The Hospital will remove darkness from the lives of many people in Varanasi and the region, leading them towards light: PM
Kashi is also now becoming famous as a big health center and healthcare hub of Purvanchal in UP: PM
Today, India's health strategy has five pillars - Preventive healthcare, Timely diagnosis of disease, Free and low-cost treatment, Good treatment in small towns and Expansion of technology in healthcare: PM

ہر ہر مہادیو!

سری کانچی کامکوٹی پیٹھم کے شنکراچاریہ جی ، قابل احترام جگت گرو شری شنکر وجیندر سرسوتی؛ اتر پردیش کی گورنر آنندی بین پٹیل؛  وزیر اعلیٰ، جناب یوگی آدتیہ ناتھ جی؛ نائب وزیر اعلیٰ، برجیش پاٹھک جی؛ شنکرا آئی فاؤنڈیشن کے آر وی رمنی جی ؛ ڈاکٹر ایس وی بالاسبرامنیم جی ؛ جناب مرلی کرشن مورتی جی؛ ریکھا جھنجھن والا جی اور تنظیم سے وابستہ دیگر تمام معزز اراکین، خواتین و حضرات!

اس مقدس مہینے  میں کاشی کا دورہ اپنے آپ میں ایک گہرا روحانی تجربہ ہے۔ یہاں نہ صرف کاشی کے باشندے ہیں بلکہ سنت اور مخیر حضرات بھی موجود ہیں، جو اس موقع کو واقعی ایک  خوبصورت اجتماع بنا رہے ہیں! میں خوش قسمت ہوں کہ میں قابل احترام شنکراچاریہ جی سے مل کر پرساد اور آشیرواد حاصل کر رہا ہوں۔ ان کے آشیرواد سے کاشی اور پوروانچل خطہ کو آج ایک اور جدید اسپتال  ملا ہے۔ بھگوان شنکر کے اس  روحانی شہر میں، آر جے شنکرا آئی اسپتال آج سے لوگوں کے لیے وقف ہے۔ میں کاشی اور پوروانچل کے تمام لوگوں کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

 

ساتھیوں،

شاستروں میں کہا گیا ہے –’’تمسو ما جیوترگمے‘‘ – یعنی ، ہمیں تاریکی  سے روشنی کی طرف لے  چلو۔ یہ آر جے شنکرا آئی اسپتال وارانسی اور اس خطے کے لاتعداد لوگوں کی زندگیوں سے اندھیرے کو دور کر کے ان کی روشنی کی طرف رہنمائی کرے گا۔ میں ابھی اس اسپتال کو دیکھ کر آیا ہوں، اور ہر لحاظ سے یہ روحانیت اور جدیدیت کا امتزاج ہے۔ یہ اسپتال بزرگوں کی  بھی خدمت کرے گا اور بچوں کو بھی  نئی روشنی دے گا۔ غریبوں کی ایک قابل ذکر تعداد یہاں مفت علاج کرائے گی۔ مزید یہ کہ آنکھوں کے اس اسپتال نے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ میڈیکل  کےطلباء یہاں انٹرن شپ اور پریکٹس کرسکیں گے اور متعدد افراد کو معاون عملے کے طور پر کام ملے گا۔

