‘‘پورٹ بلیئرکی نئی ٹرمنل عمارت کی بدولت سفر کرنے، کاروبار اورکنکٹی وٹی میں سہولت میں اضافہ ہوگا
‘‘بھارت میں ایک طویل عرصے سے بڑے شہروں کے لئے ترقی کی گنجائش محدود تھی ’’
‘‘بھارت میں برمبنی شمولیت ترقی کا ایک نیاماڈل تیارہوگیاہے ۔یہ ماڈل ہے ‘سب کا ساتھ ، سب کاوکاس’ ’’
‘‘انڈمان، بیک وقت ترقی اوروراثت کے مہا –منترکی ایک زندہ مثال بن رہاہے ’’
‘‘انڈمان اور نکوبارجزائرکی ترقی ، ملک کے نوجوانوں کے لئے ترغیب کاایک وسیلہ بن گئی ہے ’’
‘‘ترقی، سبھی قسموں کے مسائل کا حل لے کرآتی ہے ’’
‘‘جزائراورچھوٹے ساحلی ملکوں کی ایسی کئی مثالیں ہیں کہ انھوں نے آج دنیا میں غیرمعمولی ترقی کی ہے ’’

نمسکار!

انڈمان نکوبار جزیرہ کے لیفٹیننٹ گورنر جناب ڈی کے جوشی جی، مرکزی کابینہ کے میرے  ساتھی بھائی جیوترادتیہ سندھیا جی، وی کے سنگھ کی، پارلیمنٹ میں میرے ساتھی،  ممبران پارلیمنٹ، دیگر تمام حضرات، اور انڈمان نکوبار جزائر کے میرے بھائیوں اور بہنوں!

آج کا یہ پروگرام بھلے ہی پورٹ بلیئر میں ہو رہا ہے، لیکن اس پر پورے ملک کی نظریں ہیں۔ طویل عرصے سے انڈمان نکوبار کے لوگوں  کا مطالبہ تھا کہ ویر ساوکر ایئرپورٹ کی کیپسٹی بڑھائی جائے۔ اور پچھلے جو ہمارے رکن پارلیمنٹ تھے، وہ تو ہر ہفتے میرے چیمبر میں آ کرکے اسی کام کے لیے لگے رہتے تھے۔ تو آج وہ بہت خوش نظر آ رہے ہیں اور میں ٹی وی پر سب میرے پرانے ساتھیوں کو دیکھ رہا ہوں۔  اچھا ہوتا میں آج آپ کے درمیان آ کر کے اس  جشن میں شریک ہوتا۔ لیکن وقت کی کمی  کی وجہ سے نہیں آ پایا، لیکن آپ سب کے چہرے کی خوشی دیکھ رہا ہوں۔  خوشی سے بھرا ہوا ماحول میں محسوس کر رہا ہوں۔

ساتھیوں،

ملک بھر سے جو کوئی وہاں گھومنے جانا چاہتے ہیں، ان کی بھی یہی خواہش تھی۔ ابھی تک موجودہ ٹرمینل کی کیپسٹی ہر روز 4 ہزار ٹورسٹ کو ہینڈل کرنے کی تھی۔ نیا ٹرمینل بننے کے بعد اس ایئرپورٹ پر ہر روز قریب قریب 11 ہزار ٹورسٹ کو ہینڈل کرنے کی کیپسٹی بن گئی ہے۔ نئے انتظام میں اب ایئرپورٹ پر ایک ساتھ 10 ہوائی جہاز بھی کھڑے ہو پائیں گے۔ یعنی یہاں کے لیے نئی فلائٹس کے لیے بھی راستہ کھل گیا ہے۔ اور زیادہ فلائٹس آنے، زیادہ ٹورسٹ آنے کا سیدھا مطلب ہے، زیادہ سے زیادہ روزگار۔ پورٹ بلیئر کی اس نئی ٹرمینل بلڈنگ میں سفر کرنے کی آسانی میں اضافہ ہوگا، کاروبار کرنے کی آسانی میں اضافہ ہوگا اور کنیکٹویٹی بھی بہتر ہوگی۔ میں ملک کے لوگوں کو، پورٹ بلیئر کے سبھی ساتھیوں کو اس سہولیت کے لیے بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔

 

ساتھیوں،

طویل عرصے سے بھارت میں ترقی کا دائرہ کچھ بڑے شہروں، کچھ علاقوں تک محدود رہا۔ کچھ پارٹیوں کی مفاد پرست سیاست کے سبب، ترقی کا فائدہ، ملک کے دور دراز والے علاقوں تک پہنچا ہی نہیں۔ یہ پارٹیاں انھیں کاموں کو ترجیح دیتی تھیں، جس میں ان کا خود کا بھلا ہو، ان کے خاندان کا بھلا ہو۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جو ہمارے آدیواسی علاقے ہیں، جو ہمارے  جزیرے ہیں، وہاں کے عوام ترقی سے محروم رہے، ترقی کے ترستے رہے۔

