شریل بھکتی ویدانت سواجی پربھو پاد جی بھارت کے بھی بہت بڑے معتقد تھے: وزیر اعظم
ہمارا یہ عزم ہے کہ دنیا کو یوگ اور آیوروید کے ہمارے علم سے فائدہ حاصل کرنا چاہیے: وزیر اعظم
بھکتی دور کے سماجی انقلاب کے بغیر بھارت کی حالت اور شکل کا تصور کرنا مشکل ہے: وزیر اعظم
شریل بھکتی ویدانت سوامی پربھو پاد جی نے بھکتی ویدانت کو دنیا کے شعور سے جوڑا

ہرے کرشن! آج کے اس مقدس موقع پر ہمارے ساتھ جڑ رہے ملک کے وزیر ثقافت جناب کشن ریڈی، اسکان بیورو کے صدر جناب گوپال کرشن گوسوامی جی، اور دنیا کے الگ الگ ملکوں سے ہمارے ساتھ جڑے ہوئے سبھی ساتھی، کرشن کے عقیدت مندو!

پرسوں شری کرشن جنماشٹمی تھی اور آج ہم شریل پربھو پاد جی کا 125واں یوم پیدائش ما رہے ہیں۔ یہ ایسا ہے جیسے سادھنا کی خوشی اور تسکین دونوں ایک ساتھ میسر ہو جائے۔ اسی جذبے کو آج پوری دنیا میں شریل پربھو پاد  سوامی نے لاکھوں کروڑوں پیروکاروں، اور لاکھوں کروڑوں کرشن بھکت محسوس کر رہے ہیں۔ میں سامنے اسکرین پر الگ الگ ملکوں سے آپ سبھی عقیدت مندوں کو دیکھ رہا ہوں۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے لاکھوں من ایک جذبے سے بندھے ہوں، لاکھوں جسم ایک مشترکہ شعور سے جڑے ہوںٍ! یہ وہ کرشن کا شعور ہے جسے پربھو پاد سوامی جی نے پوری دنیا تک پہنچایا ہے۔

ساتھیوں،

ہم سب جانتے ہیں کہ پربھو پاد سوامی روحانی کرشن بھکت تو تھے ہی، ساتھ ہی وہ ایک عظیم بھارت بھکت بھی تھے۔ انہوں نے ملک کی آزادی کی لڑائی لڑی تھی۔ انہوں نے عدم تعاون تحریک کی حمایت میں اسکاٹش کالج سے اپنا ڈپلومہ تک لینے سے منع کر دیا تھا۔ آج یہ حسن اتفاق ہے کہ ملک ایسے عظیم دیش بھکت کا 125واں یوم پیدائش ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بھارت اپنی آزادی کے 75 سال کا جشن – امرت مہوتسو منا رہا ہے۔ شریل پربھو پاد سوامی ہمیشہ کہتے تھے کہ وہ دنیا کے ممالک میں اس لیے گھوم رہے ہیں کیوں کہ وہ  بھارت کی سب سے قیمتی دولت دنیا کو دینا چاہتے ہیں۔ بھارت کا جو علم و سائنس ہے، ہماری زندگی کی جو تہذیب و روایات ہیں، اس کا جذبہ رہا ہے- اتھ بھوت دیام پرتی یعنی جاندار کے لیے، جاندار کی فلاح کے لیے! ہماری پوجا کا بھی آخری منتر یہی ہوتا ہے- اِدم نا ممم یعنی، یہ میرا نہیں ہے۔ یہ پوری کائنات کے لیے ہے، پوری تخلیق کے مفاد کے لیے ہے اور اسی لیے، سوامی جی کے پوجیہ گروجی شریل بھکتی سدھانت سرسوتی جی نے ان کے اندر وہ صلاحیت دیکھی، انہیں ہدایت دی کہ وہ بھارت کی فکر اور فلسفہ کو دنیا تک لیکر جائیں۔ شریل پربھو پاد جی نے اپنے گرو کے اس حکم کو اپنا مشن بنا لیا، اور ان کی تپسیا کا نتیجہ آج دنیا کے کونے کونے میں نظر آتا ہے۔

