شریل بھکتی ویدانت سواجی پربھو پاد جی بھارت کے بھی بہت بڑے معتقد تھے: وزیر اعظم
ہمارا یہ عزم ہے کہ دنیا کو یوگ اور آیوروید کے ہمارے علم سے فائدہ حاصل کرنا چاہیے: وزیر اعظم
بھکتی دور کے سماجی انقلاب کے بغیر بھارت کی حالت اور شکل کا تصور کرنا مشکل ہے: وزیر اعظم
شریل بھکتی ویدانت سوامی پربھو پاد جی نے بھکتی ویدانت کو دنیا کے شعور سے جوڑا

ہرے کرشن! آج کے اس مقدس موقع پر ہمارے ساتھ جڑ رہے ملک کے وزیر ثقافت جناب کشن ریڈی، اسکان بیورو کے صدر جناب گوپال کرشن گوسوامی جی، اور دنیا کے الگ الگ ملکوں سے ہمارے ساتھ جڑے ہوئے سبھی ساتھی، کرشن کے عقیدت مندو!

پرسوں شری کرشن جنماشٹمی تھی اور آج ہم شریل پربھو پاد جی کا 125واں یوم پیدائش ما رہے ہیں۔ یہ ایسا ہے جیسے سادھنا کی خوشی اور تسکین دونوں ایک ساتھ میسر ہو جائے۔ اسی جذبے کو آج پوری دنیا میں شریل پربھو پاد  سوامی نے لاکھوں کروڑوں پیروکاروں، اور لاکھوں کروڑوں کرشن بھکت محسوس کر رہے ہیں۔ میں سامنے اسکرین پر الگ الگ ملکوں سے آپ سبھی عقیدت مندوں کو دیکھ رہا ہوں۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے لاکھوں من ایک جذبے سے بندھے ہوں، لاکھوں جسم ایک مشترکہ شعور سے جڑے ہوںٍ! یہ وہ کرشن کا شعور ہے جسے پربھو پاد سوامی جی نے پوری دنیا تک پہنچایا ہے۔

ساتھیوں،

ہم سب جانتے ہیں کہ پربھو پاد سوامی روحانی کرشن بھکت تو تھے ہی، ساتھ ہی وہ ایک عظیم بھارت بھکت بھی تھے۔ انہوں نے ملک کی آزادی کی لڑائی لڑی تھی۔ انہوں نے عدم تعاون تحریک کی حمایت میں اسکاٹش کالج سے اپنا ڈپلومہ تک لینے سے منع کر دیا تھا۔ آج یہ حسن اتفاق ہے کہ ملک ایسے عظیم دیش بھکت کا 125واں یوم پیدائش ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بھارت اپنی آزادی کے 75 سال کا جشن – امرت مہوتسو منا رہا ہے۔ شریل پربھو پاد سوامی ہمیشہ کہتے تھے کہ وہ دنیا کے ممالک میں اس لیے گھوم رہے ہیں کیوں کہ وہ  بھارت کی سب سے قیمتی دولت دنیا کو دینا چاہتے ہیں۔ بھارت کا جو علم و سائنس ہے، ہماری زندگی کی جو تہذیب و روایات ہیں، اس کا جذبہ رہا ہے- اتھ بھوت دیام پرتی یعنی جاندار کے لیے، جاندار کی فلاح کے لیے! ہماری پوجا کا بھی آخری منتر یہی ہوتا ہے- اِدم نا ممم یعنی، یہ میرا نہیں ہے۔ یہ پوری کائنات کے لیے ہے، پوری تخلیق کے مفاد کے لیے ہے اور اسی لیے، سوامی جی کے پوجیہ گروجی شریل بھکتی سدھانت سرسوتی جی نے ان کے اندر وہ صلاحیت دیکھی، انہیں ہدایت دی کہ وہ بھارت کی فکر اور فلسفہ کو دنیا تک لیکر جائیں۔ شریل پربھو پاد جی نے اپنے گرو کے اس حکم کو اپنا مشن بنا لیا، اور ان کی تپسیا کا نتیجہ آج دنیا کے کونے کونے میں نظر آتا ہے۔

