پروجیکٹ سےبجلی کی 1975 ملین اکائیوں کی پیداوار متوقع
کوارپروجیکٹس 54 ماہ کے اندرشروع ہو جائے گا
پروجیکٹ کی تعمیراتی سرگرمیو ں کے نتیجےمیں 2500 افرادکوروزگارکی فراہمی اور مرکز کے زیرانتظام علاقے جموں و کشمیرکی ہمہ جہت سماجی اقتصادی ترقی ہوگی

وزیراعظم جناب نریندر مودی کے زیر صدارت ، کابینی کمیٹی برائے اقتصادی امور نے  آج مرکز کے زیرانتظام علاقے جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع میں دریائے چناب کے کنارے  540 میگاواٹ  (ایم ڈبلیو) کی صلاحیت کوالے کوار ہائیڈرو ا لیکٹرک پروجیکٹ کے لئے  4526.12 کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کو منظوری دی ہے ۔ پروجیکٹ پرمیسرس  چناب ویلی پاور پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ (میسرس سی وی پی پی ایل)کے ذریعہ عمل درآمد کیا جائے گا  جوکہ این ایچ پی سی اور جےکے  ایس پی ڈی سی  کے درمیان ایک مشترکہ کاروباری کمپنی ہے ۔ان دونوں کا سرمایہ جاتی تعاون27 اپریل 2022 کو بالترتیب 51 فیصد اور 49فیصد ہے۔

اس پروجیکٹ سے 90 فیصد قابل انحصار برس میں  1975.54 ملین اکائیاں تیار ہوں گی۔

بھارتی حکومت بنیادی ڈھانچےمیں مدد کرنےکےلئے69.80 کروڑ روپئے کی امدادی رقم فراہم کررہی ہے  اور میسرس سی وی پی پی ایل میں  جےکے ایس پی ڈی سی کے( 49 فیصد)  حصص کے تعاون کےلئے  یونین ٹریٹیری جموں و کشمیر کو 655.08 کروڑ روپئے کی گرانٹ فراہم کرکے مددکررہی ہے ۔این ایچ پی سی اپنا سرمایہ حصص (51 فیصد)681.82 کروڑ روپئے کی  اپنےگھریلو وسائل سے  سرمایہ کاری کرے گی ۔کوارہائیڈروالیکٹر پروجیکٹ 54 ماہ کے عرصے میں کام کرناشروع کردےگا۔ اس پروجیکٹ سے بجلی کی فراہمی کے ذریعہ گرڈ کو متوازن بنانے میں اور بجلی کی فراہمی کی صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی ۔

پروجیکٹ کو قابل عمل  بنانےکےلئے ،مرکز کے زیرانتظام علاقے جموں و کشمیر کی حکومت پروجیکٹ کے آغاز کے بعد سے 10برس کے لئے پانی کے استعمال کے چارجیز کی وصولی سے استثناء کو توسیع دے رہی ہے ۔ اس کے ساتھ ریاست کے جی ایس ٹی کے شیئر ( یعنی ایس جی ایس ٹی )کی تقسیم اور سالانہ 2 فیصد مفت بجلی کی رعایت  بھی دی جائے گی  ، یعنی پروجیکٹ کے شروع ہونے کے بعدپہلے سال میں مرکز کے زیر انتظام علاقے جموں و کشمیر کوو مفت بجلی  2 فیصد ہوگی اوراسکے بعدہر سال 2 فیصد کےحساب سے اس میں اضافہ ہوگااور 6 سال کے بعد  سے یہ اضافہ 12 فیصد ہوگا۔

اس  پروجیکٹ کی تعمیراتی سرگرمیوں سے تقریبا 2700 افراد کو براہ راست یابالواسطہ روزگار ملے گا اور اس سے  مرکز کے زیرانتظام علاقے جموں و  کشمیر کی مجموعی سماجی اور اقتصادی  ترقی میں بھی مدد ملے گی ۔مزیدبرآں یونین ٹریٹری جموں و کشمیر  کوتقریبا 4548.59 کروڑروپئے کی مفت بجلی ملے گی  اور منصوبےکی 40 سالہ مدت کارکے دوران   4941.46 کروڑ روپئے کوارہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ سے پانی کے استعمال کے چارجیز کے طور پر حاصل ہوں گے۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets

Media Coverage

PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister hold talks with Myanmar President U Min Aung Hlaing
June 01, 2026

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, today held productive talks with the President of Myanmar, U Min Aung Hlaing.

The Prime Minister noted that India is honoured that President U Min Aung Hlaing chose India for his first foreign visit as President. He also expressed happiness that the President began his programme in India from Bodh Gaya with the blessings of Lord Buddha.

During the talks, the two leaders reviewed the full range of India-Myanmar relations and discussed ways to further strengthen bilateral cooperation.

The discussions covered avenues to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. The two sides also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and other sectors of mutual interest.

The Prime Minister underlined that Myanmar is vital to India’s ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific policies, reaffirming the importance India attaches to its relations with Myanmar.

The Prime Minister wrote on X;

“Had a productive meeting with President U Min Aung Hlaing of Myanmar. We in India are honoured that he has chosen India for his first foreign visit as President. Equally gladdening is the fact that he began the visit from Bodh Gaya, with the blessings of Lord Buddha. We reviewed the full range of India-Myanmar relations. Myanmar is vital to India’s policies of ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific.”

“Our talks covered ways to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. We also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and more.”