ساتھیوں،

مجھے ماضی میں بھی سنکارا آئی فاؤنڈیشن کی نیک کاوشوں سے وابستہ رہنے کا شرف حاصل رہا ہے۔ گجرات کے وزیر اعلی کے طور پر میں وہاں شنکرا آئی اسپتال کے افتتاح میں شامل تھا۔ مجھے آپ کے قابل احترام گروجی کی رہنمائی میں یہ کام کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ آج، مجھے ایک بار پھر آپ کی رہنمائی میں شرکت کا موقع ملا ہے اور یہ میرے لئے بے حد اطمینان کی بات ہے۔ درحقیقت، قابل احترام  سوامی جی نے مجھے یاد دلایا کہ  میری  ایک اور خوش بختی ہے۔ میری خوش قسمتی یہ  تھی کہ میں شری کانچی کاما کوٹی پیٹھا دھی پتی جگت  گرو شنکراچاریہ چندر شیکھریندر سرسوتی مہاسوامیگل کا مجھ پر بڑا آشیرواد رہا۔ مجھے متعدد مواقع پر پرم آچاریہ جی کے قدموں میں بیٹھنے کا شرف حاصل ہوا اور مجھے قابل احترام جگت گرو شنکراچاریہ شنکر و جیندر سرسوتی سوامیگل جی سے بے پناہ پیار ملا۔ میں نے ان کی رہنمائی میں کئی اہم پروجیکٹ مکمل کیے ہیں اور اب مجھے جگت گرو شنکراچاریہ شری شنکر وجیندر سرسوتی جی کی صحبت نصیب ہوئی ہے۔ ایک طرح سے، تین گرو روایات سے جڑا رہنا زندگی کی سب سے بڑی نعمتوں میں سے ایک ہے۔ یہ ایسی چیز ہے جس سے مجھے گہرا ذاتی اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ آج جگت گرو نے مہربانی کرکے اس پروگرام کے لیے میرے پارلیمانی حلقے میں آنے کے لیے وقت نکالا ہے۔ یہاں کے نمائندے کے طور پر، میں آپ کو تہہ دل سے خوش آمدید کہتا ہوں اور شکریہ ادا کرتا ہوں۔

ساتھیوں،

اس موقع پر میرے پیارے دوست راکیش جھُن جھُن  والا جی کا یاد آنا فطری ہے۔ کاروباری برادری میں ان کی شخصیت کے ایک رُخ  سے تو  دنیا اچھی طرح واقف ہے اور اس حوالے سے ان کے بارے میں بہت کچھ کہابھی  جا چکا ہے۔ تاہم، سماجی کاموں کے لیے ان کی لگن آج یہاں عیاں ہے۔ ان کا خاندان اب ان کی وراثت کو جاری رکھے ہوئے ہے اور ریکھا جی اس نیک کام کے لیے کافی وقت لگا رہی ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ آج راکیش جی کے پورے خاندان سے ملنے کا موقع ملا۔ مجھے یاد ہے کہ  میں نے شنکرا آئی اسپتال اور چترکوٹ آئی اسپتال دونوں اداروں کے لوگوں سے سے وارانسی آنے کے لئے کہا تھا۔  میں دونوں اداروں کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ ماضی میں، میرے پارلیمانی حلقے کے ہزاروں افراد نے چترکوٹ آئی اسپتال میں علاج کرایا ہے۔ اب، اس علاقے کے لوگوں کو  یہیں وارانسی میں ہی  دو نئے جدید ادارے ملنے جا رہے ہیں۔

 

ساتھیوں،

کاشی کو طویل عرصے سے مذہب اور ثقافت کے مرکز کے طور پر جانا جاتا رہا ہے۔ اب، یہ اتر پردیش اور پوروانچل خطے کے لیے صحت کی دیکھ بھال کے ایک بڑے مرکز کے طور پر بھی پہچان حاصل کر رہا ہے۔ چاہے وہ بی ایچ یو کا ٹراما سینٹر ہو، سپر اسپیشلٹی اسپتال، دین دیال اپادھیائے اسپتال اور کبیرچورا اسپتال میں بہتر سہولیات، بزرگوں اور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی اسپتال، یا میڈیکل کالج - کاشی میں صحت کی دیکھ بھال میں بہت سی ترقی ہوئی ہے۔ آج بنارس میں کینسر کے علاج کی ایک جدید سہولت بھی موجود ہے۔ پہلے جن مریضوں کو دلی ، ممبئی جانا پڑتاتھا، آج وہ یہیں اچھا علاج کرا پا رہے ہیں۔ آج  بہار، جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ اور ملک کے دیگر حصوں سے ہزاروں لوگ یہاں علاج کے لیے آتے ہیں۔ ہماری موکش دائنی  کاشی نئی  توانائی اور بہتر صحت کی دیکھ بھال کے وسائل کی پیشکش کرتے ہوئے، نئی زندگی کے مرکز میں تبدیل ہو رہی ہے۔