امرت مہوتسو میں بھارت نے بھی سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس کے منتر کے ساتھ ایسے ہی عزائم کو اپنے آگے کے سفر کی بنیاد بنایا ہے۔ ہمارے ان عزائم کے مرکز میں، ہمارے ان مقاصد کی بنیاد میں بھی عالمی فلاح کا ہی جذبہ ہے۔ اور آپ سبھی اس کے گواہ ہیں کہ ان عزائم کو پورا کرنے کے لیے سب کی کوشش کتنی ضروری ہے۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اگر پربھو پاد جی نے اکیلے دنیا کو اتنا کچھ دیا ہے، تو جب ہم سب ان کے آشیرواد سے ایک ساتھ کوشش کریں گے، تو کیسے نتائج آئیں گے؟ ہم ضروری انسانی شعور کی اس بلندی تک پہنچیں گے جہاں سے ہم دنیا میں اور بڑا رول نبھا سکیں، محبت کے پیغام کو ایک ایک انسان تک پہنچا سکیں۔

ساتھیوں،

انسانیت کے حق میں بھارت دنیا کو کتنا کچھ دے سکتا ہے، آج اس کی ایک بہت بڑی مثال ہے دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہمارا یوگ کا علم! ہماری یوگ کی روایت! بھارت کی جو مستحکم طرز زندگی ہے، آیوروید جیسے جو سائنس ہیں، ہمارا عہد ہے کہ اس کا فائدہ پوری دنیا کو ملے۔ خود انحصاریت کے بھی جس منتر کی شریل پربھو پاد اکثر چرچہ کرتے تھے، اسے بھارت نے اپنا مقصد بنایا ہے، اور اس سمت میں ملک آگے بڑھ رہا ہے۔ میں کئی بار جب آتم نربھر بھارت اور میک ان انڈیا کے اہداف کی بات کرتا ہوں، تو میں اپنے افسروں کو، بزنس مین کو اسکان کے ہرے کرشن موومنٹ کی کامیابی کی مثال دیتا ہوں۔ ہم جب بھی کسی دوسرے ملک میں جاتے ہیں، اور وہاں جب لوگ ’ہرے کرشن‘ بول کر ملتے ہیں، تو ہمیں کتنا اپناپن لگتا ہے، کتنا فخر بھی ہوتا ہے۔ تصور کیجئے، یہی اپنائیت جب ہمیں میک ان انڈیا مصنوعات کے لیے ملے گی، تو ہمیں کیسا لگے گا! اسکان سے سیکھ کر ہم ان مقاصد کو بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

ساتھیوں،

بھگوان کرشن نے ارجن سے کہا تھا- نہ ہی گیانین سدرشم پوتر مہ ودیتے

یعنی، علم جیسا مقصد کچھ بھی نہیں ہے۔ علم کو اعلی ترجیح دینے کے بعد انہوں نے ایک اور بات کہی تھی- مییو من آدتسو میی بدھم نویشم یعنی، علم و سائنس کو حاصل کرنے کے بعد اپنے من کو، عقل کو کرشن میں لگا دو، ان کی بھکتی میں وقف کر دو۔ یہ اعتماد، یہ طاقت بھی ایک یوگ ہے، جسے گیتا کے 12ویں باب میں بھکتی یوگ کہا گیا ہے۔ اور اس بھکتی یوگ کی طاقت بہت بڑی ہوتی ہے۔ ہندوستان کی تاریخ بھی اس کی گواہ ہے۔ جب بھارت غلامی کے اندھیرے میں پھنس گیا تھا، نا انصافی، ظلم اور استحصال سے متاثر بھارت اپنے علم اور طاقت پر دھیان نہیں لگا پا رہا تھا، بھارت کی شناخت کو الگ رکھا۔ آج دانشور اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اگر بھکتی کے دور کا سماجی انقلاب نہیں ہوتا تو بھارت نہ جانے کہاں ہوتا، کس شکل میں ہوتا! لیکن، اس مشکل دور میں چیتنیہ مہا پربھو جیسے سنتوں نے ہمارے سماج کو بھکتی کے جذبے سے باندھا، انہوں نے ’اعتقاد سے اعتماد‘ کا منتر دیا۔ عقیدت کی تفریق، سماجی اونچ نیچ، حق اور حق تلفی، بھکتی نے ان سب کو ختم کرکے شیو اور جیو کے درمیان ایک سیدھا رابطہ قائم کر دیا۔