گزشتہ 9 برسوں میں ہم نے پوری سنجیدگی کے ساتھ پہلے  کی حکومتوں کی ان غلطیوں کو درست کیا ہے، اتنا ہی نہیں،  نئے انتظامات بھی کیے ہیں۔ اب ہندوستان میں ترقی کا ایک نیا ماڈل تیار ہوا ہے۔ یہ ماڈل شمولیت (انکلوزن) کا ہے، سب کو ساتھ لے کر چلنے کا ہے۔ یہ ماڈل سب کا ساتھ، سب کا وکاس کا ہے۔ اور جب میں سب کا وکاس کہتا ہوں- تو اس کا مطلب بہت وسیع ہے۔ سب کا وکاس مطلب- ہر آدمی، ہر طبقہ، ہر علاقے کی ترقی۔ سب کا وکاس مطلب- زندگی کے ہر پہلو کی ترقی، تعلیم، صحت، کنیکٹویٹی، ہر طرح سے سب کی ترقی۔

ساتھیوں،

اسی سوچ کے ساتھ گزشتہ 9 برسوں میں انڈمان نکوبار میں ترقی کی نئی داستان رقم کی گئی ہے۔ پچھلی سرکار کے 9 سال میں، یعنی ہمارے پہلے جو سرکار تھی، انڈمان نکوبار کو قریب 23 ہزار کروڑ روپے کا بجٹ الاٹ کیا گیا تھا۔ جب کہ ہماری سرکار کے دوران انڈمان نکوبار کی ترقی کے لیے 9 برسوں میں قریب قریب 48 ہزار کروڑ روپے کا بجٹ دیا گیا ہے۔ یعنی ہماری سرکار نے انڈمان نکوبار کی ترقی کے لیے پہلے کے مقابلے دو گنا زیادہ پیسہ خرچ کیا ہے۔

پچھلی سرکار کے 9 سال میں انڈمان نکوبار میں 28 ہزار گھروں کو پانے کے کنکشن سے جوڑا گیا تھا۔ ہماری سرکار کے 9 سال میں یہاں کے قریب 50 ہزار گھروں تک پانی کا کنکشن پہنچایا گیا ہے۔ یعنی ہر گھر جل (پانی) پہنچانے کے لیے بھی ہماری سرکار نے پہلے کے مقابلے دوگنی رفتار سے کام کیا ہے۔

آج یہاں کے تقریباً ہر آدمی کے پاس اپنا بینک اکاؤنٹ ہے۔ آج یہاں کے ہر غریب کو ون نیشن، ون راشن کارڈ کی سہولت ملی ہوئی ہے۔ پہلے کی سرکار کے وقت انڈمان نکوبار میں ایک بھی میڈیکل کالج نہیں تھا۔ یہ ہماری سرکار ہے، جس نے پورٹ بلیئر میں میڈیکل کالج قائم کیا ہے۔

پہلے کی سرکار کے وقت انڈمان نکوبار میں انٹرنیٹ سیٹلائٹ کے بھروسے ہی تھا۔ ہماری سرکار نے سمندر کے نیچے سینکڑوں کلومیٹر سب مرین آپٹیکل فائبر کیبل بچھا کر، اس پریشانی کو دور کر دیا ہے۔

 

 

ساتھیوں،

انڈمان نکوبار میں ہو رہی سہولیات کی یہ ترقی، یہاں  کی سیاحت کو رفتار دے رہی ہے۔ جب موبائل کنیکٹویٹی بڑھتی ہے، تو  ٹورسٹ بھی بڑھتے ہیں۔ جب ہیلتھ انفراسٹرکچر بہتر ہوتا ہے، تو ٹورسٹ کا آنا جانا اور بڑھ جاتا ہے۔ جب ایئرپورٹ پر سہولیات بڑھتی ہیں، تو ٹورسٹ یہاں آنا پسند کرتا ہے۔ جب روڈ اچھی ہوتی ہے، تو ٹورسٹ اپنے علاقے میں زیادہ وقت گزارتا ہے۔ اس لیے ہی انڈمان نکوبار آنے والے ٹورسٹوں کی تعداد اب 2014 کے مقابلے دو گنی ہو گئی ہے۔

یہاں  اسنارکیلنگ، اسکوبا ڈائیونگ، سی-کروز جیسے ایڈونچر کے لیے آنے والے ٹورسٹوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ اور ساتھیوں، میرے انڈمان نکوبار کے بھائی بہن سن لیجئے، یہ تو ابھی شروعات ہے۔ آنے والے سالوں میں یہ تعداد کئی گنا بڑھنے والی ہے۔ اس سے انڈمان نکوبار میں روزگار- ذاتی روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے والے ہیں۔

ساتھیوں،

آج انڈمان نکوبار وراثت بھی اور وکاس (ترقی) بھی، اس مہا منتر کی تازہ مثال بن رہا ہے۔ آپ بھی جانتے ہیں کہ انڈمان نکوبار میں لال قلعہ سے بھی پہلے ترنگا پھہرایا گیا تھا۔ لیکن پھر بھی یہاں صرف غلامی کے ہی نشان دکھائی دیتے تھے۔

