیت جامع، منصفانہ اور دیرپا امن کی ضرورت کا اعادہ کیا، جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کے مطابق ہے۔ انہوں نے عالمی خوراک اور توانائی کی سلامتی کے حوالے سے، خاص طور پر عالم جنوب کے لیے،  یوکرین میں جنگ کے منفی اثرات کو بھی واضح کیا۔ اس جنگ کے تناظر میں، انہوں نے یہ نظریہ شراکت  کیا کہ جوہری ہتھیاروں کا استعمال، یا استعمال کا خطرہ ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی قانون کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اس بات کا اعادہ کیا کہ تمام مملک کو کسی بھی ملک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری یا سیاسی آزادی کے خلاف خطرہ یا طاقت کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔

دونوں رہنمائوں نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر میں اپنی واضح مذمت کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی ملک کو دہشت گردی کی مالی معاونت، منصوبہ بندی، حمایت یا ان کی کارروائیوں کا ارتکاب کرنے والوں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم نہیں کرنی چاہیے۔ دونوں اطراف نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی متعلقہ قراردادوں کے ساتھ ساتھ، اقوام متحدہ کی عالمی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کے نفاذ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بین الاقوامی دہشت گردی پر جامع کنونشن (سی سی آئی ٹی) کو جلد اپنانے کی بھی تصدیق کی۔

دونوں فریقوں نے، یو این سی ایل او ایس میں ظاہر ہونے والے سمندر کے بین الاقوامی قانون کے مطابق آزاد، کھلے اور قواعد پر مبنی ہند-بحرالکاہل کے لیے اپنی وابستگی کو تقویت دی اور سمندری سلامتی اور بین الاقوامی امن و استحکام کے لئے خود مختاری، علاقائی سالمیت اور نیوی گیشن کی آزادی کے مکمل احترام پر زور دیا  ۔

آب و ہوا کی تبدیلی سے درپیش اہم چیلنجوں کو تسلیم کرتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے آب و ہوا  سے متعلق کارروائی کے اقدامات میں تعاون کی اہمیت پر اتفاق کیا۔ ہندوستانی فریق نے پولینڈ کے فریق کو بین الاقوامی شمسی اتحاد (آئی ایس اے) اور قدرتی تباہی سے متعلق ریسیلینٹ  بنیادی ڈھانچہ کے لیے اتحاد (سی ڈی آر آئی) کی پولینڈ کی رکنیت پر غور کرنے کی ترغیب دی۔

پارلیمانی رابطوں کے کردار کو سراہتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ان کی قانون سازیہ کے درمیان تبادلوں اور تعاون کو وسعت دینے سے، دوطرفہ تعلقات اور باہمی افہام و تفہیم میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

وزرائے اعظم نے دیرینہ عوام سے عوام کے درمیان خصوصی تعلقات کو واضح  کیا اور انہیں مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے ثقافت، تعلیم، سائنس، تحقیق اور صحت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ انہوں نے تعلیمی اداروں کے درمیان مستقبل پر مبنی شراکت داری قائم کرنے کے لیے، اضافی اقدامات کو فروغ دینے اور حوصلہ افزائی کرنے کی کوششوں کا خیر مقدم کیا۔

رہنماؤں نے اقتصادی اور کاروباری مواقع کو آگے بڑھانے اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان افہام و تفہیم کو بڑھانے میں سیاحت کے کردار کو تسلیم کیا۔

جامع شراکت داری کو نافذ کرنے کے لیے، دونوں فریقین نے 2028- 2024 کے لیے پانچ سالہ مشترکہ ایکشن پلان پر اتفاق کیا۔

وزیر اعظم  نریندرمودی نے،  وزیر اعظم ٹسک اور پولینڈ کے عوام کا ،ان کی اور ان کے وفد کی مہمان نوازی کے لیے شکریہ ادا کیا اور انھوں نے وزیر اعظم ٹسک کو ہندوستان کے دورے کی دعوت دی۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Parliament on verge of history, says PM Modi, as it readies to take up women's bills

Media Coverage

Parliament on verge of history, says PM Modi, as it readies to take up women's bills
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Booth strength, people’s trust and grassroots outreach - PM Modi’s interaction with BJP Karyakartas from West Bengal
April 14, 2026
The citizens across West Bengal have described the BJP’s Sankalp Patra (manifesto) as practical, implementable and focused on holistic development and welfare: PM Modi
PM Modi constantly reiterated to the BJP karyakartas of West Bengal that booth-level strength is the foundation of electoral success
The scale of victory in West Bengal will directly translate into relief and better governance for its people: PM Modi to BJP karyakartas

PM Modi interacted with BJP karyakartas from across West Bengal under the ‘Mera Booth, Sabse Mazboot’ initiative, extending his best wishes for the Bengali New Year to all citizens of the state.


During the interaction, the PM reflected on his recent visits across various parts of West Bengal, highlighting the remarkable enthusiasm, energy and growing support for the BJP among the people. He credited this momentum to the tireless efforts and dedication of booth-level karyakartas.

The PM appreciated the positive response to the BJP’s Sankalp Patra (manifesto), stating that citizens across the state have described it as practical, implementable, and focused on holistic development and welfare.

During the interaction, several karyakartas shared their on-the-ground experiences, highlighting key concerns among the people, including safety, employment, corruption, political violence, and governance challenges. Women karyakartas spoke about concerns over security and dignity, while youth-related issues such as migration due to lack of opportunities were also raised.

PM Modi acknowledged these concerns and emphasised the need for continuous engagement with citizens at the grassroots level. He urged karyakartas to strengthen booth-level organisation through regular outreach and small group meetings, actively connect with women, youth, farmers and first-time voters , clearly communicate the benefits and vision outlined by the BJP, ensure transparency, development and safety, use social media and digital tools effectively to amplify facts and counter misinformation.
He also stressed the importance of documenting and communicating local issues, ensuring that the voices of the people are consistently heard and represented.

The PM constantly reiterated that booth-level strength is the foundation of electoral success, stating that “Booth jeeta, toh chunav jeeta.” He expressed confidence that the growing trust of the people in BJP presents a significant opportunity to bring transformation in West Bengal.

Concluding the interaction, PM Modi said that the scale of victory in West Bengal will directly translate into relief and better governance for its people. He encouraged all karyakartas to work with renewed energy, expand outreach, and ensure that every household becomes a partner in this journey of development.