وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی زیر صدارت مرکزی کابینہ نے ای کورٹس پروجیکٹ مرحلہ سوم کو 7210 کروڑ روپے کے مالی اخراجات کے ساتھ چار سال (2023 کے بعد) پر محیط مرکزی سیکٹر اسکیم کے طور پر منظوری دے دی ہے۔

وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی کے ‘‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس’’ کے وژن کے مطابق ای- کورٹس مشن موڈ پروجیکٹ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے انصاف تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے اہم تحریک ہے۔ قومی ای گورننس پلان کے ایک حصے کے طور پرہندوستانی عدلیہ کے آئی سی ٹی کو فعال کرنے کے لیے ای کورٹس پروجیکٹ 2007 سے زیر عمل ہے، جس کا مرحلہ دوم 2023 میں ختم ہو گیا ہے۔ ہندوستان میں ای کورٹس پروجیکٹ کے تیسرے مرحلے کی جڑیں رسائی اور شمولیت کے فلسفے میں پیوست ہیں۔

مرحلہ اول اور مرحلہ دوم کے فوائد کو اگلی سطح پر لےجا کر ای کورٹس مرحلہ سوم کا مقصد روایتی ریکارڈز  سمیت پورے عدالتی ریکارڈ کو ڈیجیٹائز کر کے ڈیجیٹل، آن لائن اور کاغذ سے پاک  عدالتوں کی طرف بڑھتے ہوئے انصاف کی زیادہ سے زیادہ آسانی کے نظام کو شروع کرنا ہے۔ اس کے علاوہ  ای-فائلنگ/ای-ادائیگیوں میں  ہمہ گیریت لا کر تمام عدالتی احاطے میں ای-سیوا مراکز کے ساتھ مربوط کرنا ہے۔ یہ انٹیلجنٹ اسمارٹ سسٹمز لگائے گا جس سے ججوں اور رجسٹریوں کے لیے مقدمات کا شیڈول طے کرنے یا ترجیح دینے کے دوران ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی ممکن ہو سکے گی۔ مرحلہ سوم  کا بنیادی مقصد عدلیہ کے لیے ایک یکساں ٹیکنالوجی پلیٹ فارم بنانا ہے، جو عدالتوں، قانونی چارہ جوئی اور دیگر  متعلقہ فریقوں کے درمیان بغیر کسی رکاوٹ  اور کاغذ کے بغیر انٹرفیس فراہم کرے گا۔

ای کورٹس مرحلہ سوم  کی مرکزی امدادیافتہ  اسکیم کو محکمہ برائے  انصاف، وزارت قانون و انصاف، حکومت ہند اور ای کمیٹی، سپریم کورٹ آف انڈیا کی مشترکہ شراکت کے تحت عدالتی ترقی کے لیے متعلقہ ہائی کورٹس کے ذریعےلا مرکزیت کے انداز میں لاگو کیا جارہا ہے ۔اس کے ذریعہ  ایک  ایسا نظام  وضع کیاجائے گا جو تمام  متعلقہ فریقوں  کے لیے مزید قابل رسائی، سستی، قابل اعتماد، پیشین گوئی اور شفاف بنا کر انصاف کی آسانی کو فروغ دے گا۔

ای کورٹس مرحلہ سوم کے اجزاء درج ذیل ہیں:

نمبر شمار

اسکیم جزو

تخمینہ لاگت (کل کروڑ روپے میں)

1

کیس ریکارڈز کی اسکیننگ، ڈیجیٹلائزیشن اور ڈیجیٹل تحفظ

2038.40

2

کلاؤڈ انفراسٹرکچر

1205.23

3

موجودہ عدالتوں کے لیے اضافی ہارڈ ویئر

643.66

4

نئی قائم ہونے والی عدالتوں میں انفراسٹرکچر

426.25

5

1150 ورچوئل کورٹس کا قیام

413.08

6
 

4400 مکمل طور پر فعال ای سیوا کیندر

394.48

 

7

کاغذ سے مبرا عدالت

359.20

 

8

سسٹم اور ایپلیکیشن سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ

243.52

 

9

سولر پاور بیک اپ

229.50

 

10

ویڈیو کانفرنسنگ سیٹ اپ

228.48

 

11

ای فائلنگ

215.97

 

12

کنیکٹیویٹی (بنیادی + فالتو )

208.72

 

13

صلاحیت سازی

208.52

 

14

300 کورٹ کمپلیکس کورٹ روم میں کلاس (لائیو آڈیو ویژول سٹریمنگ سسٹم)

112.26

 

15

انسانی وسائل

56.67

 

16

مستقبل کی تکنیکی ترقی

53.57

 

17

عدالتی عمل کی دوبارہ انجینئرنگ

33.00

 

18

معذوروں کے لیے دوستانہ آئی سی ٹی پر مبنی  سہولیات

27.54

 

19

این ایس ٹی ای پی

25.75

 

20

آن لائن تنازعات کا حل (او ڈی آر)

23.72

 

