"بھارت اور سری لنکا سفارتی اور اقتصادی تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کر رہے ہیں"
"فیری سروس تمام تاریخی اور ثقافتی رابطوں کو زندہ کرتی ہے"
"رابطہ کاری صرف دو شہروں کو قریب لانے کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ہمارے ممالک کو بھی قریب لاتی ہے، ہمارے لوگوں کو قریب کرتی ہے اور ہمارے دلوں کو بھی قریب کرتی ہے
"ترقی اور ترقی کے لئے شراکت داری ہندوستان - سری لنکا دو طرفہ تعلقات کے مضبوط ترین ستونوں میں سے ایک ہے"
"سری لنکا میں ہندوستانی امداد سے نفاذ کردہ منصوبوں نے لوگوں کی زندگیوں کو چھو لیا ہے"

عالی مرتبت، بھائیو اور بہنو،  نمسکار، ایوبوون، ونکم!

دوستو،

اس اہم موقع پر آپ کے ساتھ شامل ہونا میرے لیے فخر کی بات ہے۔ ہم بھارت اور سری لنکا کے درمیان سفارتی اور اقتصادی تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کر رہے ہیں۔ ناگاپٹنم اور کنکیسنتھورئی کے درمیان فیری خدمات کا آغاز ہمارے تعلقات کو مضبوط بنانے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

دوستو،

بھارت اور سری لنکا کی ثقافت، تجارت اور تہذیب کی تاریخ عمیق ہے۔ ناگاپٹنم اور قرب و جوار کے قصبے طویل عرصے سے سری لنکا سمیت کئی ممالک کے ساتھ بحری تجارت کے لیے جانے جاتے ہیں۔ پوپموہار کی تاریخی بندرگاہ کا تذکرہ قدیم تمل ادب میں ایک مرکز کے طور پر کیا گیا ہے۔ سنگم کے عہد کا ادب  یعنی پٹن پلائی اور منیمکلائی بھارت اور سری لنکا کے مابین چلنے والی کشتیوں اور بحری جہازوں کے بارے میں تذکرہ کرتا ہے۔ عظیم شاعر سبرامنیم بھارتی نے اپنے گیت ’سندھو ندھیوں میسائی‘ میں ہمارے دونوں ممالک کو مربوط کرنے والے پل کی بات کی تھی۔ یہ فیری سروس ان تمام تاریخی اور ثقافتی رابطوں کو زندہ کرتی ہے۔

 

دوستو،

صدر وکرم سنگھے کے حالیہ دورے کے دوران، ہم نے مشترکہ طور پر اپنی اقتصادی شراکت داری کے لیے ایک ویژن دستاویز کو اپنایا۔ کنکٹیویٹی اس شراکت داری کا مرکزی موضوع ہے۔ کنکٹیویٹی صرف دو شہروں کو قریب لانے کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ یہ ہمارے ممالک کو بھی قریب لاتی ہے،ہمارے عوام کو قریب لاتی ہے اور ہمارے دلوں کو بھی قریب لاتی ہے۔ کنکٹیویٹی تجارت، سیاحت اور عوام سے عوام کے روابط میں اضافہ کرتی ہے۔ اس سے دونوں ممالک کے نوجوانوں کے لیے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔

دوستو،

2015 میں میرے دورۂ سری لنکا کے بعد، ہم نے دہلی اور کولمبو کے درمیان براہِ راست پروازوں کے آغاز کا مشاہدہ کیا۔ بعدازاں، ہم نے سری لنکا سے زائرین کے شہر کشی نگر میں اولین بین الاقوامی پرواز کی لینڈنگ کا جشن منایا۔ چنئی اور جافنا کے درمیان براہِ راست پرواز 2019 میں شروع ہوئی۔ اب، ناگاپٹنم اور کنکیسنتھورئی کے درمیان کشتی خدمات اس سمت میں ایک اور اہم قدم ہے۔

دوستو،

کنکٹیویٹی کو لے کر ہماری تصوریت نقل و حمل کے شعبے سے آگے ہے۔ بھارت اور سری لنکا مالی تکنالوجی اور توانائی جیسے وسیع شعبوں میں قریبی تعاون کرتے ہیں۔ یو پی آئی  کی وجہ سے ڈجیٹل ادائیگی بھارت میں ایک عوامی تحریک اور زندگی کا ایک طریقہ بن گئی ہے۔ ہم یو پی آئی اور لنکا پے کو جوڑ کر مالی تکنالوجی کے شعبے کی کنکٹیویٹی پر کام کر رہے ہیں۔ ہماری ترقی کے سفر کو تقویت بہم پہنچانے کے مقصد سے ہمارے ممالک کے لیے توانائی کا تحفظ بہت ضروری ہے۔ ہم توانائی کے تحفظ اور اعتماد میں اضافے کے لیے توانائی گرڈس کو مربوط کر رہے ہیں۔