امرت مہوتسو میں بھارت نے بھی سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس کے منتر کے ساتھ ایسے ہی عزائم کو اپنے آگے کے سفر کی بنیاد بنایا ہے۔ ہمارے ان عزائم کے مرکز میں، ہمارے ان مقاصد کی بنیاد میں بھی عالمی فلاح کا ہی جذبہ ہے۔ اور آپ سبھی اس کے گواہ ہیں کہ ان عزائم کو پورا کرنے کے لیے سب کی کوشش کتنی ضروری ہے۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اگر پربھو پاد جی نے اکیلے دنیا کو اتنا کچھ دیا ہے، تو جب ہم سب ان کے آشیرواد سے ایک ساتھ کوشش کریں گے، تو کیسے نتائج آئیں گے؟ ہم ضروری انسانی شعور کی اس بلندی تک پہنچیں گے جہاں سے ہم دنیا میں اور بڑا رول نبھا سکیں، محبت کے پیغام کو ایک ایک انسان تک پہنچا سکیں۔

ساتھیوں،

انسانیت کے حق میں بھارت دنیا کو کتنا کچھ دے سکتا ہے، آج اس کی ایک بہت بڑی مثال ہے دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہمارا یوگ کا علم! ہماری یوگ کی روایت! بھارت کی جو مستحکم طرز زندگی ہے، آیوروید جیسے جو سائنس ہیں، ہمارا عہد ہے کہ اس کا فائدہ پوری دنیا کو ملے۔ خود انحصاریت کے بھی جس منتر کی شریل پربھو پاد اکثر چرچہ کرتے تھے، اسے بھارت نے اپنا مقصد بنایا ہے، اور اس سمت میں ملک آگے بڑھ رہا ہے۔ میں کئی بار جب آتم نربھر بھارت اور میک ان انڈیا کے اہداف کی بات کرتا ہوں، تو میں اپنے افسروں کو، بزنس مین کو اسکان کے ہرے کرشن موومنٹ کی کامیابی کی مثال دیتا ہوں۔ ہم جب بھی کسی دوسرے ملک میں جاتے ہیں، اور وہاں جب لوگ ’ہرے کرشن‘ بول کر ملتے ہیں، تو ہمیں کتنا اپناپن لگتا ہے، کتنا فخر بھی ہوتا ہے۔ تصور کیجئے، یہی اپنائیت جب ہمیں میک ان انڈیا مصنوعات کے لیے ملے گی، تو ہمیں کیسا لگے گا! اسکان سے سیکھ کر ہم ان مقاصد کو بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

ساتھیوں،

بھگوان کرشن نے ارجن سے کہا تھا- نہ ہی گیانین سدرشم پوتر مہ ودیتے

یعنی، علم جیسا مقصد کچھ بھی نہیں ہے۔ علم کو اعلی ترجیح دینے کے بعد انہوں نے ایک اور بات کہی تھی- مییو من آدتسو میی بدھم نویشم یعنی، علم و سائنس کو حاصل کرنے کے بعد اپنے من کو، عقل کو کرشن میں لگا دو، ان کی بھکتی میں وقف کر دو۔ یہ اعتماد، یہ طاقت بھی ایک یوگ ہے، جسے گیتا کے 12ویں باب میں بھکتی یوگ کہا گیا ہے۔ اور اس بھکتی یوگ کی طاقت بہت بڑی ہوتی ہے۔ ہندوستان کی تاریخ بھی اس کی گواہ ہے۔ جب بھارت غلامی کے اندھیرے میں پھنس گیا تھا، نا انصافی، ظلم اور استحصال سے متاثر بھارت اپنے علم اور طاقت پر دھیان نہیں لگا پا رہا تھا، بھارت کی شناخت کو الگ رکھا۔ آج دانشور اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اگر بھکتی کے دور کا سماجی انقلاب نہیں ہوتا تو بھارت نہ جانے کہاں ہوتا، کس شکل میں ہوتا! لیکن، اس مشکل دور میں چیتنیہ مہا پربھو جیسے سنتوں نے ہمارے سماج کو بھکتی کے جذبے سے باندھا، انہوں نے ’اعتقاد سے اعتماد‘ کا منتر دیا۔ عقیدت کی تفریق، سماجی اونچ نیچ، حق اور حق تلفی، بھکتی نے ان سب کو ختم کرکے شیو اور جیو کے درمیان ایک سیدھا رابطہ قائم کر دیا۔