ساتھیوں،

پچھلی حکومتوں کے دور میں، وارانسی سمیت پوروانچل میں صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔ صورتحال اس قدر سنگین تھی کہ 10 سال پہلے پوروانچل میں دماغی بخار کے علاج کے لیے بلاک سطح کے کوئی مراکز نہیں تھے۔ بچوں کی موت ہو جاتی تھی ۔ اس کے باوجود سابقہ ​​حکومتوں نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ مجھے خوشی ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران، ہم نے نہ صرف کاشی بلکہ پورے پوروانچل خطے میں صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات میں بے مثال توسیع دیکھی ہے۔ آج، پورے پوروانچل میں دماغی بخار کا علاج فراہم کرنے والے 100 سے زیادہ مراکز کام کر رہے ہیں۔ پچھلے 10 سالوں میں، پورے خطے میں پرائمری اور کمیونٹی ہیلتھ سنٹرز میں 10,000 سے زیادہ نئے بیڈ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اسی عرصے میں پوروانچل کے دیہاتوں میں 5,500 سے زیادہ آیوشمان آروگیہ مندر قائم کیے گئے ہیں۔ ایک دہائی قبل پوروانچل کے ضلع اسپتالوں میں ڈائیلیسس کی سہولیات نہیں تھیں۔ آج، 20 سے زیادہ ڈائلیسس یونٹ کام کر رہے ہیں، جو مریضوں کو یہ خدمات مفت فراہم کرتے ہیں۔

 

ساتھیوں،

اکیسویں  صدی کے نئے بھارت نے صحت کی دیکھ بھال کے حوالے سے فرسودہ سوچ اور نقطہ نظر کو بدل دیا ہے۔ آج، بھارت کی صحت کی دیکھ بھال کی حکمت عملی پانچ اہم ستونوں پر بنائی گئی ہے۔ سب سے پہلے احتیاطی صحت کی دیکھ بھال ہے - بیماری کے ہونے سے پہلے اس سے بچنے کے لیے اقدامات کرنا،دوسرا بیماریوں کی بروقت تشخیص ،  تیسرا مفت اور سستا علاج فراہم کرنا ہے جس میں سستی ادویات تک رسائی بھی شامل ہے۔ چوتھا یہ ہے کہ ڈاکٹروں کی کمی کو دور کرتے ہوئے چھوٹے شہروں میں معیاری طبی دیکھ بھال کو یقینی بنایا جائے اور پانچواں ستون صحت کی دیکھ بھال میں ٹیکنالوجی کی توسیع ہے۔

ساتھیوں،

لوگوں کو بیماریوں سے بچانا بھارت کی صحت کی پالیسی کی اولین ترجیح ہے اور یہ صحت کے شعبے کا پہلا ستون ہے۔ بیماری صرف پسماندہ لوگوں کی غربت کو مزید گہرا کرتی ہے جیسا کہ آپ جانتے ہیں، پچھلے 10 سالوں میں، 250 ملین لوگوں کو غربت سے نکالا گیا ہے۔ تاہم، ایک سنگین بیماری انہیں آسانی سے غربت کی گہرائیوں میں دھکیل سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت بیماریوں کی روک تھام پر خاصی زور دے رہی ہے۔ ہماری حکومت خاص طور پر صفائی، یوگا اور آیوروید، غذائیت سے بھرپور خوراک اور متعلقہ شعبوں پر توجہ دے رہی ہے۔ ہم نے ویکسینیشن مہم کو زیادہ سے زیادہ گھروں تک  پہنچا دیا ہے۔ صرف 10 سال پہلے، ملک میں ویکسینیشن کی کوریج صرف 60 فیصد کے لگ بھگ تھی، جس سے کروڑوں بچے ٹیکے سے محروم رہ گئے تھے۔ مزید برآں، ویکسینیشن کوریج میں اضافے کی شرح محض 1 سے 1.5 فیصد سالانہ تھی۔ اس رفتار سے، ہر بچے اور ہر علاقے کے لیے یونیورسل ویکسینیشن کوریج حاصل کرنے میں مزید 40 سے 50 سال لگیں گے۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ قوم کی نوجوان نسل کے ساتھ کتنی بڑی ناانصافی ہو رہی تھی۔ لہٰذا، حکومت بنانے کے بعد، ہم نے بچوں کی ویکسینیشن کو ترجیح دی اور اس کی کوریج کو بڑھایا۔ ہم نے مشن اندر دھنش کا آغاز کیا، اس کوشش میں بیک وقت متعدد وزارتوں کو شامل کیا۔ اس کے نتیجے میں، نہ صرف ویکسینیشن کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا، بلکہ کروڑوں حاملہ خواتین اور بچے جو پہلے اس سے محروم تھے، ان کو بھی  ویکسین لگائی گئی۔ بھارت نے ویکسینیشن پر جو زور دیا وہ کووڈ اُنیس وبائی مرض کے دوران انتہائی فائدہ مند ثابت ہوا۔ آج ملک بھر میں ویکسینیشن مہم تیزی سے جاری ہے۔