ساتھیوں،

ہندوستان کی تاریخ کا مطالعہ کریں، تو آپ یہ بھی پائیں گے کہ بھکتی کی اس ڈور کو تھامے رہنے کے لیے الگ الگ دور میں رشی مہرشی اور منیشی سماج میں آتے رہے۔ ایک دور میں اگر سوامی وویکانند جیسے منیشی آئے جنہوں نے وید ویدانت کو مغرب تک پہنچایا، تو وہیں دنیا کو جب بھکتی یوگ دینے کی ذمہ داری آئی تو شریل پربھو پاد جی اور اسکان نے اس عظیم کام کا بیڑہ اٹھایا۔ انہوں نے بھکتی ویدانت کو دنیا کے شعور سے جوڑنے کا کام کیا۔ یہ کوئی معمولی کام نہیں تھا۔ انہوں نے تقریباً 70 سال کی اس عمر میں اسکان جیسا عالمی مشن شروع کیا، جب لوگ اپنی زندگی کا دائرہ اور سرگرمی کم کرنے لگتے ہیں۔ یہ ہمارے سماج کے لیے اور ہر شخص کے لیے ایک بڑے حوصلہ کا باعث ہے۔ کئی بار ہم دیکھتے ہیں، لوگ کہنے لگتے ہیں کہ عمر ہو گئی نہیں تو بہت کچھ کرتے! یا پھر ابھی تو صحیح عمر نہیں ہے یہ سب کام کرنے کی! لیکن پربھو پاد سوامی اپنے بچپن سے لیکر پوری زندگی تک اپنے عزائم کے لیے سرگرم رہے۔ پربھو پاد جی سمندری جہاز سے جب امریکہ گئے، تو وہ تقریباً خالی جیب تھے، ان کے پاس صرف گیتا اور شریمد بھاگوت کی پونجی تھی! راستے میں انہیں دو دو بار ہارٹ اٹیک آیا! سفر کے درمیان! جب وہ نیویارک پہنچے تو ان کے پاس کھانے کا انتظام نہیں تھا، رہنے کا تو ٹھکانہ ہی نہیں تھا۔ لیکن اس کے اگلے 11 سالوں میں دنیا نے جو کچھ دیکھا، جناب اٹل جی کے الفاظ میں کہیں تو اٹل جی نے ان کے بارے میں کہا تھا- وہ کسی چمتکار سے کم نہیں تھا۔

آج دنیا کے الگ الگ ملکوں میں سینکڑوں اسکان مندر ہیں، کتنے ہی گروکل ہندوستانی ثقافت کو زندہ بنائے ہوئے ہیں۔ اسکان نے دنیا کو بتایا ہے کہ بھارت کے لیے عقیدت کا مطلب ہے- خوشی، جوش و خروش اور انسانیت پر اعتماد۔ آج اکثر دنیا کے الگ الگ ملکوں میں لوگ ہندوستانی لباس میں کیرتن کرتے نظر آ جاتے ہیں۔ کپڑے سادہ ہوتے ہوں، ہاتھ میں ڈھولک منجیرا جیسے ساز ہوتے ہیں، ہرے کرشن کا مترنم کیرتن ہوتا ہے، اور سب ایک روحانی تسکین میں جھوم رہے ہوتے ہیں۔ لوگ دیکھتے ہیں تو انہیں یہی لگتا ہے کہ شاید کوئی جشن یا پروگرام ہے۔ لیکن ہمارے یہاں تو یہ کیرتن، یہ انعقاد زندگی کا اٹوٹ حصہ ہے۔ عقیدہ کی یہ پرسکون شکل لگاتار پوری دنیا میں لوگوں کو متوجہ کرتی رہی ہے، یہ خوشی آج تناؤ سے دبی دنیا کو نئی امید دے رہی ہے۔

