سیمی کنڈکٹر مشن: پیہم رواں

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی زیرصدارت مرکزی کابینہ کے اجلاس میں آج انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن کے تحت مزید ایک سیمی کنڈکٹر یونٹ کے قیام کو منظوری دی گئی۔

پہلے سے ہی پانچ سیمی کنڈکٹر یونٹس تعمیر کے آخری مراحل میں ہیں۔ اس چھٹے یونٹ کے ساتھ ، ہندوستان اسٹریٹجک طور پر اہم سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کو ترقی دینے کے اپنے سفر میں پیہم رواں دواں ہے ۔

آج منظور شدہ یونٹ کی تعمیر ایچ سی ایل اور فاکسکون کا مشترکہ منصوبہ ہے ۔ ایچ سی ایل کی ہارڈ ویئر تیار کرنے اور تیار ترقی دینے کی ایک طویل تاریخ ہے ۔ فاکسکون الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ میں عالمی سطح کی بڑی کمپنی ہے ۔ وہ دونوں ساتھ مل کر جیور ہوائی اڈے کے قریب جمنا ایکسپریس وے انڈسٹریل ڈیولپمنٹ اتھارٹی یا وائی ای آئی ڈی اے میں سیمی کنڈکٹر پلانٹ کی تعمیر کریں گی۔

اس  پلانٹ میں موبائل فون ، لیپ ٹاپ ، آٹوموبائل ، پی سی اور ڈسپلے والے بے شمار دیگر آلات کے لیے ڈسپلے ڈرائیور چپس تیار کی جائیں گی۔

پلانٹ کو ہر ماہ 20,000 ویفرز کی مینوفیکچرنگ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے ۔ ڈیزائن آؤٹ پٹ کی صلاحیت ماہانہ 36 ملین یونٹ ہے ۔

سیمی کنڈکٹر کی صنعت اب پورے ملک میں قائم ہورہی ہے ۔ ملک بھر کی متعددریاستوں میں ڈیزائن کی عالمی معیار کی سہولیات قائم ہوئی ہیں ۔ ریاستی حکومتیں ڈیزائن فرموں کو بھرپور طریقے سے حمایت دے رہی ہیں ۔

270 تعلیمی اداروں اور 70 اسٹارٹ اپس کے طلبہ اور کاروباری افراد نئی مصنوعات تیار کرنے کے لیے عالمی معیار کی جدید ترین ڈیزائن ٹیکنالوجیز پر کام کر رہے ہیں ۔ ان تعلیمی اداروں کے ماہرین اورطلبہ کے ذریعے تیار کردہ 20 مصنوعات کو ایس سی ایل موہالی کے ذریعےشروع کیا گیاہے ۔

آج منظور شدہ نئی سیمی کنڈکٹر یونٹ میں3,700 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوگی۔

سیمی کنڈکٹر کی تعمیر کے سفر میں ملک کے قدم آگے بڑھانے کے ساتھ ، ماحولیاتی نظام کے شراکت داروں نے بھی ہندوستان میں اپنی سہولیات قائم کی ہیں۔ اپلائیڈ میٹریلز اور لام ریسرچ دو سب سے بڑے آلات بنانے والےادارے ہیں۔ اب ہندوستان میں دونوں کی موجودگی ہے۔ میرک، لنڈے ، ایئر لیکویڈ ، آئنوکس  اور بہت سے دوسرے گیس اور کیمیائی سپلائرز ہماری سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کی ترقی میں شامل ہونےکے لیے تیاری کر رہے ہیں ۔

ہندوستان کے اندر لیپ ٹاپ، موبائل فون، سرور، طبی آلات، پاور الیکٹرانکس، دفاعی آلات اور کنزیومر الیکٹرانکس کی مینوفیکچرنگ میں تیزی سے ترقی کے ساتھ سیمی کنڈکٹر کی مانگ میں اضافے کے تناظر میں، اس نئی یونٹ  سےوزیر اعظم جناب نریندر مودی جی کے آتم نربھر بھارت کے وژن کی تائید میں مزید اضافہ ہوگا۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
From Macron To Busch, What European Leaders' Big Presence At AI Impact Summit 2026 Means For India

Media Coverage

From Macron To Busch, What European Leaders' Big Presence At AI Impact Summit 2026 Means For India
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister’s meeting with Prime Minister of Mauritius on the sidelines of the India AI Impact Summit
February 20, 2026

Prime Minister Shri Narendra Modi met the Prime Minister of Mauritius Dr. Navinchandra Ramgoolam on the sidelines of the India AI Impact Summit in New Delhi today. This is Prime Minister Ramgoolam’s second visit to India during his current tenure, following his State Visit in September 2025. The meeting also follows their recent telephonic conversation held on 09 February 2026.

The two leaders reviewed the progress of the Enhanced Strategic Partnership and its multifaceted engagement across trade and investment, maritime security, health, education and digital cooperation. Recognising the growing relevance of emerging technologies, they exchanged views on collaboration in Artificial Intelligence and innovation-led sectors to advance inclusive and sustainable development.

The leaders reviewed the implementation of the Special Economic Package extended by India in support of Mauritius’ development priorities. Prime Minister Modi underscored that Mauritius stands as a role model for India’s development partnership, reflecting mutual trust and shared commitment to progress.

The two Prime Ministers reaffirmed the enduring importance of the India–Mauritius partnership under India’s Vision MAHASAGAR and Neighbourhood First policy, emphasising its contribution to mutual prosperity and advancing the shared priorities of the Global South.

The leaders agreed to continue working closely to further strengthen bilateral cooperation and contribute to peace, stability and prosperity in the Indian Ocean Region.