عمان کے سلطان، عزت مآب سلطان ہیثم بن طارق کی دعوت پر بھارت کے وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 17 سے 18 دسمبر 2025 تک سلطنت عمان کا سرکاری دورہ کیا۔ ہوائی اڈے پر دفاعی امور کے نائب وزیر اعظم عزت مآب سید شہاب بن طارق نے وزیر اعظم کا استقبال کیا اور انہیں باضابطہ سلامی پیش کی گئی۔ 18 دسمبر 2025 کو البرکہ پیلس میں سلطان ہیثم بن طارق نے ان کا استقبال کیا۔

یہ دورہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس سال دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے 70سال مکمل ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم کے دورے سے پہلے دسمبر 2023 میں سلطان ہیثم بن طارق بھارت کے دورے پر آئے تھے۔

دونوں رہنماؤں نے تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، ٹیکنالوجی، تعلیم، توانائی، خلائی امور، زراعت اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں مثالی تعلقات دو طرفہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے دسمبر 2023 میں منظور شدہ مشترکہ وژم دستاویز کے تحت جاری اقدامات اور تعاون کا بھی جائزہ لیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ عمان اور بھارت کے درمیان بحری پڑوسیوں کے تعلقات اب ایک کثیر جہتی اسٹریٹجک شراکت داری میں بدل چکے ہیں۔

بھارتی فریق نے عمان کے 'ویژن 2040' کے تحت حاصل کردہ معاشی تنوع اور پائیدار ترقی کی تعریف کی۔ عمانی فریق نے بھارت کی مسلسل معاشی ترقی اور 2047 تک 'وکست بھارت' (ترقی یافتہ بھارت) کے ہدف کو سراہا۔ فریقین نے دونوں ممالک کے تصورات کے درمیان ہم آہنگی کا اعتراف کیا اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔

فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ تجارت اور کاروبار دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کا ایک کلیدی ستون رہے ہیں۔ انہوں نےدوطرفہ تجارت میں مزید ترقی اور تنوع کی گنجائش کو اجاگر کیا۔ فریقین نے ٹیکسٹائل، آٹوموبائل، کیمیکلز، آلات اور کھادوں سمیت مختلف شعبوں میں تجارت کے فروغ کے وسیع امکانات کا اعتراف کیا۔

فریقین نے بھارت-عمان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (سی ای پی اے) پر دستخط کا خیر مقدم کیا، جو دوطرفہ اقتصادی تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ دونوں رہنماؤں نے تسلیم کیا کہ سی ای پی اے دونوں ممالک کے لیے باہمی طور پر فائدہ مند ثابت ہوگا اور انہوں نے دونوں ممالک کے نجی شعبوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اس معاہدے سے فائدہ اٹھائیں۔ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ سی ای پی اے تجارتی رکاوٹوں کو کم کر کے اور ایک مستحکم فریم ورک تیار کر کے دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں اضافہ کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ معاہدہ معیشت کے تمام بڑے شعبوں میں نئے مواقع پیدا کرے گا، اقتصادی ترقی کو تیز کرے گا، ملازمتیں فراہم کرے گا اور دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے بہاؤ کو فروغ دے گا۔

اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ بھارت دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں میں سے ایک ہے اور اقتصادی تنوع کے حوالے سے عمان کی ترقی کا اعتراف کرتے ہوئے، فریقین نے باہمی دلچسپی کے ترجیحی شعبوں بشمول انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، غذائی تحفظ، لاجسٹکس اور مہمان نوازی (ہاسپیٹلٹی) میں سرمایہ کاری کے مواقع کا بغور جائزہ لینے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ فریقین نے یہ بھی کہا کہ عمان-بھارت مشترکہ سرمایہ جاتی فنڈ (او آئی جے آئی ایف) کے ماضی کے کامیاب ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے، اس میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور سہولت فراہم کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔

دونوں رہنماؤں نے مقامی کرنسیوں میں دوطرفہ تجارت کی سہولت کے لیے طریقۂ کار سے متعلق بات چیت کا جائزہ لیا۔ انہوں نے دوطرفہ سرمایہ کاری کے معاہدے پر جاری پیش رفت کا بھی خیر مقدم کیا اور اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی میں اس کی اہمیت کو تسلیم کیا۔

فریقین نے توانائی کے شعبے میں اپنی دوطرفہ شراکت داری کو بڑھانے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا۔ توانائی کی دوطرفہ تجارت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے اتفاق کیا کہ اسے مزید بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ فریقین نے اپنی کمپنیوں کی مدد کرنے کی خواہش ظاہر کی تاکہ توانائی کے شعبے میں تعاون کو بڑھایا جا سکے، جس میں بھارت کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر تلاش و پیداوار (ای اینڈ پی) کے مواقع اور گرین امونیا اور گرین ہائیڈروجن جیسے نئے اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبوں میں تعاون شامل ہے۔ فریقین نے اپنے پائیدار توانائی کے اہداف کے درمیان ہم آہنگی کا اعتراف کیا اور مشترکہ سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور طویل مدتی تعاون کی تجویز پیش کی۔