یہ میری خوش قسمتی ہے کہ سال 2018 میں، میں نے انڈمان میں اسی جگہ پر ترنگا لہرایا، جہاں نیتا جی سبھاش نے جھنڈا پھہرایا تھا۔ یہ ہماری ہی  سرکار ہے جس نے راس آئی لینڈ کو نیتا  جی سبھاش کا نام دیا۔ یہ ہماری ہی سرکار ہے جس نے ہیولاک اور نیل آئی لینڈ کو سوراج اور شہید آئی لینڈ کا نام دیا ہے۔ ہم نے ہی 21 جزیروں کا نام ملک کے لیے شجاعت دکھانے والے جانباز بہادر سپوتوں کے نام، پرم ویر  چکر جیتنے والوں کے نام پر رکھا ہے۔ آج انڈمان نکوبار کے یہ جزیرے پورے ملک کے نوجوانوں کو ملک کی ترقی کا نیا حوصلہ دے رہے ہیں۔

ساتھیوں،

آزادی کے 75 برسوں میں ہمارا بھارت، کہیں سے کہیں پہنچ سکتا تھا اور یہ میں بہت ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں، کہیں سے کہیں پہنچ سکتا تھا۔ ہم ہندوستانیوں کی صلاحیت میں کبھی کوئی کمی نہیں رہی ہے۔ لیکن  عام ہندوستانیوں کی اس صلاحیت کے ساتھ ہمیشہ بدعنوان اور خاندان پرست پارٹیوں نے نا انصافی کی۔ آج ملک کے لوگ 2024 کے انتخابات میں پھر ایک بار ہماری سرکار واپس لانے کا من بنا چکے ہیں، فیصلہ لے چکے ہیں۔ ایسے میں ہندوستان کی بدحالی کے ذمہ دار کچھ لوگ اپنی دکان کھول کر بیٹھ گئے ہیں۔ انہیں دیکھ کر مجھے ایک نظم کی کچھ لائنیں یاد آتی ہیں۔ ایک  شاعر محترم نے  اودھی میں لکھا تھا، جو اودھی زبان میں لکھی گئی نظم ہے-

’’گایت کچھ ہے، حال کچھ ہے، لیبل کچھ ہے، مال کچھ ہے‘‘

چوبیس کے لیے چھبیس ہونی والی سیاسی پارٹیوں پر یہ بڑا فٹ بیٹھتا ہے۔

’’گایت کچھ ہے، حال کچھ ہے، لیبل کچھ ہے، اور مال کچھ ہے‘‘

یعنی گانا کوئی اور گایا جا رہا ہے، جب کہ سچائی کچھ اور ہے۔ لیبل کسی اور کا لگایا گیا ہے، جب کہ پروڈکٹ کچھ اور ہی ہے۔ ان کی دکان کی یہی سچائی ہے۔ ان کی دکان پر دو چیزوں کی گارنٹی ملتی ہے۔ ایک تو یہ اپنی دکان پر ذات پات کا زہر بیچتے ہیں۔ اور دوسرا، یہ لوگ لا محدود بدعنوانی کرتے ہیں۔ آج کل یہ لوگ بنگلورو میں جمع ہوئے ہیں۔

ایک زمانے میں ایک گانا بہت مشہور تھا، مجھے تو پورا یاد نہیں ہے، لیکن مجھے یاد آ رہا ہے- ایک چہرے پر کئی چہرے لگا لیتے ہیں لوگ۔ آپ دیکھئے، یہ لوگ کتنے چہرے لگا کر بیٹھے ہیں۔ جب یہ لوگ کیمرے کے سامنے ایک فریم میں آ جاتے ہیں، تو پہلا خیال ملک کے سامنے کیا آتا ہے- پہلا خیال ملک کے لوگوں کے من میں یہی آتا ہے، پورا فریم دیکھ کر کرکے ملک کے لوگ یہی بولتے ہیں- لاکھوں کروڑوں روپے کی بدعنوانی۔ اس لیے ملک کے عوام کہہ رہے ہیں کہ یہ تو ’کٹر بھرشٹاچاری سمیلن‘ ہو رہا ہے۔ یہ لوگ گا کچھ اور رہے ہیں، حال کچھ اور ہے۔ انہوں نے لیبل کچھ اور لگایا ہوا ہے، مال کچھ اور ہے۔ ان کا پروڈکٹ ہے- 20 لاکھ کروڑ روپے کے گھوٹالے کی گارنٹی۔

 

