Share
 
Comments
PM urges IIT Guwahati to establish a Center for disaster management and risk reduction
NEP 2020 will establish India as a major global education destination: PM

نمسکار!

پروگرام میں ہمارے ساتھ موجود ملک کے وزیر تعلیم جناب رمیش پوکھریال نشنک جی، آسام کے وزیر اعلیٰ جناب سربانند سونوال جی، کابینہ میں میرے ساتھی وزیر مملکت برائے تعلیم جناب سنجے دھوترے جی، بورڈ آف گورنرس کے چیئرمین ڈاکٹر راجیو مودی جی، سنیٹ کے ممبران، اس کنونشن کے ممتاز مدعوئین، فیکلٹی ممبران، اسٹاف اور میرے پیارے طلبا۔

مجھے خوشی ہے کہ آج میں آئی آئی ٹی گواہاٹی کے اس 22 ویں کنونشن میں آپ سب کے ساتھ شامل ہورہا ہوں۔ ویسے تو کنونشن کسی بھی طالب کی زندگی کا ایک اسپیشل دن ہوتا ہے لیکن اس بار جو طلبا کنونشن کا حصہ بن رہے ہیں ان کے لئے یہ ایک الگ ہی طرح کا تجربہ ہے۔ عالمی وبا کے اس ٹائم میں کنونشن کے طور طریقے بھی کافی بدل گئے ہیں۔ عام صورتحال ہوتی تو میں بھی آج آپ کے بیچ ہوتا لیکن پھر بھی یہ دن، یہ لمحہ اتنا ہی اہم ہے، اتنا ہی قیمتی ہے۔ میں آپ سب کو اپنے سبھی نوجوان ساتھیوں کو بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔ آپ کے مستقبل کی کوششوں کے لئے بار بار نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔

ساتھیو، ہمارے یہاں کہا گیا ہے کہ گیانم، وگیان سہتم یت گیاتوامو چھیسے۔ اشوبھات مطلب وگیان کے ساتھ گیان ہی سبھی مسائل سے،دکھوں سے نجات کا وسیلہ ہے۔ یہی جذبہ وخدمت لیے کچھ نیا کرنے کی یہی توانائی، اسی نے ہمارے ملک کو ہزاروں سالوں کی اس یاترا (سفر) میں بھی زندہ رکھا ہے۔ جیونت رکھا ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ اپنی اس سوچ کو آئی آئی ٹی جیسے ہمارے ادارے آج آگے بڑھا رہے ہیں۔ آپ سب بھی آج محسوس کررہے ہوں گے جب آپ یہاں آئے تھے تب سے آپ کے اندر کتنا ٹرانس فورمیشن یعنی تبدیلی آچکی ہے۔ آپ کا سوچنے کا عمل کتنا پھیل چکا ہے۔ آئی آئی ٹی گواہاٹی میں جب آپ نے اپنی یہ جرنی (سفر) شروع کیا تھا تب سے لے کر اب تک آپ اپنے اندر ایک نئی شخصیت دیکھ رہے ہوں گے۔ یہ اس انسٹی ٹیوشن کا آپ کے پروفیسر کا آپ کے لئے سب سے قیمتی تحفہ ہے۔

