The C-295 Aircraft facility in Vadodara reinforces India's position as a trusted partner in global aerospace manufacturing:PM
Make in India, Make for the World:PM
The C-295 aircraft factory reflects the new work culture of a New India:PM
India's defence manufacturing ecosystem is reaching new heights:PM

عالی مرتبت پیڈرو سانچیز، گجرات کے گورنر آچاریہ دیوورت جی، وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ جی، وزیر خارجہ جناب ایس جے شنکر جی،یہاں کے ہردلعزیز وزیر اعلیٰ جناب بھوپیندر بھائی پٹیل، اسپین اور ریاستی حکومت کے وزراء، ایئر بس اور ٹاٹا ٹیم کے سبھی ساتھی، خواتین وحضرات!

نمسکار!

بیونوس ڈیاس!

میرے دوست، پیڈرو سانچیز جی، ان کا یہ بھارت کا پہلا دورہ ہے۔ آج سے ہم بھارت اور اسپین کے درمیان شراکت داری کو ایک نئی سمت دے رہے ہیں۔ ہم سی-295ٹرانسپورٹ ایئر کرافٹ کی پیداوار کے لیے ایک فیکٹری کا افتتاح کررہے ہیں ۔ یہ فیکٹری بھارت اور اسپین کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے علاوہ میک ان انڈیا، میک فار دی ورلڈ  کے مشن کو بھی مضبوط کرنے  والی  ہے۔ میں ایئربس اور ٹاٹا کی پوری ٹیم کو بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں اور نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے ہم نے ملک کے عظیم فرزند رتن ٹاٹا جی کو کھو دیا ہے۔ اگر رتن ٹاٹا جی آج ہمارے درمیان ہوتے تو شایدوہ آج سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتے، لیکن ان کی آتما جہاں بھی ہوگی، آج وہ خوشی محسوس کر رہی ہوگی۔

 

ساتھیو،

سی-295 طیاروں کی یہ فیکٹری نئے بھارت کے نئے ورک کلچر کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ آج جس رفتار سے بھارت کسی بھی اسکیم پر کام کر رہا ہے، تصور سے لے کر عمل درآمد تک، وہ یہاں نظر آتا ہے۔ اس فیکٹری کی تعمیر دو سال قبل اکتوبر کے مہینے میں شروع ہوئی تھی۔ آج اکتوبر کے مہینے میں ہی یہ فیکٹری اب طیاروں کی پیداوار کے لیے تیار ہے۔ میری توجہ ہمیشہ اس بات کو یقینی بنانے پر رہی ہے کہ منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد میں کوئی غیر ضروری تاخیر نہ ہو۔ جب میں گجرات کا وزیر اعلیٰ تھا تو یہاں وڈودرا میں بامبارڈیئر ٹرین کے ڈبے بنانے کے لیے ایک فیکٹری لگانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ یہ فیکٹری بھی ریکارڈ مدت میں پیداوار کے لیے تیار کی گئی۔ آج ہم اس فیکٹری میں بنے میٹرو کوچز کو دوسرے ممالک کو بھی برآمد کر رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں اس ہوائی جہاز کے کارخانے میں تیار ہونے والے طیارے دوسرے ممالک کو بھی برآمد کیے جائیں گے۔

 

ساتھیو،

مشہور ہسپانوی شاعر انتونیو مچاڈو نے لکھا تھا: مسافروں،کوئی راستہ نہیں ہوتا... راستہ چلنے سے بنتا ہے... اس کا مطلب ہے کہ منزل تک پہنچنے کے لیے جیسے ہی ہم پہلا قدم اٹھاتے ہیں، راستہ خود بخود بن جاتا ہے۔ آج آپ دیکھئے بھارت میں دفاعی مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ اگر ہم نے 10 سال پہلے ٹھوس اقدامات نہ کیے ہوتے تو آج اس منزل تک پہنچنا ناممکن تھا۔ اس وقت کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ بھارت میں اتنے بڑے پیمانے پر دفاعی مینوفیکچرنگ ہو سکتی ہے۔ اس وقت ترجیح اور شناخت دونوں درآمدکی ہی تھی، لیکن ہم نے ایک نئے راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا اور اپنے لیے نئے اہداف مقرر کئے اور آج ہم اس کے نتائج دیکھ رہے ہیں۔

