ایک ساتھ دھیان کرنے سے مؤثر نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ یہ یکجہتی اور اتحاد کی طاقت کا احساس وکست بھارت کی ایک بڑی بنیاد ہے
’ایک زندگی، ایک مشن‘ کی بہترین مثال، آچاریہ گوئنکا کا صرف ایک ہی مشن تھا – وپاسنا
وپاسنا خود مشاہدہ کے ذریعے خود کو تبدیل کرنے کا راستہ ہے
آج کے مشکل وقت میں جب نوجوان کام کی زندگی میں توازن، طرز زندگی اور دیگر مسائل کی وجہ سے تناؤ کا شکار ہو چکے ہیں تو وپاسنا اور بھی اہم ہو گیا ہے
بھارت کو وپاسنا کو مزید قابل قبول بنانے میں پیش قدمی کرنے کی ضرورت ہے

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو پیغام کے ذریعے ایس این گوئنکا کی 100ویں یوم پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات کی اختتامی تقریب سے خطاب کیا۔

ایک سال قبل وپاسنا مراقبہ کے گرو، آچاریہ شری ایس این گوئنکا کی پیدائش کی صد سالہ تقریبات کے آغاز کو یاد کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ قوم نے ’امرت مہوتسو‘ منایا اور ساتھ ہی ساتھ کلیان متر گوئنکا کے نظریات کو بھی یاد کیا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ آج جب یہ تقریبات اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہیں، ملک ایک وکست بھارت کی قراردادوں کو پورا کرنے کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بھگوان بدھ کے منتر کا حوالہ دیتے ہوئے جسے اکثر گروجی استعمال کرتے تھے، وزیر اعظم مودی نے اس کا مطلب بیان کیا اور کہا کہ ”ایک ساتھ دھیان کرنے سے مؤثر نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ یکجہتی اور اتحاد کی طاقت کا یہ احساس وکست بھارت کی ایک بڑی بنیاد ہے۔ انہوں نے سال بھر ایک ہی منتر کا پرچار کرنے کے لیے سب کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

وزیر اعظم نے شری گوئنکا کے ساتھ اپنے رابطوں کو یاد کیا اور کہا کہ اقوام متحدہ میں عالمی مذہبی کانفرنس میں پہلی ملاقات کے بعد وہ گجرات میں متعدد بار ملے۔ جناب مودی نے اپنے آپ کو خوش قسمت قرار دیا کہ انہوں نے اپنے آخری مراحل میں انہیں دیکھا اور آچاریہ کو قریب سے جاننے اور سمجھنے کا شرف حاصل کیا۔ وزیر اعظم نے کہا، ”ایک زندگی، ایک مشن“ کی بہترین مثال، شری گوئنکا کا صرف ایک ہی مشن تھا – وپسنا! انہوں نے سب کو وپاسنا کا علم فراہم کیا“۔

 

وزیر اعظم نے نشاندہی کی کہ اگرچہ وپاسنا قدیم ہندوستانی طرز زندگی کا پوری دنیا کے لیے ایک شاندار تحفہ ہے، لیکن یہ ورثہ ملک میں ایک طویل عرصے سے کھو گیا تھا اور ایسا لگتا ہے کہ وپاسنا کو سکھانے اور سیکھنے کا فن اب اختتام تک آ گیا ہے۔ تاہم، وزیر اعظم نے بتایا کہ میانمار میں 14 سال کی تپسیا کے بعد، شری گوئنکا نے علم حاصل کیا اور بھارت کی قدیم وپاسنا کی شان کے ساتھ وطن واپس آئے۔ وپاسنا کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا، ”یہ خود مشاہدہ کے ذریعے خود کی تبدیلی کا راستہ ہے۔“ اگرچہ ہزاروں سال پہلے متعارف کرائے جانے پر اس کی بہت اہمیت تھی، وزیر اعظم نے اس یقین کی تصدیق کی کہ یہ آج کی زندگی میں اور بھی زیادہ متعلقہ ہو گیا ہے کیونکہ اس میں دنیا کے موجودہ چیلنجوں کو حل کرنے کی طاقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ گروجی کی کوششوں کی وجہ سے دنیا کے 80 سے زائد ممالک نے مراقبہ کی اہمیت کو سمجھا اور اسے اپنایا۔ ”آچاریہ شری گوئنکا نے ایک بار پھر وپاسنا کو عالمی شناخت دی۔ آج ہندوستان پوری طاقت کے ساتھ اس قرارداد کو نئی وسعت دے رہا ہے“، وزیر اعظم نے اقوام متحدہ میں بین الاقوامی یوگا ڈے منانے کی ہندوستان کی تجویز کے بعد 190 سے زیادہ ممالک کی حمایت کو یاد کرتے ہوئے یہ بات کہی۔

اگرچہ یہ ہندوستان کے آباؤ اجداد ہی تھے جنہوں نے وپاسنا یوگا کے عمل پر تحقیق کی تھی، وزیر اعظم نے اس ستم ظریفی کی نشاندہی کی جہاں اگلی نسلیں اس کی اہمیت کو بھول گئیں۔ گرو جی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے تبصرہ کیا، ”ایک صحت مند زندگی اپنے تئیں ہم سب کی ایک بڑی ذمہ داری ہے“۔ وپاسنا کے فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کے مشکل وقت میں جب نوجوان کام کی زندگی میں توازن، مروجہ طرز زندگی اور دیگر مسائل کی وجہ سے تناؤ کا شکار ہو چکے ہیں تو وپاسنا کی مشق کرنا اور بھی اہم ہو گیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ مائیکرو اور نیوکلیئر خاندانوں کے افراد کے لیے بھی ایک حل ہے جہاں بوڑھے والدین بہت زیادہ دباؤ میں رہتے ہیں۔ انہوں نے سبھی پر زور دیا کہ وہ بزرگ افراد کو اس طرح کے اقدامات سے جوڑیں۔