 

ساتھیوں،

بیماریوں سے بچاؤ کے ساتھ ساتھ بیماریوں کا بروقت پتہ لگانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اس وجہ سے، ملک بھر میں لاکھوں آیوشمان آروگیہ مندر قائم کیے گئے ہیں، جو کینسر اور ذیابیطس جیسی بیماریوں کا جلد پتہ لگانے کے قابل بناتے ہیں۔ آج ہم ملک بھر میں کریٹیکل کیئر یونٹس اور جدید لیبارٹریوں کا نیٹ ورک بھی بنا رہے ہیں۔ صحت کے شعبے کا یہ دوسرا ستون لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بچا رہا ہے۔

ساتھیوں،

صحت کی دیکھ بھال کا تیسرا ستون سستا علاج اور سستی ادویات ہیں۔ آج ملک میں ہر شہری کے طبی اخراجات میں 25 فیصد کمی آئی ہے۔ لوگ اب پی ایم جن اوشدھی کیندروں کے ذریعے 80 فیصد رعایت پر دوائیں خرید سکتے ہیں۔ چاہے وہ ہارٹ اسٹینٹ ہوں، گھٹنے کے امپلانٹس ہوں یا کینسر کی دوائیں، ان ضروری علاج کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ آیوشمان یوجنا، جو غریبوں کے لیے 5 لاکھ روپے تک کا مفت علاج فراہم کرتی ہے، بہت سوں کے لیے زندگی بچانے والی بن گئی ہے۔ اس اسکیم کے تحت اب تک ملک بھر میں 7.5 کروڑ سے زیادہ مریض مفت علاج حاصل  کر چکے ہیں۔ مزید یہ کہ اب ان خدمات  کو ملک بھر میں ہر خاندان کے بزرگوں تک پہنچایا جا رہا ہے۔

 

ساتھیوں،

صحت کی دیکھ بھال کے چوتھے ستون کا مقصد علاج کے لیے دہلی اور ممبئی جیسے بڑے شہروں پر انحصار کو کم کرنا ہے۔ پچھلی دہائی کے دوران، ہم نے چھوٹے شہروں میں ایمس، میڈیکل کالج اور سپر اسپیشلٹی اسپتال قائم کیے ہیں۔ ملک میں ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے پچھلی دہائی میں ہزاروں نئی ​​میڈیکل سیٹیں شامل کی گئی ہیں۔ مستقبل کے پیش نظر، ہم نے اگلے پانچ سالوں میں مزید 75,000 سیٹیں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ساتھیوں،

صحت کی دیکھ بھال کا پانچواں ستون ٹیکنالوجی کے ذریعے صحت کی خدمات تک رسائی کو بڑھا ناہے۔ آج، ڈیجیٹل ہیلتھ آئی ڈیز بنائی جا رہی ہیں اور مریض ای-سنجیونی ایپ جیسے پلیٹ فارم کے ذریعے اپنے گھر سے ہی  آسانی سے ڈاکٹر کی صلاح لے  سکتے ہیں۔ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ 30 کروڑ سے زیادہ لوگ پہلے ہی ای سنجیونی ایپ کے ذریعے مشاورت کا فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ ہم صحت کی دیکھ بھال کی خدمات کے ساتھ ڈرون ٹیکنالوجی کو مربوط کرنے کی طرف بھی پیش قدمی کر رہے ہیں۔