ساتھیوں،

ہندوستان کی تاریخ کا مطالعہ کریں، تو آپ یہ بھی پائیں گے کہ بھکتی کی اس ڈور کو تھامے رہنے کے لیے الگ الگ دور میں رشی مہرشی اور منیشی سماج میں آتے رہے۔ ایک دور میں اگر سوامی وویکانند جیسے منیشی آئے جنہوں نے وید ویدانت کو مغرب تک پہنچایا، تو وہیں دنیا کو جب بھکتی یوگ دینے کی ذمہ داری آئی تو شریل پربھو پاد جی اور اسکان نے اس عظیم کام کا بیڑہ اٹھایا۔ انہوں نے بھکتی ویدانت کو دنیا کے شعور سے جوڑنے کا کام کیا۔ یہ کوئی معمولی کام نہیں تھا۔ انہوں نے تقریباً 70 سال کی اس عمر میں اسکان جیسا عالمی مشن شروع کیا، جب لوگ اپنی زندگی کا دائرہ اور سرگرمی کم کرنے لگتے ہیں۔ یہ ہمارے سماج کے لیے اور ہر شخص کے لیے ایک بڑے حوصلہ کا باعث ہے۔ کئی بار ہم دیکھتے ہیں، لوگ کہنے لگتے ہیں کہ عمر ہو گئی نہیں تو بہت کچھ کرتے! یا پھر ابھی تو صحیح عمر نہیں ہے یہ سب کام کرنے کی! لیکن پربھو پاد سوامی اپنے بچپن سے لیکر پوری زندگی تک اپنے عزائم کے لیے سرگرم رہے۔ پربھو پاد جی سمندری جہاز سے جب امریکہ گئے، تو وہ تقریباً خالی جیب تھے، ان کے پاس صرف گیتا اور شریمد بھاگوت کی پونجی تھی! راستے میں انہیں دو دو بار ہارٹ اٹیک آیا! سفر کے درمیان! جب وہ نیویارک پہنچے تو ان کے پاس کھانے کا انتظام نہیں تھا، رہنے کا تو ٹھکانہ ہی نہیں تھا۔ لیکن اس کے اگلے 11 سالوں میں دنیا نے جو کچھ دیکھا، جناب اٹل جی کے الفاظ میں کہیں تو اٹل جی نے ان کے بارے میں کہا تھا- وہ کسی چمتکار سے کم نہیں تھا۔

آج دنیا کے الگ الگ ملکوں میں سینکڑوں اسکان مندر ہیں، کتنے ہی گروکل ہندوستانی ثقافت کو زندہ بنائے ہوئے ہیں۔ اسکان نے دنیا کو بتایا ہے کہ بھارت کے لیے عقیدت کا مطلب ہے- خوشی، جوش و خروش اور انسانیت پر اعتماد۔ آج اکثر دنیا کے الگ الگ ملکوں میں لوگ ہندوستانی لباس میں کیرتن کرتے نظر آ جاتے ہیں۔ کپڑے سادہ ہوتے ہوں، ہاتھ میں ڈھولک منجیرا جیسے ساز ہوتے ہیں، ہرے کرشن کا مترنم کیرتن ہوتا ہے، اور سب ایک روحانی تسکین میں جھوم رہے ہوتے ہیں۔ لوگ دیکھتے ہیں تو انہیں یہی لگتا ہے کہ شاید کوئی جشن یا پروگرام ہے۔ لیکن ہمارے یہاں تو یہ کیرتن، یہ انعقاد زندگی کا اٹوٹ حصہ ہے۔ عقیدہ کی یہ پرسکون شکل لگاتار پوری دنیا میں لوگوں کو متوجہ کرتی رہی ہے، یہ خوشی آج تناؤ سے دبی دنیا کو نئی امید دے رہی ہے۔

