Share
 
Comments
’’متعدد پیڑھیوں کو محبت و جذبات کا تحفہ دینے والی لتا دیدی سے ایک بہن کی محبت حاصل کرنے سے بڑی سعادت اور کیا ہو سکتی ہے ‘‘
’’میں اس ایوارڈ کو تمام اہل وطن کو وقف کرتا ہوں۔ جس طرح لتا دیدی کا تعلق عوام سے تھا، اسی طرح مجھے دیا گیا یہ ایوارڈ بھی عوام کے لیے ہے‘‘
’’انہوں نے آزادی سے قبل بھارت کو اپنی آواز دی، اور اِن 75 برسوں کا بھارت کا سفر بھی ان کی آواز سے مربوط رہا ہے‘‘
’’لتا جی نے موسیقی کی عبادت کی ،تاہم حب الوطنی اور قوم کی خدمت کے جذبے کو بھی ان کے نغموں سے ترغیب حاصل ہوئی‘‘
’’لتا جی ’ایک بھارت شریشٹھ بھارت‘کا ایک پرترنم اظہار تھیں‘‘
’’لتاجی کے سُروں نے پورے ملک کو متحد کیا۔ عالمی سطح پر بھی، وہ بھارتی ثقافت کی سفیر تھیں‘‘

سری سرسوتے نمہ!

وانی پرمپرا کے مقدس اجلاس میں ہمارے ساتھ موجود مہاراشٹر کے گورنر جناب بھگت سنگھ کوشیاری جی، مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر جناب دیویندر فڈنوس جی، مہاراشٹر حکومت میں وزیر جناب سبھاش دیسائی جی، محترم اوشا جی، آشا جی، ادی ناتھ منگیشکر جی، ماسٹر دیناناتھ میموریل فاؤنڈیشن کے سبھی اراکین، موسیقی اور آرٹ کے سبھی معزز ساتھیوں، دیگر معززین، خواتین و حضرات!

اس اہم تقریب میں محترم ہردئے ناتھ منگیشکر جی کو بھی آنا تھا لیکن جیسا کہ ابھی آدی ناتھ جی نے بتایا طبیعت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے وہ یہاں نہیں آپائے۔ میں ان کی جلد صحتیابی کی دعا کرتا ہوں۔

