"اسپتال دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی علامت ہے، ہندوستان اور فجی کے مشترکہ سفر کا ایک اور باب"
"چلڈرن ہارٹ اسپتال نہ صرف فجی بلکہ پورے جنوبی بحرالکاہل کے علاقے میں اپنی نوعیت کا واحد ہسپتال ہے"
"ستیہ سائی بابا نے روحانیت کو رسومات سے آزاد کیا اور اسے لوگوں کی فلاح سے جوڑا"
’’میں اسے اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں کہ مجھے ستیہ سائی بابا کا مسلسل آشیرواد ملا اور آج بھی مل رہا ہے۔‘‘
"ہندوستان-فجی تعلقات باہمی احترام اورعوام سے عوام کے مضبوط تعلقات پر مبنی ہیں"

فجی کے عزت مآب وزیر اعظم بینی مراما جی، سدھ گرو مدھوسودن سائی، سائی پریم فاؤنڈیشن کے سبھی ٹرسٹیز، اسپتال کے عملہ کے اراکین، معزز مہمان، اور فجی کے میرے پیارے بھائیو اور بہنو!

نی سام بولا ویناکا،  نمسکار!

سووا میں شری ستھیا سائی سنجیوای چلڈرن ہارٹ اسپتال  کے اس افتتاحی  پروگرام  میں جڑ کر مجھے  بہت اچھا لگ رہا ہے۔ میں اس کے لیے  عالی جناب فجی کے  وزیر اعظم اور فجی کے عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یہ ہمارے باہمی تعلق اور محبت کی ایک اور علامت ہے۔ یہ ہندوستان اور فجی کے مشترکہ سفر کا ایک اور باب ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ یہ چلڈرن ہارٹ اسپتال نہ صرف فجی میں  بلکہ پورے جنوبی بحر الکاہل کے علاقے میں بچوں کے دل کا پہلا اسپتال ہے۔ ایک ایسے خطے کے لیے جہاں دل سے متعلق بیماریاں ایک بڑا چیلنج ہیں، یہ اسپتال ہزاروں بچوں کو نئی زندگی دینے کا وسیلہ بنے گا۔ مجھے  اطمینان ہے کہ یہاں ہر بچے کو نہ صرف عالمی معیار کا علاج ملے گا بلکہ سبھی سرجری بھی’مفت‘  ہوں گی۔ میں اس کے لیے فجی حکومت کو  سائی پریم فاؤنڈیشن فجی اور سری ستیہ سائی سنجیونی چلڈرن ہارٹ ہاسپٹل آف انڈیا کی دل سے  ستائش کرتا ہوں۔

خاص طور پر اس موقع پر  میں برہمالن شری ستیہ سائی بابا کو  نمن  کرتا ہوں۔ انسانیت کی خدمت کے لیے ان کے ذریعے  بویا گیا بیج آج  ثمر آور درخت کی  شکل میں لوگوں کی خدمت کر رہا ہے۔ میں نے پہلے  بھی کہا ہے کہ ستیہ سائی بابا نے روحانیت کو رسومات سے آزاد کرکے اور اسے عوامی فلاح و بہبود سے جوڑنے کا ایک شاندار کام کیا تھا۔ تعلیم کے میدان میں ان کا کام، صحت کے شعبے میں ان کا کام، غریبوں، مثاثرین، محروموں کے لیے ان کی خدمات آج بھی ہمیں تحریک دیتی ہیں۔ دو دہائیاں قبل جب گجرات میں زلزلے سے تباہی  ہوئی تھی اس وقت  بابا کے پیروکاروں ن کےذریعہ جس طرح متاثرین کی خدمت کی،  وہ گجرات کے لوگ  کبھی نہیں بھول سکتے۔ میں اسے اپنی بڑی خوش قسمتی سمجھتا ہوں کہ مجھے ستیہ سائی بابا  کا مسلسل آشیرواد ملا،   کئی دہائیوں سے ان کے ساتھ  جڑا رہا اور آج بھی مل رہا ہوں۔

ساتھیو،

یہ ہمارے یہاں کہا جاتا ہے ’’ परोपकाराय सतां विभूतयः ‘‘ یعنی خیرات  مہذب شخصیات  کی  جائیداد ہوتی ہے۔ انسانوں کی خدمت، جانداروں کی فلاح، یہی ہمارے وسائل کا ایک  واحد مقصد ہے۔ انہی اقدار پر ہندوستان اور فجی کی مشترکہ وراثت کھڑی ہوئی ہے۔ ان  اصولوں پر عمل کرتے ہوئے کورونا وبا جیسے مشکل وقت میں بھی  ہندوستان نے اپنی ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔ ’وسودھیو کٹمبکم‘  یعنی   پوری دنیا کو اپنا کنبہ  مانتے ہوئے ہندوستان نے دنیا کے 150 ممالک کو دوائیں، ضروری سامان بھیجا۔ اپنے کروڑوں شہریوں کی فکر کے ساتھ ساتھ  ہندوستان نے دنیا کے دیگر ممالک کے لوگوں کا بھی خیال رکھا۔ ہم نے تقریباً 100 ممالک کو تقریباً 100 ملین  کے آس پاس ویکسین (ٹیکے) بھیجی ہیں۔ اس کوشش میں ہم نے فجی کو بھی اپنی ترجیحات میں  رکھا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ فیجی کے لیے پورے ہندوستان کی   اس وابستگی کے احساس کو  سائی پریم فاؤنڈیشن یہاں آگے بڑھا رہا  ہے۔