ساتھیوں،

ترقی یافتہ بھارت کے وژن کو حاصل کرنے کے لیے ایک صحت مند نوجوان نسل ضروری ہے۔ مجھے بے حد خوشی ہے کہ اس مشن میں ہمیں قابل احترام پوجیہ  شنکراچاریہ جی کا تعاون حاصل ہے۔ میں بابا وشوناتھ سے دعا کرتا ہوں کہ ایک صحت مند اور قابل بھارت کے لیے یہ مشن مضبوط تر ہوتا رہے۔ آج جب میں پوجیہ شنکراچاریہ جی کے قدموں میں بیٹھا ہوں تو مجھے اپنے بچپن کی یادیں تازہ ہو رہی ہیں۔ جب میں چھوٹا تھا تو میرے گاؤں کے  ایک ڈاکٹر رضاکاروں کے ایک گروپ کے ساتھ ہر سال ایک ماہ کے لیے بہار جاتے تھے۔ وہاں، وہ ایک بڑے پیمانے پر موتیا بند کی سرجری مہم چلاتے تھے ۔ وہ ہر سال ایک مہینے کے لئے بہار جاتے تھے، تو  میرے گاؤں کے بہت سے لوگ رضاکار کے طور پر ان کے ساتھ جاتے تھے۔ بچپن میں بھی میں بہار میں ایسی خدمات کی بے پناہ ضرورت سے واقف تھا۔ اس لیے، آج میں پوجیہ شنکراچاریہ جی سے دلی درخواست کرتا ہوں کہ وہ بہار میں اسی طرح کا شنکرا آئی اسپتال کھولنے پر غور کریں۔ میرے بچپن کی وہ یادیں مجھے یاد دلاتی ہیں کہ اس طرح کی خدمت بہار کے لوگوں کے لیے کتنی اثر انگیز ہوں گی۔ مہاراج جی کا ملک کے کونے کونے تک پہنچنے کا وژن ہے، اور مجھے یقین ہے کہ بہار کو ترجیح دی جائے گی اور آپ کا آشیرواد ملےگا۔ بہار کے لوگ محنتی ہوتے   ہیں اور محنتی لوگوں کی خدمت کرنا ایک بہت بڑا اعزاز ہوگااور ان کی فلاح و بہبود میں شامل ہونا ہماری زندگی میں بڑی تکمیل لائے گا۔ ایک بار پھر، میں آپ سبھی کو خاص طور پر ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل اسٹاف اور اس عظیم مشن میں کام کرنے والے تمام بھائیوں اور بہنوں کے لیے اپنی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ گہری عقیدت کے ساتھ، میں پوجیہ جگت گرو جی کے سامنے جھکتا ہوں، ان کی مسلسل برکتوں اور رہنمائی کے لیے اپنی دلی دعائیں پیش کرتا ہوں۔ شکریہ ادا کرتے ہوئے میں اپنی بات ختم کرتا ہوں۔

ہر ہر مہادیو!

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Boost to small exporters, MSMEs as govt removes Rs 10-lakh cap on courier trade

Media Coverage

Boost to small exporters, MSMEs as govt removes Rs 10-lakh cap on courier trade
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi’s Thiruvalla rally signals a big political shift in Keralam
April 04, 2026
If any group has benefited the most from NDA policies, it is women. Women empowerment is our priority, says PM Modi in Thiruvalla
The Sabarimala Railway Project will unlock new opportunities across the region, directly connecting Sabarimala with devotees: PM Modi
In Keralam, we will form the government, improve quality of life, and address the concerns of fishermen and local communities, says PM Modi
From April 16–18, Parliament will reconvene to deliberate on the Nari Shakti Vandan Act, aiming to ensure 33% women’s representation from 2029: PM

Prime Minister Narendra Modi addressed a massive and enthusiastic gathering in Thiruvalla, energising supporters and expressing confidence that Keralam is on the cusp of a historic political transformation. Highlighting the unprecedented turnout, the Prime Minister said, “The massive presence of people here in Thiruvalla, your trust in the NDA, and the affection and confidence shown by mothers and sisters reflect the mood across Keralam. The state is heading towards a major transformation.”

