Launches multi language and braille translations of Thirukkural, Manimekalai and other classic Tamil literature
Flags off the Kanyakumari – Varanasi Tamil Sangamam train
“Kashi Tamil Sangamam furthers the spirit of 'Ek Bharat, Shrestha Bharat”
“The relations between Kashi and Tamil Nadu are both emotional and creative”.
“India's identity as a nation is rooted in spiritual beliefs”
“Our shared heritage makes us feel the depth of our relations”

ہرہرمہادیو! ونکم کاشی۔ ونکم تمل ناڈو۔

جو لوگ تمل ناڈو سے آرہے ہیں، میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ پہلی بار اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اپنے ایئرفون استعمال کریں۔

اسٹیج پر  موجود اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جی ، مرکزی کابینہ کے میرے ساتھی، کاشی اور تمل ناڈو کے اسکالرس، تمل ناڈو سے کاشی آنے والے میرے بھائیو اور بہنوں، دیگر تمام معززین، خواتین و حضرات۔ آپ سبھی سینکڑوں کلومیٹر کا سفر طے کر کے اتنی بڑی تعداد میں کاشی پہنچے ہیں۔ کاشی میں آپ سب مہمانوں سے زیادہ میرے کنبےکے رکن کے طور پریہاں آئے ہیں۔ میں آپ سب کو کاشی تامل سنگمم میں خوش آمدید کہتا ہوں۔

 

میرے اہل کنبہ،

تمل ناڈو سے کاشی آنے کا مطلب ہے مہادیو کے ایک گھر سے دوسرے گھر میں آنا! تمل ناڈو سے کاشی آنے کا مطلب مدورئی میناکشی  کے یہاں سے کاشی وشالاکشی کے یہاں آنا ہے۔ اسی لیے تمل ناڈو کے لوگوں اور کاشی کے لوگوں کے دلوں میں جو محبت اور جورشتہ موجود ہے وہ الگ اور منفرد ہے۔ مجھے یقین ہے کہ کاشی کے لوگ آپ سب کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ جب آپ یہاں سے جائیں گے تو بابا وشوناتھ کے آشیرواد کے ساتھ ساتھ آپ کاشی کا ذائقہ، کاشی کی ثقافت اور کاشی کی یادیں بھی ساتھ لے جائیں گے۔ آج یہاں مصنوعی ذہانت کے ذریعہ ٹیکنالوجی کا ایک نیا استعمال بھی ہوا ہے۔ یہ ایک نئی شروعات ہے اور امید ہے کہ اس نے میرے لیے آپ تک پہنچنا آسان بنا دیا ہے۔

کیایہ ٹھیک ہے؟ تمل ناڈو کے دوستو، کیا یہ ٹھیک ہے؟ آپ اس سے لطف اندوز ہوئے؟ تو یہ میرا پہلا تجربہ تھا۔ مستقبل میں میں اسے استعمال کروں گا۔ آپ مجھے اپنی رائے دیں گے۔ اب میں ہمیشہ کی طرح ہندی میں بات کرتا ہوں، وہ تمل میں ترجمہ کرنے میں میری مدد کرے گا۔

میرے اہل کنبہ،

آج کنیا کماری- وارانسی تمل سنگمم ٹرین کو یہاں سے جھنڈی دکھا کر روانہ کیا گیا ہے۔ مجھے تھیروکرل، منی میکلئی اور کئی تمل کتابوں کے مختلف زبانوں میں ترجمے کے اجرا کی سعادت بھی حاصل ہوئی ہے۔ سبرامنیہ بھارتی جی، جو کبھی کاشی کے طالب علم تھے، نے لکھا تھا – ‘‘کاشی نگر پلور پیسم اوریتاما کانچیئل کیتپدارکو اور کرووی سیووما’’ وہ کہنا چاہتے تھے کہ اگر کاشی میں جو منترجاپ ہوتے ہیں انہیں تملناڈو کے کانچی شہر میں سننے کا بندوبست ہوجائے تو کتنا اچھا ہوتا۔ آج سبرامنیا بھارتی جی کو ان کی وہ خواہش پوری ہوتی نظر آرہی ہے ۔کاشی تمل سنگمم کی آواز پورے ملک اور پوری دنیا میں گونج رہی ہے۔ میں تمام متعلقہ وزارتوں، یوپی حکومت اور تمل ناڈو کے تمام شہریوں کو اس تقریب کے انعقاد کے لیے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

 

