وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں کابینہ کی اقتصادی امور کی کمیٹی نے آج وزارت ریلوے کے 02 (دو) منصوبوں کو منظوری دے دی ہے، جن کی کل لاگت تقریباً 24,815 کروڑ روپے ہے۔ ان منصوبوں میں شامل ہیں:

 

منصوبے کا نام

روٹ کی لمبائی (کلومیٹر میں)

ٹریک کی لمبائی (کلومیٹر میں

تکمیل کی لاگت (کروڑ میں روپے)

غازی آباد - سیتا پور تیسری اور چوتھی لائن

403

859

14,926

راجمندری (نیڈاداولو) - وشاکھاپٹنم (دوواڈا) تیسری اور چوتھی لائنیں

 

198

 

458

 

9,889

کُل

601

1,317

24,815

 

لائن کی گنجائش میں اضافہ نقل و حرکت کو نمایاں طور پر بہتر بنائے گا، جس کے نتیجے میں بھارتی ریلوے کی آپریشنل کارکردگی اور خدمات کی بھروسے مندی میں بہتری آئے گی۔ یہ ملٹی ٹریکنگ تجاویز آپریشن کو ہموار بنانے اور بھیڑ بھاڑ کم کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔ یہ منصوبے وزیر اعظم جناب نریند مودی کے ”نئے بھارت“ کے وژن کے مطابق ہیں، جو خطے کے لوگوں کو جامع ترقی کے ذریعے ”آتم نربھر“خود کفیل بنائیں گے اور روزگار و خود روزگار کے مواقع میں اضافہ کریں گے۔

یہ منصوبے پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کے تحت تیار کیے گئے ہیں، جن میں مربوط منصوبہ بندی اور متعلقہ فریقین سے مشاورت کے ذریعے ملٹی موڈل کنیکٹیویٹی اور لاجسٹک کی کارکردگی بڑھانے پر توجہ دی گئی ہے۔ یہ منصوبے افراد، اشیا اور خدمات کی نقل و حرکت کے لیے بغیر رکاوٹ رابطہ فراہم کریں گے۔

یہ 02 (دو) منصوبے، جو اتر پردیش اور آندھرا پردیش کے 15 اضلاع کا احاطہ کرتے ہیں، بھارتی ریلوے کے موجودہ نیٹ ورک میں تقریباً 601 کلومیٹر کا اضافہ کریں گے۔

مجوزہ گنجائش میں اضافہ ملک بھر کے کئی اہم سیاحتی مقامات تک ریل رابطے کو بہتر بنائے گا، جن میں دودھیشورناتھ مندر، گڑھ مکتیشور گنگا گھاٹ، درگاہ شاہ ولایت جامع مسجد (امروہہ)، نیمش رانے (سیتاپور)، اناوارم، انترویدی، درکش رامم وغیرہ شامل ہیں۔

یہ مجوزہ منصوبے کوئلہ، اناج، سیمنٹ، پی او ایل (پٹرولیم مصنوعات)، لوہا و اسٹیل، کنٹینر، کھاد، چینی، کیمیائی نمکیات، چونا پتھر وغیرہ جیسی اشیا کی ترسیل کے لیے اہم راستے ہیں۔ ریلوے ایک ماحول دوست اور توانائی کے لحاظ سے مؤثر ذریعہ نقل و حمل ہونے کے باعث ماحولیاتی اہداف کے حصول میں مدد دے گی اور ملک کے لاجسٹک اخراجات کو کم کرے گی، جس سے کاربن کے اخراج (180.31 کروڑ کلوگرام) میں کمی آئے گی، جو تقریباً 7.33 کروڑ درخت لگانے کے برابر ہے۔

 

غازی آباد – سیتاپور تیسری اور چوتھی لائن (403 کلومیٹر)

 