ساتھیو، میرا واضح طور پر ماننا ہے میں پختہ طور پر اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ ایک ملک کا مستقبل وہ ہے جو آج اس کا نوجوان سوچتا ہے۔ آپ کے خواب ہندوستان کی اصلیت بدلتے جارہے ہیں۔ اس لئے یہ وقت، مستقبل کو تیار ہونے کا ہے یہ وقت ابھی سے فیوچرفٹ ہونے کا ہے۔ جیسے جیسے آج معیشت اور معاشرے میں تبدیلی آرہی ہے جدیدیت بھی آرہی ہے۔ انڈین سائنس اور ٹکنالوجی لینڈ اسکیپ کو بھی کئی ضروری تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آئی آئی ٹی گواہاٹی نے یہ کوشش پہلے سے ہی شروع کردی ہے۔ مجھے بتایاگیا ہےکہ آئی آئی ٹی گواہاٹی پہلی ایسی آئی آئی ٹی ہے جس نے ای موبیلٹی پر دوسال کا ریسرچ پروگرام شروع کیا ہے۔ مجھے یہ جانکاری بھی دی گئی ہے کہ آئی آئی ٹی گواہاٹی بی-ٹیک سطح کے سبھی پروگراموں میں سائنس اور انجینئرنگ کے اینٹگریشن کو بھی لیڈ کررہی ہے۔ مجھے پورا بھروسہ ہےکہ یہ انٹر ڈسیپلینری پروگرام ہماری تعلیم کو آ راؤنڈ اور مستقبل پر مبنی بنائے گا اور جب اس طرح کی مستقبل پر مبنی اپروچ کے ساتھ کوئی ادارہ آگے بڑھتا ہے تو اس کا نتیجہ دور حاضر میں بھی دکھتا ہے۔آئی آئی ٹی گواہاٹی نے اس عالمی وبا کے دوران کووڈ-19 سے متعلق کٹس جیسے کہ وائرل ٹرانسپورٹ میڈیا وائرل آر این اے ایکسٹریکشن کٹ اور آر ٹی-پی سی آر کٹس تیار کرکے یہ ثابت کیا ہے، ویسے مجھے اس بات کا بھی پوری طرح احساس ہے کہ اس عالمی وبا کے دوران تعلیمی سیشن کو کنڈکٹ (اہتمام) کرنا اپنے تحقیقی کام کو جاری رکھنا، آپ کے لئے یہ سب کتنا مشکل رہا ہے، لیکن پھر بھی آپ نے یہ کامیابی حاصل کی ہے۔ آپ کی اس کوشش کے لئے ملک کو خودکفیل بنانےکی سمت میں آپ کے اس تعاون کے لئے میں آپ سب کو مبارکباد دیتا ہوں۔

ساتھیو، اتم نربھر بھارت کے لئے ہمارے تعلیمی نظام کا کتنا بڑا دخل اور اہمیت ہے ۔ یہ آپ سبھی بخوبی جانتے ہیں۔ گزشتہ کچھ دنوں میں قومی تعلیمی پالیسی کے بارے میں کافی کچھ پڑھا ہوگا۔ کافی کچھ ڈسکس (بحث ومباحثہ) کیا ہوگا۔ قومی تعلیمی پالیسی ہماری اکیسویں صدی کے آپ جیسے نوجوانوں کے لئے ہی ہے۔ وہ نوجوان جو دنیا کو لیڈ (قیادت) کرے گا۔ سائنس اور ٹکنالوجی میں بھارت کو گلوبل لیڈر بنائے گا۔ اتنا ہی نہیں اس تعلیمی پالیسی میں تمام ایسی باتیں ہیں جو آپ جیسے طلبا کی وش لسٹ میں سب سے اوپر تھی۔

ساتھیو، مجھے یقین ہےکہ اپنی تعلیم کے سفر میں آپ نے یہ محسوس کیا ہے کہ تعلیم اور امتحان ہمارے طلبا کے لئے بوجھ نہیں بنے۔ طلبا کو اپنے من پسندکے مضامین پڑھنے کی زیادہ آزادی ملے۔ اس لئے قومی تعلیمی پالیسی کو کثیر ڈسیپلنری بنایاگیا ہے۔ مضامین کو لچک دی گئی ہے۔ ملٹی پلی اینٹری، اور ایگزٹ کے موقع دیے گئے ہیں اور سب سے اہم، ملک کی نئی تعلیمی پالیسی، تعلیم کو ٹکنالوجی سے جوڑے گی۔ ٹکنالوجی کو ہمارے طلبا کی سوچ کا اندرونی حصہ بنائے گی۔ یعنی طلبا ٹکنالوجی کے بارے میں بھی پڑھیں گے اور ٹکنالوجی کے ذریعے بھی پڑھیں گے۔ تعلیم میں مصنوعی ذہانت کا استعمال ہو۔ آن لائن لرننگ بڑھے، قومی تعلیمی پالیسی  میں اس کے راستے کھول دیے گئے ہیں۔ ٹیچنگ اور لرنگ سے لے کر انتظامیہ اور اسسمینٹ تک ٹکنالوجی کی بھومیکا (رول) نے اس کے لئے قومی تعلیمی ٹکنالوجی فورم بھی بنایا جارہا ہے۔ ہم ایک ایسے ایکو نظام کی طرف بڑھ رہے ہیں، جہاں ہمارے نوجوان ٹکنالوجی سے سیکھیں گے بھی اور سکھانے کے لئے نئی ٹکنالوجی ان نویٹ (اختراع) بھی کریں گے۔ آئی آئی ٹی کے ساتھیو کے لئے تو اس میںinfinite possibilities ہے۔ نئے سافٹ ویئر، نئی ڈیوائس اور گیجٹس جو وے آف ایجوکیشن کو ری وشنلائز کریں۔ ان کے بارے میں آپ کو ہی سوچنا ہے۔ یہ آپ سب کے لئے ایک موقع ہے۔ آپ اپنے بیسٹ کو باہر لائیں۔ استعمال کریں۔