میرے اہل کنبہ،

پچھلے سال کاشی تامل سنگمم شروع ہونے کے بعد سے ہی اس یاترا میں  روز بروز لاکھوں لوگ شامل ہو رہے ہیں۔ مختلف مٹھوں کے دھرم گرو، طلباء، تمام فنکاروں، ادیبوں، کاریگروں، پیشہ ور افراد، بہت سے شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اس سنگمم کے ذریعے باہمی رابطے کا ایک موثر پلیٹ فارم ملا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ اس سنگمم کو کامیاب بنانے کے لیے بنارس ہندو یونیورسٹی اور آئی آئی ٹی مدراس بھی ساتھ آئے ہیں۔ آئی آئی ٹی مدراس نے بنارس کے ہزاروں طلباء کو سائنس اور ریاضی میں آن لائن مدد فراہم کرنے کے لیے ودیاشکتی پہل شروع کی ہے۔ ایک سال کے اندر ہوئے کئی کام اس بات کا ثبوت ہیں کہ کاشی اور تمل ناڈو کے تعلقات جذباتی بھی ہیں اور تعمیری بھی  ہیں۔

میرے اہل کنبہ،

‘کاشی تمل سنگمم’ ایک ایسا ہی مسلسل دھارا ہے، جو ‘ایک بھارت، شریشٹھ بھارت’ کے جذبے کو مسلسل مضبوط کر رہا ہے۔ اسی سوچ کے ساتھ، گنگا-پشکرالو اتسو، یعنی کاشی-تیلگوسنگمم کا بھی کچھ عرصہ قبل کاشی میں اہتمام کیا گیا تھا۔ ہم نے گجرات میں سوراشٹر تامل سنگمم کا بھی کامیابی سے انعقاد کیا تھا۔ ہمارے راج بھونوں نے بھی ‘ایک بھارت ، شریشٹھ بھارت’ کے لیے بہت اچھی پہل کی ہے۔ اب دوسری ریاستوں کے یوم تاسیس کی تقریبات راج بھونوں میں بڑے دھوم دھام سے منائی جاتی ہیں، دوسری ریاستوں کے لوگوں کو مدعو کرکے خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ‘ایک بھارت ، شریشٹھ بھارت’  کا یہ جذبہ اس وقت بھی نظر آیا تھا جب ہم پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں داخل ہوئے تھے۔ پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں مقدس سینگول نصب کیا گیا ہے۔ آدی نمہ کے سنتوں کی رہنمائی میں یہی سینگول 1947 میں اقتدار کی منتقلی کی علامت بنا تھا۔ یہ ‘ایک بھارت شریسٹھا بھارت’ کے جذبے کا یہی بہاؤ ہے، جو آج ہماری قوم کی روح کو سیراب کر رہا ہے۔

 

میرے اہل کنبہ،

ہم ہندوستانی، ایک ہونے کے باوجود، بولیوں، زبانوں، لباس، کھان پان، کتنے ہی تنوع سے بھرے ہوئے ہیں۔ ہندوستان کے اس تنوع کی جڑیں اس روحانی شعور میں پیوست ہیں، جس کے لیے تمل میں کہاگیا ہے – ‘نیریلامہ گنگائی، نیل میلامہ کاشی’۔ یہ جملہ عظیم پانڈیا راجا‘پراکرم پانڈین’  کا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر جل گنگاجل ہے، ہندوستان کی ہر زمین کاشی ہے۔

جب ہمارے عقیدے کے مراکز کاشی پر شمال سے حملہ آوروں نے حملہ کیا تو راجا پراکرم پانڈین نے تینکاشی اور شیوکاشی میں یہ کہتے ہوئے مندر بنائے کہ کاشی کو مٹایا نہیں جا سکتا۔ اگر آپ دنیا کی کسی بھی تہذیب پر نظر ڈالیں تو آپ کو تنوع میں قربت کی ایسی سادہ اور عمدہ شکل شاید ہی کہیں ملے گی! حال ہی میں جی20 سمٹ کے دوران بھی ہندوستان کے اس تنوع کو دیکھ کر دنیا حیران رہ گئی۔

