"بھارت اور سری لنکا سفارتی اور اقتصادی تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کر رہے ہیں"
"فیری سروس تمام تاریخی اور ثقافتی رابطوں کو زندہ کرتی ہے"
"رابطہ کاری صرف دو شہروں کو قریب لانے کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ہمارے ممالک کو بھی قریب لاتی ہے، ہمارے لوگوں کو قریب کرتی ہے اور ہمارے دلوں کو بھی قریب کرتی ہے
"ترقی اور ترقی کے لئے شراکت داری ہندوستان - سری لنکا دو طرفہ تعلقات کے مضبوط ترین ستونوں میں سے ایک ہے"
"سری لنکا میں ہندوستانی امداد سے نفاذ کردہ منصوبوں نے لوگوں کی زندگیوں کو چھو لیا ہے"

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو پیغام کے ذریعہ ناگاپٹنم، ہندوستان اور کنکیسن تھورائی، سری لنکا کے درمیان فیری خدمات کے آغاز سے خطاب کیا۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان اور سری لنکا سفارتی اور اقتصادی تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کر رہے ہیں اور ناگاپٹنم اور کنکیسن تھورائی کے درمیان فیری سروس کا آغاز تعلقات کو مضبوط بنانے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

ہندوستان اور سری لنکا کے درمیان ثقافت، تجارت اور تہذیب کی مشترکہ تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نےکہا کہ ناگاپٹنم اور آس پاس کے شہر سری لنکا سمیت کئی ممالک کے ساتھ سمندری تجارت کے لیے جانے جاتے ہیں اور پومپوہار کی تاریخی بندرگاہ کا ذکر ایک مرکز کے طور پر ملتا ہے۔ قدیم تامل ادب میں انہوں نے سنگم کے زمانے کے ادب کے بارے میں بھی بات کی جیسے پٹن پلائی اور منی میکالائی جو دونوں ممالک کے درمیان کشتیوں اور بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے عظیم شاعر سبرامنیم بھارتی کےگیت’سندھو ندھیئن مسائی‘ کا بھی ذکر کیا ، جس میں ہندوستان اور سری لنکا کو ملانے والے ایک پل کا ذکر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیری سروس ان تمام تاریخی اور ثقافتی رابطوں کو زندہ کرتی ہے۔

 

صدر وکرما سنگھے کے حالیہ دورے کے دوران، وزیر اعظم نے بتایا کہ رابطہ کاری کے مرکزی موضوع کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کے لیے مشترکہ طور پر ایک وژن دستاویز معرض وجودہ میں آیا ہے۔ انہوں نے کہا "رابطہ کاری صرف دو شہروں کو قریب لانے کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ہمارے ممالک کو بھی قریب لاتی ہے، ہمارے لوگوں کو قریب کرتی ہے اور ہمارے دلوں کو بھی قریب کرتی ہے”، جناب مودی نے اس بات پر زور دیا کہ رابطوں سے تجارت، سیاحت اور عوام کے درمیان روابط میں اضافہ ہوتا ہے جس سے دونوں ممالک کے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔

وزیر اعظم نے 2015 میں اپنے سری لنکا کے دورے کو یاد کیا جب دہلی اور کولمبو کے درمیان براہ راست پروازیں شروع کی گئی تھیں۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ بعدازاں ، سری لنکا سے یاتریوں کے شہر کشی نگر میں پہلی بین الاقوامی پرواز کی لینڈنگ کا جشن بھی منایا گیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ چنئی اور جافنا کے درمیان براہ راست پروازیں 2019 میں شروع ہوئیں، اور اب ناگاپٹنم اور کنکیسن تھورائی کے درمیان فیری سروس اس سمت میں ایک اور اہم قدم ہے۔

"رابطہ کاری کے لیے ہمارا وژن ٹرانسپورٹ کے شعبے سے آگے ہے"، وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان اور سری لنکا فن ٹیکنالوجی اور توانائی جیسے وسیع شعبوں میں قریبی تعاون کرتے ہیں۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ڈیجیٹل ادائیگی یو پی آئی کی وجہ سے ہندوستان میں ایک عوامی تحریک اور زندگی کا ایک طریقہ بن گئی ہے، جناب مودی نے بتایا کہ دونوں حکومتیں یو پی آئی اور لنکا پے کو جوڑ کر فن ٹیک سیکٹر کنیکٹیویٹی پر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے توانائی  کے تحفظ اور بھروسے کو بڑھانے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے گرڈ کو جوڑنے پر بھی زور دیا کیونکہ توانائی کی حفاظت ہندوستان اور سری لنکا دونوں کے ترقیاتی سفر کے لیے اہم ہے۔

