آئی این ایس اگرے، آئی این ایس دوناگیری، اور آئی این ایس سنشودھک کو بھارتی بحریہ میں شامل کیا گیا ہے: وزیر اعظم
آج، 21 جون کو عالمی ہائیڈروگرافی ڈے کے طور پر بھی منایا جاتا ہے، اور یہ ایک واقعی قابلِ ذکر اتفاق ہے کہ اسی دن ہم نے بھارت کا سب سے جدید ہائیڈروگرافی جہاز، آئی این ایس سندھاک کو کمیشن کیا ہے: وزیر اعظم
جس ملک کی بحری طاقت مضبوط ہوگی، اس کا اقتصادی اور اسٹریٹجک اثر و رسوخ بھی اتنا ہی مضبوط ہوگا۔ اور بھارت اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھتا ہے۔ بھارت اس کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے: وزیر اعظم
آئی این ایس وکرانت سے لے کر آج تک کا سفر محض نئے جنگی جہازوں کا سفر نہیں ہے۔ یہ بھارت کی بڑھتی ہوئی خود انحصاری کا سفر ہے۔ آج، آئی این ایس اگرے، آئی این ایس دوناگیری، اور آئی این ایس سنشودھک اسی سفر کو نئی رفتار دے رہے ہیں: وزیر اعظم
بھارت نے شپ بلڈنگ کے شعبے کے لیے ایک نئے وژن کے ساتھ آگے بڑھنا شروع کر دیا ہے۔ گھریلو تعمیراتی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں: وزیر اعظم
شپ بلڈنگ، جہاز کی مرمت، اور ایم آر او کو ایک بڑے قومی مشن کے حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے: وزیر اعظم
بھارت نے ہمیشہ سمندر کو تعاون کے ذریعے کے طور پر دیکھا ہے، لیکن بھارت یہ بھی جانتا ہے کہ امن کی حفاظت کے لیے طاقت ضروری ہے؛ خوشحالی کے تحفظ کے لیے سلامتی ضروری ہے اور مستقبل کی تعمیر کے لیے خود انحصاری لازمی ہے۔ آج، آئی این ایس اگرے، آئی این ایس دوناگیری، اور آئی این ایس سنشودھک اسی جذبے کی علامت ہیں: وزیر اعظم
آج، آئی این ایس اگرے، آئی این ایس دوناگیری، اور آئی این ایس سنشودھک اسی جذبے کی علامت کے طور پر بھارتی بحریہ میں شامل ہوئے ہیں: وزیر اعظم

مغربی بنگال کے گورنر جناب آر این روی جی، یہاں کے پُر جوش وزیر اعلیٰ جناب سوویندو ادھیکاری جی، چیف آف نیول اسٹاف جناب کرشنا سوامی ناتھن جی، معزز خواتین و حضرات!

آج کا دن کئی اعتبار سے خاص ہے۔ آج پوری دنیا بین الاقوامی یوم یوگا منا رہی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ اسی موقع پر مجھے بنگال کی اس عظیم سرزمین پر آنے کا موقع ملا۔ یہ وہ سرزمین ہے جس نے ہندوستان کے افکار کو نئی سمت دی ہے۔ جس نے ہندوستان کی نشاۃ ثانیہ کو رفتار بخشی ہے اور جس نے صدیوں تک ہندوستان کو سمندری راستوں کے ذریعے دنیا سے جوڑے رکھا ہے۔ آج اسی دھرتی پر آتم نربھر بھارت، محفوظ بھارت اور وکست بھارت سے متعلق ایک اہم پروگرام منعقد ہو رہا ہے۔ کچھ دیر پہلے آئی این ایس اگرے، آئی این ایس دوناگیری اور آئی این ایس سنشودھک کو بھارتی بحریہ میں شامل کیا گیا ہے۔ ویسے آج 21 جون کو ”ورلڈ ہائیڈروگرافی ڈے“ کے طور پر بھی منایا جاتا ہے۔ اور یہ ایک نہایت حیرت انگیز اتفاق ہے کہ آج ہی کے دن ہم نے بھارت کے سب سے جدید ہائیڈروگرافی جہاز ”آئی این ایس سنشودھک“ کو کمیشن کیا ہے۔ میں بھارتی بحریہ کو، ان منصوبوں سے وابستہ تمام سائنس دانوں، انجینئروں، مزدوروں اور میرے پیارے ہم وطنوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد اور نیک تمنائیں پیش کرتا ہوں۔