میرے اہل کنبہ،

دنیا کے دیگر ممالک میں قوم ایک سیاسی تشریح رہی ہے، لیکن ہندوستان بحیثیت قوم روحانی عقائد سے بنا ہے۔ ہندوستان کو آدی شنکراچاریہ اور رامانج اچاریہ جیسے سنتوں نے متحد کیا ہے، جنہوں نے اپنے سفر کے ذریعے ہندوستان کے قومی شعور کو بیدار کیا۔ تمل ناڈو کے آدی نمہ سنت بھی صدیوں سے کاشی جیسے شیو مقامات کا سفر کرتے رہے ہیں۔ کمارگوروپر نے کاشی میں مٹھ اور مندر قائم کیے تھے۔ تروپن دال آدینمہ اس جگہ سے اس قدر جڑے ہوئے ہیں کہ آج بھی اپنے نام کے آگے کاشی لکھتے ہیں۔ اسی طرح، تمل روحانی ادب میں ‘پاڈل پیٹرا تھلمہ’ کے بارے میں لکھا ہے کہ جو شخص ان کے درشن کو آتا ہے وہ کیداریا تروکیدارم سے ترونیل ویلی تک سفر کرلیتا ہے۔ ان یاتراؤں اور تیرتھ یاتراؤں کے ذریعے ہندوستان ہزاروں برسوں سے ایک قوم کی شکل میں  ثابت قدم اور لافانی رہا ہے۔

مجھے خوشی ہے کہ کاشی تمل سنگمم کے ذریعے ملک کے نوجوانوں میں اس قدیم روایت کے لیے جوش و خروش بڑھ گیا ہے۔ تمل ناڈو سے بڑی تعداد میں لوگ، وہاں کے نوجوان کاشی آ رہے ہیں۔ یہاں سے ہم پریاگ، ایودھیا اور دیگرتیرتھوں میں بھی جا رہے ہیں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ کاشی تمل سنگمم آنے والے لوگوں کے لیے ایودھیا کے درشن کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ مہادیو کے ساتھ ہی رامیشورم قائم کرنے والے بھگوان رام کے درشن کا موقع ملنا حیرت انگیز ہے۔

 

میرے اہل کنبہ،

ہمارے یہاں کہا جاتا ہے-

جانےبنونہ ہوئی پرتیتی۔بنوپرتیتی ہوئی نہیں پریتی!!

یعنی جاننے سے یقین بڑھتا ہے اور یقین سے محبت بڑھتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کے بارے میں، ایک دوسرے کی روایات کے بارے میں، اپنے مشترکہ ورثے کے بارے میں جانیں۔ جنوب اور شمال میں کاشی اور مدورائی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ دونوں عظیم مندروں کے شہر ہیں۔ دونوں عظیم تیرتھ استھل ہیں۔ مدورئی وئیگائی کے ساحل پر واقع ہے اور کاشی گنگئی کے ساحل پر!تمل  ادب میں  وئیگئی اور گنگئی دونوں کے بارے میں لکھا گیا ہے۔ جب ہم اس ورثے کو جانتے ہیں تو ہمیں اپنے رشتوں کی گہرائی کا بھی احساس ہوتا ہے۔

 

میرے اہل کنبہ،

مجھے یقین ہے کہ کاشی تامل سنگمم کا یہ سنگم ہماری وراثت کو مضبوط کرتا رہے گا ۔ ایک بھارت، شریشٹھ بھارت کے جذبے کو مضبوط کرتا رہے گا۔ میں آپ سب کے کاشی میں خوشگوار قیام کی خواہش کرتے ہوئے اپنی بات ختم کرتا ہوں اور ساتھ ہی میں تمل ناڈو کے مشہور گلوکار بھائی شری رام کوکاشی آنے پر تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے کاشی آکر ہم سب کو جذبات  سے مغلوب کر دیا۔میں انہیں مبارکباد دیتا ہوں اور کاشی کے لوگ بھی تمل سنگر شری رام کو  جس عقیدت کے جذبے  سے سن رہے تھے ،اس میں بھی ہمارے اتحاد کی طاقت کے درشن کررہے تھے ۔ میں ایک بار پھر کاشی تمل سنگمم کی اس یاترا ، مسلسل یاترا کے لیے نیک  خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔ اور آپ سب کا بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں !

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
First multilingual Indian speech recognition model trained on 65 languages and dialects released

Media Coverage

First multilingual Indian speech recognition model trained on 65 languages and dialects released
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
وزیر اعظم نے تقسیم کے ہولناک واقعات کی یاد کے دن تقسیم سے متاثرہ افراد کی بہادری کو خراج تحسین پیش کیا
August 14, 2026
وزیر اعظم نے محنت اور انسانی جدوجہد کی طاقت کو اجاگر کرتے ہوئے سنسکرت سبھاشتم شیئر کیا 

