ہند-فرانس انڈو-پیسفک روڈ میپ

Published By : Admin | July 14, 2023 | 23:10 IST

ہندوستان اور فرانس اسٹریٹجک طور پر واقع رہائشی طاقتیں اور کلیدی  شراکت دار ہیں جن کا ہند بحرالکاہل خطے سے گہرا تعلق ہے۔ بحر ہند میں ہند-فرانس شراکت داری ہمارے دوطرفہ تعلقات کا ایک اہم مرکز بن چکی ہے۔ سال 2018 میں، ہندوستان اور فرانس نے ’بحر ہند کے علاقے میں ہند-فرانس تعاون کے مشترکہ اسٹریٹجک وژن‘ پر اتفاق کیا تھا۔ اب ہم بحرالکاہل تک اپنی مشترکہ کوششوں کو بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔

ہمارے دونوں ملک ایک آزاد، کھلے، جامع، محفوظ اور پرامن ہند بحرالکاہل خطے میں یقین رکھتے ہیں۔ ہمارا تعاون ہمارے اپنے اقتصادی اور سلامتی کے مفادات کو محفوظ کرنا؛ عالمی مشترکات تک مساوی اور مفت رسائی کو یقینی بنانا؛ خطے میں خوشحالی اور پائیداری کی شراکت داری کی تعمیر؛ بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کو آگے بڑھانا؛ اور، خطے اور اس سے باہر دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کے ساتھ، خطے میں ایک متوازن اور مستحکم نظم قائم کرنا چاہتا ہے۔

وزیر اعظم مودی کے ساگر (علاقے میں سب کے لیے سلامتی اور ترقی) کے وژن اور صدر میکروں کے فرانس کی ہند بحرالکاہل حکمت عملی میں بیان کردہ سلامتی اور تعاون کے وژن میں کافی حد تک ہم آہنگی ہے۔ ہمارا تعاون جامع ہے اور اس میں دفاع، سلامتی، اقتصادی، کنیکٹیویٹی، انفراسٹرکچر، پائیداری اور انسانوں پر مرکوز ترقی شامل ہے۔

ہمارا دوطرفہ تعاون ہماری باہمی سلامتی کو آگے بڑھاتا ہے اور ہند بحرالکاہل خطے میں امن اور استحکام کی حمایت کرتا ہے۔ ہمارا تعاون سمندر کی تہہ سے خلاء تک پھیلا ہوا ہے۔ ہم اپنے تبادلوں کو مزید گہرا کرنا جاری رکھیں گے، حالات اور ڈومین کی آگاہی پر تعاون کریں گے، پورے خطے میں سمندری تعاون کو تیز کریں گے جیسا کہ ہم جنوبی مغربی بحر ہند کے علاقے میں خطے کے شراکت دار ممالک کے ساتھ رابطے میں کرتے ہیں۔ ہم فوجیوں کے بحری دوروں میں بھی اضافہ کریں گے اور ہندوستان میں دفاعی صنعتی صلاحیتوں کو فروغ دیں گے اور مشترکہ طور پر دوسرے ممالک کی ضروریات کو پورا کریں گے۔ ہم لا -ری یونین، نیو کیلیڈونیا اور فرانسیسی پولی نیشیا کے فرانسیسی سمندر پار علاقوں سمیت اور خطے اور اس سے باہر کے دیگر ممالک کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ اپنے جامع تعاون کو فروغ دینا جاری رکھیں گے۔

ہم خطے کے ممالک بشمول افریقہ، بحر ہند کے علاقے، جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا اور بحرالکاہل میں ترقیاتی تعاون بڑھانے کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔ ہم آسٹریلیا اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ اپنے کثیر فریقی انتظامات کو مضبوط کریں گے اور خطے میں نئے انتظامات بنائیں گے۔ ہم علاقائی فورمز جیسے کہ انڈین اوشن رم ایسوسی ایشن، انڈین اوشن نیول سمپوزیم، انڈین اوشن کمیشن، جبوتی کوڈ آف کنڈکٹ، اے ڈی ایم ایم+ اور اے آر ایف میں اپنا تعاون مضبوط کریں گے۔

ہم ہندوستان میں آئی ایف سی-آئی او آر، یو اے ایاور ایٹلانٹا میں ای ایم اے ایس او ایچ، سیشلزمیں آر سی او سی، مڈغاسکر میں آر ایم آئی ایف سی اور سنگاپور میں آر ای سی اے اے پی کے ذریعے بحری سیکورٹی کوآرڈی نیشن کو مضبوط بنائیں گے۔ فرانس کمبائنڈ میری ٹائم فورسز (سی ایم ایف) میں شامل ہونے کی ہندوستان کی خواہش کی بھی حمایت کرتا ہے۔

