‘‘ ازخود تیار کردہ 5 جی ٹیسٹ بیڈ، ٹیلی مواصلات کے شعبے میں اہم اور جدید ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کی طرف ایک اہم قدم ہے’’
‘‘کنیکٹیویٹی 21ویں صدی کے ہندوستان میں ترقی کی رفتار کا تعین کرے گی’’
‘‘5 جی ٹیکنالوجی ملک کی طرز حکمرانی، زندگی میں آسانی اور کاروبار کرنے میں آسانی لانے والی ہے’’
‘‘2 جی دور کی مایوسی، مایوسی، بدعنوانی اور مفلوج پالیسی سے نکل کر ملک تیزی سے 3جی سے 4جی اور اب 5جی اور 6جی کی طرف بڑھ چلا ہے’’
‘‘پچھلے 8 سالوں میں، ٹیلی کام کے شعبے کو رسائی، اصلاحات، ضابطہ بندی ، رد عمل اور انقلابی اقدام کی ‘پنچ امرت’کے ساتھ نئی توانائی بخشی گئی ہے’’
‘‘موبائل مینوفیکچرنگ یونٹس 2 سے بڑھ کر 200 سے زیادہ ہو گئے جنہوں نے موبائل فون کو غریب ترین خاندانوں کی دسترس میں پہنچا دیا ہے’’
​​​​​​​‘‘آج ہر ایک فرد باہمی تعاون پر مبنی ضابطہ کاری کی ضرورت کو محسوس کررہا ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام ضابطہ کار اکٹھے ہوں، مشترکہ پلیٹ فارم تیار کریں اور بہتر ہم آہنگی کے لیے تدابیرتلاش کریں’’

نمسکار،مرکزی کابینہ میں میرے ساتھ جناب اشونی ویشنو جی، جناب دیوو سنگھ چوہان جی، ڈاکٹر ایل مرگن جی ، ٹیلی کام اور براڈ کاسٹنگ سیکٹر سے منسلک سبھی لیڈروں ،بہنو ں اور بھائیوں ۔

ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا –ٹی آر اے آئی اور اس سے منسلک سبھی ساتھیوں کو سلور جوبلی کی بہت بہت مبارکباد ۔یہ حسن اتفاق ہے کہ آج آپ کے ادارے نے 25 سال مکمل کئے ہیں  ایک ایسے وقت میں جب ملک آزادی کے امرت کال میں اپنے 25 سالوں کے روڈ میپ پر کام کررہا ہے ،نئے اہداف طے کررہا ہے ،کچھ دیر قبل ہی مجھے  اپنے ملک میں 5 جی ٹیسٹ بیڈ کو قوم کے نام وقف کرنے کا موقع ملا ہے۔ یہ ٹیلی کام سیکٹر میں کریٹیکل اور جدید ٹیکنالوجی میں خود کفیل ہونے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ میں اس پروجیکٹس سے منسلک سبھی ساتھیوں کو خاص طور سے آئی آئی ٹیز کو بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں،ساتھ ہی ملک کے نوجوان ساتھیوں کو، محققین کواورکمپنیوں کو مدعوکرتا ہوں کہ وہ اس ٹیسٹنگ سہولیت کا استعمال 5 جی ٹیکنالوجی تیار کرنے کے لئے کریں ،خاص طور پر ہمارے اسٹارٹ اپس کے لئے اپنی اشیاءجانچنے کا یہ بہت بڑا موقع ہے۔ اتنا ہی نہیں 5 جی کی شکل میں جو ملک کا اپنا 5 جی معیار بنایا گیا ہے وہ ملک کے لئے بہت ہی فخر کی بات ہے۔یہ ملک کے گاؤوں میں 5 جی ٹیکنالوجی پہنچانے اور اس  سے منسلک کام میں بڑا کردار ادا کرےگا۔