ساتھیوں،

گیتا میں بھگوان کرشن کا قول ہے-

ادویشٹا سرو-بھوتانامیترہ کرون ایو چہ۔

نرم مونیر-ہنکارہ سم دکھ سکھ چھمی۔

یعنی، جو صرف زندگی سے محبت کرتا ہے، ان کے لیے رحمدلی اور محبت رکھتا ہے، کسی سے دشمنی نہیں کرتا، وہی بھگوان کو عزیز ہے۔ یہی منتر ہزاروں سالوں سے بھارت کی فکر کی بنیاد رہی ہے۔ اور اس فکر کو سماجی بنیاد عطام کرنے کا کام مندروں نے کیا ہے۔ اسکان مندر آج اسی خدمت کے جدید مرکز بن کر ابھرے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب کچھ میں زلزلہ آیا تھا، تو کس طرح اسکان نے لوگوں کی خدمت کے لیے آگے بڑھ کر کام کیا تھا۔ جب بھی ملک میں کوئی آفت آئی ہے، چاہے وہ اتھراکھنڈ کا سانحہ ہو، یا اوڈیشہ اور بنگال میں سائیکلون کی تباہی، اسکان نے سماج کا حوصلہ بننے کا کام کیا ہے۔ کورونا وبائی مرض میں بھی آپ کروڑوں مریضوں، ان کے اہل خانہ اور  مہاجرین کے لیے لگاتار کھانا اور دوسری ضرورتوں کا انتظام کرتے آ رہے ہیں۔ وبائی مرض کے علاوہ بھی، لاکھوں غریبوں کے کھانے اور خدمت کا پروگرام آپ کے ذریعے لگاتار چلتا رہتا ہے۔ جس طرح سے اسکان نے کووڈ مریضوں کے لیے اسپتال بنائے، اور اب ویکسین مہم میں بھی شراکت داری نبھا رہے ہیں، اس کی بھی جانکاری مجھے لگاتار ملتی رہتی ہے۔ میں اسکان کو، اس سے جڑے سبھی بھکتوں کو آپ کے اس سیوا یگیہ کے یے بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔

ساتھیوں،

آج آپ سچائی، خدمت اور سادھنا کے منتر کے ساتھ نہ صرف کرشن سیوا کر رہے ہیں، بلکہ پوری دنیا میں ہندوستانی اصول اور اخلاقیات کے برانڈ امبیسڈر کا بھی رول نبھا رہے ہیں۔ بھارت کی تہذیب ہے: سروے بھونتو سکھینہ، سروے سنتو نرامیہ۔ یہی سوچ اسکان کے ذریعے آج آپ سبھی کا، لاکھوں کروڑوں لوگوں کا عزم بن چکا ہے۔ ایشور کے تئیں محبت، اور زندگی میں ایشور کے درشن، یہی اس عزم کو حاصل کرنے کا راستہ ہے۔ یہی راستہ ہمیں وبھوتی یوگ کے باب میں بھگوان نے بتایا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ’واسودیوہ سروم‘ کا یہ منتر ہم اپنی زندگی میں بھی اتاریں گے اور انسانوں کو بھی اس اتحاد کا احساس کرائیں گے۔ اسی جذبے کے ساتھ، آپ سبھی کا بہت بہت شکریہ!

ہرے کرشن!

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
G20 hosts Kashi blossoms with flowers from  6 states

Media Coverage

G20 hosts Kashi blossoms with flowers from 6 states
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister Narendra Modi to visit Kerala,Tamil Nadu and Maharashtra
February 26, 2024
PM to visit Vikram Sarabhai Space centre (VSSC), Thiruvananthapuram, and inaugurate three important space infrastructure projects worth about Rs 1800 crore
Projects include ‘PSLV Integration Facility’ at Satish Dhawan Space Centre, Sriharikota; ‘Semi-cryogenics Integrated Engine and stage Test facility’ at ISRO Propulsion Complex at Mahendragiri; and ‘Trisonic Wind Tunnel’ at VSSC
PM to also review progress of Ganganyaan
PM to inaugurate, dedicate to nation and lay the foundation stone of multiple infrastructure projects worth more than Rs 17,300 crore in Tamil Nadu
In a step to establish a transshipment hub for the east coast of the country, PM to lay the foundation stone of Outer Harbor Container Terminal at V.O.Chidambaranar Port
PM to launch India's first indigenous green hydrogen fuel cell inland waterway vessel
PM to address thousands of MSME entrepreneurs working in Automotive sector in Madurai
PM to inaugurate and dedicate to nation multiple infrastructure projects related to rail, road and irrigation worth more than Rs 4900 crore in Maharashtra
PM to release 16th instalment amount of about Rs 21,000 crore under PM-KISAN; and 2nd and 3rd instalments of about Rs 3800 crore under ‘Namo Shetkari MahaSanman Nidhi’
PM to disburse Rs 825 crore of Revolving Fund to 5.5 lakh women SHGs across Maharashtra
PM to initiate the distribution of one crore Ayushman cards across Maharashtra
PM to launch the Modi Awaas Gharkul Yojana

Prime Minister Shri Narendra Modi will visit Kerala, Tamil Nadu and Maharashtra on 27-28 February, 2024.

