PM to visit Kaziranga National Park
PM to participate in ‘Viksit Bharat Viksit North East’ programme in Itanagar
PM to inaugurate, dedicate and lay the foundation stone of multiple development projects worth Rs 55,600 crore in Manipur, Meghalaya, Nagaland, Sikkim, Tripura and Arunachal Pradesh
PM to lay the foundation stone of Dibang Multipurpose Hydropower Project in Arunachal Pradesh
PM to dedicate Sela Tunnel to the nation; Tunnel will provide all weather connectivity to Tawang; Foundation stone of the Tunnel was laid by the PM in February 2019
For strengthening industrial development in Northeast, PM to launch UNNATI scheme worth about Rs 10,000 crore
PM to inaugurate Sabroom Land Port; it will facilitate movement of passengers and cargo between Indian and Bangladesh; Foundation stone of this project was also laid by PM in March 2021
Sectors like rail, road, health, housing, education, IT, Power, Oil and Gas to get boost in North East
PM to unveil the statue of renowned Ahom general Lachit Borphukan in Jorhat
PM to inaugurate, dedicate and lay the foundation stone of multiple development projects worth more than Rs 17,500 Crore in Assam
PM to inaugurate about 5.5 lakh homes built under PMAY-G across Assam
Rail, Health and Oil and Gas to also be major focus areas in Assam
PM to particpate in ‘Viksit Bharat Viksit West Bengal’ programme in Siliguri
PM to inaugurate and dedicate to nation multiple projects of rail and road sector worth more than Rs. 4500 crores in West Bengal
PM to perform Darshan and Pooja at Shri Kashi Vishwanath Temple, Varanasi
PM to inaugurate, dedicate and lay the foundation stone of multiple development initiatives worth more than Rs 42,000 crore in UP
In a major boost to Aviation sector of the country, PM to inaugurate and lay the foundation stone of new terminal buildings of 15 airports across the country
PM to inaugurate Light House Projects (LHP) in Lucknow and Ranchi; foundation stone of these LHPs was laid by the PM in January 2021
Rail and road infrastructure to get strengthened in UP as projects worth more than Rs 27,000 crore will be taken up
PM to dedicate to nation about 744 rural road projects under PMGSY worth more than Rs 3700 crore in UP
PM to disburse first instalment under Mahatari Vandana Yojana in Chhattisgarh

وزیر اعظم 8 سے 10 مارچ 2024 تک آسام، اروناچل پردیش، مغربی بنگال اور اتر پردیش کا دورہ کریں گے۔

مورخہ 8 مارچ کو وزیر اعظم آسام کا دورہ کریں گے۔ 9 مارچ کو، صبح تقریباً پونے چھ بجے، وزیر اعظم کازی رنگا نیشنل پارک کا دورہ کریں گے۔ صبح  ساڑھے دس بجے، ایٹا نگر میں، وہ ‘وکست بھارت وکست شمال مشرق’ پروگرام میں شرکت کریں گے، جہاں وہ سیلا ٹنل کو قوم کے نام وقف کریں گے اور تقریباً 10000 کروڑ روپے  مالیت کی اُنّتی اسکیم کا آغاز کریں گے۔ پروگرام کے دوران، وہ منی پور، میگھالیہ، ناگالینڈ، سکم، تریپورہ اور اروناچل پردیش میں تقریباً 55600 کروڑ روپے کے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کریں گے،قوم کے نام وقف کریں گے اور سنگ بنیاد بھی رکھیں گے۔ اس کے بعد وزیر اعظم تقریباً  سوا بارہ بجے، جورہاٹ پہنچیں گے اور مشہور آہوم جنرل لچت بورفوکن کے شاندار مجسمے کی نقاب کشائی کریں گے۔ وہ جورہاٹ میں ایک عوامی پروگرام میں بھی شرکت کریں گے اور آسام میں 17500 کروڑ روپے مالیت  سے زیادہ کے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کریں گے،قوم کے نام  وقف کریں گے اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔

اس کے بعد، وزیر اعظم مغربی بنگال کے سلی گوڑی جائیں گے اور تقریباً پونے چار بجے ایک عوامی پروگرام میں شرکت کریں گے۔ وہ مغربی بنگال میں تقریباً 4500 کروڑ روپے  مالیت کے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کریں گے،قوم کے نام  وقف کریں گے اور سنگ بنیاد رکھیں گے ۔ شام تقریباً 7 بجے، وزیر اعظم وارانسی، اتر پردیش پہنچیں گے۔ وہ وارانسی کے شری کاشی وشوناتھ مندر میں درشن اور پوجا  ارچنا کریں گے۔