ساتھیو،

کسی بھی امکان کو خوشحالی میں تبدیل کرنے کے لیے صحیح منصوبہ اور صحیح شراکت داری ضروری ہے۔ بھارت کے دفاعی شعبے کی تبدیلی صحیح منصوبہ بندی اور صحیح شراکت داری کی ایک واضح مثال ہے۔گزشتہ دہائی میں، ملک نے ایسے بہت سے فیصلے کئے، جس کی وجہ سے بھارت میں ایک متحرک دفاعی صنعت کی ترقی ہوئی۔ ہم نے دفاعی مینوفیکچرنگ میں پرائیویٹ سیکٹر کی ساجھیداری کو بڑھایا، سرکاری سیکٹر کو مؤثر بنایا، اسلحہ فیکٹریوں کو سات بڑی کمپنیوں میں تبدیل کیا، ڈی آر ڈی او اور ایچ اے ایل کو مضبوط کیا، یوپی اور تمل ناڈو میں دو بڑی دفاعی  راہداری  قائم  کئے، ایسے بہت سے فیصلوں نے دفاعی شعبے کو نئی چیزوں سے ہمکنار کردیا۔ ائی ڈیکس یعنی دفاعی مہارت کے لیے اختراعات نے اسٹارٹ اپس کو حوصلہ دیا، صرف پچھلے 6-5سال میں بھارت میں تقریباً 1000 نئے دفاعی اسٹارٹ اپس قائم کئے گئے ہیں۔ گزشتہ 10 سال میں بھارت کی دفاعی برآمدات میں30 گنا اضافہ ہوا ہے۔ آج ہم دنیا کے 100 سے زائد ممالک کو دفاعی ساز و سامان برآمد کر رہے ہیں۔

 

ساتھیو،

آج ہم بھارت میں ہنر اور روزگار پیدار کرنے پر بہت زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ ایئربس اور ٹاٹا کی یہ فیکٹری بھارت میں ہزاروں ملازمتیں بھی پیدا کرے گی۔ اس منصوبے کی وجہ سے طیاروں کے 18 ہزار پرزے گھریلو سطح پراندرون  ملک تیار ہونے جا رہے ہیں۔ ایک پرزہ  ملک کے کسی حصے میں تیار ہو گا تو دوسرا پرزہ  ملک کے کسی اور حصے میں تیار ہو گا، اور یہ پرزے کون بنائے گا؟ ہمارے بہت چھوٹی اور چھوٹی صنعتی ادارے یہ کام کرنے جا رہے ہیں، ہمارےایم ایس ایم ای اس کام کی قیادت کریں گے۔ آج بھی ہم دنیا کی سب سے بڑی ہوائی جہاز کمپنیوں کو پرزے فراہم کرنے والے بڑے اداروں میں سے ایک ہیں۔ ہوائی جہاز کی یہ نئی فیکٹری بھارت  میں نئی ​​مہارتوں اور نئی صنعتوں کو زبردست تحریک فراہم کرے گی۔