ساتھیو،

دنیا گواہ ہے کہ بحری صلاحیت کے بغیر کوئی بھی ملک بڑی طاقت نہیں بن سکتا۔ سمندر سے ترقی وابستہ ہے، سلامتی وابستہ ہے، خوشحالی وابستہ ہے۔ آج دنیا کی زیادہ تر تجارت سمندری راستوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ دنیا کو جوڑنے والے ڈیٹا کے وسیع نیٹ ورک سمندر کے نیچے سے گزرتے ہیں۔ آنے والے وقت میں اہم معدنیات، گہرے سمندر کے وسائل اور توانائی کے نئے ذرائع بھی سمندر سے ہی وابستہ ہوں گے۔ اس لیے جس ملک کی بحری طاقت مضبوط ہوگی، اس کا اقتصادی اور تزویراتی اثر بھی اتنا ہی مضبوط ہوگا۔ اور بھارت اس حقیقت کو بخوبی سمجھتا ہے۔ بھارت اس کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے۔ اور آج کا یہ دن اس بات کا گواہ ہے کہ ہماری صلاحیت کیا ہے، ہماری مہارت کیا ہے۔

ساتھیو،

کچھ سال پہلے جب ہم نے آئی این ایس وکرانت کو ملک کے نام وقف کیا تھا، تب بھارت نے اپنی بحری طاقت کے ایک نئے باب کا اعلان کیا تھا، یہ دنیا کے سامنے ہماری قوت کا اعلان تھا۔ آئی این ایس وکرانت سے لے کر آج تک کا سفر صرف نئے جنگی جہازوں کا سفر نہیں ہے۔ یہ بھارت کی بڑھتی ہوئی خود انحصاری کا سفر بھی ہے۔ آج آئی این ایس اگرے، آئی این ایس دوناگیری اور آئی این ایس سنشودھک اسی سفر کو نئی رفتار دے رہے ہیں۔ یہ تینوں جہاز بھارت کے تین اہم عزموں کی علامت بھی ہیں۔ ان کی تعمیر بھارت میں ہوئی ہے۔ ان کا ڈیزائن بھارت میں تیار کیا گیا ہے۔ ان کی تعمیر میں بھارتی صنعتوں کی صلاحیت شامل ہے۔ بھارتی انجینئروں کی مہارت شامل ہے۔ بھارتی مزدوروں کی محنت شامل ہے۔ اور یہی نئے بھارت کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

ساتھیو،

آج بھارت دفاعی شعبے میں صرف خریدار بن کر نہیں رہنا چاہتا۔ ہماری فوجی طاقت دنیا کے لیے محض بازار نہیں بن سکتی۔ میری طاقت کی پہچان دنیا کے بازار بننے میں نہیں، بلکہ میری خود انحصاری میں ہے۔ بھارت ایک صنعت کار اور سازندہ بننا چاہتا ہے۔ اور جس دن ہم سازندہ بن جائیں گے، اس دن ہم فیصلہ کن قوت بھی بن جائیں گے۔ اور بھارت اس سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ برسوں میں 40 سے زیادہ ”میڈ ان انڈیا“ جنگی جہاز اور آبدوزیں بحریہ میں شامل ہوئی ہیں۔ یعنی تقریباً ہر چند ہفتوں میں بھارتی بحریہ کو ایک نئی طاقت ملی ہے۔ اس وقت بھی 45 بڑے بحری پلیٹ فارم زیر تعمیر ہیں۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں ہیں، بلکہ یہ بھارت کی صنعتی صلاحیت کا ثبوت ہیں۔ یہ بھارت کے مستقبل کا اشارہ ہیں۔

ساتھیو،

آنے والے برسوں میں بھارت کا بحری شعبہ لاکھوں نئے روزگار پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بحری شعبے کو صرف ایک علیحدہ شعبہ نہیں سمجھتے۔ ہم اسے وکست بھارت کے روزگار کے انجن کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایک جدید جہاز میں سیکڑوں ٹن اسٹیل، الیکٹرانکس، مشینری اور ہزاروں پرزے استعمال ہوتے ہیں۔ اور ان سب کے پیچھے ہزاروں کمپنیاں کام کرتی ہیں، یعنی ہزاروں نوجوانوں کو روزگار بھی حاصل ہوتا ہے۔ آج جن تین جہازوں کی کمیشننگ ہوئی ہے، ان کی تعمیر میں 200 سے زیادہ ایم ایس ایم ایی نے تعاون دیا ہے۔ ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان 200 چھوٹی صنعتوں میں کتنی بڑی تعداد میں روزگار پیدا ہوا ہوگا۔

