پانچ سال کی مدت میں کیپٹل انفیوژن اور منصوبہ بند آئی پی او ای سی جی سی کی انڈر رائٹنگ کی صلاحیت کو 88000 کروڑ روپے تک بڑھانا اور 5.28 لاکھ کروڑ روپے کی اضافی برآمدات کو آگے بڑھانا ہے
رسمی سیکٹر میں 2.6 لاکھ ملازمتوں سمیت 59 لاکھ نئے روزگار پیدا کرنے میں مدد ملے گی
یہ فیصلہ حکومت کی جانب سے برآمد سے متعلقہ سلسلے وار اسکیموں اور گزشتہ چند سالوں میں کیے گئے اقدامات کا حصہ ہے
31 مارچ 2022 تک غیر ملکی تجارتی پالیسی میں توسیع (20-2015)
تمام زیر التواء بقایاجات کو ادا کرنے کے لیے ستمبر 2021 میں 56027 کروڑ روپے جاری کئے جائیں گے
مالی سال 22-2021 میں 12454 کروڑ روپے کی منظوری کے ساتھ محصولات اور ٹیکسوں کی رعایت اور برآمد شدہ مصنوعات (آر او ڈی ٹی ای پی) کا آغاز
تجارت کی سہولت اور برآمد کنندگان کے ایف ٹی اے کے استعمال کو بڑھانے کے لیے مشترکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم برائے سرٹیفکیٹ آف اوریجن شروع کیا گیا
اضلاع کو برآمداتی مراکز کے طور پر فروغ دینا
بھارت کی تجارت، سیاحت، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے اہداف کو فروغ دینے کے لیے بیرون ملک ہندوستانی مشنوں کے فعال کردار کو بڑھایا گیا ہے

نئی دہلی:29ستمبر،2021۔وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں حکومت نے برآمدات کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ اس کے مطابق حکومت نے پانچ سال کی مدت، یعنی مالی سال 2022-2021 سے مالی سال 2026-2025 تک ای سی جی سی لمیٹیڈ (جسے پہلے ایکسپورٹ کریڈٹ گارنٹی کارپوریشن آف انڈیا لمیٹیڈ کے نام سے جانا جاتا تھا) کے لئے 4400 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی منظوری دی ہے۔ ابتدائی عوامی پیشکش کے ذریعے ای سی جی سی کی لسٹنگ کے عمل کے ساتھ مناسب طریقے سے مطابقت پذیر کرنے کی کوششوں کے ساتھ منظور شدہ سرمایہ کاری ای سی جی سی کی انڈر رائٹنگ کی صلاحیت میں اضافہ کرے گا تاکہ مزید برآمدات کو فروغ دینے میں مدد مل سکے۔

حکومت ہند نے کمپنیز ایکٹ کے تحت 1957 میں ای سی جی سی کو قائم کیا تھا تاکہ برآمدات کو بیرون ملک خریداروں کی جانب سے تجارتی اور سیاسی وجوہات کی بنا پر ادائیگی کے خطرات کے خلاف کریڈٹ انشورنس خدمات فراہم کرکے برآمدات کو فروغ دیا جاسکے۔ یہ برآمد کنندگان کو برآمدی کریڈٹ قرضے کے خطرات کے خلاف بینکوں کو انشورنس کور بھی فراہم کرتا ہے۔ ای سی جی سی ہندوستانی برآمداتی صنعت کو اس کے تجربے، مہارت اور ہندوستان کی برآمدات کی ترقی اور فروغ کے بنیادی عزم کے ساتھ تعاون کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

ای سی جی سی محنت کش شعبوں سے برآمدات کی حمایت میں وسیع کردار ادا کرتا ہے اور چھوٹے برآمدکنندگان کے کاروباری اداروں کو بینک قرض دینے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جس سے ان کی بازیابی ہوتی ہے۔ ای سی جی سی میں سرمایہ کاری اسے اپنی کوریج کو ایکسپورٹ پر مبنی انڈسٹری خاص طور پر لیبر پر مبنی شعبوں تک بڑھانے کے قابل بنائے گا۔ منظور شدہ رقم قسطوں میں ڈال دی جائے گی جس سے 88000 کروڑ روپے تک کے خطرات کو کم کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور اس سے ای سی جی سی کو پانچ سال کے عرصے کے دوران موجودہ پیٹرن کے اندر 5.28 لاکھ کروڑ روپے کی اضافی برآمدات کی حمایت کرنے والے کور جاری کرنے میں مدد ملے گی۔