مورخہ 10 مارچ کو، دوپہر 12 بجے کے قریب، وزیر اعظم ایک عوامی پروگرام میں شرکت کریں گے، جہاں وہ اتر پردیش میں 34000کروڑ روپے کی مالیت سے زیادہ کے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کریں گے،قوم کے نام  وقف کریں گے اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔ تقریباً پونے تین بجے، وزیر اعظم وارانسی پہنچیں گے اور چھتیس گڑھ میں مہاتری وندنا یوجنا کے تحت، پہلی قسط ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے تقسیم کریں گے۔

آسام میں وزیراعظم

وزیراعظم کازی رنگا نیشنل پارک اور ٹائیگر ریزرو کا دورہ کریں گے، جو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔ کازی رنگا نیشنل پارک ایک سینگ والے گینڈے کے لیے مشہور ہے۔ پارک میں ہاتھی، پانی کی جنگلی بھینسیں، ہرن اور ٹائیگرز بھی پائے جاتے ہیں۔

وزیر اعظم، آسام کی آہوم بادشاہی کی شاہی فوج کے مشہور جنرل لچیت بورفوکن کے 84 فٹ بلند شاندار مجسمے کی نقاب کشائی کریں گے، جنہوں نے مغلوں کو شکست دی تھی۔ اس منصوبے میں، لچیت اور تائی-آہوم میوزیم اور 500 بیٹھنے کی گنجائش والے آڈیٹوریم کی تعمیر بھی شامل ہے۔ یہ پروجیکٹ،لچیت بورفوکان کی بہادری کا جشن منانے اور ان کے بارے میں بیداری بڑھانے کی ایک کوشش ہے۔ اس سے سیاحت کو بھی فروغ ملے گا اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

جورہاٹ میں عوامی پروگرام میں، وزیر اعظم  صحت، تیل اور گیس، ریل اور ہاؤسنگ کے شعبوں کو مضبوط بنانے والے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کریں گے، قوم کے نام وقف کریں گے اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔

وزیر اعظم شمال مشرقی خطہ کے لیے وزیر اعظم کی ترقیاتی پہل (پی ایم-ڈیوائن) اسکیم کے تحت، پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے، جن میں شیو ساگر میں میڈیکل کالج اور اسپتال اور گوہاٹی میں ہیماٹو-لیمفائیڈ سینٹر شامل ہیں۔ وہ تیل اور گیس کے شعبے کے اہم منصوبوں کا سنگ بنیاد بھی رکھیں گے جس میں ڈگبوئی ریفائنری کی صلاحیت کو 0.65 سے ایک ایم ایم ٹی پی اے (ملین میٹرک ٹن سالانہ) تک بڑھانا شامل ہے۔ کیٹلیٹک ریفارمنگ یونٹ (سی آر یو) کی تنصیب کے ساتھ، گوہاٹی ریفائنری کی توسیع (1.0 سے 1.2 ایم ایم ٹی پی اے)؛ اور بیٹ کوچی (گوہاٹی) ٹرمینل میں سہولیات میں اضافہ: انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ اور دیگر شامل ہیں۔

وزیر اعظم تنسکیا میں، دیگر کے علاوہ نئے میڈیکل میڈیکل کالج اور اسپتال ، 718 کلومیٹر لمبی بارونی - گوہاٹی پائپ لائن (پردھان منتری ارجا گنگا پروجیکٹ کا حصہ) جیسے اہم پروجیکٹوں کو بھی قوم کے نام وقف کریں گے۔ یہ تقریباً 3992 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی ہے۔  وزیر اعظم ،پردھان منتری آواس یوجنا - گرامین (پی ایم اے وائی – جی) کے تحت ،تقریباً 5.5 لاکھ گھروں کا بھی افتتاح کریں گے، جو تقریباً 8450 کروڑ روپے کی کل لاگت سے تعمیر کئے گئے ہیں۔

وزیر اعظم ،آسام میں 1300 کروڑ روپے سے زیادہ کے اہم ریلوے پروجیکٹوں کو بھی قوم کے نام وقف کریں گے ،جن میں دھوپدھرا-چھائے گاوں سیکشن (نیو بونگائیگاؤں - گوہاٹی ویا گولپارہ ڈبلنگ پروجیکٹ کا حصہ) اور نیو بونگائیگاؤں - سوربھوگ سیکشن (نئے بونگائیگاؤں - اگتھوری ڈبلنگ پروجیکٹ کا حصہ) شامل ہیں۔