ساتھیو،

میں اپنے آپ کو بہت مناسب یہاں نہیں  سمجھ رہا ہوں، کیونکہ مجھے موسیقی جیسے گہرے موضوع کا جانکار تو میں بالکل نہیں ہوں، لیکن ثقافتی سمجھ بوجھ سے میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ موسیقی ایک سادھنا بھی ہے، اور احساس بھی ہے۔ جو ظاہر نہیں ہے اسے ظاہر کر دے – وہ لفظ ہے۔ جو اظہار میں توانائی، شعور کو منتقل کرتا  ہے – وہ آواز ہے۔ اور جو شعور کو جذبات اور احساس سے بھر دیتا ہے، اسے تخلیق اور احساس کی انتہا تک پہنچاتا ہے – وہ موسیقی ہے۔ آپ بے حرکت بیٹھے ہوں، لیکن موسیقی کی ایک آواز آ پ کی آنکھوں سے آنسو بہا سکتی ہے، یہی طاقت ہے۔ لیکن موسیقی کی آواز آپ کو لاتعلقی کا احساس دلا سکتی ہے۔ موسیقی  آپ میں بہادری کا رس بھر دیتی ہے۔ موسیقی آپ کو ماں اور محبت کا احساس دلا سکتی ہے۔ موسیقی آپ کو حب الوطنی اور فرض شناسی کے عروج پر لے جاسکتی ہے۔ ہم سب خوش قسمت ہیں کہ ہم نے موسیقی کی یہ قوت،  اس طاقت کو لتا دیدی کی شکل میں دیکھا۔ ہمیں اپنی آنکھوں سے ان کو دیکھنے کا شرف حاصل ہوا ہے اور منگیشکر خاندان ، نسل در نسل اس یگیہ میں اپنی قربانیاں دیتا رہا ہے اور میرے لیے یہ تجربہ اور بھی کہیں بڑھ کر رہا ہے۔ ابھی کچھ سرخیاں ہریش جے نے بتا ئیں ، لیکن میں سوچ رہا تھا کہ دیدی سے میرا ناطہ کب سے کتنا پرانا ہے۔ دور جاتے – جاتے یاد آ رہا تھا کہ شاید چار ساڑھے چار دہائیاں ہوئی ہوں گی، سدھیرفڑکے جی نے مجھ سے تعارف کروایا تھا۔ اور تب سے لے کر  آج تک اس خاندان کے ساتھ بے پناہ محبت، ان گنت واقعات میری زندگی کا حصہ بن گئے۔ میرے لیے لتا دیدی  سُر سامراگی کے ساتھ ساتھ اور جس کو کہتے ہوئے مجھے فخر محسوس ہوتا ہے، وہ میری بڑی بہن تھیں۔ نسلوں کو محبت اور جذبات کا تحفہ  دینے والی لتا دیدی انہوں نے تو مجھے ہمیشہ ان کی طرف سے ایک بڑی بہن جیسا بے پناہ پیار ملا ہے، میں سمجھتا ہوں اس سے بہتر زندگی کیا ہوسکتی ہے۔ شاید بہت دہائیوں کے بعد یہ پہلا راکھی کا تہوار جب آئے گا، دیدی نہیں ہوں گی۔ عام طور پر ، کسی  تہنیتی تقریب میں جانے کا، اور جب ابھی ہریش جی بھی بتا رہے تھے، کوئی  اعزاز حاصل کرنا، اب میں تھوڑا ان موضوعات میں دور ہی رہا ہوں ، میں اپنے آپ کو ایڈجسٹ نہیں کر پاتا ہوں۔ لیکن ، ایوارڈ جب لتا دیدی جیسی بڑی بہن کے نام سے ہو، تو یہ میرے لیے ان کے اپنے پن اور منگیشکر خاندان کا مجھ پر جو حق ہے، اس کی وجہ میرا یہاں آنا ایک طرح سے میری ذمہ داری بن جاتی ہے۔ اور یہ اس محبت  کی علامت ہے اور جب دیناناتھ جی کا پیغام آیا، میں نے میرے کیا پروگرام ہیں،میں کتنا مصروف ہوں، کچھ پوچھا نہیں، میں نے کہا بھیاپہلے ہاں کر دو۔منع کرنا میرے لیے ممکن ہی نہیں ہے جی! میں اس ایوارڈ کو سبھی ہم وطنوں کے لیے وقف کرتا ہوں۔ جس طرح لتا دیدی  کا تعلق لوگوں سے تھا، اسی طرح ان کے نام سے مجھے دیا  گیا یہ ایوارڈ بھی لوگوں کا ہے۔ لتا دیدی سے اکثر میری بات چیت ہوتی رہتی تھی۔ وہ خود سے بھی اپنے پیغام اور آشرواد بھیجتی رہتی تھیں۔ ان کی ایک بات شاید ہم سب کو کام آسکتی ہے جسے میں بھول نہیں سکتا، میں ان کی بہت عزت کرتا تھا، لیکن وہ کیا کہتی تھیں، وہ ہمیشہ کہتی تھیں –’’انسان اپنی عمر سے نہیں، اپنے کام سے بڑا ہوتا ہے۔ جو ملک کے لیے  جتنا کرے، وہ اتنا ہی بڑا ہے۔‘‘ کامیابی کی چوٹی پر اس طرح کی سوچ سے ہمیں انسان کی عظمت کا احساس ہوتا ہے۔ لتا دیدی عمر سے بھی بڑی تھیں، اور کرم سے بھی بڑی تھیں۔