اس کے علاوہ فروری 2019 میں عالمی بینک اور بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کی طرف سے شائع ہونے والی 'ملازمتوں کو برآمد' رپورٹ کے لحاظ سے 5.28 لاکھ کروڑ کی برآمدات 2.6 لاکھ ورکروں کو باضابطہ بنانے کا باعث بنے گی۔ مزید برآں رپورٹ کے مطابق ورکروں کی کل تعداد (رسمی اور غیر رسمی دونوں) 59 لاکھ تک بڑھ جائے گی۔

ای سی جی سی - کارکردگی کی جھلکیاں۔

  1. ای سی جی سی بھارت میں  برآمدات قرض بیمہ بازار میں تقریبا 85 فیصد مارکیٹ شیئر کے ساتھ بازار کا لیڈر ہے۔
  2. 2020-21 میں ای سی جی سی کے تعاون سے برآمدات 6.02 لاکھ کروڑ روپے تھیں جو کہ ہندوستان کی تجارتی برآمدات کا تقریبا 28 فیصد ہے
  3. 31 مارچ 2021 تک بینکوں کے لیے برآمدات قرضہ بیمہ کے تحت مستفید ہونے والے مخصوص برآمد کنندگان کی تعداد 7372 اور 9535 ہیں، جن میں سے 97 فیصد چھوٹے برآمد کنندگان ہیں۔
  4. ای سی جی سی بینکوں کی طرف سے کل برآمداتی کریڈٹ تقسیم کا تقریبا 50 فیصد بیمہ کرتا ہے، جس میں 22 بینک (12 سرکاری سیکٹر کے بینک اور 10 نجی سیکٹر کے بینک شامل ہیں)۔
  5. ای سی جی سی کے پاس پانچ لاکھ سے زائد بیرون ملک خریداروں کا ڈیٹا بیس ہے۔
  6. اس نے پچھلی دہائی میں 7500 کروڑ روپے سے زیادہ کے دعووں کا نپٹارہ کیا ہے۔
  7. اس نے افریقہ ٹریڈ انشورنس (اے ٹی آئی) میں 11.7 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے تاکہ افریقی بازار میں ہندوستانی برآمدات کو سہولت بہم پہنچائی جاسکے۔
  8. پچھلے 20 سالوں سے ای سی جی سی نے حکومت کو مسلسل سرپلس دکھایا ہے اور منافع کی ادائیگی کی ہے۔

پچھلے کچھ برسوں میں برآمد سے متعلق مختلف اسکیمیں اور حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات

