Share
 
Comments
India has provided medicines to more than 150 countries during this time of Covid: PM Modi
India has remained firm in its commitment to work under the SCO as per the principles laid down in the SCO Charter: PM Modi
It is unfortunate that repeated attempts are being made to unnecessarily bring bilateral issues into the SCO agenda, which violate the SCO Charter and Shanghai Spirit: PM

عزت مآب، روس کے صدر اور آج کی  ہماری کانفرنس  کے صدر،

عزت مآب،

میرے ساتھی دوستو،

سب سے پہلے میں ایس سی او کی  بہترین قیادت کے لئے اور  کووڈ۔ 19 عالمی وبا کے چیلنجوں اور  روکاوٹوں کے باوجود  اس کانفرنس کے انعقاد کے لئے صدر پتن کو مبارکباد دینا چاہوں گا۔ مجھے خوشی ہے کہ  ہم ان مشکل حالات کے باوجود ایس سی او کے تحت تعاون اور یکجہتی کے  ایک جامع اور  ترقی  پذیر ایجنڈے کو آگے بڑھا سکے۔

عزت مآب،

ایس سی او میں بھارت کے لئے یہ  ایک اہم سال ہے۔ ہم پہلی بار ایک سربراہ سطح کی  میٹنگ ایس سی او  سربراہان مملکت کی کونسل  کا انعقاد کرنے جارہے ہیں۔ اس میٹنگ کے لئے ایک  وسیع ایجنڈا تیار  کیا گیا ہے جس میں  اقتصادی تعاون کے معاملات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ ہم  نے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم میں اپنے  زبردست  تجربات سے واقف کرانے کے لئے اختراع اور اسٹارٹ اپس پر اسپیشل ورکنگ گروپ قائم کرنے کی تجویز رکھی ہے۔ ہم نے  روایتی  طریقہ علاج پر  ورکنگ گروپ کی بھی تجویز رکھی ہے تاکہ ایس سی او ممالک میں  روایتی اور قدیم  طریقہ علاج کے علم   اور دور حاضر کے طریقہ علاج میں ہورہی ترقی  ایک دوسرے کی تکمیل کرسکیں۔

عزت مآب،

بھارت کا پختہ یقین ہے کہ اقتصادی  کثیر جہتی نظام  اور قومی صلاحیت سازی  کو ملانے سے ایس سی او ممالک عالمی وبا سے ہوئے معاشی نقصان کے بحران  سے نکل سکتے ہیں۔ہم  عالمی وبا کے بعد کی دنیا میں ’آتم نربھر بھارت‘ کے نظریہ کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ’آتم نربھر بھارت‘ عالمی معیشت کے لئے  ایک فورس ملٹی پلائر ثابت ہوگا اور ایس سی او  علاقے کی اقتصادی ترقی کو رفتار عطا کرے گا۔

عزت مآب،

ایس سی او علاقے سے بھارت کا گہرا ثقافتی اور تاریخی تعلق رہا ہے۔ ہمارے ابا و اجاد نے  اس مشترکہ تاریخی اور ثقافتی وراثت کو اپنے بلا تکان اور مسلسل رابطوں سے زندہ رکھا۔ انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور، چابہار پورٹ، اشگابات سمجھوتے جیسے اقدام کنکٹی وٹی کے تئیں ہندوستان کے مضبوط عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔ بھارت کا ماننا ہے کہ کنکٹی وٹی کو  اور زیادہ گہراکرنے کے لئے یہ ضروری ہےکہ  ایک دوسرے کی خود مختاری اور  علاقائی یکجہتی کے احترام کے بنیادی اصولوں کے ساتھ آگے بڑھا جائے۔

عزت مآب،

اقوام متحدہ نے 75 سال پورے کئے ہیں لیکن متعدد کامیابیوں کے بعد بھی  اقوام متحدہ کا  بنیادی مقصد ابھی ادھورہ ہے۔ عالمی وبا کی اقتصادی اور سماجی  اذیت  سے نبرد آزما دنیا کی توقع ہے کہ اقوام متحدہ کے نظام میں  مکمل تبدیلی آئے۔

ہمارے یہاں  شاستروں میں کہا گیا ہے ’’پریورتن میو اِستھر مستی‘‘۔ تبدیلی ہی واحد استحکام ہے۔ بھارت 2021 سے اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں ایک غیر مستقل رکن کے طور پر حصہ لے گا۔ ہماری توجہ عالمی  نظام حکومت میں متوقع تبدیلیاں  لانے پر مرکوز ہوگی۔

ایک ’اصلاح شدہ ملٹی لٹرالزم‘ جو آج کی عالمی حقیقتوں کو ظاہر کرے، جو تمام متعلقین کی توقعات ، موجودہ دور کے چیلنجوں اور  انسانی بہبود جیسے  موزوعات پر  بات چیت کرے۔ اس کوشش میں ہمیں ایس سی او رکن ممالک  کی مکمل حمایت ملنے کی توقع ہے۔