ساتھیو،

آج کے اس پروگرام کو میں ٹرانسپورٹ ایئر کرافٹ کی مینوفیکچرنگ سے آگے بڑھ کر دیکھ رہا ہوں۔ آپ سب نے پچھلی دہائی  کے دوران بھارت کےہوا بازی سیکٹر کی بے مثال ترقی اور انقلابی تبدیلی دیکھی ہوگی۔ ہم ملک کے سینکڑوں چھوٹے شہروں کو فضائی رابطہ فراہم کر رہے ہیں۔ ہم پہلے ہی بھارت کو کو ہوا بازی اورایم آر او ڈومین کا مرکز بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یہ ایکو سسٹم مستقبل میں میڈ ان انڈیا،سول ایئر کرافٹ کے لیے بھی راہ ہموار کرے گا۔ آپ جانتے ہیں کہ مختلف ہندوستانی ایئر لائنز نے 1200 نئے طیاروں کی خریداری کے آرڈر دیے ہیں۔ اب شاید دنیا کی کمپنی کسی دوسرے ملک سے آرڈر نہیں لے سکے گی، یعنی مستقبل میں یہ فیکٹری سول ایئر کرافٹ کی ڈیزائننگ سے لے کر دنیا بھر کی ضروریات کو پورا کرنے میں بڑا کردار ادا کرنے جارہی ہے۔

 

ساتھیو،

بھارت کی ان کوششوں میں وڈودرا شہر ایک محرک کے طور پر کام کرے گا۔ یہ شہر پہلے سے ہی ایم ایس ایم ایز کا ایک مضبوط مرکز ہے۔ ہمارے یہاں گتی شکتی یونیورسٹی بھی ہے یہ یونیورسٹی ہمارے مختلف شعبوں کے لیے پیشہ ور افراد تیار کر رہی ہے۔ وڈودرا میں دوا سازی سیکٹر، انجینئرنگ اور بھاری مشینری، کیمیکلز اور پیٹرو کیمیکلز، بجلی اور توانائی آلات جیسے شعبوں سے وابستہ بہت سی کمپنیاں ہیں۔ اب یہ پورا علاقہ بھارت میں ہوا بازی مینوفیکچرنگ کا ایک بڑا مرکز بننے جا رہا ہے اور اس کے لیے آج میں گجرات سرکار، اس کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر بھائی اور ان کی پوری ٹیم کو ان کی جدید صنعتی پالیسیوں اور فیصلوں کے لیے مبارکباد پیش کرتا ہوںاور ان کی کافی تعریف کرتا ہوں۔

ساتھیو،

وڈودرا میں ایک اور خاص بات ہے۔ یہ بھارت کا ایک اہم ثقافتی شہر بھی ہے۔ یہ ہماری ثقافتی نگری ہے۔ اس لیے آج یہاں اسپین کے آپ سبھی  ساتھیوں کا یہاں خیرمقدم کرنے میں مجھے خاص طور پر خوشی ہو ئی ہے۔ بھارت اور اسپین کے درمیان ثقافتی رابطے کی اپنی اہمیت ہے۔ مجھے یاد ہے، فادر کارلوس ویلے اسپین سے آکر یہیں گجرات میں آباد ہوگئے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے پچاس سال یہاں گزارے۔ اپنے افکار اور تحریروں سے ہماری ثقافت کو مالا مال کیا ۔ مجھے بھی کئی بار ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ ہم نے انھیں ان کے گرانقدر تعاون کے لیے پدم شری سے بھی نوازا، لیکن یہاں گجرات میں ہم انہیں فادر والیس کہتے تھے، اور وہ گجراتی میں لکھتے تھے۔ گجراتی ادب میں ان کی کئی کتابیں ہماری مالا مال ثقافتی ورثہ ہیں۔

 

ساتھیو،

میں نے سنا ہے کہ اسپین میں بھی یوگا بہت مقبول ہے۔ اسپین کے فتبال کو بھی بھارت میں بہت پسند کیا جاتا ہے۔ ابھی کل جو ریئل میڈرڈ اور بارسلونا کے درمیان میچ ہوا ، اس کی چرچا بھارت میں بھی ہوئی۔ بارسلونا کی شاندار جیت یہاں بھی موضوع سخن  رہی اور میں آپ کو گارنٹی دے سکتا ہوں کہ بھارت میں دونوں کلب کے مداحوں میں اتنا ہی جھگڑا ہے جتنا اسپین میں ہے۔

