मैं टीसीएस जापान का आभारी हूं कि एक अच्छा इनिशिएटिव आपने लिया है । वैसे एक जमाना था जब नालंदा और तक्षशिला यूनिवर्सिटीस थीं , तो दुनिया के स्‍टुडेंट्स भारत मे जाते थे, सीखने के लिए, समझने के लिए, देखने के लिए। सबसी पहली यूनिवर्सिटी 2600 इयर ओल्ड थी, भारत के साहित्य में इसका उल्लेख आता है, छब्बिश सौ साल पहले। उस समय, जैसे मैं जिस स्टेट से आता हूं, ‘गुजरात’, वहाँ एक बलल्भि यूनिवेर्सिटी थी, वो 2600 साल पुरानी थी और 89 कंट्री के स्टूडेंट्स उस समय वहाँ पढ़ाई करते थे। नालंदा एक ऐसी युनिवर्सिटी थी जहाँ जापान के बहुत लोग पढ़ने के लिए आते थे। 

भारत की एक विशेषता रही है जब जब मानव जाति ने ज्ञानरूप में प्रवेश किया, तब हमेशा नेतृतव भारत का रहा। 21वीं सदी ज्ञान की सदी है और इसलिए जिसके पास अस्त्र होंगे, शस्त्र होंगे, धन होगा, दौलत होगी उस से ज़्यादा वही देश दुनिया को लीड करेगा, जिसके पास ज्ञान है, इन्फर्मेशन है, वही सबसे बड़ा मैटर करने वाला है। 

इसीलिए इन्फर्मेशन के इस युग में, ज्ञान के इस युग में, मुझे विश्वास है कि आप लोग जो भारत जा रहे हैं, ज़रूर आपके ज्ञान मे इज़ाफा होगा, आपके इन्फर्मेशन मे इज़ाफा होगा । वैसे भी हमारे यहाँ एक कहावत है ‘जो फरे, ते चरे। मतलब, जो ज़्यादा घूमता ,है वो जप करता है। 

मेरी आप सबको बहुत बहुत शुभकामनाएं है, लेकिन एक आग्रह है, आप भारत में आयें तो टीसीएस के कमरे में बंद मत हो जाना, सटर्डे-सनडे थोड़ा खर्चा करना और मेरे हिन्दुस्तान की और जगहों पर घूमना । इतना पुरातन देश है और देखने जैसा है और उसकी हर बारीकियों का अध्यन करना और जब वापिस आएंगे त‍ब टीसीएस के नहीं, भारत के एम्‍बेस्‍डर बनकर आइये। आप भारत के ऐसे मजबूत एम्‍बेस्‍डर बनकर आइए कि जापान से बहुत बड़ी मात्रा मे टूरिस्ट,हिन्दुस्तान की ओर जाने के लिए प्रेरित हो जायें। 

आपके वहाँ, अगर आप छह महीना रहते हैं और पर-डे तय करें कि मुझे नई डिश खानी है, एक बार भी रिपीट नहीं करनी है और मैं दावे से कहता हूं, छह महीने तक आप रोज नई डिश खा सकते हैं। अगर आप पुणे में जाएंगे तो वहां खाना अलग होगा, अगर आप अहमदाबाद में जाएंगे तो वहां खाना अलग होगा। इतनी विविधताओं से भरा हुआ देश है। अगर आप खुलेपन से वहां जाओगे, तो पता नहीं, जो आप कमरे में बैठकर के सीखने वाले हो, उससे ज्‍यादा कमरे के बाहर सीखने को मिलेगा। 

तो मेरी, आपके इस इनिशिएटिव के लिए, टीसीएस के सभी मित्रों को मेरी बधाई है और जिनको भारत आने का सौभाग्‍य मिला है, उनको मेरी शुभकामनाएं हैं। मुझे विश्‍वास है कि वहां से बहुत सी अच्‍छी स्‍मृतियां लेकर आप यहां लौटेंगे और सच्‍चे अर्थ में आप, भारत के एक अच्‍छे एम्‍बेसडर बनोगे, यह मेरा विश्‍वास है। 

बहुत-बहुत धन्यवाद, बहुत-बहुत शुभकामनायें। 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
ISRO Successfully Tests CE20 Cryogenic Engine At Uprated 220 KN Thrust For C32 Stage Of Upcoming LVM3 Mission

Media Coverage

ISRO Successfully Tests CE20 Cryogenic Engine At Uprated 220 KN Thrust For C32 Stage Of Upcoming LVM3 Mission
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
ویڈیو کانفرنس کے ذریعے پیرس میں بین الاقوامی خلائی سربراہ اجلاس میں وزیر اعظم کے خطاب کا متن
September 10, 2026
خلا کا دائرہ لامحدود ہے ،اور ہماری ذمہ داری اجتماعی ہونی چاہئے:وزیر اعظم
ہمیں اپنے انتخاب کے بارے میں واضح ہونا چاہیے:محاذ آرائی کے بجائے تعاون، قلیل مدتی فائدے کے بجائے پائیداری اور اخراج کے بجائے شمولیت کو ترجیح دینا چاہیے:وزیر اعظم
ہم بین الاقوامی قانون، بات چیت اور کثیر ملکی تعاون پر مبنی محفوظ، پرامن اور پائیدار خلائی شعبے کی حمایت کرتے ہیں: وزیر اعظم
اسرو ، جو اس سفر کے مرکز میں کھڑا ہے ، نے اپنی بہترین کارکردگی اور کم لاگت والے مشنوں کے لیے عالمی سطح پر تعریف حاصل کی ہے:وزیر اعظم
پیرس میں منعقدہ خلائی سربراہ اجلاس سے واضح پیغام جانا چاہیے:ہم پوری انسانیت اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک ساتھ مل کر خلاء کی کھوج کریں گے، مل کر جدت پیدا کریں گے اور مل کر خلاء کا تحفظ کریں گے:وزیر اعظم

میرے دوست صدر میکرون ، عالی مرتبت حضرات ، معزز شرکاء ، نمسکار!

