ایمس، جودھپور میں ’ٹراما سینٹر اور کریٹیکل کیئر ہسپتال بلاک‘ اور پی ایم-ابھیم کے تحت 7 کریٹیکل کیئر بلاکس کا سنگ بنیاد رکھا
جودھ پور ہوائی اڈے پر نئی ٹرمینل بلڈنگ کا سنگ بنیاد رکھا
آئی آئی ٹی جودھپور کیمپس اور بنیادی ڈھانچے کے اپ گریڈیشن کو سنٹرل یونیورسٹی آف راجستھان کیلئےوقف کیا
سڑکوں کی ترقی کے متعدد منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا
145 کلومیٹر لمبی دیگانہ-رائے کا باغ ریل لائن اور 58 کلومیٹر لمبی دیگانہ-کچمن سٹی ریل لائن کو دوگنا کرنے کے کام کو وقف کیا
جیسلمیر سے دہلی کو جوڑنے والی رونیچا ایکسپریس اور مارواڑ جنکشن - کھمبلی گھاٹ کو جوڑنے والی نئی ہیریٹیج ٹرین کو جھنڈی دکھائی
’’راجستھان ایک ایسی ریاست ہے جہاں ملک کی بہادری، خوشحالی اور ثقافت میں قدیم ہندوستان کی شان نظر آتی ہے‘‘
’’یہ ضروری ہے کہ راجستھان جو ہندوستان کی ماضی کی شان کی نمائندگی کرتا ہے، ہندوستان کے مستقبل کی بھی نمائندگی کرے‘‘
’’مجھے ایمس جودھپور اور آئی آئی ٹی جودھپور کو نہ صرف راجستھان کے بلکہ ملک کے اہم اداروں میں شامل دیکھ کر بہت خوشی ہوئی‘‘
راجستھان کی ترقی سے ہی ہندوستان ترقی کرے گا

اسٹیج پر بیٹھے ہوئے راجستھان کے گورنر جناب کلراج مشر جی، مرکزی کابینہ میں میرے ساتھی اور اس سرزمین کے خادم بھائی گجیندر سنگھ شیخاوت، کیلاش چودھری، راجستھان حکومت کے وزیر بھائی بھجن لال، ایم پی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی صدر جناب سی پی۔ جوشی جی۔ ہمارے دیگر اراکین پارلیمنٹ، تمام عوامی نمائندے، خواتین و حضرات!

سب سے پہلے میں سوری نگری، مندور اور ویر درگا داس راٹھوڈ جی کی اس بہادر سرزمین کو سلام پیش کرتا ہوں۔ مارواڑ کی مقدس سرزمین پر جودھپور میں آج کئی بڑے ترقیاتی کاموں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ گزشتہ 9 سالوں میں راجستھان کی ترقی کے لیے ہم نے جو مسلسل کوششیں کی ہیں ان کے نتائج کا آج ہم سب مشاہدہ کر رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں۔ میں ان ترقیاتی کاموں کے لیے آپ سب کو بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔

 

ساتھیوں،

راجستھان وہ ریاست ہے جہاں قدیم ہندوستان کی شان دیکھی جا سکتی ہے۔ جس میں ہندوستان کی بہادری، خوشحالی اور ثقافت جھلکتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل جودھ پور میں جی 20  کے منعقدہ اجلاس کی دنیا بھر کے مہمانوں نے تعریف کی تھی۔ ہمارے ملک کے لوگ ہوں یا غیر ملکی سیاح، ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ ایک بار سن سٹی جودھپور ضرور جائیں۔ ہر کوئی یقینی طور پر ریتیلے ٹیلوں، مہران گڑھ اور جسونت ٹھڈا کو دیکھنا چاہتا ہے، یہاں کی دستکاری کے بارے میں بہت تجسس پایا جاتا ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ راجستھان، جو ہندوستان کے شاندار ماضی کی نمائندگی کرتا ہے، ہندوستان کے مستقبل کی بھی نمائندگی کرے۔ یہ تب ہی ہوگا جب میواڑ سے مارواڑ تک پورا راجستھان ترقی کی بلندیوں پر پہنچے گا اور یہاں جدید بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر ہوگی۔ دہلی-ممبئی ایکسپریس وے، بیکانیر سے باڑمیر کے راستے جام نگر تک ایکسپریس وے کوریڈور، راجستھان میں جدید اور ہائی ٹیک انفراسٹرکچر کی ایک مثال ہے۔ آج، حکومت ہند راجستھان میں ریل اور سڑک سمیت ہر شعبے میں تیز رفتاری سے کام کر رہی ہے۔