 فریقین نے دفاعی شعبے میں گہرے ہوتے ہوئے تعاون کو سراہا اور اس سلسلے میں مل کر کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا، جس میں مشترکہ مشقیں، تربیت اور اعلیٰ سطحی دورے شامل ہیں تاکہ مشترکہ اہداف حاصل کیے جا سکیں اور علاقائی سلامتی و استحکام میں اپنا حصہ ڈالا جا سکے۔ انہوں نے میری ٹائم ڈومین آگاہی' (بحری معلومات) میں اضافے اور معلومات کے مسلسل تبادلے کی سہولت کے ذریعے بحری جرائم اور قزاقی کو روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

دورے کے دوران، فریقین نے بحری تعاون پر ایک مشترکہ وژن دستاویز منظور کی، جو علاقائی بحری سلامتی، بحری معیشت اور سمندری وسائل کے پائیدار استعمال کے لیے ان کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

فریقین نے صحت کے شعبے میں تعاون کو اپنی شراکت داری کے اہم ستونوں میں سے ایک تسلیم کیا اور اس میدان میں باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

فریقین نے جاری بات چیت اور اقدامات کا جائزہ لیا، جن میں روایتی ادویات کے شعبے میں تعاون کی سہولت کے لیے نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں آیوش چیئر اور عمان میں انفارمیشن سیل کے قیام کی تجویز شامل ہے۔

فریقین نے زرعی تعاون کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور زرعی سائنس، مویشی پروری اور آب کاشت میں اشتراک کو آگے بڑھانے کے لیے زراعت اور متعلقہ شعبوں میں مفاہمت کی عرضداشت پر دستخط کیے جانے کا خیر مقدم کیا۔ فریقین نے تربیت اور سائنسی تبادلوں کے ذریعے جوار  کی کاشت میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

فریقین نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے تعاون کا ذکر کیا، جس میں آئی ٹی خدمات، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور خلائی اقدامات شامل ہیں۔

فریقین نے ثقافتی تعاون کی گہرائی اور مضبوط عوامی روابط پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے مشترکہ نمائش ’’بھارت-عمان تعلقات کی وراثت‘‘ کا خیر مقدم کیا اور ثقافت کو ڈیجیٹل بنانے کے اقدامات پر جاری بات چیت کا جائزہ لیا۔ فریقین نے سوہار یونیورسٹی میں انڈین اسٹڈیز کے آئی سی سی آر  چیئر پروگرام کے قیام کے لیے تعاون کے اقدام کا جائزہ لیا، جو دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور تعلیمی تبادلوں کو فروغ دے گا۔

فریقین نے بحری ورثے اور عجائب گھروں کے بارے میں مفاہمت کی عرضداشت کا خیر مقدم کیا، جس سے عجائب گھروں کے درمیان مشترکہ نمائشوں اور تحقیق کے ذریعے تعاون ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے عمان کے لیے آئی این ایس وی کونڈنیا کے آئندہ پہلے سفر کا بھی ذکر کیا، جو ہماری مشترکہ بحری روایات کو اجاگر کرتا ہے۔

فریقین نے تعلیمی اور سائنسی تبادلوں میں جاری تعاون کا اعتراف کیا، جس میں مستقبل قریب میں ہونے والا انڈیا عمان نالج ڈائیلاگ بھی شامل ہے۔ اعلیٰ تعلیم سے متعلق مفاہمت کی عرضداشت (ایم او یو) اساتذہ اور طلباء کے تبادلے، اداروں کے درمیان اشتراک اور مشترکہ تحقیق کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔فریقین نے صلاحیت سازی کے جاری اقدامات بشمول آئی ٹی ای سی(بھارتی تکنیکی اور اقتصادی تعاون) پروگرام کے تحت ہونے والے کاموں کا بھی ذکر کیا۔

عمانی فریق نے فضائی خدمات کے ٹریفک حقوق، بشمول مقامات کی تعداد اور کوڈ شیئرنگ کے التزامات پر بات چیت میں دلچسپی ظاہر کی۔ بھارتی فریق نے اس درخواست پر غور کیا۔

فریقین نے تسلیم کیا کہ صدیوں پرانے عوامی روابط عمان اور بھارت کے تعلقات کی بنیاد ہیں۔ بھارتی فریق نے عمان میں مقیم تقریباً 6 لاکھ 75 ہزار متحرک بھارتی کمیونٹی کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے پر عمان کی قیادت کے تئیں تشکر کا اظہار کیا۔ عمانی فریق نے عمان کی ترقی میں بھارتی تارکینِ وطن کے گراں قدر تعاون کا اعتراف کیا۔

فریقین نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلۂ خیال کیا۔

دونوں رہنماؤں نے ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کی اور اس بات کا اعادہ کیا کہ ایسی کارروائیوں کے لیے کبھی بھی کسی جواز کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس شعبے میں مسلسل تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