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج کہا کہ تقسیم ہند کی ہولناکیوں کی یاد کے دن کے موقع پر ہم ان تمام لوگوں کی ہمت اور حوصلے کو یاد کرتے ہیں جو تقسیم سے متاثر ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاریخ کا وہ المناک باب تھا جس نے بے شمار زندگیاں اجاڑ دیں، خاندانوں کو اپنے گھر بار سے محروم ہونا پڑا، متعددلوگوں کو اپنوں کو کھونا پڑا اور لوگوں کو بے پناہ مصائب برداشت کرنے پڑے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس کے باوجود لوگوں نے تمام تر مشکلات پر قابو پاتے ہوئے ازسرنو اپنی زندگیاں سنواریں، نامساعد حالات کو کامیابی میں بدلا اور ملک کی ترقی میں گراں قدر تعاون دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کی زندگی کےمشکلوں بھرا سفر ہمیں انسانی عزم و حوصلے کی قوت کا احساس دلاتے ہیں۔ جناب مودی نے امید ظاہر کی کہ یہ دن ہمارے ملک میں ہم آہنگی اور بھائی چارے کے تحفظ کے عزم کو مزید مضبوط کرے گا اور ہمیں ایک ساتھ مل کر ایک وکست بھارت کی تعمیر کی سمت کام کرنے کی ترغیب دے گا۔

وزیر اعظم نے ان تمام ہم وطنوں کو دلی خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے اس ہولناک دور سے نکل کر ملک کی ترقی میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنی ہمت اور صلاحیت کے ذریعے ان لوگوں نے ثابت کیا کہ نامساعد حالات میں بھی عزم و ارادوں کو حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ جناب نریندر مودی نے سبھی لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ملک میں خیرسگالی اور باہمی یکجہتی کے جذبے کو مزید مضبوط کریں۔

وزیر اعظم نے ایک سنسکرت سبھاشتم شیئر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ محنت، جدوجہد اور لگن کے ذریعے مختلف فنون، علوم، سائنسی و تکنیکی مہارتیں، ہنرمندی اور اختراعات فروغ پاتی ہیں اور کامیابی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس لیے انسان کو قسمت کے سہارے بیٹھے نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ہمت، محنت اور مسلسل کوشش کے ساتھ اپنے مقاصد کی جانب ثابت قدمی سے آگے بڑھنا چاہیے، کیونکہ انسانی جدوجہد ہی تقدیر کی تشکیل کرتی ہے۔

وزیر اعظم نے ایکس پر سلسلہ وار پوسٹس میں لکھا:

آج ہم تقسیم ہند# کی ہولناکیوں کی یادکادن منا رہے ہیں۔ ہم ان تمام لوگوں کی ہمت و حوصلے کو یاد کرتے ہیں جو تقسیم سے متاثر ہوئے تھے۔ یہ تاریخ کا ایک ایسا لمحہ تھا جس نے بے شمار زندگیاں تہس نہس کر دیں… خاندان اجڑ گئے، اپنوں سے بچھڑنا پڑا اور لوگوں کو بے پناہ مصائب اور مشکلات برداشت کرنا پڑے۔

اس کے باوجود لوگوں نے ان حالات پر قابو پاتے ہوئے صفرسطح سے اپنی زندگیاں دوبارہ سنواریں، مشکلات کو کامیابی میں بدلا اور ملک کی ترقی میں بے حد اہم کردار ادا کیا۔ ان کی زندگی کے سفر ہمیں انسانی عزم و حوصلے کی قوت کا احساس دلاتے ہیں۔’’یہ دن ہمارے ملک میں باہمی ہم آہنگی اور بھائی چارے کے تحفظ کے عزم کو مزید مضبوط کرے اور ہم سب کو مل کر ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے کام کرنے کی ترغیب دے۔‘‘

’تقسیم ہند کی ہولناکیوں کی یاد کے دن کے موقع پر ان تمام ہم وطنوں کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں، جنہوں نے اس ہولناک دور سے نکل کر ملک کی ترقی میں گراں قدر کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنی ہمت اور صلاحیت سے یہ ثابت کیا کہ نامساعد حالات میں بھی اپنے عزم و ارادوں کو کس طرح پایۂ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ آئیے، خیرسگالی اور قومی یکجہتی کے جذبے کو مزید مضبوط کریں۔‘

उद्यमस्य प्रसादेन दृश्यन्ते विविधाः कलाः।

कातरा एव जल्पन्ति यद् भाव्यं तद् भविष्यति॥”

محنت، جدوجہد اور لگن کے ذریعے ہی مختلف فنون، علوم، سائنسی و تکنیکی مہارتیں، ہنرمندی اور اختراعات فروغ پاتی ہیں اور کامیابی کی راہ ہموار کرتی ہیں۔ اس لیے انسان کو قسمت کے سہارے بیٹھے نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ہمت، محنت اور مسلسل کوشش کے ساتھ اپنے مقاصد کی جانب ثابت قدمی سے آگے بڑھنا چاہیے، کیونکہ انسان کی جدوجہد ہی تقدیر کو تشکیل دیتی ہے۔