ساتھیوں،

اس میٹنگ کی ایک اور خاص بات ہے۔ اگر کوئی کروڑوں کے گھوٹالے میں ضمانت پر ہیں، تو اسے بہت عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اگر پورا کا پورا خاندان ہی ضمانت پر ہے، تو اس کی اور زیادہ خاطرداری ہوتی ہے۔ اگر کسی پارٹی کا کوئی موجودہ وزیر بدعنوانی کے معاملے میں جاتا ہے، تو اسے ایکسٹرا نمبر دے کر، ’اسپیشل انوائٹی‘ بنا کر بلایا جاتا ہے۔ اگر کوئی کسی سماج کی بے عزتی کرتا ہے، عدالت سے سزا پاتا ہے، تو اس کی بڑی خاطر مدارات ہوتی ہے۔ اگر کوئی عدالت سے کروڑوں کے گھوٹالے میں قصوروار پایا گیا ہے، تو اس میٹنگ میں شامل ہونے کی اس کی کوالیفکیشن اور بڑھ جاتی ہے۔ بلکہ یہ لوگ تو اس سے  رہنمائی مانگتے ہیں۔ بدعنوانی کو لے کر ان میں بڑی یاری ہے، بڑی محبت ہے۔ اس لیے 20 لاکھ کروڑ روپے کی بدعنوانی کی گارنٹی دینے والے یہ لوگ بڑے پیار سے، بڑی محبت سے آپس میں مل رہے ہیں۔

ساتھیوں،

بدعنوانی کی اس دکان میں جمع یہ سبھی  خاندان پرستی کے  کٹر حامی ہیں۔ نہ کھاتہ نہ بہی، جو  خاندان کہے، وہی صحیح۔ جمہوریت کے لیے کہا جاتا ہے-Of the People, By the People, For the People۔لیکن ان خاندان پرستوں کا منتر ہے-  Of the family, By the family, For the family. Family First, Nation Nothing ان لوگوں کا موٹو ہے،  ان کا یہی جذبہ ہے۔

یہ لوگ ملک کی جمہوریت کو، ملک کے آئین کو اپنا قیدی بنانا چاہتے ہیں۔ ان کے لیے میں یہی کہنا چاہوں… نفرت ہے، گھوٹالے ہیں۔  تشٹی کرن ہے، من کالے ہیں۔  پریوار واد کی آگ کے، دہائیوں سے  دیش حوالے ہے۔

ساتھیوں،

ان کے لیے ملک کے غریب کے بچوں کی ترقی نہیں بلکہ اپنے  بچوں کی، اپنے بھائی بھتیجوں کی ترقی معنی رکھتی ہے۔ آج کل آپ دیکھتے ہیں کہ ملک میں اسٹارٹ اپس بڑھ رہے ہیں، ہمارے نوجوان بڑی تعداد میں پیٹنٹ کرا رہے ہیں، ٹریڈ مارک رجسٹر کرا رہے ہیں، اسپورٹس کی دنیا میں میرے ملک کے نوجوان چھائے ہوئے ہیں، بیٹیاں کمال کر رہی ہیں۔

یہ  نوجوانوں کی طاقت ملک میں پہلے بھی تھی، لیکن ان پریوار وادی پارٹیوں نے کبھی ملک کے عام نوجوان کی طاقت کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ ان کی ایک ہی آئیڈیالوجی ہے، ایک ہی ایجنڈہ ہے- اپنا خاندان بچاؤ، خاندان کے لیے بدعنوانی بڑھاؤ! ان کا کامن منیمم پروگرام ہے- ملک کی ترقی کو روکنا،  اپنے ’کوشاسن‘ پر پردہ ڈالنا اور اپنی بدعنوانی کے خلاف کارروائی کو روکنا۔

اب دیکھئے، یہ جو جماعت اکٹھی ہوئی ہے نا، ان کے کنبے میں بڑے سے بڑے گھوٹالوں پر،  جرائم پر ان کی زبان بند ہو جاتی ہے۔ جب کسی ایک ریاست میں  ان  کی ’کوشاسن‘ کی پول کھلتی ہے، تو دوسری ریاستوں میں یہ لوگ فوراً اس کے دفاع میں دلیل دینے لگتے ہیں۔ کہیں باڑھ گھوٹالہ ہوتا ہے،  کسی کا اغوا ہوتا ہے، تو کنبے کے سارے لوگ سب سے پہلے خاموش ہو جاتے ہیں۔

آپ نے دیکھا ہے کہ کچھ دن پہلے ہی مغربی بنگال میں پنچایتی انتخاب ہوئے ہیں۔ وہاں سر عام تشدد ہوا، لگاتار خون خرابہ ہو رہا ہے۔ اس پر بھی ان سب کی بولتی بند ہے۔ کانگریس کے، لیفٹ کے اپنے کارکن وہاں خود کو بچانے کی فریاد کر ر ہے ہیں۔ لیکن کانگریس اور لیفٹ کے لیڈروں نے اپنے ذاتی مفاد میں، اپنے کارکنوں کو بھی مرنے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔

راجستھان میں بیٹیوں پر ظلم ہو یا  امتحانوں کے پیپر لیک ہو رہے ہوں، انہیں کچھ دکھائی نہیں دیتا۔  تبدیلی کی باتیں کرکے عوام سے دھوکہ کرنے والے جب کروڑوں کے شراب گھوٹالے کرتے ہیں، تو یہ کنبہ پھر انہیں کور دینے لگ جاتا ہے۔ ان کی کٹر بدعنوانی انہیں تب دکھائی دینا بند ہو جاتی ہے۔