فریقین نے غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور شہریوں تک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی محفوظ اور بروقت فراہمی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر دستخط کا خیر مقدم کیا اور اس منصوبے کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے امن و استحکام کی بحالی کی کوششوں کے لیے بھی اپنی حمایت کا اعادہ کیا اور مذاکرات و سفارت کاری کے ذریعے ایک منصفانہ اور پائیدار حل کی ضرورت پر زور دیا، جس میں ایک خود مختار اور آزاد فلسطینی ریاست کا قیام بھی شامل ہے۔

اس دورے کے دوران درج ذیل معاہدوں اور مفاہمت کی عرضداشتوں پر دستخط کیے گئے:

  1. جامع اقتصادی شراکت داری کا معاہدہ
  2. بحری ورثے اور میوزیم کے شعبے میں مفاہمت کی عرضداشت
  3. زراعت اور متعلقہ شعبوں میں مفاہمت کی عرضداشت
  4. اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں مفاہمت کی عرضداشت
  5. عمان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری کے درمیان مفاہمت کی عرضداشت
  6. بحری تعاون پر مشترکہ وژن دستاویز کو منظوری
  7. جوار کی کاشت اور زرعی و غذائی اختراع میں تعاون کے لیے ایگزیکٹو پروگرام

بھارتی وزیر اعظم نے عزت مآب سلطان ہیثم بن طارق کا ان کے اور ان کے وفد کے پرتپاک استقبال اور بہترین مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے عزت مآب سلطان کو باہمی طور پر مناسب وقت پر بھارت کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Emerging cities see 42% growth in GCC jobs, outpacing metros: Report

Media Coverage

Emerging cities see 42% growth in GCC jobs, outpacing metros: Report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi chairs 51st PRAGATI Meeting
May 27, 2026
PM reviews seven critical infrastructure projects across the Railways, Power and Road sectors
Projects reviewed span across 9 States with cumulative investment of around ₹30,000 crore
PM also reviews Ken Betwa Link Project and Swachh Bharat Mission-Urban 2.0
PM says Ken-Betwa River Inter-linking Project should serve as a model for other States to resolve inter-State water issues amicably
PM asks States to expedite the completion of solid waste management-related infrastructure, including waste processing plants and GOBARdhan plants
PM calls for mission-mode rooftop solar coverage in urban areas
Acting upon the advice of PM, system of monthly review of social sector schemes at State level operationalised, starting with review of Swachh Bharat Mission

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 51st meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform aimed at fostering Pro-Active Governance and Timely Implementation, by seamlessly integrating efforts of the Central and State governments, at Seva Teerth, earlier today.

During the meeting, the Prime Minister reviewed seven critical infrastructure projects across the Railways, Power and Road sectors covering nine States worth around ₹30,000 crore. These projects, pivotal to economic growth and public welfare, were reviewed with a focus on timelines, inter-agency coordination, and timely issue resolution. Prime Minister also reviewed Ken Betwa Link Project and Swachh Bharat Mission-Urban 2.0.

While reviewing power sector projects, Prime Minister emphasized the need to accelerate rooftop solar adoption across urban areas, with a special focus on cities, residential clusters and public institutions. He underlined that rooftop solar should be taken up in mission mode to reduce electricity costs, improve energy security and promote clean energy at the household and community level.

While reviewing road and port connectivity projects, it was emphasised that Vadhavan Port should be developed as a model of port-led, multi-modal development, where every major mode of transport is seamlessly integrated to create a future-ready logistics ecosystem. The project should not be seen merely as a port, but as a national gateway connected through coastal shipping, inland waterways, dedicated freight corridors, high-speed rail connectivity, highways and airport linkages.

Prime Minister emphasised the need for effective implementation of Swachh Bharat Mission 2.0 and underlined that the mission should move beyond infrastructure creation and ensure measurable outcomes through regular monitoring, citizen participation and convergence between various stakeholders. He asked States to expedite the completion of solid waste management-related infrastructure, including waste processing plants and GOBARdhan plants.

While reviewing Ken-Betwa River Inter-linking Project, Prime Minister observed that Ken-Betwa project should serve as a model for other States to resolve inter-State water issues through cooperation, timely clearances, technology-based monitoring and mission-mode execution. States were encouraged to identify similar opportunities where river-linking, water conservation, groundwater recharge and efficient irrigation can be taken up in an integrated manner to ensure long-term water security.

Prime Minister also underlined that the delay in the implementation of public projects leads not only to cost escalation but also deprives citizens of timely access to essential facilities and development benefits. He observed that every delay has a direct impact on people’s lives, regional growth and public resources. He stressed that Ministries, Departments and States must adopt a more proactive and time-bound approach to resolve pending issues, remove bottlenecks and ensure faster execution.

Prime Minister also emphasized that innovative use of canal networks should be explored, including installation of solar panels along canals and over canals for clean electricity generation. This would help optimize land use, reduce evaporation losses, generate renewable energy and create additional economic value from water infrastructure.

At the beginning of the meeting, the Cabinet Secretary informed that, in pursuance of the directions of the Prime Minister, a system of monthly review of social sector schemes at the State level has also been operationalised. This mechanism aims to ensure regular monitoring, faster resolution of implementation issues and greater accountability at the State and district levels. As part of this initiative, Swachh Bharat Mission has been taken up for review at the State level in the first instance.