ساتھیو، ملک میں ریسرچ کلچر کو وسعت دینے کے لئے این ای پی میں ایک نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن یعنی این آر ایف کی بھی تجویز کی گئی ہے۔ این آر ایف ریسرچ فنڈنگ کو لے کر سبھی فنڈنگ ایجنسیوں کے ساتھ تال میل کرے گا اور سبھی ڈسپلین، چاہے وہ سائنس ہو یا ہیومنیٹیز سبھی کے لئے فنڈ فراہم کرے گا۔ جو پوٹینشیل ریسرچ ہوں گے جن میں پریکٹیکل نفاذ کی گنجائش ہوگی انہیں تسلیم کیا جائے گا اور نفاذ بھی کیا جائے گا۔ اس کے لئے حکومت کی ایجنسیاں اور صنعت کے بیچ تال میل اور قریبی رابطہ قائم کیا جائے گا۔مجھے خوشی ہےکہ آج اس کنوونشن میں ہمارے تقریباً 300 نوجوان ساتھیوں کو پی ایچ ڈی کی ڈگری دی جارہی ہے اور یہ ایک بہت مثبت رجحان ہے۔ مجھے یقین کہ کہ آپ سب یہیں نہیں رکیں گے بلکہ ریسرچ آپ کے لئے ایک عادت ہوجائے گی، آپ کے سوچ کے عمل کا حصہ بنی رہے گی۔

ساتھیو، ہم سب جانتے ہیں کہ علم کے لئے کوئی حدیں نہیں ہوتی ہیں۔ قومی تعلیمی پالیسی ملک کے تعلیم کے شعبے کو کھلا رکھنے کی بات کرتی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ غیر ملکی یونیورسٹی کے کیمپس بھی ملک میں کھلے اور دنیا بھر کا گلوبل ایکسپوزر ہمارے طلبا کو یہیں پر ملے۔ اسی طرح انڈین اور گلوبل اداروں کے بیچ ریسرچ اشتراک اوراسٹوڈینٹ ایکسچینج پروگرام کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ غیر ملکی یونیورسٹیوں میں ہمارے طلبا جو کریڈٹ حاصل کریں گے، وہ بھی اب ملک کے اداروں میں کاؤنٹ ہوسکیں گے۔ اتنا ہی نہیں قومی تعلیمی پالیسی بھارت کو عالمی تعلیمی منزل کے طور پر بھی قائم کرے گی۔ ہمارے ہائی پارفورمنگ اداروں کو بیرون ملکوں میں بھی کیمپس چیک کرنےکے لئے حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ آئی آئی ٹی گواہاٹی کو بیونڈ باؤنڈریز ایکسپنشن کے اس وژن میں اہم رول ادا کرنا ہے۔ مشرق شمال کا یہ خطہ بھارت کی ایکٹ ایسٹ پالیسی کا مرکز بھی ہے۔

یہی علاقہ، ساؤتھ ایسٹ ایشیا سے بھارت کے رابطے اور رشتے کا گیٹ وے بھی ہے، ان ملکوں سے بھارت کے تعلقات کی مہم بنیاد، ثقافت، کامرس اور کنکویٹی اور صلاحیت رہا ہے۔ اب تعلیم ہماری وابستگی کا ایک اور نیا وسیلہ بننے جارہا ہے۔ آئی آئی ٹی گواہاٹی اس کا بہت بڑا مرکز بن سکتا ہے۔ اس سے ناتھ ایسٹ کو ایک نئی پہچان بھی ملے گی اور یہاں نئے موقع بھی پیدا ہوں گے۔ آج مشرقی شمال خطے کی ترقی کو رفتار دینےکے لئے یہاں ریلوے، شاہراہیں ، ایئرویز اور آبی شاہراہوں کا بنیادی ڈھانچہ کھڑا کیا جارہا ہے، اس سے پورے مشرقی شمال کے لئے نئے نئے موقع پیدا ہورہے ہیں۔ آئی آئی گواہاٹی کی ترقی کے ان کاموں میں بھی بہت بڑا رول ہے۔