ہم سبھی نے جتنا وقت لتا دیدی کے ساتھ گزارا ہے، ہم سب جانتے ہیں کہ وہ سادگی کی مظہر تھیں۔ لتا دیدی نے موسیقی میں وہ مقام حاصل کیا کہ لوگ نہیں ماں سرسوتی کا  مظہر مانتے تھے۔ ان کی آواز نے قریباً 80 سالوں تک موسیقی کی دنیا پر اپنی چھاپ چھوڑی تھی۔  گراموفون سے شروع کریں ، تو گراموفون سے کیسیٹ، پھر سی ڈی، پھر ڈی وی ڈی، اور پھر پین ڈرائیو، آن لائن میوزک اور ایپس تک، موسیقی  اور دنیا کتنا عظیم سفر لتا جی کے ساتھ مل کر طے کیا ہے۔ سنیما کی 5-4 نسلوں کو انہوں نے اپنی آواز دی۔ملک نے انہیں بھارت رتن جیسا اعلیٰ ترین اعزاز دیا اور ملک کا سر فخر سے بلند ہوگیا۔ پوری دنیا انہیں آواز کی ملکہ مانتا تھا۔ لیکن وہ خود کو آواز کی ملکہ نہیں، بلکہ متلاشی سمجھتی تھیں۔  اور یہ ہم نے کتنے ہی لوگوں سے سنا ہے کہ وہ جب بھی کسی گانے کی ریکارڈنگ کے لیے جاتی تھیں ، تو چپل باہر اتار دیتی تھیں۔ موسیقی کی سادھنا اور اشور کی سادھان ان کے لیے ایک ہی تھا۔

ساتھیو،

آدی شنکر کے ادویت کے نظریہ کو ہم لوگ سننے سمجھنے کی کوشش کریں تو کبھی – کبھی الجھن میں بھی پڑ جاتے ہیں۔ لیکن میں جب آدی شنکر کے ادویت کے پرنسپل کی طرف سوچنے کی کوشش کرتا ہوں تو اگر اس کو عام لفظوں میں مجھے کہنا ہے اس ادویت کے پرنسپل کو ایشور کا تلفظ بھی لفظ کے بغیر ادھوری ہے۔ ایشور میں آواز موجود ہے۔ جہاں آواز ہے، وہیں مکملیت ہے۔ موسیقی ہمارے دل پر ، ہمارے  ضمیر کو متاثر کرتا ہے۔ اگر اس کی اصلیت لتا جی کی طرح پاک ہے، تو وہ پاکیزگی اور جذبات بھی اس موسیقی میں گھل جاتے ہیں۔ ان کی شخصیت کا یہ حصہ ہم سب کے لیے اور خصوصاً نوجوان نسل کے لیے مشعل راہ ہے ۔

ساتھیو،

لتا جی کی جسمانی سفر ایک ایسے وقت میں مکمل ہوا جب ہمارا ملک اپنی آزادی کا امرت مہوتسو منا رہاہے۔ انہوں نے آزادی کے پہلے سے ہندوستان کو آواز دی، اور ان 75 سالوں کی ملک کے سفر ان کے آواز سے جڑی رہی۔ اس اعزاز سے لتا جی کے والد دیناناتھ منگیشکر  جی کا نام بھی جڑا ہے۔ منگیشکر خاندان کا ملک کے لیے جو  شراکتداری رہی ہے، اس کے لیے ہم سبھی ہم وطن ان کے قرض دار ہیں۔ موسیقی کے ساتھ ساتھ حب الوطنی کی جو  شعور لتا دیدی کے اندر تھا، اس کا ذریعہ ان کے والد ہی تھے۔  آزادی کی لڑائی کے دوران شملہ میں بریٹش وائسرائے کے پروگرم میں دیناناتھ جی نے ویر ساورکر کا لکھا گیت گایا تھا۔ بریٹش وائسرائے کے سامنے، یہ دیناناتھ جی ہی کر سکتے ہیں اور موسیقی میں ہی کر سکتے ہیں۔ اور اس کی تھیم پر مظاہرہ بھی کیا تھا اور ویر ساورکر جی نے یہ موسیقی انگریزی حکومت کو چیلنج دیتے ہوئے لکھا تھا۔ یہ احساس، یہ حب الوطنی ، دیناناتھ جی نے اپنے خاندان کو وراثت میں دی تھی۔ لتا جی نےشاید ایک بار بتایا تھا کہ پہلے وہ سماجی خدمات کے میدان میں جانا چاہتی تھیں۔ لتا جی نے موسیقی کو اپنی عبادت بنایا لیکن حب الوطنی اور قومی خدمت کی تحریک بھی ان کے گیتوں سے ملی۔ چھترپتی شیواجی مہاراج پر ویر ساورکر جی کا لکھا گیت – ’ہندو نرسنہا‘ ہو  ، یا سمرتھ گرو رام داس جی کے پد ہوں۔ لتا جی نے شیو کلیان راجا کی ریکارڈنگ کے ذریعے انہیں امر کر دیا۔  ’اے میرے وطن کے لوگوں‘ اور ’جے ہند کی سینا‘ یہ  بھاؤ سطریں ہیں، جو ملک کے لوگوں کی زباں پر امر کر گئیہیں۔ ان کی زندگی سے جڑی ایسے کتنے ہی پہلوئیں ہیں! لتا دیدی اور ان کے خاندان کے تعاون کو بھی امرت مہوتسو میں ہم لوگوں تک لے کر جائیں، یہ ہمارا فرض ہے۔

