وزیراعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے آج کسانوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے اور ان کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے لیے 13,966 کروڑ روپے کی کل سات اسکیموں کو منظوری دی۔

1. ڈیجیٹل ایگریکلچر مشن: ڈیجیٹل پبلک انفرااسٹرکچر کے ڈھانچے کی بنیاد پر، ڈیجیٹل ایگریکلچر مشن کسانوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کرے گا۔ اس مشن  کے لیے کل 2,817 کروڑ روپے کے اخراجات کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ دو بنیادی ستونوں پر مشتمل ہے۔

1. ایگری اسٹیک

  1. کسانوں کی رجسٹری
  2. گاؤں کی زمین کے نقشوں کی رجسٹری
  3. بوئی گئی فصل کی رجسٹری

2. کرشی ڈیسزن سپورٹ سسٹم

  1. جغرافیائی ڈیٹا
  2. خشک سالی/سیلاب کی نگرانی
  3. موسم/سیٹلائٹ ڈیٹا
  4. زیرزمین پانی/پانی کی دستیابی کا ڈیٹا
  5. فصل کی پیداوار اور انشورنس کے لیے ماڈلنگ

 مشن کےالتزامات  میں شامل ہیں

  • مٹی کا پروفائل
  • ڈیجیٹل فصل تخمینہ
  • ڈیجیٹل پیداوار ماڈلنگ
  • فصل قرض کے لیے رابطہ
  • اے آئی  اور بگ ڈیٹا جیسی جدید ٹیکنالوجیز
  • خریداروں کے ساتھ جڑاؤ
  • موبائل فون پر نئی معلومات کی دستیابی

2. خوراک اور غذائی تحفظ کے لیے فصل سائنس: 3,979 کروڑ روپے کے کل اخراجات کے ساتھ یہ اقدام کسانوں کو موسمیاتی اتار چڑھاؤ کے لیے تیار کرے گا اور 2047 تک غذائی تحفظ فراہم کرے گا۔ اس کے درج ذیل ستون ہیں:

  1. تحقیق اور تعلیم
  2. پودوں کے جینیاتی وسائل کا بندوبست
  3. خوراک اور چارے والی فصل کی جینیاتی بہتری
  4. دالوں اور تلہنی فصل کی بہتری
  5. تجارتی فصلوں کی بہتری
  6. کیڑوں، جرثوموں، پولینیٹرز وغیرہ پر تحقیق

3. زرعی تعلیم، نظم و نسق اور سماجی علوم کو مضبوط بنانا: 2,291 کروڑ روپے کے مجموعی اخراجات کے ساتھ یہ اقدام زراعت کے طلباء اور محققین کو موجودہ چیلنجوں کے لیے تیار کرے گا اور یہ درج ذیل پر مشتمل ہے۔

  1. انڈین کونسل آف ایگری ریسرچ کے تحت
  2. زرعی تحقیق اور تعلیم کو جدید بنانا
  3. نئی تعلیمی پالیسی 2020 کے مطابق
  4. جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال … ڈیجیٹل ڈی پی آئی، اے آئی،بگ ڈیٹا، ریموٹ وغیرہ
  5. قدرتی کاشتکاری اور آب و ہوا کے تعلق سے ہونے والے اتار چڑھاؤ کو شامل کرنا

4. مویشیوں کی پائیدارصحت اور پیداوار: 1,702 کروڑ روپے کے مجموعی اخراجات کے ساتھ، اس فیصلے کا مقصد مویشیوں اور ڈیری سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔ یہ مندرجہ ذیل پر مشتمل ہے۔

  1. جانوروں کی صحت کا بندوبست اور ویٹرنری تعلیم
  2. دودھ کی پیداوار اور ٹیکنالوجی کی ترقی
  3. جانوروں کے جینیاتی وسائل کا بندوبست، پیداوار اور بہتری
  4. جانوروں کی غذائیت اورجُگالی کرنے والے چھوٹے جانورں سے ہونے والی پیداوار اور ترقی

5. باغبانی کی پائیدار ترقی: 860 کروڑ روپے کے مجموعی اخراجات کے ساتھ اس اقدام کا مقصد باغبانی والے پودوں سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔ یہ مندرجہ ذیل پر مشتمل ہے۔

  1. ٹروپیکل (منطقہ حارہ )، سب –ٹروپیکل  اور ٹمپریٹ (معتدل ) باغبانی فصلیں
  2. جڑ، ٹبر(آلو، پیاز وغیرہ جیسی فصلیں)، بلبس(گانٹھ دار) اورایرِڈ( خشک) فصلیں
  3. سبزیاں، پھولوں کی کاشت اور مشروم کی فصلیں
  4. شجر کاری ، مصالحے، دواؤں کی تیاری میں کام آنے والے اور خوشبودار پودے

6. 1,202 کروڑ روپے کے اخراجات کے ساتھ کرشی وگیان کیندر کو مضبوط بنانا

7. 1,115 کروڑ روپے کے اخراجات کے ساتھ  قدرتی وسائل کابندوبست

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Indian public relations industry pegged to reach ₹4,500 cr by 2030: Report

Media Coverage

Indian public relations industry pegged to reach ₹4,500 cr by 2030: Report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister’s visit to Indonesia, Australia and New Zealand
July 03, 2026

At the invitation of the President of the Republic of Indonesia, H.E. Mr. Prabowo Subianto, Prime Minister Shri Narendra Modi will pay a visit to Indonesia from 6-8 July, 2026. This will be Prime Minister’s fourth visit to Indonesia and his first bilateral visit since the elevation of India-Indonesia ties to the level of Comprehensive Strategic Partnership in May 2018. During the visit, Prime Minister will hold bilateral discussions with President Prabowo and review the progress made in the partnership. In Jakarta, Prime Minister will address a large gathering of the Indian Diaspora. India and Indonesia share historical and warm people-to-people ties. In keeping with these special bonds, Prime Minister will visit the Prambanan Temple complex at Yogyakarta, a prominent UNESCO world heritage site in Indonesia.

From Indonesia, at the invitation of the Prime Minister of Australia, the Honourable Anthony Albanese MP, Prime Minister will travel to Melbourne from 8-10 July, 2026. In Melbourne, Prime Minister will hold bilateral discussions with Prime Minister Albanese. He will also call on the Governor General of Australia, the Honourable Ms Sam Mostyn AC. During his visit, Prime Minister will also participate in the India-Australia CEOs Forum, where he will address a gathering of top business leaders from both countries. Prime Minister will also address a large gathering of the Indian Diaspora, who constitute a strong pillar of the India-Australia relationship.

From Melbourne, at the invitation of the Prime Minister of New Zealand, Rt Honourable Christopher Luxon, Prime Minister will travel to Auckland for a state visit from 10-11 July, 2026. This will be the first state visit of an Indian Prime Minister to New Zealand in four decades. In Auckland, Prime Minister will hold bilateral discussions with Prime Minister Luxon and review the entire gamut of the bilateral relationship, which has seen significant progress in the last two years, especially in the areas of trade and commerce and defence. While in Auckland, Prime Minister will also interact with prominent business and sports personalities. In a reflection of the strong people-to-people ties that exist between India and New Zealand, Prime Minister will address a large gathering of the Indian Diaspora during the visit.