  • غازی آباد – سیتاپور ایک موجودہ ڈبل لائن سیکشن ہے جو دہلی–گوہاٹی ہائی ڈینسٹی نیٹ ورک (ایچ ڈی این 4) کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ منصوبہ ملک کے شمالی اور مشرقی خطوں کے درمیان رابطہ بہتر بنانے کے لیے نہایت اہم ہے۔
  • اس سیکشن کی موجودہ لائن گنجائش کا استعمال 168 فیصد تک پہنچ چکا ہے اور اگر یہ منصوبہ شروع نہ کیا گیا تو یہ 207 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔
  • یہ منصوبہ اتر پردیش کے اضلاع غازی آباد، ہاپوڑ، امروہہ، مرادآباد، رامپور، بریلی، شاہجہاں پور، لکھیم پور کھیری اور سیتا پور سے گزرتا ہے۔
  • منصوبے کا روٹ بڑے صنعتی مراکز سے بھی گزرتا ہے، جن میں غازی آباد (مشینری، الیکٹرانکس، فارماسیوٹیکل)، مرادآباد (پیتل کے برتن اور دستکاری)، بریلی (فرنیچر، ٹیکسٹائل، انجینئرنگ)، شاہجہاں پور (قالین اور سیمنٹ سے متعلق صنعتیں) اور روضہ (تھرمل پاور پلانٹ) شامل ہیں۔
  • بغیر رکاوٹ نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لیے، منصوبے کی ترتیب اس طرح تیار کی گئی ہے کہ ہاپوڑ، سمباولی، مرادآباد، رام پور، بھرتیلی، شاہجہاں پور اور سیتا پور جیسے مصروف اسٹیشنوں کو بائی پاس کیا جائے، اور ان بائی پاس حصوں پر چھ نئے اسٹیشن قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
  • منصوبے کے قریب اہم سیاحتی و مذہبی مقامات میں دودھیشورناتھ مندر، گڑھ مکتیشور گنگا گھاٹ، درگاہ شاہ ولایت جامع مسجد (امروہہ) اور نیمش رانے (سیتاپور) شامل ہیں۔
  • متوقع اضافی مال برداری ٹریفک 35.72 ایم ٹی پی اے ہوگی، جس میں کوئلہ، اناج، کیمیائی کھادیں، تیار شدہ اسٹیل وغیرہ شامل ہیں۔
  • تخمینی لاگت: تقریباً 14,926 کروڑ روپے
  • روزگار کے مواقع: 274 لاکھ انسانی دن
  • کاربن اخراج میں کمی: تقریباً 128.77 کروڑ کلوگرام CO2 (جو 5.15 کروڑ درخت لگانے کے برابر ہے)
  • لاجسٹکس لاگت میں بچت: سڑک کے مقابلے میں ہر سال تقریباً 2,877.46 کروڑ روپے

 

غازی آباد – سیتاپور تیسری اور چوتھی لائن (403 کلومیٹر)

 

 

 

راجمندری (نیداداوولو) – وشاکھاپٹنم (دوواڈا) تیسری اور چوتھی لائن (198 کلومیٹر)

 

  • راجمندری (نیداداوولو) – وشاکھاپٹنم (دوواڈا) سیکشن ہاوڑہ – چنئی ہائی ڈینسٹی نیٹ ورک (ایچ ڈی این) کا ایک اہم حصہ ہے۔ مجوزہ منصوبہ اسی روٹ کی چار گنا توسیع کے اقدام کا حصہ ہے۔
  • یہ منصوبہ آندھرا پردیش کے اضلاع مشرقی گوداوری، کونسیما، کاکیناڈا، اناکاپلی اور وشاکھاپٹنم سے گزرتا ہے۔
  • وشاکھاپٹنم کو حکومت کے خواہش مند اضلاع پروگرام کے تحت ایک نمایاں ضلع قرار دیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ مشرقی ساحل کے اہم بندرگاہوں جیسے وشاکھاپٹنم بندرگاہ، گنگاوارم بندرگاہ، مچلی پٹنم بندرگاہ اور کاکیناڈا بندرگاہ سے رابطہ فراہم کرتا ہے۔
  • یہ روٹ مشرقی ساحلی پٹی کے ساتھ ساتھ چلتا ہے اور ایسٹ کوسٹ ریل کوریڈور کے مصروف ترین، بالخصوص مال برداری پر مبنی حصوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس سیکشن کی لائن گنجائش کا استعمال پہلے ہی 130 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کی وجہ سے اکثر بھیڑ اور آپریشنل تاخیر ہوتی ہے۔ بندرگاہوں اور صنعتوں کی مجوزہ توسیع کے باعث مستقبل میں اس گنجائش میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
  • اس منصوبے میں گوداوری ندی پر 4.3 کلومیٹر طویل ریلوے پل، 2.67 کلومیٹر طویل وایاڈکٹ، 3 بائی پاس شامل ہیں، جبکہ نئی لائن موجودہ روٹ سے تقریباً 8 کلومیٹر کم ہوگی، جس سے رابطہ اور آپریشنل کارکردگی بہتر ہوگی۔
  • یہ مجوزہ سیکشن سیاحت کو بھی فروغ دے گا کیونکہ اس سے اہم مقامات جیسے اناوارم، انترویدی، اور درکشا رامم تک رسائی بہتر ہوگی۔
  • متوقع اضافی مال برداری ٹریفک 29.04 ایم ٹی پی اے ہوگی، جس میں کوئلہ، سیمنٹ، کیمیائی کھادیں، لوہا و اسٹیل، اناج، کنٹینر، باکسائٹ، جپسم، چونا پتھر وغیرہ شامل ہیں۔
  • تخمینی لاگت: تقریباً 9,889 کروڑ روپے
  • روزگار کے مواقع: 135 لاکھ انسانی دن
  • کاربن اخراج میں کمی: تقریباً 51.49 کروڑ کلوگرام CO2 (جو 2.06 کروڑ درخت لگانے کے برابر ہے)
  • لاجسٹکس لاگت میں بچت: سڑک کے مقابلے میں ہر سال تقریباً 1,150.56 کروڑ روپے