ساتھیو،

اب وقت آ گیا ہے کہ بھارت بحری طاقت کے اگلے مرحلے میں داخل ہو۔ اسی لیے بھارت نے شپ بلڈنگ کے شعبے کے لیے ایک نئی سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا شروع کیا ہے۔ حالیہ برسوں میں متعدد پالیسی اصلاحات کی گئی ہیں۔ گھریلو تعمیراتی صلاحیت بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اور شپ بلڈنگ، شپ ریپیئر، شپ ری سائیکلنگ اور ایم آر او کو ایک بڑے قومی مشن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ساتھیو،

شپنگ سیکٹر کے لیے 70 ہزار کروڑ روپے کے جس ترغیبی پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے، وہ صرف ایک اقتصادی فیصلہ نہیں ہے۔ وہ بھارت کے بحری مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ وہ بھارت کے صنعتی فروغ میں سرمایہ کاری ہے۔

ساتھیو،

بھارت آج اپنے پورے بحری ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنا رہا ہے۔ اسی لیے آج بھارت اپنی بندرگاہوں کو جدید بنا رہا ہے۔ نئی صلاحیتیں تیار کر رہا ہے۔ نئی رابطہ کاری قائم کر رہا ہے۔ دریائی آبی گزرگاہوں کو وسعت دے رہا ہے۔ ملٹی موڈل لاجسٹکس نیٹ ورک تیار کر رہا ہے۔ ساگر مالا جیسے منصوبے اسی وسیع سوچ کا حصہ ہیں۔ اس سے تجارت کی لاگت کم ہو رہی ہے۔ صنعتوں کو نئی رفتار مل رہی ہے اور ساحلی علاقوں میں نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

ساتھیو،

ایک وقت تھا جب بھارت کی شناخت دنیا کے سب سے بڑے دفاعی درآمد کنندگان میں ہوتی تھی۔ اس انحصار کی وجہ سے ہمیں تزویراتی اور سلامتی دونوں طرح کے چیلنجوں کا سامنا تھا۔ 2014 میں حکومت بننے کے بعد ہم نے اس صورت حال کو بدلنے کا عزم کیا۔ اس کے لیے پالیسی کی سطح پر بڑے اصلاحی اقدامات کیے گئے اور دفاعی شعبے میں خود انحصاری کو ترجیح دی گئی۔ ان کوششوں کا نتیجہ ہے کہ آج دفاعی شعبے میں ڈیزائن، مینوفیکچرنگ اور برآمدات کے نئی امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ 2014 تک ملک کی کل دفاعی پیداوار تقریباً 40 ہزار کروڑ روپے تھی۔ آج یہ بڑھ کر تقریباً 1 لاکھ 80 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔

اور ساتھیو،

ایک طرف ملک میں دفاعی پیداوار تیزی سے بڑھی ہے، تو دوسری طرف ہماری دفاعی برآمدات بھی غیر معمولی رفتار سے بڑھ رہی ہیں۔ 2014 تک بھارت تقریباً 700 کروڑ روپے کے دفاعی ساز و سامان برآمد کرتا تھا، صرف سات سو کروڑ روپے۔ آج یہ اعداد و شمار بڑھ کر تقریباً 40 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ رہے ہیں۔ بھارت میں تیار کردہ دفاعی آلات اب دنیا کے 80 سے زیادہ ممالک تک پہنچ رہے ہیں۔

ساتھیو،

خود انحصاری کے اس سفر میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ میرے حساب سے تو یہ ابھی صرف شروعات ہے، لیکن گزشتہ 12 برسوں میں جو پیش رفت ہوئی ہے، وہ یہ بتاتی ہے کہ جب پالیسی واضح ہو، سمت درست ہو اور سب مل کر کام کریں، تو ملک میں کتنی بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔

ساتھیو،

جب بحری ورثے کی بات ہوتی ہے تو بنگال کا نام فطری طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ بھارت کے سمندری روابط کی بھی ایک اہم سر زمین رہی ہے۔ ہگلی کی لہروں نے تاریخ کو بدلتے دیکھا ہے۔ تجارت کے نئے ابواب دیکھے ہیں۔ ترقی کے نئے سفر دیکھے ہیں۔ اور دیکھیے یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ یہ بندرگاہ بنگال کے ہی سپوت، ملک کے پہلے وزیر صنعت ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے نام پر ہے۔