ساتھیو،

آج ملک ’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت، کے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ لتا جی ’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘ کی  میٹھی پیشکش کی طرح تھیں۔ آپ دیکھیے، انہوں نے ملک کی 30 سے زیادہ زبانوں میں ہزاروں گیت گائے۔ ہندی ہو مراٹھی ، سنسکرت ہو یا دوسری ہندوستانی  زبانیں، لتا جی کی آواز  ہر زبان میں ایک جیسی ہی ہیں۔ وہ ہر ریاست، ہر شعبے میں لوگوں کے من میں بسی ہوئی ہیں۔ ہندوستانیت کے ساتھ موسیقی کیسے لافانی ہوسکتی ہے، یہ انہوں نے کر کے دکھایا ہے۔ انہوں نے بھگود گیتا کی تلاوت بھی کی، اور تلسی ، میرا، سنت گیانیشور اور نرسی مہتا کے گیتوں کو بھی سماج کے دل و دماغ میں گھولا۔ رام چرت مانس کی چوپائیوں سے لے کر باپو کے سب سے پسندیدہ بھجن ’ویشنو جن تو تیرے کہیے‘ ، تک سب کچھ لتا جی کی آواز سے پھر سے زندہ ہو گئے۔ انہوں نے تیروپتی دیو استھانم کے لیے گیتوں اور منتروں کا ایک سیٹ ریکارڈ کیا تھا، جو آج بھی ہر صبح وہاں بجتا ہے۔ یعنی، ثقافت سے لے کر عقیدے تک، مشرق سے مغرب تک، شمال سے جنوب تک، لتا جی کی دھنوں نے پورے ملک کو متحد کرنے کا کام کیا ہے۔  دنیا میں بھی، وہ ہمارے ہندوستان کی ثقافتی سفیر تھیں۔ ویسے ہی ان کی ذاتی زندگی بھی تھی۔ پنے میں انہوں نے اپنی کمائی اور دوستوں کی مدد سے ماسٹر دیناناتھ منگیشکر اسپتال بنوایا جو آج بھی غریبوں کی خدمت کر رہا ہے  اور ملک میں شاید بہت کم ہی لوگوں تک یہ بات پہنچی ہوگی، کورونا کے وقت ملک کی جو انہیں منتخب اسپتالیں، جنہوں نے سب سے زیادہ غریبوں کے لیے کام کیا، اس میں پنے کی منگیشکر اسپتال کا نام ہے۔