اسی سال راجستھان کو ریلوے کی ترقی کے لیے تقریباً 9500 کروڑ روپے کا بجٹ دیا گیا ہے۔ یہ بجٹ گزشتہ حکومت کے سالانہ اوسط بجٹ سے تقریباً 14 گنا زیادہ ہے۔ اور میں کوئی سیاسی بیان نہیں دے رہا ہوں، حقائق پر مبنی معلومات دے رہا ہوں، ورنہ میڈیا والے لکھیں گے، مودی کا بڑا حملہ۔ آزادی کے بعد کے دہائیوں میں، 2014 تک، راجستھان میں تقریباً 600 کلومیٹر ریلوے لائنوں کی برق کاری کی گئی تھی۔ گزشتہ 9 سالوں میں 3 ہزار 7 سو کلومیٹر سے زائد ریلوے  کی پٹریوں کی برق کاری کی جاچکی ہے۔ ان پر ڈیزل انجنوں کے بجائے الیکٹرک انجن والی ٹرینیں چلیں گی۔ اس سے راجستھان میں آلودگی کم ہوگی اور فضا بھی محفوظ رہے گی۔ امرت بھارت اسٹیشن اسکیم کے تحت، ہم راجستھان کے 80 سے زیادہ ریلوے اسٹیشنوں کو بھی جدید بناکر فروغ دے رہے ہیں۔ ہمارے ہاں شاندار ہوائی اڈے بنانے کا فیشن تو ہے، وہاں بڑے لوگ جاتے ہیں، لیکن مودی کی دنیا ہی کچھ الگ ہے، جہاں غریب اور متوسط ​​طبقے کے لوگ جاتے ہیں، میں اس ریلوے اسٹیشن کو ایئرپورٹ سے بھی بہتر بنادوں گا اور اس میں  ہمارا جودھ پور ریلوے اسٹیشن بھی شامل ہے۔

بھائی بہنو،

آج سڑک اور ریل کے جن منصوبوں کو شروع کیا گیا ہے ، ان سے ترقی کی اس مہم کو اور رفتار ملے گی۔ ریلوے لائنوں کے اس دوہرا ہونے سے سفر میں لگنے والا وقت کم ہوگا اور سہولت بھی بڑھے گی۔ مجھے جیسلمیر-دہلی ایکسپریس ٹرین اور مارواڑ-کھمبلی گھاٹ ٹرین کو جھنڈی دکھا کر روانہ کرنے کا شرف بھی حاصل ہوا ہے۔ اور کچھ دن پہلے مجھے وندے بھارت کے لئے بھی موقع ملا تھا۔ آج یہاں تین سڑکوں کے منصوبوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا۔ آج جودھ پور اور ادے پور ہوائی اڈوں کی نئی مسافر ٹرمینل عمارت کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ ان تمام ترقیاتی کاموں سے اس علاقے کی مقامی معیشت کو فروغ ملے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس سے راجستھان میں سیاحت کے شعبے کو نئی توانائی دینے میں بھی مدد ملے گی۔

 

دوستوں،

ہمارے راجستھان  کی میڈیکل اور انجینئرنگ کی تعلیم کے میدان میں اپنی ایک الگ پہچان رہی ہے۔ کوٹا نے ملک کو بہت سے ڈاکٹر اور انجینئر دیے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ راجستھان تعلیم کے ساتھ ساتھ میڈیکل اور انجینئرنگ کی نظر سے بھی نئی انچائیاں حاصل کرنے والا ایک اچھے سے اچھا  مرکز بنے۔ اس کے لیے ایمس جودھپور میں ٹراما، ایمرجنسی اور کریٹیکل کیئر کے لیے جدید سہولیات تیار کی جا رہی ہیں۔ پردھان منتری آیوشمان بھارت انفراسٹرکچر مشن کے تحت ضلع اسپتالوں میں بھی کریٹیکل کیئر بلاکس بنائے جارہے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ ایمس جودھپور اور آئی آئی ٹی جودھپور آج نہ صرف راجستھان بلکہ پورے ملک میں اہم ادارے بن رہے ہیں۔

ایمس اور آئی آئی ٹی جودھپور نے مل کر میڈیکل ٹیکنالوجی کے میدان میں نئے امکانات پر کام شروع کیا ہے۔ روبوٹک سرجری جیسی ہائی ٹیک میڈیکل ٹیکنالوجی ہندوستان کو تحقیق کے شعبے میں،صنت کے شعبے  میں ایک  نئی ​​بلندیوں پر لے جانے ولاا کام ہے۔  اس سے طبی سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔

 