وزیر اعظم مودی نے اس بات پر زور دیا کہ ترقی اور ترقی کے لیے شراکت داری ہند- سری لنکا باہمی تعلقات کے مضبوط ترین ستونوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا، "ہمارا وژن ترقی کو سب تک لے جانا ہے، کسی کو پیچھے نہیں چھوڑنا"۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سری لنکا میں ہندوستانی امداد سے نافذ کئے گئے منصوبوں نے لوگوں کی زندگیوں کو چھو لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شمالی صوبے میں ہاؤسنگ، پانی، صحت اور ذریعہ معاش سے متعلق کئی منصوبے مکمل ہو چکے ہیں اور کنکیسن تھورائی ہاربر کی جدید کاری کے لیے تعاون فراہم کرنے پر خوشی کا اظہار کیا۔ شمال سے جنوب کو ملانے والی ریلوے لائنوں کی بحالی ہو؛ مشہور جافنا ثقافتی مرکز کی تعمیر؛ پورے سری لنکا میں ایمرجنسی ایمبولینس سروس کا آغاز؛ یا ڈک اویا کے ملٹی اسپیشلٹی ہسپتال میں ہم سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کا پریاس کے وژن کے ساتھ کام کر رہے ہیں” ۔ 

حال ہی میں ہندوستان کی میزبانی میں منعقدہ جی 20 سربراہی اجلاس کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے وسودھیوا کٹمبکم کے ہندوستان کے وژن کو اجاگر کیا جس کا بین الاقوامی برادری نے خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس وژن کا ایک حصہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ ترقی اور خوشحالی کو بانٹنے کو ترجیح دے رہا ہے۔ انہوں نے جی 20 سربراہی اجلاس کے دوران ہندوستان-مشرق وسطی-یورپ اقتصادی راہداری کے آغاز کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ ایک اہم رابطہ کاریڈور ہے جو پورے خطے پر بڑے پیمانے پر اثر ڈالے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سری لنکا کے عوام بھی اس سے مستفید ہوں گے کیونکہ اس سے  ہمارے دونوں ممالک کے درمیان کثیر جہتی رابطہ مضبوط ہوا ہے۔ وزیر اعظم نے آج فیری سروس کے کامیاب آغاز پر سری لنکا کے صدر، حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے رامیشورم اور تلیمنار کے درمیان فیری سروس کو دوبارہ شروع کرنے کے سمت میں  کام کرنے کے بارے میں بھی بات کی۔ وزیر اعظم نے کہا ، "ہندوستان اپنے لوگوں کے باہمی فائدے اور اپنے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سری لنکا کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے" ۔

 

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
GST collection rises 12.5% YoY to ₹1.68 lakh crore in February, gross FY24 sum at ₹18.4 lakh crore

Media Coverage

GST collection rises 12.5% YoY to ₹1.68 lakh crore in February, gross FY24 sum at ₹18.4 lakh crore
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
If Bihar becomes Viksit, India will also become Viksit: PM Modi
March 02, 2024
Dedicates to nation and lays foundation stone for multiple oil and gas projects worth about Rs 1.48 lakh crore
Dedicates to nation and lays foundation stone for several development projects in Bihar worth more than Rs 13,400 crores
Inaugurates Hindustan Urvarak & Rasayan Ltd (HURL) fertilizer plant in Barauni
Inaugurates and lays foundation stone for several railway projects worth about Rs 3917 crores
Dedicates to nation ‘Bharat Pashudhan’ - a digital database for livestock animals in the country
Launches ‘1962 Farmers App’
“Bihar is full of enthusiasm and confidence due to power of double engine government”
“If Bihar becomes Viksit, India will also become Viksit”
“History is proof that India has remained empowered when Bihar and Eastern India have been prosperous”
“True social justice is achieved by ‘santushtikaran’, not ‘tushtikaran’. True social justice is achieved by saturation”
“Bihar is bound to be Viksit with the double efforts of the double-engine government”