ساتھیو،

آج آزادی کا امرت مہوتسو میں ملک اپنے ماضی کو یاد کر رہا ہے، اور ملک مستقبل کے لیے نئے عہد کر رہا ہے۔ ہم دنیا کے سب سے بڑے اسٹارٹ اپس ایکو سسٹم میں سے ایک ہیں۔ آج بھارت ہر شعبے میں بااختیار بنے کی طرف گامزن ہے ، ترقی کا یہ سفر ہمارے عزائم کا حصہ ہے۔ لیکن، ترقی کا ہندوستان کا بنیادی نظریہ ہمیشہ سے مختلف رہا ہے۔ ہمارے لیے ترقی کا معنی ہے – ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کا پریاس۔‘ سب  کے ساتھ اور سب کے لیے ترقی کے اس  جذبے میں ’واسودھیو کٹمبکم‘ کی روح بھی شامل ہے۔ پوری دنیا کی ترقی، پوری انسانیت کی فلاح وہ بہبود محض مادی طاقت سے حاصل نہیں ہوسکتی۔ اس کے لیے ضروری ہے – انسانی اقدار! اس کے لیے ضروری ہے۔ روحانی شعور! یہی وجہ ہے کہ آج ہندوستان یوگا اور آیوروید سے لے کر ماحولیاتی تحفظ تک کے موضوعات پر دنیا کو سمت دے رہا ہے۔  میں مانتا ہوں، ہندوستان کے اس تعاون کا ایک اہم حصہ ہمارا ہندوستانی موسیقی بھی ہے۔ یہ ذمہ داری آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ ہم اپنی اس وراثت کو انہیں اقدار کے ساتھ زندہ رکھیں، اور آگے بڑھائیں، اور عالمی امن کا ذریعہ بنائیں، یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔  مجھے پورا یقین ہے، موسیقی کی دنیا سے جڑے آپ سبھی لوگ اس ذہ داری کو نبھائیں گے اور ایک نئے ہندوستان کو سمت دیں گے۔  اسی یقین کے ساتھ، میں آپ سبھی کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں، منگیشکر خاندان کا بھی میں دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے دیدی کے نام سے اس پہلے ایوارڈ کے لیے مجھے منتخب کیا۔  لیکن ہریش جی جب اعزاز نامہ پڑھ رہے تھے تو میں سوچ رہا تھا کہ مجھے کئی بار پڑھنا پڑے گا اور پڑھ کر کے مجھے نوٹ بنانے پڑیں گے کہ ابھی مجھے اس میں سے کتنا کتنا پانا باقی ہے،  ابھی ابھی میرے میں کتنی کتنی کمیاں ہیں، اس کو پورا میں کیسے کروں! دیدی کے آشرواد سے اور منگیشکر خاندان کی محبت سے مجھ میں جو کمیاں ہیں، ان کمیوں کو آج مجھے اعزاز نامہ کے ذریعے پیش کیا ہے۔ میں ان خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کروں گا۔

بہت بہت شکریہ!

نمسکار!

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن
Why Amit Shah believes this is Amrit Kaal for co-ops

Media Coverage

Why Amit Shah believes this is Amrit Kaal for co-ops
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to visit Karnataka on 6th February
February 04, 2023
Share
 
Comments
PM to inaugurate India Energy Week 2023 in Bengaluru
Moving ahead on the ethanol blending roadmap, PM to launch E20 fuel
PM to flag off Green Mobility Rally to create public awareness for green fuels
PM to launch the uniforms under ‘Unbottled’ initiative of Indian Oil - each uniform to support recycling of around 28 used PET bottles
PM to dedicate the twin-cooktop model of the IndianOil’s Indoor Solar Cooking System - a revolutionary indoor solar cooking solution that works on both solar and auxiliary energy sources simultaneously
In yet another step towards Aatmanirbharta in defence sector, PM to dedicate to the nation the HAL Helicopter Factory in Tumakuru
PM to lay foundation stones of Tumakuru Industrial Township and of two Jal Jeevan Mission projects in Tumakuru

Prime Minister Shri Narendra Modi will visit Karnataka on 6th February, 2023. At around 11:30 AM, Prime Minister will inaugurate India Energy Week 2023 at Bengaluru. Thereafter, at around 3:30 PM, he will dedicate to the nation the HAL helicopter factory at Tumakuru and also lay the foundation stone of various development initiatives.

India Energy Week 2023

Prime Minister will inaugurate the India Energy Week (IEW) 2023 in Bengaluru. Being held from 6th to 8th February, IEW is aimed to showcase India's rising prowess as an energy transition powerhouse. The event will bring together leaders from the traditional and non-traditional energy industry, governments, and academia to discuss the challenges and opportunities that a responsible energy transition presents. It will see the presence of more than 30 Ministers from across the world. Over 30,000 delegates, 1,000 exhibitors and 500 speakers will gather to discuss the challenges and opportunities of India's energy future. During the programme, Prime Minister will participate in a roundtable interaction with global oil & gas CEOs. He will also launch multiple initiatives in the field of green energy.