اروناچل پردیش میں وزیراعظم

شمال مشرق کی  فروغ اور ترقی کے لیے وزیر اعظم کے وژن کو تقویت ملے گی،کیونکہ ایٹا نگر میں 'وکست بھارت وکست شمال مشرق’ پروگرام، منی پور، میگھالیہ، ناگالینڈ، سکم، تریپورہ اور اروناچل پردیش میں ریل، سڑک، صحت، رہائش، تعلیم، سرحدی بنیادی ڈھانچے، آئی ٹی، بجلی، تیل اور گیس سمیت دیگر جیسے شعبوں سے متعلق کئی ترقیاتی اقدامات کا مشاہدہ کرے گا۔

پروگرام کے دوران، وزیر اعظم شمال مشرق کے لیے ایک نئی صنعتی ترقی کی اسکیم اُنّتی (اتر پوروا ٹرانسفارمیٹو انڈسٹریلائزیشن اسکیم) کا آغاز کریں گے۔ یہ اسکیم،شمال مشرق میں صنعتی ماحولیاتی نظام کو مضبوط کرے گی، نئی سرمایہ کاری کو راغب کرے گی، نئے مینوفیکچرنگ اور سروسز یونٹس کے قیام میں مدد کرے گی اور شمال مشرقی ریاستوں میں روزگار کو فروغ دے گی۔ یہ اسکیم، 10000 کروڑ روپے کی حکومت ہند کی طرف سے مکمل طور پر مالی اعانت فراہم کی جاتی ہے اور تمام 8 شمال مشرقی ریاستوں کا احاطہ کرتی ہے۔ یہ اسکیم،سرمائے کی سرمایہ کاری، سود میں رعایت اور منظور شدہ اکائیوں کو مینوفیکچرنگ اور خدمات سے منسلک ترغیبات فراہم کرے گی۔ اہل یونٹوں کی آسان اور شفاف رجسٹریشن کے لیے ایک پورٹل بھی شروع کیا جا رہا ہے۔ اُنّتی، صنعتی ترقی کو متحرک کرنے میں مدد کرے گی اور شمال مشرقی خطے کی اقتصادی ترقی اور ترقی میں مدد کرے گی۔

سیلا ٹنل پروجیکٹ، جو تقریباً 825 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے، انجینئرنگ کا شاہکار ہے۔ یہ اروناچل پردیش میں بالی پارا-چاریدوار-توانگ روڈ پر سیلہ پاس کے پار توانگ کو، تمام موسمی رابطہ فراہم کرے گا۔ اسے نئے آسٹرین ٹنلنگ طریقہ استعمال کرتے ہوئے تعمیر کیا گیا ہے اور اس میں اعلیٰ ترین معیار کی حفاظتی خصوصیات شامل ہیں۔ یہ منصوبہ، نہ صرف خطے میں تیز رفتار اور زیادہ موثر ٹرانسپورٹ روٹ فراہم کرے گا بلکہ یہ ملک کے لیے جامع اہمیت کا حامل ہے۔ سیلا ٹنل کا سنگ بنیاد وزیر اعظم نے فروری 2019 میں رکھا تھا۔

وزیر اعظم اروناچل پردیش میں 41000 کروڑ سے زیادہ  مالیت کے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے اور  قوم کے نام وقف کریں گے ۔

وزیر اعظم اروناچل پردیش کے لوئر دیبانگ وادی ضلع میں،دیبانگ کثیر مقصدی  ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ 31875 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ ملک کا سب سے بلند ڈیم ڈھانچہ ہوگا۔ یہ بجلی پیدا کرے گا، سیلاب کے اعتدال میں مدد کرے گا اور خطے میں روزگار کے مواقع اور سماجی اقتصادی ترقی کا باعث بنے گا۔

دیگر اہم پروجیکٹ، جن کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا، ان میں 'وائبرنٹ ولیج پروگرام' کے تحت سڑک، ماحولیات اور سیاحت کے کئی منصوبے شامل ہیں۔ اسکولوں کو 50 گولڈن جوبلی اسکولوں میں اپ گریڈ کرنا ،جہاں جدید ترین بنیادی ڈھانچے کی سہولیات کے ذریعے جامع تعلیم فراہم کی جائے گی۔ ڈونی پولو ہوائی اڈے سے ناہرلاگن ریلوے اسٹیشن تک کنکٹی وٹی فراہم کرنے کے لیے ڈبل لین سڑک اور دیگر  شامل ہیں۔