جب ملک کی کوئی ایجنسی ان پر کارروائی کرتی ہے، تو ان کا ٹیپ ریکارڈ شروع ہو جاتا ہے- کچھ ہوا ہی نہیں… سب سازش ہے، ہمیں پھنسایا جا رہا ہے۔ آپ تمل ناڈو میں دیکھئے، بدعنوانی کے، گھوٹالے کے  کئی معاملے سامنے آ رہے ہیں۔ لیکن ان کے کنبے کی تمام پارٹیوں نے پہلی ہی سب کو کلین چٹ دے دی ہے۔ اس لیے ان لوگوں کو پہچانے رہیے ساتھیوں، ان کو جان لیجئے۔ ان لوگوں سے ہوشیار رہئے بھائیوں بہنوں۔

 

ساتھیوں،

ان لوگوں کی سازشوں کے درمیان، ہمیں ملک کی ترقی کے لیے خود کو وقف رکھنا ہے۔ آج دنیا میں کئی مثالیں ہیں جہاں جزیروں نے سمندر کنارے آباد چھوٹے ممالک نے غیر معمولی پیش رفت کی ہے۔ جب انہوں نے  ترقی کا راستہ منتخب کیا، تو ان کے سامنے بھی چیلنجز تھے۔

سب کچھ آسان نہیں تھا، لیکن ان ممالک نے دکھایا ہے، جب ترقی آتی ہے، تو ہر  قسم کے حل لے کر آتی ہے۔ مجھے یقین ہے، انڈمان نکوبار جزائر میں ہو رہے ترقیاتی کام، اس پورے خطہ کو  مزید مضبوط کریں گے۔ کنیکٹویٹی  کی یہ نئی سہولت، ویر ساورکر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا نیا ٹرمینل سب سے کے لیے فائدہ مند ہو۔

اسی دعا کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے اس پروگرام میں بھی اتنی بڑی تعداد میں آپ لوگ آئے۔ آپ کی خوشی میں یہاں سے محسوس کر رہا ہوں۔ آپ کا جوش میں محسوس کر رہا ہوں۔

ایسے موقع پر ایک نیا اعتماد، نیا عزم لے کر  ملک آگے بڑھے، انڈمان نکوبار بھی آگے بڑھے۔ اسی دعا کے ساتھ آپ سب کو بہت بہت مبارکباد، بہت بہت شکریہ۔

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
India on track to become $10 trillion economy, set for 3rd largest slot: WEF President Borge Brende

Media Coverage

India on track to become $10 trillion economy, set for 3rd largest slot: WEF President Borge Brende
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Sant Ravidas ji was a great saint of the Bhakti movement, who gave new energy to the weak & divided India: PM Modi
February 23, 2024
Unveils new statue of Sant Ravidas
Inaugurates and lays foundation stones for development works around Sant Ravidas Janam Sthali
Lays the foundation stone for the Sant Ravidas Museum and beautification of the park
“India has a history, whenever the country is in need, some saint, sage or great personality is born in India.”
“Sant Ravidas ji was a great saint of the Bhakti movement, which gave new energy to the weak and divided India”
“Sant Ravidas ji told the society the importance of freedom and also worked to bridge the social divide”
“Ravidas ji belongs to everyone and everyone belongs to Ravidas ji.”
“Government is taking forward the teachings and ideals of Sant Ravidas ji while following the mantra of ‘Sabka Saath SabkaVikas’”
“We have to avoid the negative mentality of casteism and follow the positive teachings of Sant Ravidas ji”

जय गुरु रविदास।

उत्तर प्रदेश के मुख्यमंत्री योगी आदित्यनाथ जी, पूरे भारत से यहां पधारे सम्मानित संत जन, भक्त गण और मेरे भाइयों एवं बहनों,

आप सभी का मैं गुरु रविदास जी जन्म जयंती के पावन अवसर पर उनकी जन्मभूमि में स्वागत करता हूँ। आप सब रविदास जी की जयंती के पर्व पर इतनी-इतनी दूर से यहां आते हैं। खासकर, मेरे पंजाब से इतने भाई-बहन आते हैं कि बनारस खुद भी ‘मिनी पंजाब’ जैसा लगने लगता है। ये सब संत रविदास जी की कृपा से ही संभव होता है। मुझे भी रविदास जी बार बार अपनी जन्मभूमि पर बुलाते हैं। मुझे उनके संकल्पों को आगे बढ़ाने का मौका मिलता है, उनके लाखों अनुयायियों की सेवा का अवसर मिलता है। गुरु के जन्मतीर्थ पर उनके सब अनुयायियों की सेवा करना मेरे लिए किसी सौभाग्य से कम नहीं।