ساتھیوں،

21ویں صدی کے بھارت میں کنکٹوٹی ملک کی ترقی کی رفتار کو طے کرےگی اس لئے ہر سطح پر کنکٹوٹی کو جدید بناناہی ہوگا اورجدید بنیادی ڈھانچے تیار کرنا ،جدید ٹیکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ استعمال اس کی بنیاد کا کام کریں گے۔5 جی ٹیکنالوجی بھی ملک کی حکمرانی میں زندگی میں سہولت ،کاروبار میں آسانی جیسے مختلف معاملوں میں مثبت تبدیلی لانے والی ہے۔اس سے کھیتی باڑی ،صحت، تعلیم ،بنیادی ڈھانچے اور لاجسٹکس ہر سیکٹر میں ترقی کو بڑھاوا ملے گا ،اس سے سہولیات بھی بڑھیں گی اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اندازہ ہے کہ  5 جی سےآنے والی ڈیڑھ دہائی میں  بھارت کی معیشت میں 450 بلین ڈالر کا اضافہ ہوگایعنی یہ صرف انٹر نیٹ کی رفتار ہی نہیں بلکہ  روزگار پیدا کرنے کی رفتار کو بھی بڑھانے والا ہے ،اس لئے 5 جی کی تکمیل رول آؤٹ ہو اس کے لئے سرکار اور صنعت دونوں کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔اس دہائی کے آخر تک ہم 6جی بھی لانچ کرپائیں اس کے لئے ہماری ٹاسک فورس کام کرناشروع کرچکی ہے۔

ساتھیوں،

ہماری کوشش ہے کہ ٹیلی کام سیکٹر اور5 جی ٹیکنالوجی میں ہمارے اسٹارٹ اپس تیزی سے تیار ہوں ، گلوبل چیمپئن بنیں، ہم مختلف سیکٹروں میں دنیا کے ایک بڑے ڈیزائن پاور ہاؤس ہیں۔ ٹیلی کام آلات مارکٹ میں بھی بھارت کے ڈیزائین چیمپئنس کی اہلیت ہم سبھی جانتے ہیں اب اس کے لئے ضروری آر این ڈی بنیادی ڈھانچے اور عمل کو آسان بنانے پر ہماری خاص توجہ ہے اور اس میں آپ سب کا بھی بہت اہم کردار ہے۔

ساتھیوں،

خود کفالت اور صحت مند مسابقت سماج میں معیشت میں کس طرح کثیر رخی اثرات پیدا کرتی ہیں اس کی ایک بہترین مثال  ہے کہ ہم سب فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا ٹیلی کام سیکٹر ہے۔ہم ذرا گزرے وقتوں پر نظر ڈالیں 2 جی کا کال 2 جی کا کال یعنی ناامیدی اوربے چینی ،بدعنوانی ،پالیسیوں کا لڑ کھڑاناتھا اور آج اس دور سےباہر نکل کر ملک نے 3جی سے 4جی اور اب 5جی اور6جی کی طرف قدم بڑھائے ہیں۔ یہ  تبدیلی بہت آسانی سے بہت ہی شفافیت کے ساتھ ہورہی ہے اور اس میں ٹی آر اے آئی کا بہت اہم کردا رہا ہے۔ریٹ روسپیکٹو  ٹیکسیشن ہو یا اے جی آر جیسے معاملات جب بھی صنعت کے سامنے چلینجز آئے ہیں تو ہم نےاتنی ہی تیزی سے کارروائی کرنے کی کوشش کی ہےاور جہاں جہاں ضرورت پڑی ہم نے اصلاحات بھی کی ہیں۔ ایسی ہی کوششوں نے ایک نیا بھروسہ پیدا کیا ہے ،اسی کانتیجہ  ہے کہ 2014 سے پہلے ایک دہائی سے زیادہ وقت میں جتنا ایف ڈی آئی ٹیلی کام سیکٹر میں آیا ہے اس سے ڈیڑھ گنا سے زیادہ ان 8 سالوں میں آیا ہے۔ بھارت کی صلاحیت پر سرمایہ کاروں کے اسی جذبہ کو مضبوط کرنے کی ذمہ داری ہم سبھی کی ہے۔