وزیر اعظم اروناچل پردیش میں کئی سڑک پروجیکٹوں سمیت مختلف اہم پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کریں گے۔ جل جیون مشن کے تقریباً 1100 پروجیکٹ، یونیورسل سروس اوبلیگیشن فنڈ (یو ایس او ایف) کے تحت 170 ٹیلی کام ٹاورز سے 300 سے زیادہ دیہات مستفید ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم، پردھان منتری آواس یوجنا (شہری اور دیہی دونوں) کے تحت ، 450 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کردہ 35000 سے زائد مکانات بھی  مستفیدین کے حوالے کریں گے۔

وزیر اعظم، منی پور میں 3400 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت  کے کئی ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح  کریں گےاور سنگ بنیاد رکھیں گے۔ جن اہم منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا ان میں نیلاکٹھی میں یونٹی مال کی تعمیر شامل ہے۔ منتری پکھری میں، منی پور آئی ٹی ایس ای زیڈ کے پروسیسنگ زون کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی؛ خصوصی نفسیاتی نگہداشت فراہم کرنے کے لیے  لمپ جھیل پت میں 60 بستروں والے سرکاری اسپتال کی تعمیر؛ اور منی پور ٹیکنیکل یونیورسٹی، امپھال مغربی ضلع کے لیے بنیادی ڈھانچے کی ترقی شامل ہے۔ وزیر اعظم منی پور میں دیگر پروجیکٹوں کے علاوہ سڑکوں کے مختلف پروجیکٹوں اور کئی واٹر سپلائی اسکیموں کا بھی افتتاح کریں گے۔

وزیر اعظم، ناگالینڈ میں 1700 کروڑ روپے سے زیادہ  مالیت کے کئی ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کریں  گےاور سنگ بنیاد رکھیں گے۔ جن اہم منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا، ان میں متعدد سڑکوں کے منصوبے شامل ہیں۔ ضلع چوموکیدیما میں یونٹی مال کی تعمیر؛ اور 132کے وی سب اسٹیشن ناگرجن، دیماپور میں صلاحیت کی تبدیلی کی اپ گریڈیشن شامل بھی ہیں۔ وزیر اعظم ،چینڈنگ سیڈل سے نوکلک (مرحلہ- 1) تک سڑک کی اپ گریڈیشن کے منصوبے اور کوہیما-جیسمی روڈ سمیت کئی دیگر سڑکوں کے منصوبوں کا بھی افتتاح کریں گے۔

وزیر اعظم، میگھالیہ میں 290 کروڑ روپے سے زیادہ کے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح  کریں گے اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔ جن اہم منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا ان میں تورا میں آئی ٹی پارک کی تعمیر اور نئی چار لین سڑک کی تعمیر اور نیو شیلانگ ٹاؤن شپ میں موجودہ دو لین کو چار لین میں تبدیل کرنا شامل ہے۔ ۔ وزیر اعظم اپر شیلانگ میں فارمرز ہاسٹل کم ٹریننگ سنٹر کا بھی افتتاح کریں گے۔

وزیر اعظم، سکم میں 450 کروڑ روپے سے زیادہ  مالیت کے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح  کریں گے اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔ جن اہم منصوبوں کا سنگ بنیاد وزیر اعظم رکھیں گے، ان میں رنگپو ریلوے اسٹیشن کی تعمیر نو اور کئی سڑکوں کے منصوبے شامل ہیں۔ وزیر اعظم ،سکم میں تھرپو اور دارام دین کو جوڑنے والی نئی سڑک کا بھی افتتاح کریں گے۔

وزیر اعظم ،تریپورہ میں 8500 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح  کریں گے اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔ جن اہم منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا ان میں اگرتلہ ویسٹرن بائی پاس کی تعمیر اور ریاست بھر میں متعدد سڑکوں کے منصوبے شامل ہیں۔ سیکر کوٹ میں انڈین آئل کارپوریشن کا نیا ڈپو تعمیر کیا جائے گا اور منشیات کے عادی افراد کے لیے مربوط بحالی مرکز کی تعمیر کی جائے گی۔ وزیر اعظم ریاست میں سڑکوں کے مختلف منصوبوں کا بھی افتتاح کریں گے۔ 1.46 لاکھ دیہی فنکشنل گھریلو نل کنکشن کے لیے پروجیکٹ؛ اور جنوبی تریپورہ ضلع میں سبروم میں لینڈ پورٹ تقریباً 230 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے۔