ساتھیوں،

راجستھان فطرت اور ماحولیات سے محبت کرنے والے لوگوں کی سرزمین ہے ۔ گرو جمبیشور اور بشنوئی برادری نے صدیوں سے اس طرز زندگی  کو جیا ہے ، جسے آج پوری دنیا اپنانا چاہتی ہے۔ ہمارے اس ورثے کی بنیاد پر آج ہندوستان پوری دنیا کی رہنمائی کر رہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہماری یہ کوششیں ترقی یافتہ ہندوستان کی بنیاد بنیں گی۔ اور ہندوستان تب ہی ترقی کرے گا جب راجستھان ترقی کرے گا۔ ہمیں مل کر راجستھان کو ترقی یافتہ بنانا ہے اور خوشحال بنانا ہے۔ اسی عہد کے ساتھ ،اس پروگرام کے اسٹیج کی کچھ حدود ہیں، لہذا میں یہاں آپ کا زیادہ وقت نہیں لوں گا۔ اس کے بعد میں کھلے میدان میں جا رہا ہوں، وہاں کا مزاج مختلف ہے، ماحول بھی مختلف ہے، مقصد بھی مختلف ہے، تو چند منٹوں کے بعد ہم وہاں کھلے میدان میں ملیں گے۔ بہت بہت شکریہ!

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Emerging cities see 42% growth in GCC jobs, outpacing metros: Report

Media Coverage

Emerging cities see 42% growth in GCC jobs, outpacing metros: Report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi chairs 51st PRAGATI Meeting
May 27, 2026
PM reviews seven critical infrastructure projects across the Railways, Power and Road sectors
Projects reviewed span across 9 States with cumulative investment of around ₹30,000 crore
PM also reviews Ken Betwa Link Project and Swachh Bharat Mission-Urban 2.0
PM says Ken-Betwa River Inter-linking Project should serve as a model for other States to resolve inter-State water issues amicably
PM asks States to expedite the completion of solid waste management-related infrastructure, including waste processing plants and GOBARdhan plants
PM calls for mission-mode rooftop solar coverage in urban areas
Acting upon the advice of PM, system of monthly review of social sector schemes at State level operationalised, starting with review of Swachh Bharat Mission

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 51st meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform aimed at fostering Pro-Active Governance and Timely Implementation, by seamlessly integrating efforts of the Central and State governments, at Seva Teerth, earlier today.

During the meeting, the Prime Minister reviewed seven critical infrastructure projects across the Railways, Power and Road sectors covering nine States worth around ₹30,000 crore. These projects, pivotal to economic growth and public welfare, were reviewed with a focus on timelines, inter-agency coordination, and timely issue resolution. Prime Minister also reviewed Ken Betwa Link Project and Swachh Bharat Mission-Urban 2.0.

While reviewing power sector projects, Prime Minister emphasized the need to accelerate rooftop solar adoption across urban areas, with a special focus on cities, residential clusters and public institutions. He underlined that rooftop solar should be taken up in mission mode to reduce electricity costs, improve energy security and promote clean energy at the household and community level.

While reviewing road and port connectivity projects, it was emphasised that Vadhavan Port should be developed as a model of port-led, multi-modal development, where every major mode of transport is seamlessly integrated to create a future-ready logistics ecosystem. The project should not be seen merely as a port, but as a national gateway connected through coastal shipping, inland waterways, dedicated freight corridors, high-speed rail connectivity, highways and airport linkages.

Prime Minister emphasised the need for effective implementation of Swachh Bharat Mission 2.0 and underlined that the mission should move beyond infrastructure creation and ensure measurable outcomes through regular monitoring, citizen participation and convergence between various stakeholders. He asked States to expedite the completion of solid waste management-related infrastructure, including waste processing plants and GOBARdhan plants.

While reviewing Ken-Betwa River Inter-linking Project, Prime Minister observed that Ken-Betwa project should serve as a model for other States to resolve inter-State water issues through cooperation, timely clearances, technology-based monitoring and mission-mode execution. States were encouraged to identify similar opportunities where river-linking, water conservation, groundwater recharge and efficient irrigation can be taken up in an integrated manner to ensure long-term water security.

Prime Minister also underlined that the delay in the implementation of public projects leads not only to cost escalation but also deprives citizens of timely access to essential facilities and development benefits. He observed that every delay has a direct impact on people’s lives, regional growth and public resources. He stressed that Ministries, Departments and States must adopt a more proactive and time-bound approach to resolve pending issues, remove bottlenecks and ensure faster execution.

Prime Minister also emphasized that innovative use of canal networks should be explored, including installation of solar panels along canals and over canals for clean electricity generation. This would help optimize land use, reduce evaporation losses, generate renewable energy and create additional economic value from water infrastructure.

At the beginning of the meeting, the Cabinet Secretary informed that, in pursuance of the directions of the Prime Minister, a system of monthly review of social sector schemes at the State level has also been operationalised. This mechanism aims to ensure regular monitoring, faster resolution of implementation issues and greater accountability at the State and district levels. As part of this initiative, Swachh Bharat Mission has been taken up for review at the State level in the first instance.