ساتھیو،

پکوان، فلموں اور فٹ بال سبھی میں ہمارے تعلقات ،عوام سے عوام کے درمیان مستحکم رابطے پر مبنی ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ بھارت اور اسپین نے سال 2026 کو ثقافت، سیاحت اورمصنوعی ذہانت(اے آئی) کے بھارت -اسپین سال کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے۔

 

ساتھیو،

بھارت اور اسپین کی شراکت داری ایک ایسے پرزم کی مانند ہے جو ہمہ جہت ہے، متحرک اور ہمیشہ ارتقا پذیر ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آج کی یہ تقریب بھارت  اور اسپین کے درمیان مشترکہ تعاون والے بہت سے نئے پروجیکٹوں کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ میں اسپین کی صنعتوں اور اختراع کاروں کو بھی دعوت دینا چاہوں گاکہ وہ بھارت آئیں اور ہمارے ترقیاتی سفر میں ہمارے شراکت دار بنیں۔ ایک بار پھر، ایئربس اور ٹاٹا ٹیم کی کو اس پروجیکٹ کے لیے بہت بہت مبارکباد اور نیک خواہشات۔

شکریہ

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Total Urea stocks currently at 61.14 LMT, up from 55.22 LMT in March 2025

Media Coverage

Total Urea stocks currently at 61.14 LMT, up from 55.22 LMT in March 2025
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs CCS Meeting to review the situation and mitigating measures in the context of ongoing West Asia Conflict
March 22, 2026
Short, Medium and Long term measures to ensure continued availability of essential needs discussed in detail
Alternate sources of fertilizers for farmers were also discussed to ensure continued availability in the future
Several measures discussed to diversify sources of imports required by chemicals, pharmaceuticals, petrochemicals and other industrial sectors
New export destinations to promote Indian goods to be developed in near future
PM instructs that all arms of government should work together to ensure least inconvenience to citizens
PM directs that a group of Ministers and Secretaries be created to work dedicatedly in a whole of government approach
PM instructs for sectoral groups to work in consultation with all stakeholders
PM asks for proper coordination with state governments to ensure no black-marketing and hoarding of important commodities

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired a meeting of the Cabinet Committee on Security to review the situation and ongoing and proposed mitigating measures in the context of ongoing West Asia Conflict.

The Cabinet Secretary gave a detailed presentation on the global situation and mitigating measures taken so far and being planned by all concerned Ministries/Departments of Government of India. The expected impact and measures taken to address it across sectors like agriculture, fertilisers, food security, petroleum, power, MSMEs, exporters, shipping, trade, finance, supply chains and all affected sectors were discussed. The overall macro-economic scenario in the country and further measures to be taken were also discussed.

The ongoing conflict in West Asia will have significant short, medium and long term impact on the global economy and its effect on India were assessed and counter-measures, both immediate and long-term, were discussed.

Detailed assessment of availability for critical needs of the common man, including food, energy and fuel security was made. Short term, Medium term and Long term measures to ensure continued availability of essential needs were discussed in detail.

The impact on farmers and their requirement for fertiliser for the Kharif season was assessed. The measures taken in the last few years to maintain adequate stocks of fertilizers will ensure timely availability and food security. Alternate sources of fertilizers were also discussed to ensure continued availability in the future.

It was also determined that adequate supply of coal stocks at all power plants will ensure no shortage of electricity in India.

Several measures were discussed to diversify sources of imports required by chemicals, pharmaceuticals, petrochemicals and other industrial sectors. Similarly new export destinations to promote Indian goods will be developed in the near future.

Several measures proposed by different ministries will be prepared and implemented in the coming days after consultation with all stakeholders.

PM directed that a group of ministers and secretaries be created to work dedicatedly in a whole of government approach. PM also instructed for sectoral groups to work in consultation with all stakeholders.

PM said that the conflict is an evolving situation and the entire world is affected in some form. In such a situation, all efforts must be made to safeguard the citizens from the impact of this conflict. PM instructed that all arms of government should work together to ensure least inconvenience to the citizens. PM also asked for proper coordination with state governments to ensure no black-marketing and hoarding of important commodities.