  1. غیر ملکی تجارتی پالیسی (20-2015) کووڈ 19 وبائی صورتحال کی وجہ سے 30 ستمبر 2021 تک بڑھا دی گئی۔
  2. کووڈ 19 میں نقدی فراہم کرنے کے لیے تمام اسکرپٹ بیس اسکیموں کے تحت تمام زیر التواء بقایاجات کو ختم کرنے کے لیے ستمبر 2021 میں 56027 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔
  3. ایک نئی اسکیم کا آغاز- محصولات اور ٹیکسوں اور برآمد شدہ مصنوعات کی رعایت (آر او ڈی ٹی ای پی)۔ مالی سال 22-2021 میں اس اسکیم کے لیے 12454 کروڑ روپے منظور کیے گئے۔ یہ ٹیکس/ ڈیوٹی/ لیویز کی ادائیگی کے لیے ایک عالمی تجارتی ادارہ (ڈبلیو ٹی او) مطابقت پذیر طریقہ کار ہے، جو فی الحال کسی دوسرے میکنزم کے تحت مرکزی, ریاستی اور مقامی سطح پر واپس نہیں کیا جا رہا ہے.
  4. آر او ایس سی ٹی ایل اسکیم کے ذریعے مرکزی/ ریاستی ٹیکسوں کی معافی کے ذریعے ٹیکسٹائل سیکٹر کو تعاون میں اضافہ کیا گیا، جسے اب مارچ 2024 تک بڑھا دیا گیا ہے۔
  5. مشترکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم برائے سرٹیفکیٹ آف اوریجن تجارت کو آسان بنانے اور برآمد کنندگان کے ذریعہ ایف ٹی اے کے استعمال کو بڑھانے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔
  6. زراعت، باغبانی، جانوروں کو پالنے، ماہی گیری اور فوڈ پروسیسنگ کے شعبوں سے متعلق زرعی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع "زرعی برآمداتی پالیسی" زیر عمل ہے۔
  7. 12 چیمپیئن سروسز سیکٹرز کے لیے مخصوص ایکشن پلان پر عمل کرتے ہوئے خدمات کی برآمدات کو فروغ دینا اور ان میں تنوع لانا۔
  8. ہر ضلع میں برآمداتی صلاحیت کے ساتھ مصنوعات کی نشاندہی کرکے اضلاع کو برآمدی مراکز کے طور پر فروغ دینا، ان مصنوعات کو برآمد کرنے کے لیے رکاوٹوں کو دور کرنا اور مقامی برآمد کنندگان/مینوفیکچررز کو ضلع میں روزگار پیدا کرنے میں مدد فراہم کرنا۔
  9. ہندوستان کی تجارت، سیاحت، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے اہداف کو فروغ دینے کے لیے بیرون ملک ہندوستانی مشنوں کے فعال کردار کو بڑھایا گیا ہے۔
  10. پیکیج کا اعلان۔ کووڈ وبا کی روشنی میں گھریلو صنعت کو مختلف بینکاری اور مالیاتی شعبے کے ریلیف اقدامات کے ذریعے خاص طور پر ایم ایس ایم ایز کے لیے کیا گیا ہے جو برآمدات میں اہم حصہ رکھتے ہیں
  11.  تجارتی انفراسٹرکچر برائے ایکسپورٹ اسکیم (ٹی آئی ای اید)، بازار رسائی اقدام (ایم اے آئی) اسکیم اور ٹرانسپورٹ اینڈ مارکیٹنگ اسسٹنس (ٹی ایم اے) اسکیمیں تاکہ تجارتی انفراسٹرکچر اور مارکیٹنگ کو فروغ دیا جا سکے۔
Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's strong growth outlook intact despite global volatility: Govt

Media Coverage

India's strong growth outlook intact despite global volatility: Govt
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister urges MPs to vote in favour of Nari Shakti Vandan Adhiniyam Amendment, Calls it Historic Opportunity
April 17, 2026

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, has highlighted that a discussion is currently underway in Parliament on the amendment to the Nari Shakti Vandan Adhiniyam, noting that deliberations continued till 1 AM last night.

He stated that all misconceptions surrounding the amendment have been addressed with logical responses, and every concern raised by members has been resolved. The Prime Minister added that necessary information, wherever lacking, has also been provided to all members, ensuring that issues of opposition have been clarified.

Emphasising that the issue of women’s reservation has witnessed political debates for nearly four decades, the Prime Minister said that the time has now come to ensure that women, who constitute half of the country’s population, receive their rightful representation.

He observed that even after decades of independence, the low representation of women in the decision-making process is not appropriate and needs to be corrected.

The Prime Minister informed that voting in the Lok Sabha is expected shortly and urged all political parties to take a thoughtful and sensitive decision by voting in favour of the women’s reservation amendment.

Appealing on behalf of the women of the country, he urged all Members of Parliament to ensure that no action hurts the sentiments of Nari Shakti. He noted that crores of women are looking towards the Parliament, its intent, and its decisions.

The Prime Minister called upon MPs to reflect upon their families-mothers, sisters, daughters, and wives—and listen to their inner conscience while making the decision.

He described the amendment as a significant opportunity to serve and honour the women of the nation and urged members not to deprive them of new opportunities.