21

معلومات کے بندوبست کا نظام

23.30

 

22

ہائی کورٹس اور ڈسٹرکٹ کورٹس کے لیے ای آفس

21.10

 

23

انٹر آپریبل کریمنل جسٹس سسٹم (آئی سی جی ایس) کے ساتھ انضمام

11.78

 

24

ایس 3 واس پلیٹ فارم

6.35

 

 

میزان

7210

 

 

اسکیم کے متوقع نتائج درج ذیل ہیں:

  • وہ شہری جن کی ٹیکنالوجی تک رسائی نہیں ہے وہ ای-سیوا کیندروں سے عدالتی خدمات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، اس طرح ڈیجیٹل فرق کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
  • عدالتی ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن منصوبے میں دیگر تمام ڈیجیٹل خدمات کی بنیاد رکھتی ہے۔ یہ کاغذ پر مبنی فائلنگ کو کم سے کم کرکے اور دستاویزات کی فزیکل  حرکت کو کم کرکے عمل کو زیادہ ماحول دوست بننے کے قابل بناتا ہے۔
  • عدالتی کارروائیوں میں ورچوئل شرکت کی وجہ سے عدالتی کارروائیوں سے وابستہ اخراجات میں کمی آتی ہے، جیسے گواہوں، ججوں اور دیگر متعلقہ فریقوں  کے لیے سفری اخراجات۔
  • کہیں سے بھی کسی بھی وقت عدالتی فیس، فائن  اور جرمانے کی ادائیگی کی جاسکتی ہے۔
  • دستاویزات فائل کرنے کے لیے درکار وقت اور محنت کو کم کرنے کے لیے ای فائلنگ کی توسیع۔ اس طرح انسانی غلطیوں کو کم کیا جاتا ہے کیونکہ دستاویزات خود بخود چیک ہو جاتی ہیں اور کاغذ پر مبنی مزید  ریکارڈزکو بھی روکتی ہیں۔
  • جدید ترین ٹیکنالوجیز جیسے کہ اے آئی  اور اس کے ذیلی سیٹ مشین لرننگ (ایم ایل)، آپٹیکل کریکٹر ری کاگنیشن (او سی آر)، نیچرل لینگویج پروسیسنگ (این ایل پی) کا استعمال ایک ‘‘اسمارٹ’’ ایکو سسٹم بنا کر صارف کو ہموار تجربہ فراہم کرتا ہے۔ رجسٹریوں میں کم ڈیٹا انٹری اور فائل کی کم سے کم جانچ پڑتال ہوگی جو بہتر فیصلہ سازی اور پالیسی پلاننگ میں سہولت فراہم کرے گی۔ اس میں اسمارٹ شیڈولنگ، ذہین نظام کا تصور کیا گیا ہے جو ججوں اور رجسٹریوں کے لیے ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کے قابل بناتا ہے، ججوں اور وکلاء کی صلاحیت کو بہتر انداز میں پیش کرنے اور مزید بہتر بنانے کی اجازت دیتا ہے۔
  • ٹریفک کی خلاف ورزی کے مقدمات کے فیصلے سے باہر ورچوئل عدالتوں کی توسیع- اس طرح عدالت میں مدعی یا وکیل کی موجودگی کو ختم کرنا ہے۔
  • عدالتی کارروائیوں میں درستگی اور شفافیت میں اضافہ
  • این ایس ٹی ای پی (نیشنل سرونگ اینڈ ٹریکنگ آف الیکٹرانک پروسیسز) کو مزید وسعت دے کر عدالتی سمن کی خودکار ترسیل پر زور دینا ہے تاکہ  ٹرائلز میں تاخیر کو کافی حد تک کم کیا جاسکے۔
  • عدالتی کارروائیوں میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کا استعمال انہیں زیادہ مفید اور موثر  بنائے گا، اس طرح  یہ  زیر التوا مقدمات میں کمی لانے کے لیے اہم کردار ادا کرے گا۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s startup game-changer? ₹10,000 crore FoF 2.0 set to attract investors

Media Coverage

India’s startup game-changer? ₹10,000 crore FoF 2.0 set to attract investors
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister condoles passing of renowned photographer Shri Raghu Rai
April 26, 2026

The Prime Minister has expressed deep sorrow over the passing of eminent photographer Raghu Rai, describing him as a creative stalwart who immortalised India’s vibrancy through his lens. Shri Modi noted that Shri Raghu Rai’s work was marked by extraordinary sensitivity, depth and diversity, capturing the many facets of life across India and bringing them closer to people.The Prime Minister remarked that his contribution to the world of photography and culture is unparalleled, and his passing is an irreparable loss to the artistic community.

The Prime Minister posted on X;

“Shri Raghu Rai Ji will be remembered as a creative stalwart, who captured India’s vibrancy through his lens. His photography had extraordinary sensitivity, depth and diversity. It brought people closer to the different aspects of life in India. His passing is an irreparable loss to the world of photography and culture. My thoughts are with his family, admirers and the photography fraternity in this hour of grief. Om Shanti.”