 

اقتصادی عطائے اختیار:

  • ترقیاتی اضلاع — وشاکھاپٹنم ضلع کو بہتر رابطہ حاصل ہوگا۔
  • سیاحت اور صنعتوں کے ذریعے خطے میں اضافی معاشی مواقع پیدا ہوں گے۔
  • ریل رابطے میں بہتری کے باعث شہریوں کو صحت اور تعلیم کی بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔

 

راجمندری (نیداداوولو) – وشاکھاپٹنم (دوواڈا) تیسری اور چوتھی لائن (198 کلومیٹر)

 

 

وزیر اعظم کا ریلوے پر فوکس:

 

  • مالی سال 26-27 کے لیے 2,65,000 کروڑ روپے کا ریکارڈ بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
  • 1600 سے زائد لوکوموٹیو (انجن) کی تیاری— پیداوار کے لحاظ سے امریکہ اور یورپ کو پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے۔
  • مالی سال 2026 میں بھارتی ریلوے کے عالمی سطح پر سرفہرست تین مال بردار اداروں میں شامل ہونے کی توقع ہے، جو 1.6 ارب ٹن کارگو کی نقل و حمل کرے گا۔
  • بھارت نے میٹرو کوچ آسٹریلیا کو برآمد کرنا شروع کر دیا ہے، جبکہ بوگیاں برطانیہ، سعودی عرب، فرانس اور آسٹریلیا کو برآمد کی جا رہی ہیں۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Chronic therapies power 11% growth in Indian pharma market in May

Media Coverage

Chronic therapies power 11% growth in Indian pharma market in May
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
World Leaders Congratulate Prime Minister Shri Narendra Modi on Becoming India’s Longest-Serving Elected Prime Minister
June 09, 2026

Prime Minister Shri Narendra Modi received warm congratulations from world leaders on the eve of his becoming the longest-serving elected Prime Minister of India. World leaders from across the globe paid tribute to Prime Minister’s transformative governance, his advocacy for the Global South, and his vision of an inclusive and economically dynamic India.

H.E. Anura Kumara Disanayaka, the President of Sri Lanka, in a letter dated 8 June 2026 addressed to the Prime Minister, conveyed the warm congratulations of the Government and people of Sri Lanka to him, stating: “This milestone is a testament not only to your years in office, but also to the trust and confidence that the people of the world’s largest democracy have repeatedly placed in your leadership.” The President also highlighted India’s remarkable economic and social transformation and noted that Prime Minister Modi’s vision has inspired many beyond India’s borders, including Sri Lanka. Prime Minister Modi visited Sri Lanka from 4–6 April 2025, his fourth visit to the island nation, during which he was conferred the Mitra Vibhushana, Sri Lanka’s highest civilian honour accorded to a foreign dignitary. The visit reaffirmed India’s Neighbourhood First policy, with Sri Lanka among the closest beneficiaries of India’s steadfast partnership, including India’s pivotal support during Sri Lanka’s economic difficulties in 2022.

H.E. James Marape, the Prime Minister of Papua New Guinea, in a personal video message, described Prime Minister Modi as “a role model and an example of leadership”. He also stated - “Lifting over 200 million people out of poverty to good life today is an amazing feat.” Prime Minister Marape expressed Papua New Guinea’s warm friendship and its desire to further consolidate bilateral ties. Prime Minister Modi’s historic visit to Papua New Guinea in May 2023, the first-ever by an Indian Prime Minister, for the Third Forum for India–Pacific Islands Cooperation (FIPIC-III) Summit was a landmark moment in India’s engagement with the Pacific Island nations. The visit underscored India’s role as a committed partner of the Global South.

H.E. Kamla Persad-Bissessar, the Prime Minister of Trinidad and Tobago, congratulated Prime Minister Modi on this occassion, noting that “under the leadership of Prime Minister Modi, India has evolved as a leading voice on global matters.” She highlighted Prime Minister Modi’s journey from humble beginnings to leading a nation of 1.4 billion people across three terms, and underscored India’s significant achievements in foreign policy, economic growth, infrastructure, and socio-economic development. Prime Minister Modi paid a landmark visit to Trinidad and Tobago from 3–4 July 2025, the first bilateral visit by an Indian Prime Minister in 26 years, coinciding with the 180th anniversary of the arrival of Indian immigrants to Trinidad and Tobago.