وزیر اعظم نے دستور ساز اسمبلیوں کے ارکان کو خراج تحسین پیش کیا
’’ایوان میں ارکان کا طرز عمل اور اس میں سازگار ماحول اسمبلی کی پیداواری صلاحیت کو براہ راست متاثر کرتا ہے‘‘
’’کچھ پارٹیاں اپنے ارکان کو سمجھانے کے بجائے ان کے قابل اعتراض رویے کی حمایت کرتی ہیں‘‘
’’اب ہم سزا یافتہ بدعنوان افراد کی عوامی طور پر تحسین کرتے ہوئے دیکھتے ہیں ، جو عاملہ ، عدلیہ اور دستور کی سالمیت کے لیے نقصان دہ امرہے ‘‘
’’بھارت کی ترقی ہماری ریاستوں کی ترقی پر منحصر ہے، اور ریاستوں کی ترقی کا انحصار ان کے قانون ساز اور عاملہ اداروں کے ذریعے اجتماعی طور پر ترقیاتی اہداف طے کرنے کے عزم پر ہے ‘‘
’’عدالتی نظام کو آسان بنانے سے عام آدمی کو درپیش چیلنج کم ہوئے ہیں اور زندگی کی آسانی میں اضافہ ہوا ہے‘‘

 وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو پیغام کے ذریعے آل انڈیا پریزائیڈنگ آفیسرز کانفرنس سے خطاب کیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے دستور ساز اسمبلی کے ارکان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا ’’75 ویں یوم جمہوریہ کی تقریبات کے تناظر میں یہ کانفرنس مزید اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ ہمارے دستور کے 75 سال کی تکمیل کا بھی موقع ہے۔‘‘

دستور ساز اسمبلی سے سیکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا ، ’’ہماری دستور ساز اسمبلی سے سیکھنے کے لیے ہمارے لیے بہت کچھ ہے۔ دستور ساز اسمبلی کے ارکان کی ذمہ داری تھی کہ وہ مختلف خیالات، موضوعات اور آراء کے درمیان اتفاق پیدا کریں اور وہ اس پر پورا اترے۔‘‘ پریزائیڈنگ افسروں کے رول پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ وہ ایک بار پھر دستور ساز اسمبلی کے نظریات سے تحریک حاصل کریں۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ اپنے متعلقہ ادوار میں ایک ایسی وراثت چھوڑنے کی کوشش کریں جو آنے والی نسلوں کے لیے کو متاثر کرسکے۔

قانون ساز اداروں کی فعالیت کو بڑھانے کی ضرورت پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا ، ’’آج کے منظر نامے میں قانون ساز اسمبلیوں اور کمیٹیوں کی کارکردگی کو بڑھانا اہم ہے جہاں محتاط شہری ہر نمائندے کی جانچ پڑتال کرتے ہیں۔‘‘

قانون ساز اداروں کے اندر شائستگی برقرار رکھنے کے معاملے پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’ایوان میں ارکان کا طرز عمل اور اس میں سازگار ماحول اسمبلی کی پیداواری صلاحیت کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ اس کانفرنس سے حاصل ہونے والی ٹھوس تجاویز پیداواری صلاحیت بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گی۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ایوان میں نمائندوں کا طرز عمل ایوان کے تشخص کا فیصلہ کرتا ہے۔ انھوں نے اس حقیقت پر افسوس کا اظہار کیا کہ پارٹیاں اپنے ارکان کے قابل اعتراض رویے  پر نکیر کرنے کے بجائے ان کی حمایت میں سامنے آتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ پارلیمنٹ یا اسمبلیوں کے لیے کوئی اچھی صورت حال نہیں ہے۔

 

عوامی زندگی میں بدلتے ہوئے اصولوں پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے جوابدہی کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ ماضی میں ایوان کے کسی رکن کے خلاف بدعنوانی کے الزامات ان کو عوامی زندگی سے خارج کرنے کا سبب بنتے تھے۔ تاہم اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ سزا یافتہ بدعنوان افراد کی عوامی طور پر تحسین کی جاتی ہے یہ بات ایگزیکٹو، عدلیہ اور دستور کی سالمیت کے لیے نقصان دہ ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کانفرنس کے دوران اس معاملے پر تبادلہ خیال کرنے اور ٹھوس تجاویز دینے کی اہمیت پر زور دیا۔