ساتھیو،

بھارت آج جس نئے بحری دور کی طرف بڑھ رہا ہے، اُس میں مغربی بنگال کا کردار نہایت اہم ہونے والا ہے۔ یہاں بندرگاہوں کی صلاحیت ہے، یہاں صنعتوں کی طاقت ہے، یہاں ہنر ہے، یہاں مہارت ہے، یہاں بحری معیشت کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی صلاحیت موجود ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آنے والے برسوں میں مغربی بنگال، بھارت کی بلیو اکانومی، میری ٹائم مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس اور ساحلی ترقی کا ایک اہم مرکز بنے گا۔

ساتھیو،

بھارت نے ہمیشہ سمندر کو تعاون کے ایک وسیلے کے طور پر دیکھا ہے۔ لیکن بھارت یہ بھی جانتا ہے کہ امن کے تحفظ کے لیے طاقت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ خوشحالی کے تحفظ کے لیے سلامتی ضروری ہے۔ اور مستقبل کی تعمیر کے لیے خود انحصاری ناگزیر ہے۔ آج آئی این ایس اگرے، آئی این ایس دوناگیری اور آئی این ایس سنشودھک اسی جذبے کی علامت بن کر بھارتی بحریہ میں شامل ہوئے ہیں۔ یہ اس بھارت کی علامت ہیں جو 21ویں صدی میں اپنی طاقت کو پہچان رہا ہے، اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کر رہا ہے اور جو دنیا کے سامنے نئے اعتماد، تیز رفتار پیش رفت اور توانائی سے بھرپور عزم کے ساتھ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔

ساتھیو،

اس مبارک موقع پر، میں بحریہ کے تمام ساتھیوں کو، ملک کے تمام ہم وطنوں کو دل کی گہرائیوں سے بے شمار نیک تمنائیں پیش کرتا ہوں۔ میں ایک بار پھر بھارتی بحریہ، تمام سائنس دانوں، انجینئروں، مزدوروں اور تمام اہل وطن کو دل سے بہت بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ شکریہ۔

 

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Modi Govt’s Rs 1,083-Crore Boost To Chandrababu’s Amaravati Project In Andhra

Media Coverage

Modi Govt’s Rs 1,083-Crore Boost To Chandrababu’s Amaravati Project In Andhra
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Seven years of the abrogation of Articles 370 and 35(A)
August 05, 2026

Today the nation marks seven years since the historic abrogation of Articles 370 and 35(A) on 5th August 2019. Prime Minister Modi described it as a defining milestone in India's journey towards inclusive development.

Shri Modi noted that over the past seven years, the people of Jammu and Kashmir and Ladakh have witnessed wide-ranging transformation across sectors. Infrastructure has expanded significantly, while new opportunities have emerged in education, healthcare, entrepreneurship and sports. "The women and members of marginalised communities, who had been deprived of several constitutional rights for decades, have now been empowered through the full application of the Constitution of India", Shri Modi added.

The Prime Minister observed that this year's anniversary assumes even greater significance as the nation commemorates the 125th birth anniversary of Dr. Syama Prasad Mookerjee. He said that Dr. Mookerjee's lifelong commitment to national unity continues to inspire generations, and that the vision he championed found historic fulfilment on 5th August 2019.

Reaffirming the Government's unwavering commitment to the development of Jammu and Kashmir and Ladakh, the Prime Minister said that every citizen must have the opportunity to dream big, realise their aspirations and contribute to the vision of a Viksit Bharat.

The Prime Minister posted on X:

Seven years ago, on this day, Articles 370 and 35(A) became history, marking a decisive new chapter in the journey of Jammu and Kashmir as well as Ladakh.

Since then, the lives of the people of J&K and Ladakh have witnessed wide-ranging transformation. Infrastructure has expanded, opportunities in areas such as education, healthcare, entrepreneurship and sports have grown. Be it the women or the marginalised communities, those who were denied their basic constitutional rights for decades have been empowered thanks to the full application of the Constitution of India.

5th August this year assumes even greater significance as this is the year our nation commemorates the 125th birth anniversary of Dr. Syama Prasad Mookerjee. His lifelong commitment to national unity continues to inspire generations. What he envisioned decades ago found historic fulfilment on 5th August 2019.

We reaffirm our commitment to the progress of Jammu and Kashmir as well as Ladakh and to ensure that every citizen has the opportunity to dream big, achieve and contribute to the making of a Viksit Bharat.

#Article370Abrogation