He added, “Voting will take place on April 9, and on May 4, the end of decades of misgovernance will be announced. The countdown for the exit of the LDF government has begun and for the first time, Keralam is set to witness a BJP-NDA government.”

Expressing gratitude to the people of Thiruvalla, PM Modi said that the town is emerging as a centre for the beginning of a new era of development in Keralam. He emphasised that the trust of the people is the greatest strength of the NDA.

The Prime Minister highlighted Keralam’s vast potential, noting that the state has been blessed with abundant natural resources and opportunities in sectors such as the blue economy, tourism and industry. However, he pointed out that despite these strengths, Keralam has lagged behind due to years of neglect by successive LDF and UDF governments.

Criticising the state’s infrastructure gaps, he remarked that poor connectivity, lack of major bridges and challenges in institutions like medical colleges have adversely impacted the quality of life for citizens.

Underscoring the Centre’s commitment, PM Modi stated that despite never having been in power in the state, the NDA government has left no stone unturned in supporting Keralam’s development. He said that the Centre has provided significantly higher financial assistance compared to previous governments.

He also highlighted key welfare initiatives, including housing under PM Awas Yojana, tap water connections under Jal Jeevan Mission and financial support to farmers through PM-Kisan Samman Nidhi. He noted that thousands of crores have been transferred directly to farmers, including rubber growers, benefiting the rural economy.

On infrastructure development, the Prime Minister spoke about the rapid expansion of national highways, improvements in railway infrastructure and the introduction of modern trains like Vande Bharat. He also emphasised the importance of the Sabarimala railway project, stating that it has the potential to boost connectivity, ease pilgrim travel, generate employment and accelerate local economic growth. He added that delays by the state government have held back such transformative projects.

Focusing on women-led development, PM Modi said, “The NDA government has placed women’s empowerment at the centre of its policies. From financial inclusion through Jan Dhan accounts to entrepreneurship through Mudra loans and support to self-help groups, our initiatives have aimed to transform the lives of women across the country.”

Addressing the huge gathering, PM Modi stated, “Our government has ensured 33% reservation for women in the Lok Sabha and State Assemblies. From 16-18 April, the Parliament will reconvene to deliberate on the Nari Shakti Vandan Act and take it forward. Our goal is to ensure 33% women’s representation in Parliament from 2029 onwards.”

He added, “There are rumours around rationalisation based on population. We want to assure the nation that no seats will be reduced. Seats will increase and this will benefit states across the country, including South India. A meeting has also been called with Congress and the INDI Alliance on this matter. I urge all political parties to support this bill in unison. This is about empowering women and strengthening our democracy.”

Addressing the issue of youth migration, the Prime Minister noted that lack of adequate opportunities has forced many young people from Keralam to seek employment elsewhere, including abroad. He stressed that corruption and divisive politics have hindered industrial growth and job creation in the state.

Referring to Indians working overseas, particularly in West Asia, PM Modi assured their families of the government’s continuous support. He said, “Even if your loved ones are far away, they are not alone. The Government of India stands firmly with every Indian, ensuring their safety and well-being, even in challenging global situations.”

Lashing out at the opposition, PM Modi reiterated, “The LDF and UDF people have become pro at lying. They said Kerala Files is a lie, they said Kashmir Files is a lie, they said Dhurandhar is a lie. These days, they are spreading lies about the FCRA and UCC. Goa has had UCC for decades, but they are spreading lies around it. They also did the same around the CAA. They are in the business of spreading lies.”

Criticising both LDF and UDF, the PM accused them of misleading the public and engaging in opportunistic politics. He said that both alliances have failed to prioritise Keralam’s development and are now focused only on attacking the BJP.

Concluding his address, PM Modi called upon the people of Keralam to vote for progress, stability and a better quality of life. He urged them to support the BJP-NDA to usher in a new era of development and ensure that Keralam reaches its full potential.