ساتھیو، آج اس کنونشن کے بعد بہت سے طلبا یہیں رہیں گے، بہت سے یہاں سے چلے بھی جائیں گے۔ آئی آئی ٹی گواہاٹی کے دیگر طلبا بھی اس وقت مجھے سن رہے ہیں، دیکھ رہے ہیں۔ آج کے اس خصوصی دن میں آپ سے کچھ اپیل بھی کروں گا۔ کچھ تجاویز بھی دوں گا۔

ساتھیو، آپ کی زندگی میں اس خطے کا تعاون بھی ہے اور آپ نے اسی خطے کو دیکھا، سمجھا اور محسوس بھی کیا ہے۔ اس خطے کی جو چنوتیاں ہیں، اس خطے میں جو امکانات ہیں، ان سے آپ کی ریسرچ کیسے جڑ سکتی ہے، یہ آپ کو سوچنا چاہئے۔ مثال کے طور پر شمسی توانائی، باغبانی کی توانائی، بایو ماسک اور ہائیڈرو الیکٹرک انرجی میں بھی یہاں کافی امکانات ہیں۔ یہاں چاول، چائے، بانس جیسی وسائل ہیں، جو سیاحت کی صنعت ہے، اسے ہمارا کوئی اختراع بوس دے سکتا ہے کیا۔

ساتھیو، یہ بایو ڈائیورسٹی بھی ہے اور روایتی عمل اور ہنر بھی۔ اس روایتی ہنر کا، علم کا اور یہاں تک کہ سائنس و ٹکنالوجی ٹرانسمیشن بھی۔ روایت سے ہوتا آرہا ہے۔ ایک نسل نے یہ علم دوسری نسل کو دیا۔ اس سے اگلی نسل کو ملا اور یہ سلسلہ چلتا چلا آرہا ہے۔ کیا ہم اسے جدید ٹکنالوجی سے جوڑ سکتے ہیں۔ کیا ہم اس فیوزن سے نئی ٹکنالوجی کھڑی کرسکتے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ ہم ایک ماڈرن اور سائنٹیفک پروسیس کے ذریعہ ثقافتی علم، ہنرمندی اور اعتقاد کو مالا مال اور کٹنگ ایج پروفیشنل ڈیولپمنٹ پروگرامس میں تیار کرسکتے ہیں۔ میری تجویز ہے کہ آئی آئی ٹی گواہاٹی اس میں ایک اہم رول نبھائے اور ایک سینٹر فار انڈین نالیج سسٹم کا قیام کرے۔ اس کے ذریعہ ہم مشرقی شمال کو ملک اور دنیا کو ایسا بہت کچھ دے سکتے ہیں، جو قیمتی ہوگا۔

ساتھیو، آسام اور مشرق شمال ملک کا ایسا حصہ ہے کہ جو امکانات سے بھرا ہوا ہے، لیکن اس خطے کو سیلاب، زلزلے، مٹی کے تودے کھسکنے اور کئی صنعتی آفات جیسی آفات بھی گھیرتی رہتی ہیں۔ ان آفات سے نمٹنے میں ان ریاستوں کی توانائی اور کوشش خرچ ہوتے ہیں۔ اس مسائل سے مؤثر طور سے نمٹا جائے اس کے لئے ہائی ڈگری آف ٹکنالوجیکل سپورٹ اور انٹرونشن کی ضرورت پڑتی ہے۔ میں آئی آئی ٹی گواہاٹی سے یہ بھی اپیل کروں گا کہ آپ ایک سینٹر فار ڈیزاسٹر مینجمنٹ اینڈ رسک ریڈکشن کو بھی قائم کریں۔ یہ سینٹر اس علاقے کی آفات سے نمٹنے کی مہارت بھی فراہم کرائے گا اور آفات کو موقع میں بھی بدلے گا۔ مجھے پورا بھروسہ ہے کہ آئی آئی ٹی گواہاٹی اور آپ سبھی آئی آئی ٹی طلبا آگے بڑھیں گے تو یہ عہد بھی ضرور پورا ہوگا۔ ساتھیو، مقامی مسائل پر توجہ کرنے کے ساتھ ہی ہمیں اپنی نظر گلوبل ٹکنالوجیز کے بڑے کینوس پر بھی سیٹ کرنی ہوں گی۔ مثال کے طور پر کیا ہم اپنی ریسرچ اور ٹکنالوجی میں نیش علاقے کو فائنڈ آؤٹ کرسکتے ہیں؟ ایسے علاقے ، ایسے مضامین جن پر ملک کو اور زیادہ توجہ کرنےکی ضرورت ہے، ہم ان کی نشاندہی کریں اور ترجیح دے سکتے ہیں کیا؟