बिहार के राज्यपाल श्रीमान राजेंद्र अर्लेकर जी, मुख्यमंत्री श्रीमान नीतीश कुमार जी, मंत्रिमंडल के मेरे सहयोगी गिरिराज सिंह जी, हरदीप सिंह पुरी जी, उपमुख्यमंत्री विजय सिन्हा जी, सम्राट चौधरी जी, मंच पर विराजमान अन्य सभी महानुभाव और बेगुसराय से पधारे हुए उत्साही मेरे प्यारे भाइयों और बहनों।

जयमंगला गढ़ मंदिर और नौलखा मंदिर में विराजमान देवी-देवताओं को मैं प्रणाम करता हूं। मैं आज विकसित भारत के लिए विकसित बिहार के निर्माण के संकल्प के साथ बेगुसराय आया हूं। ये मेरा सौभाग्य है कि इतनी विशाल संख्या में आप जनता-जनार्दन, आपके दर्शन करने का मुझे सौभाग्य मिला है।

साथियों,

बेगूसराय की ये धरती प्रतिभावान युवाओं की धरती है। इस धरती ने हमेशा देश के किसान और देश के मज़दूर, दोनों को मजबूत किया है। आज इस धरती का पुराना गौरव फिर लौट रहा है। आज यहां से बिहार सहित, पूरे देश के लिए 1 लाख 60 हज़ार करोड़ रुपए उससे भी अधिक के प्रोजेक्ट्स का शिलान्यास और लोकार्पण हुआ है, डेढ़ लाख करोड़ से भी ज्यादा। पहले ऐसे कार्यक्रम दिल्ली के विज्ञान भवन में होते थे, लेकिन आज मोदी दिल्ली को बेगुसराय ले आया है। और इन योजनाओं में करीब-करीब 30 हज़ार करोड़ रुपए के प्रोजेक्ट्स सिर्फ और सिर्फ ये मेरे बिहार के हैं। एक ही कार्यक्रम में सरकार का इतना बड़ा निवेश ये दिखाता है कि भारत का सामर्थ्य कितना बढ़ रहा है। इससे बिहार के नौजवानों को यहीं पर नौकरी के, रोजगार के अनेकों नए अवसर बनेंगे। आज के ये प्रोजेक्ट, भारत को दुनिया की तीसरी बड़ी आर्थिक महाशक्ति बनाने का माध्यम बनेंगे। आप रूकिए भैया बहुत हो गया आपका प्यार मुझे मंजूर है, आप रूकिए, आप बैठिए, आप चेयर पर से नीचे आ जाइए, प्लीज, मेरी आपसे प्रार्थना है, आप बैठिए...हां। आप बैठ जाइए, वो कुर्सी पर बैठ जाइए आराम से, थक जाएंगे। आज की ये परियोजनाएं, बिहार में सुविधा और समृद्धि का रास्ता बनाएंगी। आज बिहार को नई ट्रेन सेवाएं मिली हैं। ऐसे ही काम है, जिसके कारण आज देश पूरे विश्वास से कह रहा है, बच्चा-बच्चा कह रहा है, गांव भी कह रहा है, शहर भी कह रहा है- अबकी बार...400 पार!, अबकी बार...400 पार!, अबकी बार...400 पार! NDA सरकार...400 पार!