دوستو،

ہمارے دونوں ممالک کے درمیان ایک وسیع سمندر  ضرورت ہے لیکن ہماری ثقافت نے ہمیں ایک دوسرے سے جوڑے رکھا ہے۔ ہمارے رشتے  باہمی احترام، تعاون اور ہمارے لوگوں کے مضبوط باہمی تعلقات پر ٹکے ہوئے ہیں۔ ہندوستان کی یہ خوش قسمتی ہے کہ ہمیں فجی کی سماجی و اقتصادی ترقی میں اپنا  رول  ادا کرنے اور تعاون کرنے کا موقع ملتا رہا ہے۔ پچھلی دہائیوں میں ہندوستان-فجی  کے رشتے ہر شعبے میں مسلسل  آگے بڑھے  ہے،  مضبوط ہوئے ہیں۔ فجی اور  فجی  کے وزیر اعظم  کے تعاون سے ہمارے  یہ رشتے آنے والے وقت میں  اور مضبوط ہوں گے۔ اتفاق سے یہ میرے دوست وزیر اعظم بینی مراما جی کا بھی یوم پیدائش ہے۔ میں انہیں سالگرہ کی بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔ میں ایک بار پھر شری ستیہ سائی سنجیونی چلڈرن ہارٹ اسپتال سے وابستہ تمام ممبران کو اپنی نیک خواہشات  پیش کرتا  ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ اسپتال فجی اور  اس پورے خطے میں خدمات کا ایک مضبوط ادارہ بنے  گا، اور ہندوستان-فجی  درمیان تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔

بہت بہت شکریہ!

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Total Urea stocks currently at 61.14 LMT, up from 55.22 LMT in March 2025

Media Coverage

Total Urea stocks currently at 61.14 LMT, up from 55.22 LMT in March 2025
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs CCS Meeting to review the situation and mitigating measures in the context of ongoing West Asia Conflict
March 22, 2026
Short, Medium and Long term measures to ensure continued availability of essential needs discussed in detail
Alternate sources of fertilizers for farmers were also discussed to ensure continued availability in the future
Several measures discussed to diversify sources of imports required by chemicals, pharmaceuticals, petrochemicals and other industrial sectors
New export destinations to promote Indian goods to be developed in near future
PM instructs that all arms of government should work together to ensure least inconvenience to citizens
PM directs that a group of Ministers and Secretaries be created to work dedicatedly in a whole of government approach
PM instructs for sectoral groups to work in consultation with all stakeholders
PM asks for proper coordination with state governments to ensure no black-marketing and hoarding of important commodities

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired a meeting of the Cabinet Committee on Security to review the situation and ongoing and proposed mitigating measures in the context of ongoing West Asia Conflict.

The Cabinet Secretary gave a detailed presentation on the global situation and mitigating measures taken so far and being planned by all concerned Ministries/Departments of Government of India. The expected impact and measures taken to address it across sectors like agriculture, fertilisers, food security, petroleum, power, MSMEs, exporters, shipping, trade, finance, supply chains and all affected sectors were discussed. The overall macro-economic scenario in the country and further measures to be taken were also discussed.

The ongoing conflict in West Asia will have significant short, medium and long term impact on the global economy and its effect on India were assessed and counter-measures, both immediate and long-term, were discussed.

Detailed assessment of availability for critical needs of the common man, including food, energy and fuel security was made. Short term, Medium term and Long term measures to ensure continued availability of essential needs were discussed in detail.

The impact on farmers and their requirement for fertiliser for the Kharif season was assessed. The measures taken in the last few years to maintain adequate stocks of fertilizers will ensure timely availability and food security. Alternate sources of fertilizers were also discussed to ensure continued availability in the future.

It was also determined that adequate supply of coal stocks at all power plants will ensure no shortage of electricity in India.

Several measures were discussed to diversify sources of imports required by chemicals, pharmaceuticals, petrochemicals and other industrial sectors. Similarly new export destinations to promote Indian goods will be developed in the near future.

Several measures proposed by different ministries will be prepared and implemented in the coming days after consultation with all stakeholders.

PM directed that a group of ministers and secretaries be created to work dedicatedly in a whole of government approach. PM also instructed for sectoral groups to work in consultation with all stakeholders.

PM said that the conflict is an evolving situation and the entire world is affected in some form. In such a situation, all efforts must be made to safeguard the citizens from the impact of this conflict. PM instructed that all arms of government should work together to ensure least inconvenience to the citizens. PM also asked for proper coordination with state governments to ensure no black-marketing and hoarding of important commodities.