وزیر اعظم نے اپنی مہمات کے ذریعے ہر کسی کی زندگی کو پرامن، خوش اور ہم آہنگ بنانے کے لیے آچاریہ گوئنکا کی کوششوں کی مزید تعریف کی۔ وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ آنے والی نسلیں ان مہمات سے مستفید ہوں اور اسی لیے انہوں نے اپنے علم کو وسعت دی۔ وہ یہیں نہیں رکے بلکہ ہنرمند اساتذہ بھی پیدا کیے۔ وزیر اعظم نے ایک بار پھر وپاسنا کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ روح کا سفر ہے اور اپنے اندر گہرائی میں ڈوبنے کا ایک طریقہ ہے۔ تاہم، یہ صرف ایک صنف نہیں ہے بلکہ ایک سائنس ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ ہم اس سائنس کے نتائج سے واقف ہیں، اب ہمیں جدید سائنس کے معیار کے مطابق اس کے ثبوت دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ ”جب کہ اس سمت میں پوری دنیا میں پہلے ہی بہت کچھ کیا جا رہا ہے، بھارت کو دنیا میں زیادہ سے زیادہ فلاح و بہبود لانے کے لیے نئی تحقیق کا استعمال کرتے ہوئے اسے مزید قابل قبول بنانے میں پیش قدمی کرنے کی ضرورت ہے“، انہوں نے مزید کہا۔

اپنے خطاب کے اختتام پر، وزیر اعظم نے آچاریہ ایس این گوئنکا کی صد سالہ تقریبات کے اس سال کو سب کے لیے ایک متاثر کن وقت قرار دیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ انسانی خدمت کے لیے ان کی کوششوں کو آگے بڑھایا جائے گا۔

 

Click here to read full text speech

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
UPI — an eventful journey

Media Coverage

UPI — an eventful journey
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs 53rd PRAGATI Meeting
August 25, 2026
PM reviews six key infrastructure projects across the Railway, Road and Power sectors
Projects reviewed span across 9 States with cumulative investment of more than ₹30,000 crore
PM says Infrastructure projects should be viewed as an integrated whole, rather than as individual sections or packages
PM calls for continuous reforms across all stages of project implementation and a proactive work culture across Ministries and States
PM says Speed must go hand-in-hand with quality
While reviewing AgriStack, PM emphasises the need to leverage the latest digital technologies including AI to derive greater value from agricultural data
On cyber fraud and ‘digital arrest’, PM stresses training, public awareness, cyber-safety education and coordinated action

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 53rd meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform for Pro-Active Governance and Timely Implementation, at Seva Teerth earlier today.

During the meeting, Prime Minister reviewed six key infrastructure projects across the Railway, Road and Power sectors, spanning nine States with a cumulative cost of more than ₹30,000 crore. The projects, significant for strengthening connectivity, supporting industrial and economic activity and improving public services, were reviewed with particular emphasis on adherence to timelines, inter-agency coordination, resolution of pending issues and expeditious completion.

Prime Minister emphasised that delays in infrastructure projects have consequences beyond cost escalation, as they also postpone the benefits intended for citizens, businesses and the economy. He said that infrastructure projects should be viewed and monitored as an integrated whole, rather than as isolated sections, stretches or packages. He noted that progress in individual packages should ultimately translate into timely completion and operationalisation of the entire project. Ministries and States were therefore asked to adopt an end-to-end approach, and address critical gaps that could delay the overall commissioning and delivery of benefits. He called for fostering a proactive work culture across Ministries and State Governments, with greater ownership at every level of project implementation.

Prime Minister stressed the need to explore common utility corridors for infrastructure services, wherever feasible, particularly while planning major transport and infrastructure projects. He called upon Ministries and States to examine such integrated approaches at the planning stage itself, keeping in view their technical and economic feasibility.

Prime Minister said that speed of execution must be accompanied by uncompromising quality. He called upon Ministries, States and implementing agencies to adopt modern technologies and strengthen quality assurance and supervision at every stage.

While reviewing AgriStack under the Digital Agriculture Mission, Prime Minister emphasised the need to leverage the latest digital technologies, including Artificial Intelligence, to derive greater value from agricultural data. He stressed that the data ecosystem should be effectively utilised across the agricultural value chain, from input planning to processing, enabling more informed interventions, better targeting and data-driven decision-making. He appreciated the efforts of the States and the Central Government in building the AgriStack ecosystem and called for further strengthening its use for delivering better outcomes for farmers.

During the review of cyber fraud cases, including incidents of digital arrest, Prime Minister said that prevention must be strengthened through a sustained focus on training, awareness and education. He stressed the need for continuous and targeted public-awareness campaigns, particularly for senior citizens, youth and other vulnerable sections, to familiarise them with common fraud techniques, warning signs and safe digital practices. He also called for regular capacity-building of personnel involved so that emerging modes of cyber fraud are identified and acted upon swiftly.