’’ہماری حکومت کا مقصد شہریوں کو درپیش مسائل کا مستقل حل فراہم کرنا اور انہیں بااختیار بنانا ہے‘‘
’’ہم ایک جدید ہندوستان کی تعمیر کے لیے بنیادی ڈھانچے، پیمانے اور رفتار کی اہمیت کو سمجھتے ہیں‘‘
’’ہماری سوچ بکھری نہیں ہے ہم ٹوکن ازم پر یقین نہیں رکھتے‘‘
’’ہم کامیاب ہوئے ہیں اور ہم عام شہریوں کو بااختیار بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں‘‘
’’ڈیجیٹل انڈیا کی کامیابی نے پوری دنیا کی توجہ مبذول کرائی ہے‘‘
’’ہم نے قومی ترقی پر توجہ دی ہے اور علاقائی امنگوں پر بھی توجہ دی ہے‘‘
’’یہ ہمارا عزم ہے کہ ہندوستان 2047 تک ’وکستی بھارت‘ بن جائے گا‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج راجیہ سبھا میں پارلیمنٹ سے صدرجمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کا جواب دیا۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں ’وکست بھارت‘ کا وژن پیش کرتے ہوئے دونوں ایوانوں کی رہنمائی کے لیے صدر جمہوریہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنا جواب شروع کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پہلے کے دور کے برعکس ہماری حکومت کا مقصد شہریوں کے لیے مستقل حل فراہم کرنا اور انہیں بااختیار بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پہلے دور میں لوگوں کے مسائل کا حل فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری تھی لیکن ان کی ترجیحات اور ارادے مختلف تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج ہم مسائل کے مستقل حل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔وزیر اعظم نے پانی کے مسئلے کی مثال دیتے ہوئے وضاحت کی کہ ٹوکن ازم کے بجائے پانی کا بنیادی ڈھانچہ بنانے، واٹر گورننس، کوالٹی کنٹرول، پانی کے تحفظ اور آبپاشی کی اختراع کے لیے ایک جامع مربوط نقطہ نظر کو استعمال کیا گیا ہے۔ اسی طرح کے اقدامات نے مالی شمولیت، جن دھن - آدھار- موبائل کے ذریعے ڈی بی ٹی، پی ایم گتی شکتی ماسٹر پلان کے ذریعے بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی اور نفاذ میں مستقل حل پیدا کیے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ’’ہم جدید ہندوستان کی تعمیر کے لیے بنیادی ڈھانچہ، پیمانے اور رفتار کی اہمیت کو سمجھتے ہیں‘‘۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں ورکنگ کلچر، ٹیکنالوجی کی طاقت سے بدل گیا ہے اور حکومت رفتار بڑھانے اور اس کے پیمانے کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مہاتما گاندھی کہا کرتے تھے ’شرے‘ (میرٹ) اور ’پری‘ (پیارے)۔ ہم نے ’شرے‘ (میرٹ) کا راستہ چنا ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی طرف سے منتخب کردہ راستہ وہ نہیں ہے جہاں آرام کرنا ترجیح ہو، بلکہ وہ راستہ ہے جہاں ہم عام لوگوں کی امنگوں کو پورا کرنے کے لیےہم دن رات انتھک محنت کرتے ہیں۔

وزیر اعظم نے روشنی ڈالی کہ حکومت نے آزادی کا امرت کال میں معموری حاصل کرنے کے لیے اہم قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے حکومت کی کوششوں کا اعادہ کیا جہاں 100 فیصد فوائد ملک کے ہر مستحق تک پہنچیں۔ جناب مودی نے کہا’’یہ حقیقی سیکولرازم ہے۔ اس سے امتیازی سلوک اور بدعنوانی کا خاتمہ ہوتا ہے‘‘۔

وزیراعظم نے کہا کہ کئی دہائیوں سے قبائلی برادریوں کی ترقی کو نظر انداز کیا گیا۔ ہم نے ان کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی۔’’ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے دور میں قبائلی بہبود کے لیے ایک علیحدہ وزارت بنائی گئی تھی اور قبائلی بہبود کے لیے مشترکہ کوششیں کی گئی تھیں‘‘۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ’’چھوٹے کسان ہندوستان کے زرعی شعبے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ہم ان کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں‘‘۔ وزیراعظم نے کہا کہ چھوٹے کسانوں کو طویل عرصے تک نظر انداز کیا گیا۔ موجودہ حکومت نے ان کی ضروریات پر توجہ دی اور چھوٹے دکانداروں اور کاریگروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے کسانوں کے لیے بہت سے مواقع پیدا کیے ہیں۔ وزیر اعظم نے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی بھی وضاحت کی اور ہندوستان میں خواتین کی زندگی کے ہر مرحلے پر بااختیار بنانے، وقار کو یقینی بنانے اور زندگی گزارنے میں آسانی پیدا کرنے کے لیے حکومت کے اقدام کے بارے میں بات کی۔