ساتھیو، آپ جب دنیا میں کہیں بھی جائیں گے، تو آپ اپنے آپ کو فخر آئی آئی ٹی بتائیں گے، لیکن میری آپ سے امیدیں ہیں کہ آپ کی کامیابی، آپ کے تحقیقی تعاون جیسے ہوں کہ آئی آئی ٹی گواہاٹی  اور فخر سے کہی کہ آپ اس کے اسٹوڈینٹ ہیں۔ مجھے پورا بھروسہ ہے کہ آپ آئی آئی ٹی گواہاٹی  کو ، اپنے پروفسیر کو یہ موقع ، یہ گرو دکشنا ضرور دیں گے۔ پورا ملک 130 کروڑ ہم وطنوں آپ میحں بھروسہ کرتے ہیں۔ آپ اسی طرح لگاتار کامیاب ہوں، آتم نربھر بھارت کی کامیابی کے سارتھی بنیں، بہت سی نئی اونچائیوں کو آپ حاصل کرتے چلیں۔ زندگی میں جو خواب سجائے ہیں وہ سارے خواب عہد بنیں۔ جو عہد بنیں اس میں پری شرم کی پراکاشتھا ہو اورنئی نئی سڑھیوں کو طے کرتے چلیں۔ ایسی بہت سی نیک خواہشات کے ساتھ آپ کی صحت کے لئے آپ کے گھر والوں کی صحت کے لئے اس کورونا کے اس وقت میں جو سب سے زیادہ ضروری بھی ہے، آپ بھی اس کی فکر کریں گے۔ اپنے کنبے کی فکر کریں گے، اپنے آس پاس کے لوگوںکی فکر کریں، اپنے کنبے کی پرواہ کریں گے، خود کو بھی سنبھالیں گے، گھر والوں کو بھی سنبھالیں گے، آس پاس کے یار دوستوں کو بھی سنبھالیں گے۔ سب کو صحت مند رہنے میں مدد کریے، خود بھی صحت مند رہئے۔

اسی ایک جذبے کے ساتھ آپ سب کو بہت بہت نیک خواہشات

شکریہ

آپ سبھی کا بہت  بہت شکریہ

بھارتی اولمپئنس کی حوصلہ افزائی کریں۔ #Cheers4India
Modi Govt's #7YearsOfSeva
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
How This New Airport In Bihar’s Darbhanga Is Making Lives Easier For People Of North-Central Bihar

Media Coverage

How This New Airport In Bihar’s Darbhanga Is Making Lives Easier For People Of North-Central Bihar
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
وزیر اعظم نے جناب بی ایس بومائی کو کرناٹک کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف لینے پر مبارکباد پیش کی
July 28, 2021
Share
 
Comments

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے جناب بی ایس بومائی کو، کرناٹک کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف لینے پر  مبارکباد پیش کی۔

ایک ٹوئیٹ میں وزیر اعظم نے کہا، ’’کرناٹک کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف لینے پر جناب @ بی ایس بومائی کو مبارکباد۔ ان کے پاس قانون سازی اور انتظامیہ سے متعلق زبردست تجربہ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ ہماری حکومت کے ذریعہ ریاست میں کیے گئے غیر معمولی کام کو آگے بڑھائیں گے۔ ایک بارآور مدت کار کے لئے نیک خواہشات۔‘‘