عزت مآب،

سروے بھونتوسکھنا، سروے سنتو نرامیا۔

سبھی سکھی اور سبھی امراض سے پاک رہیں۔یہ امن کا منتر  بھارت کے تمام  انسانی  بہبود کے تئیں عقیدت کی علامت ہے۔ غیر معمولی عالمی وبا کے اس  انتہائی مشکل وقت میں  بھارت کی فارما صنعت نے  150 سے زیادہ ملکوں کو ضروری دوائیں بھیجی ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے  ویکسن  تیار کرنے والے ملک کے طور پر بھارت اپنی ویکسین  پروڈکشن اور تقسیم کرنے کی صلاحیت کا استعمال اس بحران سے لڑنے میں  پوری نوع انسانی کی مدد کرنے کے لئے کرے گا۔

عزت مآب،

بھارت کا امن ، سلامتی اور  خوشحالی پر پختہ یقین ہے اور ہم نے ہمیشہ دہشت گردی ، غیر قانونی ہتھیاروں کی اسمگلنگ،ڈرگس اور منی لانڈرنگ کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ بھارت ایس سی او چارٹر میں  دیئے گئے اصولوں کے مطابق  ایس سی او کے تحت کام کرنے  کی اپنی عہد بندی میں مستحکم رہا ہے۔

لیکن یہ بدقسمتی ہے کہ ایس سی او ایجنڈے میں بار بار غیر ضروری طور پر دو طرفہ معاملات کو لانے کی کوششیں ہورہی ہیں، جو ایس سی او چارٹر اور شنگھائی اسپرٹ کی خلاف ورزی  کرتے ہیں۔ اس طرح کی کوششیں ایس سی او کی تشریح کرنے والی اتفاق رائے اور تعاون کے جذبے کے خلاف ہے۔

عزت مآب،

میں سال 2021 میں  ایس سی او کی  20 ویں سالگرہ پر   ’’ایس سی او ثقافتی سال‘‘ منانے کے لئے مکمل  حمایت کرتا ہوں۔ بھارت کا قومی میوزیم اس سال  ہماری مشترکہ بودھ وراثت پر پہلی ایس سی او  نمائش منعقد  کرنے کے عمل میں  ہے۔ بھارت کی ساہتیہ اکادمی نے روسی اور چینی زبان میں دس   بھارتی ادبی  تخلیقات کے ترجمے کا کام مکمل کیا ہے۔

اور مجھے یقین ہے کہ اگلے سال  بھارت عالمی وبا سے پاک ماحول میں ایس سی او فوڈ فیسٹول کی میزبانی کرے گا۔ مجھے خوشی ہے کہ تمام  ایس سی او ممالک کے افسروں اور سفارت کاروں نے حال ہی میں بیجنگ میں  ایس سی او سکریٹریٹ کے تعاون سے  منعقد کئے گئے یوگاکے پروگرام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

عزت مآب،

میں ایک بار پھر صدر پتن کو ان کی بہترین اور کامیاب قیادت کے لئے  مبارکباد دیتا ہوں اور  اس میٹنگ کے لئے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں صدر اموملی رحمون کو اگلے برس کے لئے ایس سی او کی صدارت کرنے کے  واسطے  مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔

اور تاجکستان کی کامیاب صدارت کے لئے بھارت کے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کراتا ہوں۔

بہت بہت شکریہ۔

 

'من کی بات ' کے لئے اپنے مشوروں سے نوازیں.
Modi Govt's #7YearsOfSeva
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
What Narendra Modi’s 20 uninterrupted years in office mean (By Prakash Javadekar)

Media Coverage

What Narendra Modi’s 20 uninterrupted years in office mean (By Prakash Javadekar)
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi's message for SCO-CSTO Outreach Summit on Afghanistan
September 17, 2021
Share
 
Comments

The 21st meeting of the SCO Council of Heads of State was held on 17 September 2021 in Dushanbe in hybrid format.

The meeting was chaired by H.E. Emomali Rahmon, the President of Tajikistan.

Prime Minister Shri Narendra Modi addressed the Summit via video-link. At Dushanbe, India was represented by External Affairs Minister, Dr. S. Jaishankar.

In his address, Prime Minister highlighted the problems caused by growing radicalisation and extremism in the broader SCO region, which runs counter to the history of the region as a bastion of moderate and progressive cultures and values.

He noted that recent developments in Afghanistan could further exacerbate this trend towards extremism.

He suggested that SCO could work on an agenda to promote moderation and scientific and rational thought, which would be especially relevant for the youth of the region.

He also spoke about India's experience of using digital technologies in its development programmes, and offered to share these open-source solutions with other SCO members.

While speaking about the importance of building connectivity in the region, Prime Minister stressed that connectivity projects should be transparent, participatory and consultative, in order to promote mutual trust.

The SCO Summit was followed by an Outreach session on Afghanistan between SCO and the Collective Security Treaty Organisation (CSTO). Prime Minister participated in the outreach session through a video-message.

In the video message, Prime Minister suggested that SCO could develop a code of conduct on 'zero tolerance' towards terrorism in the region, and highlighted the risks of drugs, arms and human traficking from Afghanistan. Noting the humaniatrian crisis in Afghanistan, he reiterated India's solidarity with the Afghan people.