ساتھیوں،

گیتا میں بھگوان کرشن کا قول ہے-

ادویشٹا سرو-بھوتانامیترہ کرون ایو چہ۔

نرم مونیر-ہنکارہ سم دکھ سکھ چھمی۔

یعنی، جو صرف زندگی سے محبت کرتا ہے، ان کے لیے رحمدلی اور محبت رکھتا ہے، کسی سے دشمنی نہیں کرتا، وہی بھگوان کو عزیز ہے۔ یہی منتر ہزاروں سالوں سے بھارت کی فکر کی بنیاد رہی ہے۔ اور اس فکر کو سماجی بنیاد عطام کرنے کا کام مندروں نے کیا ہے۔ اسکان مندر آج اسی خدمت کے جدید مرکز بن کر ابھرے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب کچھ میں زلزلہ آیا تھا، تو کس طرح اسکان نے لوگوں کی خدمت کے لیے آگے بڑھ کر کام کیا تھا۔ جب بھی ملک میں کوئی آفت آئی ہے، چاہے وہ اتھراکھنڈ کا سانحہ ہو، یا اوڈیشہ اور بنگال میں سائیکلون کی تباہی، اسکان نے سماج کا حوصلہ بننے کا کام کیا ہے۔ کورونا وبائی مرض میں بھی آپ کروڑوں مریضوں، ان کے اہل خانہ اور  مہاجرین کے لیے لگاتار کھانا اور دوسری ضرورتوں کا انتظام کرتے آ رہے ہیں۔ وبائی مرض کے علاوہ بھی، لاکھوں غریبوں کے کھانے اور خدمت کا پروگرام آپ کے ذریعے لگاتار چلتا رہتا ہے۔ جس طرح سے اسکان نے کووڈ مریضوں کے لیے اسپتال بنائے، اور اب ویکسین مہم میں بھی شراکت داری نبھا رہے ہیں، اس کی بھی جانکاری مجھے لگاتار ملتی رہتی ہے۔ میں اسکان کو، اس سے جڑے سبھی بھکتوں کو آپ کے اس سیوا یگیہ کے یے بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔

ساتھیوں،

آج آپ سچائی، خدمت اور سادھنا کے منتر کے ساتھ نہ صرف کرشن سیوا کر رہے ہیں، بلکہ پوری دنیا میں ہندوستانی اصول اور اخلاقیات کے برانڈ امبیسڈر کا بھی رول نبھا رہے ہیں۔ بھارت کی تہذیب ہے: سروے بھونتو سکھینہ، سروے سنتو نرامیہ۔ یہی سوچ اسکان کے ذریعے آج آپ سبھی کا، لاکھوں کروڑوں لوگوں کا عزم بن چکا ہے۔ ایشور کے تئیں محبت، اور زندگی میں ایشور کے درشن، یہی اس عزم کو حاصل کرنے کا راستہ ہے۔ یہی راستہ ہمیں وبھوتی یوگ کے باب میں بھگوان نے بتایا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ’واسودیوہ سروم‘ کا یہ منتر ہم اپنی زندگی میں بھی اتاریں گے اور انسانوں کو بھی اس اتحاد کا احساس کرائیں گے۔ اسی جذبے کے ساتھ، آپ سبھی کا بہت بہت شکریہ!

ہرے کرشن!

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26

Media Coverage

India records highest-ever startup surge with 55,200 recognised in FY26
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves two railway projects in Uttar Pradesh and Andhra Pradesh worth Rs 24,815 crore
April 18, 2026

The Cabinet Committee on Economic Affairs, chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi, today has approved 02 (Two) projects of Ministry of Railways with total cost of Rs. 24,815 crore (approx.). These projects include:

Name of Project

Route Length (in km)

Track Length (in km)

Completion Cost (Rs. in Cr.)

Ghaziabad – Sitapur 3rd and 4th Line

403

859

14,926

Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) 3rd and 4th Line

 

198

 

458

 

9,889

Total

601

1,317

24,815

The increased line capacity will significantly enhance mobility, resulting in improved operational efficiency and service reliability for Indian Railways. These multi-tracking proposals are poised to streamline operations and alleviate congestion. The projects are in line with the Prime Minister Shri Narendra Modiji’s Vision of a New India which will make people of the region “Atmanirbhar” by way of comprehensive development in the area which will enhance their employment/ self-employment opportunities.

The projects are planned on PM-Gati Shakti National Master Plan with focus on enhancing multi-modal connectivity & logistic efficiency through integrated planning and stakeholder consultations. These projects will provide seamless connectivity for movement of people, goods, and services.

The 02 (Two) projects covering 15 Districts across the states of Uttar Pradesh and Andhra Pradesh will increase the existing network of Indian Railways by about 601 Kms.

The proposed capacity enhancement will improve rail connectivity to several prominent tourist destinations across the country, including Dudheshwarnath Temple, Garhmukteshwar Ganga Ghat, Dargah Shah Wilayat Jama Masjid (Amroha), Naimisharanya (Sitapur), Annavaram, Antarvedi, Draksharamam, etc.

The proposed projects are essential routes for transportation of commodities such as coal, foodgrains, cement, POL, iron and steel, container, fertilizers, sugar, chemical salts, limestone, etc. The Railways being environment friendly and energy efficient mode of transportation, will help both in achieving climate goals and minimizing logistics cost of the country lowering CO2 emissions (180.31Crore Kg) which is equivalent to plantation of 7.33 Crore trees.