और भाइयों और बहनों,

यहां का सांसद होने के नाते, काशी का जन-प्रतिनिधि होने के नाते मेरी विशेष ज़िम्मेदारी भी बनती है। मैं बनारस में आप सबका स्वागत भी करूं, और आप सबकी सुविधाओं का खास ख्याल भी रखूं, ये मेरा दायित्व है। मुझे खुशी है कि आज इस पावन दिन मुझे अपने इन दायित्वों को पूरा करने का अवसर मिला है। आज बनारस के विकास के लिए सैकड़ों करोड़ रुपए की विकास परियोजनाओं का लोकार्पण और शिलान्यास होने जा रहा है। इससे यहां आने वाले श्रद्धालुओं की यात्रा और सुखद और सरल होगी। साथ ही, संत रविदास जी की जन्मस्थली के विकास के लिए भी कई करोड़ रुपए की योजनाओं का लोकार्पण हुआ है। मंदिर और मंदिर क्षेत्र का विकास, मंदिर तक आने वाली सड़कों का निर्माण, इंटरलॉकिंग और ड्रेनेज का काम, भक्तों के लिए सत्संग और साधना करने के लिए, प्रसाद ग्रहण करने के लिए अलग-अलग व्यवस्थाओं का निर्माण, इन सबसे आप सब लाखों भक्तों को सुविधा होगी। माघी पूर्णिमा की यात्रा में श्रद्धालुओं को आध्यात्मिक सुख तो मिलेगा ही, उन्हें कई परेशानियों से भी छुटकारा मिलेगा। आज मुझे संत रविदास जी की नई प्रतिमा के लोकार्पण का सौभाग्य भी मिला है। संत रविदास म्यूज़ियम की आधारशिला भी आज रखी गई है। मैं आप सभी को इन विकास कार्यों की अनेक-अनेक शुभकामनाएँ देता हूं। मैं देश और दुनिया भर के सभी श्रद्धालुओं को संत रविदास जी की जन्मजयंती और माघी पूर्णिमा की हार्दिक बधाई देता हूं।

साथियों,

आज महान संत और समाज सुधारक गाडगे बाबा की जयंती भी है। गाडगे बाबा ने संत रविदास की ही तरह समाज को रूढ़ियों से निकालने के लिए, दलितों वंचितों के कल्याण के लिए बहुत काम किया था। खुद बाबा साहब अंबेडकर उनके बहुत बड़े प्रशंसक थे। गाडगे बाबा भी बाबा साहब से बहुत प्रभावित रहते थे। आज इस अवसर पर मैं गाडगे बाबा के चरणों में भी श्रद्धापूवर्क नमन करता हूं।

साथियों,

अभी मंच पर आने से पहले मैं संत रविदास जी की मूर्ति पर पुष्प अर्पित करने, उन्हें प्रणाम करने भी गया था। इस दौरान मेरा मन जितनी श्रद्धा से भरा था, उतनी ही कृतज्ञता भी भीतर महसूस कर रहा था। वर्षों पहले भी, जब मैं न राजनीति में था, न किसी पद पर था, तब भी संत रविदास जी की शिक्षाओं से मुझे मार्गदर्शन मिलता था। मेरे मन में ये भावना होती थी कि मुझे रविदास जी की सेवा का अवसर मिले। और आज काशी ही नहीं, देश की दूसरी जगहों पर भी संत रविदास जी से जुड़े संकल्पों को पूरा किया जा रहा है। रविदास जी की शिक्षाओं को प्रचारित-प्रसारित करने के लिए नए केन्द्रों की स्थापना भी हो रही है। अभी कुछ महीने पहले ही मुझे मध्यप्रदेश के सतना में भी संत रविदास स्मारक एवं कला संग्रहालय के शिलान्यास का सौभाग्य भी मिला था। काशी में तो विकास की पूरी गंगा ही बह रही है।

साथियों,

भारत का इतिहास रहा है, जब भी देश को जरूरत हुई है, कोई न कोई संत, ऋषि, महान विभूति भारत में जन्म लेते हैं। रविदास जी तो उस भक्ति आंदोलन के महान संत थे, जिसने कमजोर और विभाजित हो चुके भारत को नई ऊर्जा दी थी। रविदास जी ने समाज को आज़ादी का महत्व भी बताया था, और सामाजिक विभाजन को भी पाटने का काम किया था। ऊंच-नीच, छुआछूत, भेदभाव, इस सबके खिलाफ उन्होंने उस दौर में आवाज़ उठाई थी। संत रविदास एक ऐसे संत हैं, जिन्हें मत मजहब, पंथ, विचारधारा की सीमाओं में नहीं बांधा जा सकता। रविदास जी सबके हैं, और सब रविदास जी के हैं। जगद्गुरु रामानन्द के शिष्य के रूप में उन्हें वैष्णव समाज भी अपना गुरु मानता है। सिख भाई-बहन उन्हें बहुत आदर की दृष्टि से देखते हैं। काशी में रहते हुए उन्होंने ‘मन चंगा तो कठौती में गंगा’ की शिक्षा दी थी। इसलिए, काशी को मानने वाले लोग, मां गंगा में आस्था रखने वाले लोग भी रविदास जी से प्रेरणा लेते हैं। मुझे खुशी है कि आज हमारी सरकार रविदास जी के विचारों को ही आगे बढ़ा रही है। भाजपा सरकार सबकी है। भाजपा सरकार की योजनाएं सबके लिए हैं। ‘सबका साथ, सबका विकास, सबका विश्वास और सबका प्रयास’, ये मंत्र आज 140 करोड़ देशवासियों से जुड़ने का मंत्र बन गया है।