ساتھیوں،

گزرے سالوں میں حکومت جس طرح نئی سوچ اور موقف کے ساتھ کام کررہی ہے اس سے آپ سبھی بہت اچھی طرح واقف ہیں ۔دقیہ نوسی سوچ سے آگے نکل کر اب ملک حکومت  کے مکمل موقف کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ۔آج ہم ملک میں ٹیلی ڈینسٹی اور انٹر نیٹ کے استعمال کے معاملے میں دنیا میں سب سے تیزی سے آگے آرہے ہیں تواس میں ٹیلی کام سمیت کئی سیکٹروں کا رول رہا ہے ۔سب سے بڑا رول انٹر نیٹ کا ہے 2014 میں جب ہم آئے تو ہم نے سب کا ساتھ سب کا وکاس اور اس کے لئے ٹیکنالوجی کے وسیع تر استعمال کو اپنی ترجیح بنایا۔ اس کے لئے سب سے ضروری یہ تھا کہ ملک کے کروڑوں لوگ آپس میں جڑیں ،حکومت سے بھی جڑیں ، حکومت کی سبھی اکائیوں چاہے مرکز ہو ،ریاست ہو ،بلدیاتی خود مختار ادارے ہوں وہ بھی ایک طرح سے ایک نامیاتی اکائی بن کر کے آگے بڑھیں ۔آسانی سے کم سے کم خرچ میں جڑیں ، بغیر بدعنوانی سے سرکاری سہولتوں کا فائدہ لے سکیں  اسی لئے ہم نے جن دھن، آدھار ، موبائل کی ٹرینٹی کو ڈائیریکٹ گورننس کا ذریعہ بناناطے کیا۔ موبائل غریب سے غریب کنبے کی بھی پہنچ میں ہواس کے لئے ہم نے ملک میں ہی موبائل فون کی مینو فیکچرنگ پر زور دیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ موبائل مینو فیکچرنگ یونٹ دو سے بڑھ کر دوسو سے زیادہ ہوگئی۔ آج بھارت دنیا کا سب سے بڑا موبائل فون مینو فیکچرر ہے اور جہاں ہم اپنی ضرورت کے لئے فون درآمد کرتے ہیں آج ہم موبائل فون برآمد کے نئے ریکارڈس بنارہے ہیں۔

ساتھیوں،

موبائل کنکٹوٹی بڑھانے کے لئے ضروری تھا کہ کال اور ڈاٹا مہنگا نہ ہو۔اس لئے ہم نے ٹیلی کام مارکیٹ میں مثبت مقابلوں کی حوصلہ افزائی کی،اسی کا نتیجہ ہے کہ ہم دنیا کے سب سے سستے ڈاٹا فراہم کرنے والوں میں سے ایک ہیں ۔آج بھارت دنیا کے ہر گاؤں کو آپٹیکل فائبر سے جوڑنے میں جڑا ہے۔ آپ کو بھی پتہ ہے کہ 2014 سے پہلے بھارت میں سو گرام پنچایتیں بھی آپٹیکل فائبر کنکٹوٹی سے نہیں جڑی تھیں آج ہم قریب قریب پونے دو لاکھ گرام پنچایتوں تک براڈ بینڈ کنکٹوٹی پہنچاچکے ہیں۔ کچھ وقت پہلے ہی حکومت نے ملک کے نکسل سے متاثرہ مختلف قبائلی ضلعوں میں بھی 4جی کنکٹوی پہنچانے کی بہت بڑے منصوبے کو منظوری دی ہے۔ یہ 5جی اور6جی ٹیکنالوجی کے لئے بھی اہم ہے اوراس سے موبائل اور انٹر نیٹ کا دائرہ بھی بڑھے گا۔