The ethanol blending programme has been a key focus areas of the government to achieve Aatmanirbharta in the field of energy. Due to the sustained efforts of the government, ethanol production capacity has seen a six times increase since 2013-14. The achievements in the course of last eight years under under Ethanol Blending Programe & Biofuels Programe have not only augmented India’s energy security but have also resulted in a host of other benefits including reduction of 318 Lakh Metric Tonnes of CO2 emissions and foreign exchange savings of around Rs 54,000 crore. As a result, there has been payment of around Rs 81,800 crore towards ethanol supplies during 2014 to 2022 and transfer of more than Rs 49,000 crore to farmers.

In line with the ethanol blending roadmap, Prime Minister will launch E20 fuel at 84 retail outlets of Oil Marketing Companies in 11 States/UTs. E20 is a blend of 20% ethanol with petrol. The government aims to achieve a complete 20% blending of ethanol by 2025, and oil marketing companies are setting up 2G-3G ethanol plants that will facilitate the progress.

Prime Minister will also flag off the Green Mobility Rally. The rally will witness participation of vehicles running on green energy sources and will help create public awareness for the green fuels.

Prime Minister will launch the uniforms under ‘Unbottled’ initiative of Indian Oil. Guided by the vision of the Prime Minister to phase out single-use plastic, IndianOil has adopted uniforms for retail customer attendants and LPG delivery personnel made from recycled polyester (rPET) & cotton. Each set of uniform of IndianOil’s customer attendant shall support recycling of around 28 used PET bottles. IndianOil is taking this initiative further through ‘Unbottled’ - a brand for sustainable garments, launched for merchandise made from recycled polyester. Under this brand, IndianOil targets to meet the requirement of uniforms for the customer attendants of other Oil Marketing Companies, non-combat uniforms for Army, uniforms/ dresses for Institutions & sales to retail customers.

Prime Minister will also dedicate the twin-cooktop model of the IndianOil’s Indoor Solar Cooking System and flag-off its commercial roll-out. IndianOil had earlier developed an innovative and patented Indoor Solar Cooking System with single cooktop. On the basis of feedback received, twin-cooktop Indoor Solar Cooking system has been designed offering more flexibility and ease to the users. It is a revolutionary indoor solar cooking solution that works on both solar and auxiliary energy sources simultaneously, making it a reliable cooking solution for India.

PM in Tumakuru

In yet another step towards Aatmanirbharta in the defence sector, Prime Minister will dedicate to the nation the HAL Helicopter Factory in Tumakuru. Its foundation stone was also laid by the Prime Minister in 2016. It is a dedicated new greenfield helicopter factory which will enhance capacity and ecosystem to build helicopters.

This helicopter factory is Asia’s largest helicopter manufacturing facility and will initially produce the Light Utility Helicopters (LUH). LUH is an indigenously designed and developed 3-ton class, single engine multipurpose utility helicopter with unique feature of high manoeuvrability.

The factory will be expanded to manufacture other helicopters such as Light Combat Helicopter (LCH) and Indian Multirole Helicopter (IMRH) as well as for repair and overhaul of LCH, LUH, Civil ALH and IMRH in the future. The factory also has the potential for exporting the Civil LUHs in future.

This facility will enable India to meet its entire requirement of helicopters indigenously and will attain the distinction of enabling self-reliance in helicopter design, development and manufacture in India.

The factory will have a manufacturing set up of Industry 4.0 standards. Over the next 20 years, HAL is planning to produce more than 1000 helicopters in the class of 3-15 tonnes from Tumakuru. This will result in providing employment for around 6000 people in the region.

Prime Minister will lay the foundation stone of Tumakuru Industrial Township. Under the National Industrial Corridor Development Programme, development of the Industrial Township spread across 8484 acre in three phases in Tumakuru has been taken up as part of Chennai Bengaluru Industrial Corridor.

Prime Minister will lay the foundation stones of two Jal Jeevan Mission projects at Tiptur and Chikkanayakanahalli in Tumakuru. The Tiptur Multi-Village Drinking Water Supply Project will be built at a cost of over Rs 430 crores. The Multi-village water supply scheme to 147 habitations of Chikkanayakanahlli taluk will be built at a cost of around Rs 115 crores. The projects will facilitate provision of clean drinking water for the people of the region.