On 27th February, at around 10:45 AM, Prime Minister will visit Vikram Sarabhai Space centre (VSSC) at Thiruvananthapuram, Kerala. At around 5:15 PM, Prime Minister will participate in the programme ‘Creating the Future – Digital Mobility for Automotive MSME Entrepreneurs’ in Madurai, Tamil Nadu.

On 28th February, at around 9:45 AM, Prime Minister will inaugurate, and lay the foundation stone of multiple development projects worth about Rs 17,300 crore at Thoothukudi, Tamil Nadu. At around 4:30 PM, Prime Minister will participate in a public programme in Yavatmal, Maharashtra, and inaugurate and dedicate to nation multiple development projects worth more than Rs 4900 crore at Yavatmal, Maharashtra. He will also release benefits under PM KISAN and other schemes during the programme.

PM in Kerala

Prime Minister’s vision to reform the country’s space sector to realise its full potential, and his commitment to enhance technical and R&D capability in the sector will get a boost as three important space infrastructure projects will be inaugurated during his visit to Vikram Sarabhai Space Centre, Thiruvananthapuram. The projects include the PSLV Integration Facility (PIF) at the Satish Dhawan Space Centre, Sriharikota; new ‘Semi-cryogenics Integrated Engine and stage Test facility’ at ISRO Propulsion Complex at Mahendragiri; and ‘Trisonic Wind Tunnel’ at VSSC, Thiruvananthapuram. These three projects providing world-class technical facilities for the space sector have been developed at a cumulative cost of about Rs. 1800 crore.

The PSLV Integration Facility (PIF) at the Satish Dhawan Space Centre, Sriharikota will help in boosting the frequency of PSLV launches from 6 to 15 per year. This state-of-the-art facility can also cater to the launches of SSLV and other small launch vehicles designed by private space companies.

The new ‘Semi-cryogenics Integrated Engine and stage Test facility’ at IPRC Mahendragiri will enable development of semi cryogenic engines and stages which will increase the payload capability of the present launch vehicles. The facility is equipped with liquid Oxygen and kerosene supply systems to test engines up to 200 tons of thrust.

Wind tunnels are essential for aerodynamic testing for characterisation of rockets and aircraft during flight in the atmospheric regime. The “Trisonic Wind Tunnel” at VSSC being inaugurated is a complex technological system which will serve our future technology development needs.

During his visit, Prime Minister will also review the progress of Gaganyaan Mission and bestow ‘astronaut wings’ to the astronaut-designates. The Gaganyaan Mission is India’s first human space flight program for which extensive preparations are underway at various ISRO centres.

PM in Tamil Nadu

In Madurai, Prime Minister will participate in the programme ‘Creating the Future – Digital Mobility for Automotive MSME Entrepreneurs’, and address thousands of Micro, Small and Medium enterprises (MSMEs) entrepreneurs working in the automotive sector. Prime Minister will also launch two major initiatives designed to support and uplift MSMEs in the Indian automotive industry. The initiatives include the TVS Open Mobility Platform and the TVS Mobility-CII Centre of Excellence. These initiatives will be a step towards realising the Prime Minister’s vision of supporting the growth of MSMEs in the country and helping them to formalise operations, integrate with global value chains and become self-reliant.

In the public programme at Thoothukudi, Prime Minister will lay the foundation stone of Outer Harbor Container Terminal at V.O.Chidambaranar Port. This Container Terminal is a step towards transforming V.O.Chidambaranar Port into a transshipment hub for the east coast. The project aims to leverage India's long coastline and favourable geographic location, and strengthen India's competitiveness in the global trade arena. The major infrastructure project will also lead to creation of employment generation and economic growth in the region.

Prime Minister will inaugurate various other projects aimed at making the V.O.Chidambaranar Port as the first Green Hydrogen Hub Port of the country. These projects include desalination plant, hydrogen production and bunkering facility etc.

Prime Minister will also launch India's first indigenous green hydrogen fuel cell inland waterway vessel under Harit Nauka initiative. The vessel is manufactured by Cochin Shipyard and underscores a pioneering step for embracing clean energy solutions and aligning with the nation's net-zero commitments. Also, Prime Minister will also dedicate tourist facilities in 75 lighthouses across ten States/UTs during the programme.