ساتھیوں،

فون اور انٹر نیٹ تک بھارتیوں کی  زیادہ سے زیادہ رسائی نے بھارت کی ایک بہت بڑی صلاحیت کو سامنے لا دیا ہے اس نے ملک میں مضبوط ڈیجیٹل ڈھانچے کی بنیاد رکھی ہے ، اس نے ملک میں سروس کی ایک بہت بڑی مانگ پیدا کی ہے ،اس کی ایک بہت بڑی مثال ملک کے کونے کونے میں بنائے گئے 4لاکھ کامن سروس مرکز ہیں۔ ان کامن سروس مرکز سے آج سرکار کی سیکڑوں خدمات گاؤں کے لوگوں تک پہنچ رہی ہیں یہ کامن سروس سینٹرس لاکھوں نوجوانوں کے لئے روزگار کا بھی ذریعہ بنے ہیں ۔ میں پچھلے دنوں گجرات میں ایک پروگرام میں گیا تھا وہاں داہوڑ ضلع جو ایک قبائلی علاقہ ہے جہاں آدیواسیوں کی بڑی تعداد ہے وہاں ایک دیویانگ جوڑا مجھے ملا وہ کامن سروس سینٹر چلاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ میں دیویانگ تھا تو مجھے یہ تھوڑی مدد مل گئی اور میں نے شروع کیااور آج وہ 28،30ہزار روپے قبائلی علاقے کے دور دراز علاقوں میں کامن سروس سینٹر سے کمارہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ قبائلی لوگ بھی یہ خدمات کیاں ہیں، یہ خدمات کیسے حاصل کی جاتی ہیں ، یہ خدمات کتنی معاون ہیں اس کو بھی جانتے ہیں اور ایک دیو یانگ جوڑا وہاں چھوٹے سے گاؤں میں لوگوں کی خدمت بھی کرتا ہے ،روزی روٹی بھی کماتا ہے ،یہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کس طرح سے بدلاؤ لارہی ہے۔

 

ساتھیوں،

ہماری سرکار ٹیکنالوجی کو مسلسل اپ گریڈ کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کے ڈلیوری سسٹم کو بھی لگاتار بہتر بنارہی ہے۔ اس نے ملک میں سروس اور مینو فیکچرنگ دونوں سے جڑے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو بدل دیا ہے ،یہ بھارت کو دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم بنانے کی پیچھے ایک اہم وجہ ہے۔

ساتھیوں ،

حکومت کا مکمل موقف ہمارے ٹی آر اے آئی جیسے تمام ضابطہ کاروں کے لئے بھی موجودہ اور مستقبل کے چیلنجوں کے لئے نمٹنے کے لئے بھی اہم ہے۔آج ریگو لیشن صرف ایک سیکٹر کے دائرے تک ہی محدود نہیں ہے ،ٹیکنالوجی الگ الگ سیکٹر کو ایک دوسرے سے مربوط کررہی ہے اس کے لئے آج مشترکہ ریگو لیشن کی ضرورت ہر کوئی فطری طور ر پرمحسوس کررہا ہے ۔اس کے لئے ضروری ہے کہ تمام ریگولیٹر ساتھ آئیں کامن پلیٹ فارم تیار کریں اور بہتر تال میل کے ساتھ حل نکالیں۔مجھے پورا یقین ہے کہ اس کانفرنس سے اس سمت میں اہم حل نکل کر آئیں گے۔آپ کو ملک کے ٹیلی کام صارفین کے مفادات کا بھی تحفظ کرنا ہے اور دنیا کے سب سے پر کشش ٹیلی کام مارکیٹ کی ترقی کی بھی حوصلہ افزائی کرنی ہے۔ ٹرائی کی سلور جوبلی کانفرنس ہماری آزادی کے امرت کال کی ترقی کو رفتار دینے والی ہو ،توانائی دینے والی ہو،نیا بھروسہ پیدا کرنے والی ہو،ایک نئی چھلانگ کے خواب دیکھنے والی ہواور اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے والی ہو۔اسی امید کے ساتھ آپ سبھی کا بہت بہت شکریہ ! آپ سب کو بہت بہت نیک خواہشات۔بہت بہت شکریہ ۔

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India identifies 102 GWp floating solar potential, eyes new push for reservoir-based projects

Media Coverage

India identifies 102 GWp floating solar potential, eyes new push for reservoir-based projects
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs 11th Governing Council Meeting of NITI Aayog
June 11, 2026
Vision of Viksit Bharat should become the collective resolve of every State, district, block and village: PM
PM calls India's 70 crore youth its asset, urges States to transform this Demographic dividend into Development dividend
PM encourages States to create opportunities for youth and MSMEs and actively attract investments from countries with which India has signed FTAs
States to strengthen ODOP and leverage opportunities in defence manufacturing: PM
PM emphasizes that AI should be viewed as an opportunity and people should be equipped with future ready skills
PM highlights the need for coordinated efforts to address emerging social challenges such as drug abuse and cyber fraud
PM draws attention to concerns arising from El Niño and urges States to conserve water and promote natural farming
CMs/LGs/Administrators congratulate PM Modi on completing 12 years in office
States express solidarity with the Centre to withstand the global geo-political crisis and to strengthen India’s resilience
All States and 5 UTs attend meeting; first time when CMs of all 28 States participate
Theme of meeting : Inclusive Human Development for Viksit Bharat@2047