साथियों,

2014 में जब आपने NDA को सेवा का अवसर दिया, तब मैं कहता था कि पूर्वी भारत का तेज़ विकास ये हमारी प्राथमिकता है। इतिहास गवाह रहा है, जब-जब बिहार और ये पूर्वी भारत, समृद्ध रहा है, तब-तब भारत भी सशक्त रहा है। जब बिहार में स्थितियां खराब हुईं, तो देश पर भी इसका बहुत बुरा असर बड़ा। इसलिए मैं बेगुसराय से पूरे बिहार की जनता को कहता हूं- बिहार विकसित होगा, तो देश भी विकसित होगा। बिहार के मेरे भाई-बहन, आप मुझे बहुत अच्छी तरह जानते हैं, और जब आपके बीच आया हूं तो मैं दोहराना चाहता हूं- ये वादा नहीं है- ये संकल्प है, ये मिशन है। आज जो ये प्रोजेक्ट बिहार को मिले हैं, देश को मिले हैं, वो इसी दिशा में बहुत बड़ा कदम हैं। इनमें से अधिकतर पेट्रोलियम से जुड़े हैं, फर्टिलाइज़र से जुड़े हैं, रेलवे से जुड़े हैं। ऊर्जा, उर्वरक और कनेक्टिविटी, यही तो विकास का आधार हैं। खेती हो या फिर उद्योग, सब कुछ इन्हीं पर निर्भर करता है। और जब इन पर तेजी से काम चलता है, तब स्वाभाविक है रोजगार के अवसर भी बढ़ते हैं, रोजगार भी मिलता है। आप याद कीजिए, बरौनी का जो खाद कारखाना बंद पड़ चुका था, मैंने उसे फिर से चालू करने की गारंटी दी थी। आपके आशीर्वाद से मोदी ने वो गारंटी पूरी कर दी। ये बिहार सहित पूरे देश के किसानों के लिए बहुत बड़ा काम हुआ है। पुरानी सरकारों की बेरुखी के कारण, बरौनी, सिंदरी, गोरखपुर, रामागुंडम, वहां जो कारखाने थे, वो बंद पड़े थे, मशीन सड़ रहे थे। आज ये सारे कारखाने, यूरिया में भारत की आत्मनिर्भरता की शान बन रहे हैं। इसलिए तो देश कहता है- मोदी की गारंटी यानि गारंटी पूरा होने की गारंटी। मोदी की गारंटी यानि गारंटी जे पूरा होय छय !

साथियों,

आज बरौनी रिफाइनरी की क्षमता के विस्तार का काम शुरु हो रहा है। इसके निर्माण के दौरान ही, हजारों श्रमिकों को महीनों तक लगातार रोजगार मिला। ये रिफाइनरी, बिहार में औद्योगिक विकास को नई ऊर्जा देगी और भारत को आत्मनिर्भर बनाने में मदद करेगी। मुझे आपको ये बताते हुए खुशी है कि बीते 10 साल में पेट्रोलियम और प्राकृतिक गैस से जुड़े 65 हज़ार करोड़ रुपए से अधिक के प्रोजेक्ट्स बिहार को मिले हैं, जिनमें से अनेक पूरे भी हो चुके हैं। बिहार के कोने-कोने में जो गैस पाइपलाइन का नेटवर्क पहुंच रहा है, इससे बहनों को सस्ती गैस देने में मदद मिल रही है। इससे यहां उद्योग लगाना आसान हो रहा है।

साथियों,

आज हम यहां आत्मनिर्भर भारत से जुड़े एक और ऐतिहासिक पल के साक्षी बने हैं। कर्नाटक में केजी बेसिन के तेल कुओं से तेल का उत्पादन शुरु हो चुका है। इससे विदेशों से कच्चे तेल के आयात पर हमारी निर्भरता कम होगी।

साथियों,

राष्ट्रहित और जनहित के लिए समर्पित मजबूत सरकार ऐसे ही फैसले लेती है। जब परिवारहित और वोटबैंक से बंधी सरकारें होती हैं, तो वो क्या करती हैं, ये बिहार ने बहुत भुगता है। अगर 2005 से पहले के हालात होते तो बिहार में हज़ारों करोड़ की ऐसी परियोजनाओं के बारे में घोषणा करने से पहले सौ बार सोचना पड़ता। सड़क, बिजली, पानी, रेलवे की क्या स्थिति थी, ये मुझसे ज्यादा आप जानते हैं। 2014 से पहले के 10 वर्षों में रेलवे के नाम पर, रेल के संसाधनों को कैसे लूटा गया, ये पूरा बिहार जानता है। लेकिन आज देखिए, पूरी दुनिया में भारतीय रेल के आधुनिकीकरण की चर्चा हो रही है। भारतीय रेल का तेज़ी से बिजलीकरण हो रहा है। हमारे रेलवे स्टेशन भी एयरपोर्ट की तरह सुविधाओँ वाले बन रहे हैं।