साथियों,

रविदास जी ने समता और समरसता की शिक्षा भी दी, और हमेशा दलितों, वंचितों की विशेष रूप से चिंता भी की। समानता वंचित समाज को प्राथमिकता देने से ही आती है। इसीलिए, जो लोग, जो वर्ग विकास की मुख्यधारा से जितना ज्यादा दूर रह गए, पिछले दस वर्षों में उन्हें ही केंद्र में रखकर काम हुआ है। पहले जिस गरीब को सबसे आखिरी समझा जाता था, सबसे छोटा कहा जाता था, आज सबसे बड़ी योजनाएं उसी के लिए बनी हैं। इन योजनाओं को आज दुनिया में सबसे बड़ी सरकारी योजनाएं कहा जा रहा है। आप देखिए, कोरोना की इतनी बड़ी मुश्किल आई। हमने 80 करोड़ गरीबों को मुफ्त राशन की योजना चलाई। कोरोना के बाद भी हमने मुफ्त राशन देना बंद नहीं किया। क्योंकि, हम चाहते हैं कि जो गरीब अपने पैरों पर खड़ा हुआ है वो लंबी दूरी तय करे। उस पर अतिरिक्त बोझ न आए। ऐसी योजना इतने बड़े पैमाने पर दुनिया के किसी भी देश में नहीं है। हमने स्वच्छ भारत अभियान चलाया। देश के हर गांव में हर परिवार के लिए मुफ्त शौचालय बनाया। इसका लाभ सबसे ज्यादा दलित पिछड़े परिवारों को, खासकर हमारी SC, ST, OBC माताओं बहनों को ही हुआ। इन्हें ही सबसे ज्यादा खुले में शौच के लिए जाना पड़ता था, परेशानियां उठानी पड़ती थीं। आज देश के गांव- गांव तक साफ पानी पहुंचाने के लिए जल जीवन मिशन चल रहा है। 5 वर्षों से भी कम समय में 11 करोड़ से ज्यादा घरों तक पाइप से पानी पहुंचाया गया है। करोड़ों गरीबों को मुफ्त इलाज के लिए आयुष्मान कार्ड मिला है। उन्हें पहली बार ये हौसला मिला है कि अगर बीमारी आ भी गई, तो इलाज के अभाव में जिंदगी खत्म नहीं होगी। इसी तरह, जनधन खातों से गरीब को बैंक जाने का अधिकार मिला है। इन्हीं बैंक खातों में सरकार सीधे पैसा भेजती है। इन्हीं खातों में किसानों को किसान सम्मान निधि जाती है, जिनमें से करीब डेढ़ करोड़ लाभार्थी हमारे दलित किसान ही हैं। फसल बीमा योजना का लाभ उठाने वाले किसानों में बड़ी संख्या दलित और पिछड़े किसानों की ही है। युवाओं के लिए भी, 2014 से पहली जितनी स्कॉलर्शिप मिलती थी, आज हम उससे दोगुनी स्कॉलर्शिप दलित युवाओं को दे रहे हैं। इसी तरह, 2022-23 में पीएम आवास योजना के तहत हजारों करोड़ रुपए दलित परिवारों के खातों में भेजे गए, ताकि उनका भी अपना पक्‍का घर हो।

और भाइयों बहनों,

भारत इतने बड़े-बड़े काम इसलिए कर पा रहा है क्योंकि आज दलित, वंचित, पिछड़ा और गरीब के लिए सरकार की नीयत साफ है। भारत ये काम इसलिए कर पा रहा है, क्योंकि आपका साथ और आपका विश्वास हमारे साथ है। संतों की वाणी हर युग में हमें रास्ता भी दिखाती हैं, और हमें सावधान भी करती हैं।

रविदास जी कहते थे-

जात पात के फेर महि, उरझि रहई सब लोग।

मानुष्ता कुं खात हई, रैदास जात कर रोग॥

अर्थात्, ज़्यादातर लोग जात-पांत के भेद में उलझे रहते हैं, उलझाते रहते हैं। जात-पात का यही रोग मानवता का नुकसान करता है। यानी, जात-पात के नाम पर जब कोई किसी के साथ भेदभाव करता है, तो वो मानवता का नुकसान करता है। अगर कोई जात-पात के नाम पर किसी को भड़काता है तो वो भी मानवता का नुकसान करता है।