ہم انڈو پیسیفک اوشن انیشیٹو کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے مل کر کام کریں گے جس کا مقصد اس کے سات ستونوں کے تحت باہمی تعاون کے ذریعے خطے میں مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنا ہے۔ سمندری وسائل کے ستون پر فرانس کی قیادت کے تحت، ہم دونوں فریقوں کی جانب سے مختلف دوطرفہ، علاقائی اور عالمی اقدامات کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ اور اس کے تحت عملی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مل کر کام کریں گے، تاکہ سمندری وسائل کی پائیدار ترقی کے لیے ایک ماحولیاتی نظام بنایا جا سکے اور آئی یو یو فشنگ جیسی  سرگرمیوں سے مقابلہ کیا جا سکے۔

ہندوستان اور فرانس نے بین الاقوامی شمسی اتحاد کا آغاز کیا اور خطے میں قابل تجدید توانائیوں کی تعیناتی کے لیے پرعزم ہیں۔ ان کی یہ بھی تجویز ہے کہ خطے میں اسٹارٹ اپس کو سولر ایکس چیلنج پروجیکٹ سے فائدہ پہنچے۔

ہندوستان اور فرانس انڈو پیسفک پارکس پارٹنرشپ کو لاگو کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں اور خاص طور پر بحرالکاہل کی ریاستوں کے لیے مینگرووز کے تحفظ کے اقدام کی حمایت کر رہے ہیں۔

دونوں فریق ہند- فرانس انڈو پیسفک ٹرائینگولر ڈیولپمنٹ کوآپریشن فنڈ کو حتمی شکل دینے پر کام کریں گے۔ قدرتی آفات سے نمٹنے والے  بنیادی ڈھانچے سے متعلق اتحاد میں ہماری شراکت داری خطے کے لوگوں کے لیے، خاص طور پر چھوٹے جزیرے والی ریاستوں کے لیے ایک زیادہ لچکدار اور پائیدار مستقبل کی تعمیر میں مدد کرے گی۔ مزید برآں، فرانس ہندوستان کو کے آئی ڈبلیو اے پہل میں شامل ہونے کے لیے مدعو کرتا ہے، جو کہ ایک کثیر عطیہ دہندہ پروگرام ہے جو کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے لچک کو مضبوط بنانے اور بحرالکاہل میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے ٹھوس منصوبوں کے لیے آسان مالی امداد کے ذریعے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

ہندوستان اور فرانس ہند-بحرالکاہل کے لیے انڈو-فرینچ ہیلتھ کیمپس قائم کرنے کے لیے کام کریں گے، جس کا مقصد اسے تحقیق اور اکیڈمی کے لیے ایک علاقائی مرکز بنانا ہے۔ بحر ہند میں تجربے کی بنیاد پر، ہم بحرالکاہل جزیرے کے شہریوں کے لیے کیمپس کھولنے پر غور کر سکتے ہیں۔

ہمیں یقین ہے کہ ہند-فرانس شراکت داری ہند بحرالکاہل خطے میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے انتظامات کا ایک اہم ستون اور ہند بحرالکاہل خطے کے پرامن اور خوشحال مستقبل کے لیے ناگزیر ہوگی۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s digital economy enters mature phase as video dominates: Nielsen

Media Coverage

India’s digital economy enters mature phase as video dominates: Nielsen
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves increase in the Judge strength of the Supreme Court of India by Four to 37 from 33
May 05, 2026

The Union Cabinet chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi today has approved the proposal for introducing The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Bill, 2026 in Parliament to amend The Supreme Court (Number of Judges) Act, 1956 for increasing the number of Judges of the Supreme Court of India by 4 from the present 33 to 37 (excluding the Chief Justice of India).

Point-wise details:

Supreme Court (Number of Judges) Amendment Bill, 2026 provides for increasing the number of Judges of the Supreme Court by 04 i.e. from 33 to 37 (excluding the Chief Justice of India).

Major Impact:

The increase in the number of Judges will allow Supreme Court to function more efficiently and effectively ensuring speedy justice.

Expenditure:

The expenditure on salary of Judges and supporting staff and other facilities will be met from the Consolidated Fund of India.

Background:

Article 124 (1) in Constitution of India inter-alia provided “There shall be a Supreme Court of India consisting of a Chief Justice of India and, until Parliament by law prescribes a larger number, of not more than seven other Judges…”.

An act to increase the Judge strength of the Supreme Court of India was enacted in 1956 vide The Supreme Court (Number of Judges) Act 1956. Section 2 of the Act provided for the maximum number of Judges (excluding the Chief Justice of India) to be 10.

The Judge strength of the Supreme Court of India was increased to 13 by The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1960, and to 17 by The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1977. The working strength of the Supreme Court of India was, however, restricted to 15 Judges by the Cabinet, excluding the Chief Justice of India, till the end of 1979, when the restriction was withdrawn at the request of the Chief Justice of India.

The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1986 further augmented the Judge strength of the Supreme Court of India, excluding the Chief Justice of India, from 17 to 25. Subsequently, The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 2008 further augmented the Judge strength of the Supreme Court of India from 25 to 30.

The Judge strength of the Supreme Court of India was last increased from 30 to 33 (excluding the Chief Justice of India) by further amending the original act vide The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 2019.