نئی دہلی،  12 ستمبر 2018، مرکزی کابینہ کی میٹنگ نے جس کی صدارت  وزیراعظم جناب نریندر مودی نے کی، حکومت کے کسان نواز اقدامات کو بڑے پیمانے پر بڑھاوا دیتے ہوئے اور ان داتا کے لئے حکومت کے عہد اور لگن کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک نئی جامع اسکیم ’’پردھان منتری اَنّ داتا  آئے سنرکشن ابھیان ‘‘ (پی ایم اے اے ایس ایچ اے) کی منظوری دی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد کسانوں کو ان کی مصنوعات کے لئے منافع بخش قیمتوں کی یقین دہانی کرانا ہے جس کا اعلان 2018 کے مرکزی بجٹ میں کیا گیا تھا۔

یہ کسانوں کی آمدنی کو تحفظ دینے کے لئے جو کسانوں کی بھلائی کے لئے ایک بڑا منصوبہ ثابت ہوگی، حکومت کی طرف سے اٹھایا گیا ایک بے مثال قدم ہے۔ حکومت نے پیداوار کا ڈیڑھ فیصد کے اصول کی پابندی کرتے ہوئے خریف کی فصلوں کے لئے کم از کم امدادی قیمت میں پہلے ہی اضافہ کردیا ہے۔ امید ہے کہ کم از کم امدادی قیمت میں اضافے سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور ریاستوں کے تعاون سے زبردست حصولیابی کا طریقہ کار اپنایا جائے گا۔

ایم پی۔ اے اے ایس ایچ اے کی خصوصیات:

نئی  جامع اسکیم میں وہ طریقہ کار بھی شامل ہے جس کے ذریعہ کسانوں کو ان کی مصنوعات کے لئے منافع بخش قیمتیں دی جائیں گی اور یہ اسکیم مندرجہ ذیل خصوصیات پر مشتمل ہے۔

  • امدادی قیمت اسکیم (پی ایس ایس)
  • قیمت میں کمی کی ادائیگی اسکیم (پی ڈی پی ایس)
  • نجی وصولیابی اور  جامع کرنے کی اسکیم (پی پی پی ایس)

دھان، گیہوں اور دیگر اناج / موٹے اناج کی وصولی سے متعلق سرکاری نظام تقسیم کی موجودہ اسکیموں اور کپاس  اور پٹسن کے بارے میں ٹیکسٹائل کی وزارت کی موجودہ اسکیموں سے  کسانوں کو ان کی فصلوں کے لئے کم از کم امدادی قیمت فراہم  کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

مرکزی کابینہ نے  وصولیابی کی کارروائیوں میں پرائیویٹ سیکٹر کو شرکت کی اجازت دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے تاکہ وصولیابی میں اضافہ ہوسکے۔

یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ تلہن کے سلسلے میں ریاستوں کو یہ اجازت دی جائے کہ وہ آزمائشی بنیاد پر کچھ منتخبہ اضلاع میں اسٹاک کرنے والے پرائیویٹ افراد کے ذریعہ وصولی کی اسکیم (پی پی ایس ایس) کی اجازت دی جائے۔منتخبہ ضلع کسی ایک فصل یا زیادہ فصلوں  کے تلہن کا احاطہ کرے گا جس کے لئے کم از کم امدادی قیمت کو مشتہر کردیا گیا ہو۔

منتخبہ پرائیویٹ ایجنسی مشتہر شدہ وقت میں کم از کم امدادی قیمت پر  رجسٹرڈ شدہ کسانوں سے وصولی کرے گی جو پی پی ایس ایس کے رہنما خطوط کے مطابق ہوگی۔جب کبھی منڈی میں قیمتیں مشتہر شدہ کم از کم امدادی قیمت سے کم ہوجائیں گی، مشتہر شدہ کم ازکم امدادی قیمت کے زیادہ سے زیادہ  15 فیصد کے برابر سروس چارج لگایا جائے گا۔

اخراجات:

کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ مزید  16550 کروڑ روپے کی گارنٹی دی جائے اور اس طرح کل گارنٹی 45550 ہوجائے گی۔