’’ہمارے سائنس دانوں اور اختراع کاروں کی مہارت کے ساتھ، ہندوستان دنیا کا فارما ہب بن رہا ہے‘‘۔ وزیر اعظم نے تبصرہ کرتے ہوئے ان بدقسمتی واقعات کی طرف توجہ مبذول کروائی جب کچھ لوگوں نے ہندوستان کے سائنسدانوں، اختراع کاروں اور ویکسین بنانے والوں کو نیچا دکھانے کی کوشش کی۔ وزیر اعظم نے اٹل انوویشن مشن اور ٹنکرنگ لیب جیسے اقدامات کے ذریعے سائنسی مزاج کو ابھارنے کی بات کی۔ انہوں نے نوجوانوں اور سائنسدانوں کو حکومت کی طرف سے پیدا کیے گئے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور پرائیویٹ سیٹلائٹ لانچ کرنے پر سراہا۔ ’’ہم کامیاب ہوئے ہیں اور عام شہریوں کو بااختیار بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں‘‘۔

انہوں نے کہا ’’ملک آج بھی ڈیجیٹل لین دین میں عالمی رہنما ہے۔ ڈیجیٹل انڈیا کی کامیابی نے آج پوری دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی ہے‘‘۔ وزیر اعظم نے کہا۔ انہوں نے اس وقت کو یاد کیا جب ہندوستان موبائل فون درآمد کرتا تھا جبکہ آج ہمیں فخر ہے کہ موبائل فون دوسرے ممالک کو برآمد کیے جارہے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا ’’یہ ہمارا عزم ہے کہ ہندوستان 2047 تک ’وکستی بھارت‘ بن جائے گا‘‘۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت نے ان مواقع کو حاصل کرنے کے لیے بہت سے اہم اقدامات کیے ہیں جن کی ہم تلاش کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے اختتامی کلما ت ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’’بھارت بڑی چھلانگ لگانے کے لیے تیار ہے اور اب پیچھے مڑ کر نہیں دیکھے گا‘‘۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
UPI — an eventful journey

Media Coverage

UPI — an eventful journey
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs 53rd PRAGATI Meeting
August 25, 2026
PM reviews six key infrastructure projects across the Railway, Road and Power sectors
Projects reviewed span across 9 States with cumulative investment of more than ₹30,000 crore
PM says Infrastructure projects should be viewed as an integrated whole, rather than as individual sections or packages
PM calls for continuous reforms across all stages of project implementation and a proactive work culture across Ministries and States
PM says Speed must go hand-in-hand with quality
While reviewing AgriStack, PM emphasises the need to leverage the latest digital technologies including AI to derive greater value from agricultural data
On cyber fraud and ‘digital arrest’, PM stresses training, public awareness, cyber-safety education and coordinated action

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 53rd meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform for Pro-Active Governance and Timely Implementation, at Seva Teerth earlier today.

During the meeting, Prime Minister reviewed six key infrastructure projects across the Railway, Road and Power sectors, spanning nine States with a cumulative cost of more than ₹30,000 crore. The projects, significant for strengthening connectivity, supporting industrial and economic activity and improving public services, were reviewed with particular emphasis on adherence to timelines, inter-agency coordination, resolution of pending issues and expeditious completion.

Prime Minister emphasised that delays in infrastructure projects have consequences beyond cost escalation, as they also postpone the benefits intended for citizens, businesses and the economy. He said that infrastructure projects should be viewed and monitored as an integrated whole, rather than as isolated sections, stretches or packages. He noted that progress in individual packages should ultimately translate into timely completion and operationalisation of the entire project. Ministries and States were therefore asked to adopt an end-to-end approach, and address critical gaps that could delay the overall commissioning and delivery of benefits. He called for fostering a proactive work culture across Ministries and State Governments, with greater ownership at every level of project implementation.

Prime Minister stressed the need to explore common utility corridors for infrastructure services, wherever feasible, particularly while planning major transport and infrastructure projects. He called upon Ministries and States to examine such integrated approaches at the planning stage itself, keeping in view their technical and economic feasibility.

Prime Minister said that speed of execution must be accompanied by uncompromising quality. He called upon Ministries, States and implementing agencies to adopt modern technologies and strengthen quality assurance and supervision at every stage.

While reviewing AgriStack under the Digital Agriculture Mission, Prime Minister emphasised the need to leverage the latest digital technologies, including Artificial Intelligence, to derive greater value from agricultural data. He stressed that the data ecosystem should be effectively utilised across the agricultural value chain, from input planning to processing, enabling more informed interventions, better targeting and data-driven decision-making. He appreciated the efforts of the States and the Central Government in building the AgriStack ecosystem and called for further strengthening its use for delivering better outcomes for farmers.

During the review of cyber fraud cases, including incidents of digital arrest, Prime Minister said that prevention must be strengthened through a sustained focus on training, awareness and education. He stressed the need for continuous and targeted public-awareness campaigns, particularly for senior citizens, youth and other vulnerable sections, to familiarise them with common fraud techniques, warning signs and safe digital practices. He also called for regular capacity-building of personnel involved so that emerging modes of cyber fraud are identified and acted upon swiftly.