During the programme, Prime Minister will dedicate to nation rail projects for doubling of Vanchi Maniyachchi - Nagercoil rail line including the Vanchi Maniyachchi - Tirunelveli section and Melappalayam - Aralvaymoli section. Developed at the cost of about Rs 1,477 crore, the doubling project will help in reducing travel time for the trains heading towards Chennai from Kanyakumari, Nagercoil & Tirunelveli.

Prime Minister will also dedicate four road projects in Tamil Nadu, developed at a total cost of about Rs 4,586 Crore. These projects include the four-laning of the Jittandahalli-Dharmapuri section of NH-844, two-laning with paved shoulders of the Meensurutti-Chidambaram section of NH-81, four-laning of the Oddanchatram-Madathukulam section of NH-83, and two-laning with paved shoulders of the Nagapattinam-Thanjavur section of NH-83. These projects aim to improve connectivity, reduce travel time, enhance socio-economic growth and facilitate pilgrimage visits in the region.

PM in Maharashtra

In a step that will showcase yet another example of commitment of the Prime Minister towards welfare of farmers, the 16th instalment amount of more than Rs 21,000 crores under the Pradhan Mantri Kisan Samman Nidhi (PM-KISAN), will be released at the public programme in Yavatmal, through direct benefits transfer to beneficiaries. With this release, an amount of more than 3 lakh crore, has been transferred to more than 11 crore farmers’ families.

Prime Minister will also disburse 2nd and 3rd instalments of ‘Namo Shetkari MahaSanman Nidhi’, worth about Rs 3800 crore and benefiting about 88 lakh beneficiary farmers across Maharashtra. The scheme provides an additional amount of Rs 6000 per year to the beneficiaries of Pradhan Mantri Kisan Samman Nidhi Yojana in Maharashtra.

Prime Minister will disburse Rs 825 crore of Revolving Fund to 5.5 lakh women Self Help Groups (SHGs) across Maharashtra. This amount is additional to the Revolving fund provided by the Government of India under National rural livelihood Mission (NRLM). Revolving Fund (RF) is given to SHGs to promote lending of money within SHGs by rotational basis and increase annual income of poor households by promoting women led micro enterprises at village level.

Prime Minister will initiate distribution of one crore Ayushman cards across Maharashtra. This is yet another step to reach out to beneficiaries of welfare schemes so as to realise the Prime Minister’s vision of 100 percent saturation of all government schemes.

Prime Minister will launch the Modi Awaas Gharkul Yojana for OBC category beneficiaries in Maharashtra. The scheme envisages the construction of a total 10 lakh houses from FY 2023-24 to FY 2025-26. Prime Minister will transfer the first instalment of Rs 375 Crore to 2.5 lakh beneficiaries of the Yojana.

Prime Minister will dedicate to nation multiple irrigation projects benefiting Marathwada and Vidarbha region of Maharashtra. These projects are developed at a cumulative cost of more than Rs 2750 crore under Pradhan Mantri Krishi Sinchai Yojna (PMKSY) and Baliraja Jal Sanjeevani Yojana (BJSY).

Prime Minister will also inaugurate multiple rail projects worth more than Rs. 1300 crore in Maharashtra. The projects include Wardha-Kalamb broad gauge line (part of Wardha-Yavatmal-Nanded new broad gauge line project) and New Ashti - Amalner broad gauge line (part of Ahmednagar-Beed-Parli new broad gauge line project). The new broad gauge lines will improve connectivity of the Vidarbha and Marathwada regions and boost socio-economic development. Prime Minister will also virtually flag off two train service during the programme. This includes train services connecting Kalamb and Wardha; and train service connecting Amalner and New Ashti. This new train service will help improve rail connectivity and benefit students, traders and daily commuters of the region.

Prime Minister will dedicate to nation several projects for strengthening the road sector in Maharashtra. The projects include four laning of the Warora-Wani section of NH-930; road upgradation projects for important roads connecting Sakoli-Bhandara and Salaikhurd-Tirora. These projects will improve connectivity, reduce travel time and boost socio-economic development in the region. Prime Minister will also inaugurate the statue of Pandit Deendayal Upadhyay in Yavatmal city.