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 11th Governing Council Meeting of NITI Aayog at Rashtrapati Bhavan Cultural Centre, New Delhi, earlier today. This year’s theme was Inclusive Human Development for Viksit Bharat@2047. It was attended by Chief Ministers, Lt. Governors and Administrators representing 28 States and 5 UTs. This was the first time when Chief Ministers of all 28 States participated in the Governing Council Meeting of NITI Aayog.

Prime Minister noted that at a time when many major economies are facing uncertainty and economic challenges, India’s growth story continues to inspire the world. He emphasized the need to further strengthen the nation’s resolve towards self-reliance and highlighted the importance of adopting and implementing global best practices, particularly in the renewable energy sector.

Underscoring the importance of cooperative federalism, Prime Minister stated that the Centre and the States must work together to achieve the goal of a Viksit Bharat. He stressed that the vision of Viksit Bharat should become the collective resolve of every State, district, block and village.

Highlighting the strength of India’s demographic profile, Prime Minister observed that the country’s youth constitute its greatest asset, with nearly 70 crore Indians below the age of 25 years. Calling this a demographic dividend, he urged States to focus on transforming it into a development dividend through education, skilling and capacity-building initiatives that prepare young people for future opportunities and challenges.

Referring to India’s recently concluded trade agreements with several countries, Prime Minister encouraged States to create opportunities for youth and MSMEs and to equip stakeholders to effectively leverage the benefits arising from these agreements. He also urged States to actively attract investments from partner countries.

Emphasizing women-led development, Prime Minister called upon States to work towards increasing the number of Lakhpati Didis from 3 crore to 6 crore and stressed the importance of ensuring a safe and secure environment for Nari Shakti.

Prime Minister urged States to focus on One District One Product (ODOP) initiatives and develop export-oriented strategies around it. He also identified defence manufacturing as an emerging sector where India is establishing a distinct identity and encouraged States to formulate policies to leverage the opportunities arising from its growth.

Prime Minister highlighted the need for coordinated efforts to address emerging social challenges such as drug abuse and cyber fraud through preventive measures, awareness campaigns and effective governance.

Prime Minister also drew attention to concerns arising from El Niño conditions and appealed to States to promote water conservation and encourage natural and organic farming practices. He noted that the purchase of 11 lakh tonnes of organic manure by farmers during the current Kharif season reflected growing confidence in sustainable agriculture.

Prime Minister emphasized the need to evaluate progress at the district level, particularly through aspirational district parameters. Prime Minister suggested that on similar lines, 100 districts should be identified in the field of agriculture to bring positive results. He urged the States to take lead in this pursuit so that a phenomenal change can be achieved through the aspirational approach.

Prime Minister emphasised the need for a monitoring framework and targeted 100-day and five-year goals towards achieving the vision of Viksit Bharat@2047.

Highlighting the importance of good governance, transparency, and infrastructure for attracting investment, he urged States to focus on branding, ease of doing business, and emerging opportunities in sectors such as data centres and artificial intelligence. He emphasized that AI should be viewed as an opportunity and called for greater efforts to equip people with the skills required for the future economy.

The Chief Ministers/Lt. Governors/Administrators congratulated Prime Minister Modi on completing 12 years in his office. They also expressed solidarity with the Centre to withstand the global geo-political crisis and to strengthen India’s resilience with respect to energy requirements, and sustain its growth trajectory.

Prime Minister noted that the discussions were constructive and reflected the aspirations, hopes, experiences, best practices, and challenges of the States. Prime Minister expressed his gratitude to all the CMs, LGs and Administrators for participating in the meeting and expressed confidence that Together, through cooperation, innovation, and a shared commitment to development, India can accelerate its journey towards a Viksit Bharat by 2047.