مجھے پہلے بین الاقوامی خلائی اجلاس کا حصہ بننے پر خوشی ہے۔ میں صدر میکرون کا ان کی پرخلوص دعوت اور اس بروقت اقدام کے لیے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ صدیوں سے خلا نے ہمارے تخیل کو متاثر کیا۔ آج یہ زمین پر زندگی کے مختلف پہلوؤں، جیسے آب و ہوا، فصلوں، سمندروں اور انسانی برادریوں کو متاثر کر رہا ہے۔ خلائی شعبے کے امکانات لامحدود ہیں۔ اس کی ذمہ داری ہم سب کی مشترکہ ہے۔ جیسے جیسے خلائی مداروں میں بھیڑ بڑھ رہی ہے، ٹیکنالوجی زیادہ طاقتور ہو رہی ہے اور خلائی سرگرمیوں میں شامل ممالک اور اداروں کی تعداد بڑھ رہی ہے، ہمیں اپنی ترجیحات واضح رکھنی ہوں گی: ٹکراؤ کے بجائے تعاون، قلیل مدتی فائدے کے بجائے پائیداری، اور امتیاز کے بجائے شمولیت کو اختیار کرنا ہوگا۔

دوستو!

ہندوستان کا نقطہ نظر وسودھیو کٹمبکم یعنی ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل میں جڑا ہوا ہے۔ اس روح کو اب زمین سے آگے سفر کرنا ہوگا۔ ہم بین الاقوامی قانون، مکالمے اور کثیرجہتی تعاون پر مبنی ایک محفوظ، پرامن اور پائیدار خلائی ڈومین کی حمایت کرتے ہیں۔ سائنسی اعداد و شمار کو کھلے پن اور دیانتداری کے ساتھ مشترکہ بھلائی کے لیے کام کرنا چاہیے۔

ہندوستان کا خلائی سفر اسی فلسفے کی عکاسی کرتا ہے۔ اسرو ، جو اس سفر کے مرکز میں کھڑا ہے، نے اپنی بہترین کارکردگی اور کم لاگت والے مشنوں کے لیے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کی ہے۔ اس کی صلاحیتیں کسانوں اور ماہی گیروں، موسم کی پیشن گوئی، آفات کے انتظام اور نیویگیشن کی خدمت کرتی ہیں۔ 34ممالک کے 430 سے زیادہ سیٹلائٹ ہندوستانی راکٹوں پر سوار ہو کر خلا میں جا چکے ہیں۔ اسرو کی ٹیکنالوجی اور شراکت داری نہ صرف ہندوستان بلکہ وسیع تر دنیا کی خدمت کرتی ہے۔

اس عالمی اعتماد کے پیچھے ہندوستانی سائنسدانوں، انجینئروں اور تکنیکی ماہرین کی نسلوں کی لگن اور محنت ہے۔ دن رات کام کرتے ہوئے، انہوں نے مشن کے ذریعے اسرو کے عالمی ساکھ کے مشن کی تعمیر کی، کامیابی کے ذریعے کامیابی حاصل کی اور ہندوستان کو خلائی سفر کرنے والے ممالک میں فخر کا مقام دیا۔

چندریان-3 نے ہندوستان کو چاند کے جنوبی قطب کے قریب اترنے والا پہلا ملک بنا دیا۔ آدتیہ-ایل 1 سورج کے راز کھول رہا ہے۔ پچھلے سال ایک ہندوستانی نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کا دورہ کیا تھا۔ آگے دیکھتے ہوئے ہمارا مقصد 2035 تک ایک ہندوستانی خلائی اسٹیشن قائم کرنا اور 2040 تک ایک ہندوستانی کو چاند پر بھیجنا ہے۔ ان تمام کوششوں میں ، ہمارا رہنما اصول واضح رہا ہے: ان کے فوائد پوری انسانیت تک پہنچنا چاہیے۔

اسرو کے ساتھ ساتھ ہندوستان کا نجی خلائی شعبہ بھی بڑے پیمانے پر ترقی کر رہا ہے۔ انٹرپرائز کی توانائی اسرو کی بہترین کارکردگی میں شامل ہو رہی ہے۔ 1960کی دہائی میں تھمبا میں ہندوستانی خلائی پروگرام شروع ہونے کے بعد سے فرانس ایک قابل اعتماد شراکت دار رہا ہے۔ آج ، ہمارا تعاون زمین کے مشاہدے اور جدید ٹیکنالوجیز پر محیط ہے، جو سائنسی مہارت کو انسانی مقصد کے ساتھ متحد کرتا ہے۔ ہم فرانس اور دنیا کو ہندوستان کی اگلی خلائی سرحد میں شریک مسافر بننے کی دعوت دیتے ہیں۔

دوستو!

پیرس میں ہونے والی خلائی سربراہ کانفرنس سے ایک واضح پیغام جانا چاہیے: ہم پوری انسانیت اور آنے والی نسلوں کے لیے مل کر خلائی تحقیق کریں گے، مل کر اختراع کریں گے اور مل کر خلا کا تحفظ کریں گے۔ میں کانفرنس میں شرکت کرنے والے تمام افراد کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔

آپ کا شکریہ۔