इसीलिए भाइयों बहनों,

आज देश के हर दलित को, हर पिछड़े को एक और बात ध्यान रखनी है। हमारे देश में जाति के नाम पर उकसाने और उन्हें लड़ाने में भरोसा रखने वाले इंडी गठबंधन के लोग दलित, वंचित के हित की योजनाओं का विरोध करते हैं। और सच्चाई ये है कि ये लोग जाति की भलाई के नाम पर अपने परिवार के स्वार्थ की राजनीति करते हैं। आपको याद होगा, गरीबों के लिए शौचालय बनाने की शुरुआत हुई थी तो इन लोगों ने उसका मज़ाक उड़ाया था। इन्होंने जनधन खातों का मज़ाक उड़ाया था। इन्होंने डिजिटल इंडिया का विरोध किया था। इतना ही नहीं, परिवारवादी पार्टियों की एक और पहचान है। ये अपने परिवार से बाहर किसी भी दलित, आदिवासी को आगे बढ़ते नहीं देना चाहते हैं। दलितों, आदिवासियों का बड़े पदों पर बैठना इन्हें बर्दाश्त नहीं होता है। आपको याद होगा, जब देश ने पहली आदिवासी महिला राष्ट्रपति बनने के लिए महामहिम द्रौपदी मुर्मू जी चुनाव लड़ रही थीं, तो किन किन लोगों ने उनका विरोध किया था? किन किन पार्टियों ने उन्हें हराने के लिए सियासी लामबंदी की थी? वे सब की सब यही परिवारवादी पार्टियां ही थीं, जिन्हें चुनाव के समय दलित, पिछड़ा, आदिवासी अपना वोट बैंक नज़र आने लगता है। हमें इन लोगों से, इस तरह की सोच से सावधान रहना है। हमें जातिवाद की नकारात्मक मानसिकता से बचकर रविदास जी की सकारात्मक शिक्षाओं का पालन करना है।

इसीलिए भाइयों बहनों,

आज देश के हर दलित को, हर पिछड़े को एक और बात ध्यान रखनी है। हमारे देश में जाति के नाम पर उकसाने और उन्हें लड़ाने में भरोसा रखने वाले इंडी गठबंधन के लोग दलित, वंचित के हित की योजनाओं का विरोध करते हैं। और सच्चाई ये है कि ये लोग जाति की भलाई के नाम पर अपने परिवार के स्वार्थ की राजनीति करते हैं। आपको याद होगा, गरीबों के लिए शौचालय बनाने की शुरुआत हुई थी तो इन लोगों ने उसका मज़ाक उड़ाया था। इन्होंने जनधन खातों का मज़ाक उड़ाया था। इन्होंने डिजिटल इंडिया का विरोध किया था। इतना ही नहीं, परिवारवादी पार्टियों की एक और पहचान है। ये अपने परिवार से बाहर किसी भी दलित, आदिवासी को आगे बढ़ते नहीं देना चाहते हैं। दलितों, आदिवासियों का बड़े पदों पर बैठना इन्हें बर्दाश्त नहीं होता है। आपको याद होगा, जब देश ने पहली आदिवासी महिला राष्ट्रपति बनने के लिए महामहिम द्रौपदी मुर्मू जी चुनाव लड़ रही थीं, तो किन किन लोगों ने उनका विरोध किया था? किन किन पार्टियों ने उन्हें हराने के लिए सियासी लामबंदी की थी? वे सब की सब यही परिवारवादी पार्टियां ही थीं, जिन्हें चुनाव के समय दलित, पिछड़ा, आदिवासी अपना वोट बैंक नज़र आने लगता है। हमें इन लोगों से, इस तरह की सोच से सावधान रहना है। हमें जातिवाद की नकारात्मक मानसिकता से बचकर रविदास जी की सकारात्मक शिक्षाओं का पालन करना है।

साथियों,

रविदास जी कहते थे-

सौ बरस लौं जगत मंहि जीवत रहि करू काम।

रैदास करम ही धरम है करम करहु निहकाम॥

अर्थात्, सौ वर्ष का जीवन हो, तो भी पूरे जीवन हमें काम करना चाहिए। क्योंकि, कर्म ही धर्म है। हमें निष्काम भाव से काम करना चाहिए। संत रविदास जी की ये शिक्षा आज पूरे देश के लिए है। देश इस समय आज़ादी के अमृतकाल में प्रवेश कर चुका है। पिछले वर्षों में अमृतकाल में विकसित भारत के निर्माण की मजबूत नींव रखी जा चुकी है। अब अगले 5 साल हमें इस नींव पर विकास की इमारत को और ऊंचाई देनी है। गरीब वंचित की सेवा के लिए जो अभियान 10 वर्षों में चले हैं, अगले 5 वर्षों में उन्हें और भी अधिक विस्तार मिलना है। ये सब 140 करोड़ देशवासियों की भागीदारी से ही होगा। इसलिए, ये जरूरी है कि देश का हर नागरिक अपने कर्तव्यों का पालन करे। हमें देश के बारे में सोचना है। हमें तोड़ने वाले, बांटने वाले विचारों से दूर रहकर देश की एकता को मजबूत करना है। मुझे विश्वास है कि, संत रविदास जी की कृपा से देशवासियों के सपने जरूर साकार होंगे। आप सभी को एक बार फिर संत रविदास जयंती की मैं बहुत बहुत शुभकामनाएं देता हूं।

बहुत-बहुत धन्यवाद !