साथियों,

बिहार ने दशकों तक परिवारवाद का नुकसान देखा है, परिवारवाद का दंश सहा है। परिवारवाद और सामाजिक न्याय, ये एक दूसरे के घोर विरोधी हैं। परिवारवाद, विशेष रूप से नौजवानों का, प्रतिभा का, सबसे बड़ा दुश्मन है। यही बिहार है, जिसके पास भारत रत्न कर्पूरी ठाकुर जी की एक समृद्ध विरासत है। नीतीश जी के नेतृत्व में NDA सरकार, यहां इसी विरासत को आगे बढ़ा रही है। वहीं दूसरी तरफ RJD-कांग्रेस की घोर परिवारवादी कुरीति है। RJD-कांग्रेस के लोग, अपने परिवारवाद और भ्रष्टाचार को उचित ठहराने के लिए, दलित, वंचित, पिछड़ों को ढाल बनाते हैं। ये सामाजिक न्याय नहीं, बल्कि समाज के साथ विश्वासघात है। ये सामाजिक न्याय नय, समाज क साथ विश्वासघात छय। वरना क्या कारण है कि सिर्फ एक ही परिवार का सशक्तिकरण हुआ। और समाज के बाकी परिवार पीछे रह गए? किस तरह यहां एक परिवार के लिए, युवाओं को नौकरी के नाम पर उनकी जमीनों पर कब्जा किया गया, ये भी देश ने देखा है।

साथियों,

सच्चा सामाजिक न्याय सैचुरेशन से आता है। सच्चा सामाजिक न्याय, तुष्टिकरण से नहीं संतुष्टिकरण से आता है। मोदी ऐसे ही सामाजिक न्याय, ऐसे ही सेकुलरिज्म को मानता है। जब मुफ्त राशन हर लाभार्थी तक पहुंचता है, जब हर गरीब लाभार्थी को पक्का घर मिलता है, जब हर बहन को गैस, पानी का नल, घर में टॉयलेट मिलता है, जब गरीब से गरीब को भी अच्छा और मुफ्त इलाज मिलता है, जब हर किसान लाभार्थी के बैंक खाते में सम्मान निधि आती है, तब सैचुरेशन होता है। और यही सच्चा, सामाजिक न्याय है। बीते 10 वर्षों में मोदी की ये गारंटी, जिन-जिन परिवारों तक पहुंची हैं, उनमें से सबसे अधिक दलित, पिछड़े, अतिपिछड़े वही मेरे परिवार ही हैं।

साथियों,

हमारे लिए सामाजिक न्याय, नारीशक्ति को ताकत देने का है। बीते 10 सालों में 1 करोड़ बहनों को, मेरी माताएं-बहनें इतनी बड़ी तादाद में आशीर्वाद देने आई हैं, उसका कारण है। 1 करोड़ बहनों को हम लखपति दीदी बना चुके हैं। मुझे खुशी है इसमें बिहार की भी लाखों बहनें हैं, जो अब लखपति दीदी बन चुकी हैं। और अब मोदी ने 3 करोड़ बहनों को, आंकड़ा सुनिए जरा याद रखना 3 करोड़ बहनों को लखपति दीदी बनाने की गारंटी दी है। हाल में हमने बिजली का बिल जीरो करने और बिजली से कमाई करने की भी योजना शुरु की है। पीएम सूर्यघर- मुफ्त बिजली योजना। इससे बिहार के भी अनेक परिवारों को फायदा होने वाला है। बिहार की NDA सरकार भी बिहार के युवा, किसान, कामगार, महिला, सबके लिए निरंतर काम कर रही है। डबल इंजन के डबल प्रयासों से बिहार, विकसित होकर रहेगा। आज इतना बड़ा विकास का उत्सव हम मना रहे हैं, और आप इतनी बड़ी तादाद में विकास के रास्ते को मजबूत कर रहे हैं, मैं आपका आभारी हूं। एक बार फिर आप सभी को विकास की, हजारों करोड़ की इन परियोजनाओं के लिए मैं बहुत-बहुत बधाई देता हूं। इतनी बड़ी तादाद में माताएं-बहनें आई हैं, उनको विशेष रूप से प्रणाम करता हूं। मेरे साथ बोलिए-

भारत माता की जय !

दोनों हाथ ऊपर करके पूरी ताकत से बोलिए-

भारत माता की जय !

भारत माता की जय !

भारत माता की जय !

बहुत-बहुत धन्यवाद।