دوستو،

پیش رفت اور ترقی کے لیے شراکت داری ہمارے دو طرفہ تعلقا ت کے مضبوط ترین ستونوں میں سے ایک ہے۔ ہمارا ویژن کسی کو پیچھے نہ چھوڑتے ہوئے ترقی کے فوائد سبھی تک پہنچانا ہے۔ اس ویژن کے مطابق سری لنکا میں بھارتی تعاون سے نافذ کیے گئے پروجیکٹوں نے لوگوں کی زندگیوں کو چھولیا ہے۔ شمالی ریاست میں رہائش، پانی، صحت اور ذریعہ معاش سے متعلق کئی منصوبے مکمل کیے گئے ہیں۔

 

دوستو،

آپ سب جانتے ہیں کہ بھارت نے حال ہی میں جی20 سربراہ اجلاس کی میزبانی کی تھی۔ وسودھیو کٹمب کم کی ہماری تصوریت کا بین الاقوامی برادری نے خیرمقدم کیا ہے۔ اس تصوریت کا ایک حصہ ترقی اور خوشحالی کو بانٹتے ہوئے، اپنے ہمسائے کو ترجیح دینا ہے۔ جی20 سربراہ اجلاس کے دوران، بھارت – مشرق وسطیٰ – یوروپ اقتصادی راہداری کا آغاز کیا گیا تھا۔ یہ ایک اہم رابطہ کار گلیارہ ہے جو پورے خطے میں بڑے پیمانے پر اقتصادی اثرات مرتب کرے گا۔ سری لنکا کے لوگوں کو بھی اس سے فائدہ پہنچے گا کیونکہ ہم اپنے دونوں ممالک کے درمیان ملٹی ماڈل کنکٹیویٹی کو مضبوط کرتے ہیں۔ میں آج کشتی خدمات کے کامیاب آغاز پر سری لنکا کے صدر، حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آج کے آغاز کے ساتھ، ہم رامیشورم اور تلیمنار کے درمیان کشتی خدمات کے ازسر نو آغاز کی سمت میں بھی کام کریں گے۔

دوستو،

بھارت اپنے لوگوں کے باہمی مفادات کی غرض سے اپنے دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے سلسلے میں سری لنکا کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پابند عہد ہے۔ شکریہ !

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
UPI — an eventful journey

Media Coverage

UPI — an eventful journey
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs 53rd PRAGATI Meeting
August 25, 2026
PM reviews six key infrastructure projects across the Railway, Road and Power sectors
Projects reviewed span across 9 States with cumulative investment of more than ₹30,000 crore
PM says Infrastructure projects should be viewed as an integrated whole, rather than as individual sections or packages
PM calls for continuous reforms across all stages of project implementation and a proactive work culture across Ministries and States
PM says Speed must go hand-in-hand with quality
While reviewing AgriStack, PM emphasises the need to leverage the latest digital technologies including AI to derive greater value from agricultural data
On cyber fraud and ‘digital arrest’, PM stresses training, public awareness, cyber-safety education and coordinated action

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 53rd meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform for Pro-Active Governance and Timely Implementation, at Seva Teerth earlier today.

During the meeting, Prime Minister reviewed six key infrastructure projects across the Railway, Road and Power sectors, spanning nine States with a cumulative cost of more than ₹30,000 crore. The projects, significant for strengthening connectivity, supporting industrial and economic activity and improving public services, were reviewed with particular emphasis on adherence to timelines, inter-agency coordination, resolution of pending issues and expeditious completion.

Prime Minister emphasised that delays in infrastructure projects have consequences beyond cost escalation, as they also postpone the benefits intended for citizens, businesses and the economy. He said that infrastructure projects should be viewed and monitored as an integrated whole, rather than as isolated sections, stretches or packages. He noted that progress in individual packages should ultimately translate into timely completion and operationalisation of the entire project. Ministries and States were therefore asked to adopt an end-to-end approach, and address critical gaps that could delay the overall commissioning and delivery of benefits. He called for fostering a proactive work culture across Ministries and State Governments, with greater ownership at every level of project implementation.

Prime Minister stressed the need to explore common utility corridors for infrastructure services, wherever feasible, particularly while planning major transport and infrastructure projects. He called upon Ministries and States to examine such integrated approaches at the planning stage itself, keeping in view their technical and economic feasibility.

Prime Minister said that speed of execution must be accompanied by uncompromising quality. He called upon Ministries, States and implementing agencies to adopt modern technologies and strengthen quality assurance and supervision at every stage.

While reviewing AgriStack under the Digital Agriculture Mission, Prime Minister emphasised the need to leverage the latest digital technologies, including Artificial Intelligence, to derive greater value from agricultural data. He stressed that the data ecosystem should be effectively utilised across the agricultural value chain, from input planning to processing, enabling more informed interventions, better targeting and data-driven decision-making. He appreciated the efforts of the States and the Central Government in building the AgriStack ecosystem and called for further strengthening its use for delivering better outcomes for farmers.

During the review of cyber fraud cases, including incidents of digital arrest, Prime Minister said that prevention must be strengthened through a sustained focus on training, awareness and education. He stressed the need for continuous and targeted public-awareness campaigns, particularly for senior citizens, youth and other vulnerable sections, to familiarise them with common fraud techniques, warning signs and safe digital practices. He also called for regular capacity-building of personnel involved so that emerging modes of cyber fraud are identified and acted upon swiftly.