Ghaziabad – Sitapur 3rd and 4th Line (403 Km)

  • Ghaziabad – Sitapur is an existing double line section forming a key part of Delhi- Guwahati High Density Network (HDN 4).
  • The project is crucial for improving connectivity between the Northern and Eastern region of the country.
  • The existing line capacity utilization of the section is up to 168% and is projected to be up to 207% in case the project is not taken up.
  • Transverses through Ghaziabad, Hapur, Amroha, Moradabad, Rampur, Bareilly, Sahjahanpur, Lakhimpur Kheri and Sitapur districts of Uttar Pradesh.
  • The project route passes through major industrial centres - Ghaziabad (machinery, electronics, pharmaceuticals), Moradabad (brassware and handicrafts), Bareilly (furniture, textiles, engineering), Shahjahanpur (carpets and cement-related industries), and Roza (thermal power plant).
  • For seamless transportation, the project alignment is planned to bypass congested stations of Hapur, Simbhaoli, Moradabad, Rampur, Bareilly, Shahjahanpur, and Sitapur and accordingly, six new stations are proposed on the bypassing sections.
  • Key tourist/religious places along/near to the project section are Dudheshwarnath Temple, Garhmukteshwar Ganga Ghat, Dargah Shah Wilayat Jama Masjid (Amroha), and Naimisharanya (Sitapur) among others.
  • Anticipated additional freight traffic of 35.72 MTPA consisting of Coal, Foodgrains, Chemical Manures, Finished Steel, etc.
  • Estimated Cost: Rs.14,926 crore (approx.)
  • Employment generation: 274 lakh human-days.
  • CO2 emissions saved: About 128.77 crore Kg CO2 equivalent to 5.15 Cr trees.

  • Logistic cost saving: Rs. 2,877.46 crore every year vis-a vis road transportation.

Ghaziabad – Sitapur 3rd and 4th Line (403 Km)

Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) 3rd and 4th Line (198 Km)

  • Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) section forms part of the Howrah – Chennai High Density Network (HDN).
  • The proposed project is part of quadrupling initiative of Howrah – Chennai High Density Network (HDN) route.
  • The project traverses through East Godavari, Konaseema, Kakinada, Anakapalle and Vishakapatnam districts of Andhra Pradesh.
  • Visakhapatnam is identified as an Aspirational District in the Aspirational Districts Programme.
  • It provides connectivity to major ports along the East Coast such as Visakhapatnam, Gangavaram, Machilipatnam and Kakinada.
  • The project route runs along the eastern coastline and is among the busiest, predominantly freight-oriented sections of the East Coast Rail Corridor.
  • The line capacity utilization of the section has already reached up to 130%, leading to frequent congestion and operational delays. The line capacity is expected to increase further due to proposed expansion of ports and industries in the region.
  • Project section includes 4.3 km rail bridge over Godavari River, 2.67 km viaduct, 3 bypasses and the new alignment is around 8 km shorter than the existing route, improving connectivity and operational efficiency.
  • The proposed section will also boost tourism by improving access to key destinations such as Annavaram, Antarvedi and Draksharamam etc.
  • Anticipated additional freight traffic of 29.04 MTPA consisting of Coal, Cement, Chemical Manures, Iron and Steel, Foodgrains, Containers, Bauxite, Gypsum, Limestone, etc.
  • Estimated Cost: Rs.9,889 crore (approx.)
  • Employment generation: 135 lakh human-days.
  • CO2 emissions saved: About 51.49 crore Kg CO2 equivalent to 2.06 Cr trees.

  • Logistic cost saving: Rs. 1,150.56 crore every year vis-a vis road transportation.

 

आर्थिक सशक्तिकरण:

Aspirational districts - Visakhapatnam district will get improved connectivity

Additional economic opportunities in the region through tourism & industries.

Better healthcare and education for the citizens due to enhanced rail connectivity.


Rajahmundry (Nidadavolu) – Visakhapatnam (Duvvada) 3rd and 4th Line (198 Km)

Prime Minister’s focus on railways:

  • Record budget allocation of Rs. 2,65,000 crore for FY 26-27.
  • Manufacturing more than 1600 locomotives- surpassed US and Europe in manufacturing of locomotive production
  • In FY 26, Indian Railways is expected to rank among the top three freight carriers globally, moving 1.6 billion tonnes of cargo.

  • India starts exporting metro coaches to Australia and bogie to United Kingdom, Saudi Arabia, France and Australia.