Expressing confidence, the Prime Minister said that if the amendment is passed unanimously, it will further strengthen Nari Shakti as well as the country’s democracy.

Calling it a historic moment, he urged all members to come together to create history by granting rightful representation to women, who form half of India’s population.

The Prime Minister wrote on X;

“संसद में इस समय नारीशक्ति वंदन अधिनियम में संशोधन पर चर्चा चल रही है। कल रात भी एक बजे तक चर्चा चली है।

जो भ्रम फैलाए गए, उनको दूर करने के लिए तर्कबद्ध जवाब दिया गया है। हर आशंका का समाधान किया गया है। जिन जानकारियों का अभाव था, वो जानकारियां भी हर सदस्य को दी गई हैं। किसी के मन में विरोध का जो कोई भी विषय था, उसका भी समाधान हुआ है।

महिला आरक्षण के इस विषय पर देश में चार दशक तक बहुत राजनीति कर ली गई है। अब समय है कि देश की आधी आबादी को उसके अधिकार अवश्य मिलें।

आजादी के इतने दशकों बाद भी भारत की महिलाओं का निर्णय प्रक्रिया में इतना कम प्रतिनिधित्व रहे, ये ठीक नहीं।

अब कुछ ही देर लोकसभा में मतदान होने वाला है। मैं सभी राजनीतिक दलों से आग्रह करता हूं… अपील करता हूं...

कृपया करके सोच-विचार करके पूरी संवेदनशीलता से निर्णय लें, महिला आरक्षण के पक्ष में मतदान करें।

मैं देश की नारी शक्ति की तरफ से भी सभी सदस्यों से प्रार्थना करूंगा… कुछ भी ऐसा ना करें, जिनसे नारीशक्ति की भावनाएं आहत हों।

देश की करोड़ों महिलाओं की दृष्टि हम सभी पर है, हमारी नीयत पर है, हमारे निर्णय पर है। कृपया करके नारीशक्ति वंदन अधिनियम में संशोधन का साथ दें।”

“मैं सभी सांसदों से कहूंगा...

आप अपने घर में मां-बहन-बेटी-पत्नी सबका स्मरण करते हुए अपनी अंतरात्मा को सुनिए ...

देश की नारीशक्ति की सेवा का, उनके वंदन का ये बहुत बड़ा अवसर है।

उन्हें नए अवसरों से वंचित नहीं करिए।

ये संशोधन सर्वसम्मति से पारित होगा, तो देश की नारीशक्ति और सशक्त होगी… देश का लोकतंत्र और सशक्त होगा।

आइए… हम मिलकर आज इतिहास रचें। भारत की नारी को… देश की आधी आबादी को उसका हक दें।”

"Parliament is discussing a historic legislation that paves the way for women’s reservation in legislative bodies. The discussions, which began yesterday, lasted till around 1 AM and have continued since the House proceedings began this morning.

The Government has addressed all apprehensions and misconceptions relating to the legislation with facts and logic. All concerns have been addressed and any gaps in information have also been filled.

For nearly four decades, this issue of women’s reservation in legislative bodies has been inordinately delayed. Now is the time to ensure that half of the nation’s population receives its rightful due in decision making. Even after so many decades of Independence, it is not right that women in India have such limited representation in this area.

In a short while from now, voting will take place in the Lok Sabha. I urge and appeal to all political parties to reflect carefully and take a sensitive decision by voting in favour of women’s reservation.

On behalf of our Nari Shakti, I also request all members not to do anything that may hurt the sentiments of women across India. Crores of women are watching us…our intent and our decisions. I once again request that everyone support the amendments to the Nari Shakti Vandan Adhiniyam.”

"I would like to appeal to all Members of Parliament…

Please reflect upon your conscience, remembering the women in your own families.

The legislation to ensure women’s reservation in legislative bodies is a significant opportunity to do justice to women of our nation.

Please do not deprive our Nari Shakti of new opportunities.

If this amendment is passed unanimously, it will further empower the women of our country and strengthen our democracy.

Let us come together today to create history.

Let us ensure that the women of India, who are half of the nation’s population, receive their rightful due.”