بھارت کی ترقی کی تشکیل میں ریاستی حکومتوں اور ان کی قانون ساز اسمبلیوں کے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے زور دے کر کہا کہ بھارت کی ترقی ہماری ریاستوں کی ترقی پر منحصر ہے۔ اور ریاستوں کی ترقی کا دارومدار ان کے قانون ساز اور ایگزیکٹو اداروں کے عزم پر ہوتا ہے کہ وہ اجتماعی طور پر اپنے ترقیاتی اہداف طے کریں۔ اقتصادی ترقی کے لیے کمیٹیوں کو بااختیار بنانے کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا ، ’’آپ کی ریاست کی اقتصادی ترقی کے لیے کمیٹیوں کو بااختیار بنانا بہت ضروری ہے۔ یہ کمیٹیاں طے شدہ اہداف کو حاصل کرنے کے لیے جتنی زیادہ سرگرمی سے کام کریں گی، ریاست اتنی ہی آگے بڑھے گی۔‘‘

قوانین کو ہموار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے غیر ضروری قوانین کو منسوخ کرنے میں مرکزی حکومت کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ گزشتہ دہائی میں مرکزی حکومت نے دو ہزار سے زیادہ ایسے قوانین کو منسوخ کیا ہے جو ہمارے نظام کے لیے نقصان دہ تھے۔ عدالتی نظام کو آسان بنانے سے عام آدمی کو درپیش چیلنجز میں کمی آئی ہے اور زندگی گزارنے میں آسانی پیدا ہوئی ہے۔ وزیر اعظم مودی نے پریزائیڈنگ افسروں پر زور دیا کہ وہ غیر ضروری قوانین اور شہریوں کی زندگیوں پر ان کے اثرات پر توجہ دیں اور مزید کہاکہ ان کو ہٹانے سے نمایاں مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

 

ناری شکتی وندن قانون کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے خواتین کی شرکت اور نمائندگی کو بڑھانے کے مقصد سے تجاویز پر تبادلہ خیال کی حوصلہ افزائی کی۔ انھوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کی نمائندگی بڑھانے کی کوششوں کو بھارت جیسے ملک میں کمیٹیوں میں بڑھایا جانا چاہیے۔ اسی طرح انھوں نے کمیٹیوں میں نوجوانوں کی شرکت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر اعظم مودی نے زور دے کر کہا کہ ہمارے نوجوان نمائندوں کو پالیسی سازی میں اپنے خیالات پیش کرنے اور حصہ لینے کا زیادہ سے زیادہ موقع ملنا چاہیے۔

آخر میں وزیر اعظم مودی نے پریزائیڈنگ افسروں سے 2021 میں اپنے خطاب میں پیش کردہ ون نیشن ون لیجسلیٹو پلیٹ فارم کی بات یاد دلائی اور خوشی کا اظہار کیا کہ پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیاں ای ودھان اور ڈیجیٹل سنسد پلیٹ فارم کے ذریعے اس مقصد پر کام کر رہی ہیں۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Towards sustainable energy transition

Media Coverage

Towards sustainable energy transition
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister congratulates Mr. Anutin Charnvirakul on his election as Prime Minister of the Kingdom of Thailand
March 20, 2026

Prime Minister Shri Narendra Modi today extended his heartiest congratulations to Mr. Anutin Charnvirakul on his election as the Prime Minister of the Kingdom of Thailand.

The Prime Minister expressed his keen interest in working closely with the new Thai leadership to further strengthen the multifaceted India-Thailand Strategic Partnership. Shri Modi noted that the ties between the two nations are deeply rooted in a shared civilizational heritage, close cultural connections, and vibrant people-to-people ties. He further affirmed that India and Thailand remain united in their shared aspirations for peace, progress, and prosperity for their respective peoples.

The Prime Minister wrote on X:

"Heartiest congratulations to Mr. Anutin Charnvirakul on his election as Prime Minister of the Kingdom of Thailand. I look forward to working closely with him. Together, we will further deepen the multifaceted India-Thailand Strategic Partnership. Our ties are rooted in shared civilisational heritage, close cultural connect and vibrant people-to-people ties. India and Thailand remain united in our shared aspirations for peace, progress and prosperity for our peoples."