اس کے علاوہ وصولیابی کی کارروائیوں کے لئے بجٹ میں دی گئی رقم بڑھادی گئی ہے اور پی ایم۔ اے اے ایس ایچ اے پر عملدر آمد کے لئے 15053 کروڑ روپے منظور کئے گئے ہیں۔اس طرح یہ اسکیم ہمارے ان داتا کے سلسلے میں حکومت کے عہد اور لگن کی عکاسی کرنے والی بن گئی ہے۔

پچھلے سالوں کی وصولیابی :

سال 14۔2010 کے دوران مالی سالوں کی کل وصولی 3500 کروڑ روپے کی تھی جبکہ 18۔2014 مالی برسوں کے دوران اس میں دس  گنا اضافہ ہوا اور یہ 34000 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ 14۔2010 کے دوران زرعی مصنوعات کی وصولی کے لئے حکومت کی گارنٹی 2500 کروڑ روپے کی فراہم کی گئی تھی جبکہ اخراجات صرف 300 کروڑ روپے آئے۔ 18۔2014 کے دوران گارنٹی کی رقم بڑھاکر 29000 کروڑ روپے کردی گئی جبکہ خرچ ایک ہزار کروڑ روپے کا رہا۔

حکومت کے کسان دوست اقدامات:

حکومت نے 2022 تک کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کے وژن کو پورا کرنے کا عہد کررکھا تھا۔ اصل توجہ پیداواریت بڑھانے، کاشت کاری کی لاگت کم کرنے اور فصل کی کٹائی کے  بعد کے بندوبست کو مستحکم بنانے پر ہے جس میں منڈی کا ڈھانچہ بھی شامل ہے۔  منڈی کی اصلاحات کے بہت  سے اقدامات شروع کئے گئے ہیں۔ ان میں ماڈل، ایگریکلچرل، پروڈیوس اور لائیو اسٹاک مارکٹنگ ایکٹ 2017 اور ماڈل کنٹریکٹ فارمنگ اور سروسز ایکٹ 2018 شامل ہیں۔ بہت سی ریاستوں نے قانون سازی کے ذریعہ ان اقدامات کو  اپنا لیا ہے۔

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s digital economy enters mature phase as video dominates: Nielsen

Media Coverage

India’s digital economy enters mature phase as video dominates: Nielsen
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves increase in the Judge strength of the Supreme Court of India by Four to 37 from 33
May 05, 2026

The Union Cabinet chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi today has approved the proposal for introducing The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Bill, 2026 in Parliament to amend The Supreme Court (Number of Judges) Act, 1956 for increasing the number of Judges of the Supreme Court of India by 4 from the present 33 to 37 (excluding the Chief Justice of India).

Point-wise details:

Supreme Court (Number of Judges) Amendment Bill, 2026 provides for increasing the number of Judges of the Supreme Court by 04 i.e. from 33 to 37 (excluding the Chief Justice of India).

Major Impact:

The increase in the number of Judges will allow Supreme Court to function more efficiently and effectively ensuring speedy justice.

Expenditure:

The expenditure on salary of Judges and supporting staff and other facilities will be met from the Consolidated Fund of India.

Background:

Article 124 (1) in Constitution of India inter-alia provided “There shall be a Supreme Court of India consisting of a Chief Justice of India and, until Parliament by law prescribes a larger number, of not more than seven other Judges…”.

An act to increase the Judge strength of the Supreme Court of India was enacted in 1956 vide The Supreme Court (Number of Judges) Act 1956. Section 2 of the Act provided for the maximum number of Judges (excluding the Chief Justice of India) to be 10.

The Judge strength of the Supreme Court of India was increased to 13 by The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1960, and to 17 by The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1977. The working strength of the Supreme Court of India was, however, restricted to 15 Judges by the Cabinet, excluding the Chief Justice of India, till the end of 1979, when the restriction was withdrawn at the request of the Chief Justice of India.

The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1986 further augmented the Judge strength of the Supreme Court of India, excluding the Chief Justice of India, from 17 to 25. Subsequently, The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 2008 further augmented the Judge strength of the Supreme Court of India from 25 to 30.

The Judge strength of the Supreme Court of India was last increased from 30 to 33 (excluding the Chief Justice of India) by further amending the original act vide The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 2019.