نئی ترقی یافتہ سبروم لینڈ پورٹ، ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بین الاقوامی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔ یہ زمینی بندرگاہ ،مسافر ٹرمینل بلڈنگ، کارگو ایڈمنسٹریٹو بلڈنگ، ویئر ہاؤس، فائر اسٹیشن کی عمارت، الیکٹریکل سب اسٹیشن، پمپ ہاؤس وغیرہ جیسی سہولیات فراہم کرے گی۔ یہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان مسافروں اور کارگو کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرے گا کیونکہ نئی بندرگاہ کے ذریعے کوئی بھی منتقل ہوسکتا ہے۔ براہ راست بنگلہ دیش کی چٹاگانگ بندرگاہ تک ،جو 75 کلومیٹر دور ہے، جب کہ  اس کے برعکس مغربی بنگال میں کولکتہ/ہلدیہ پورٹ پر جانے کے  لئے ، تقریباً 1700 کلومیٹر  کی دور ی ہے۔ سبروم لینڈ پورٹ کا سنگ بنیاد وزیر اعظم نے مارچ 2021 میں رکھا تھا۔

مغربی بنگال میں وزیر اعظم

وزیر اعظم، سلی گوڑی میں وکست بھارت وکست مغربی بنگال پروگرام میں شرکت کریں گے۔ وہ پروگرام کے دوران 4500 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے ریل اور سڑک کے شعبے کے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح  کریں گے اور قوم کے نام وقف کریں  گے۔

وزیر اعظم ،شمالی بنگال اور آس پاس کے علاقے کے لوگوں کو فائدہ پہنچانے والی ریل لائنوں کی برقی کاری کے متعدد پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کریں گے۔ منصوبوں میں ایکلاکھی - بالورگھاٹ سیکشن، بارسوئی - رادھیکاپور سیکشن؛ رانی نگر جلپائی گوڑی - ہلدی باڑی سیکشن؛ سلی گڑی - الوباری سیکشن بذریعہ بگڈوگرا اور سلی گوڑی - سیوک - علی پور دوار جنکشن - سمکتلا (بشمول علی پور دوار جنکشن - نیو کوچ بہار) سیکشن شامل ہیں۔

وزیر اعظم، منی گرام - نمیتا سیکشن میں ریلوے کی لائن کو ڈبل کرنے کے منصوبے سمیت نیو جلپائی گوڑی میں الیکٹرانک انٹرلاکنگ سمیت امباری فالکاٹا - الواباری میں خودکار بلاک سگنلنگ اور ریلوے کے دیگر اہم پروجیکٹوں کو بھی قوم کے نام وقف کریں گے۔  مزید برآں  وزیر اعظم سلی گوڑی اور رادھیکاپور کے درمیان ایک نئی مسافر ٹرین سروس کا بھی ہری جھنڈی دکھا کر آغاز  کریں گے۔ یہ ریل منصوبے، ریل رابطے کو بہتر بنائیں گے، مال برداری میں سہولت فراہم کریں گے اور خطے میں روزگار پیدا کرنے اور اقتصادی ترقی میں حصہ رسدی کریں  گے۔

وزیر اعظم ،مغربی بنگال میں 3100 کروڑ روپے مالیت کے قومی شاہراہ کے دو منصوبوں کا افتتاح کریں گے۔  ان منصوبوں میں این ایچ  27 کا چار لین گھوسپوکر - دھوپگوری سیکشن اور این ایچ  27 پر چار لین اسلام پور بائی پاس شامل ہیں۔ گھوسپوکر - دھوپگوری سیکشن شمال-جنوبی ٹرانسپورٹ کوریڈور کا حصہ ہے جو مشرقی ہندوستان کو ملک کے باقی حصوں سے ملاتا ہے۔ اس سیکشن کی فور لیننگ، شمالی بنگال اور شمال مشرقی خطوں کے درمیان ہموار رابطے کا باعث بنے گی۔ چار لین اسلام پور بائی پاس سے اسلام پور ٹاؤن میں ٹریفک کی بھیڑ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ سڑکوں کے منصوبے خطے میں صنعتی اور اقتصادی ترقی کو بھی فروغ دیں گے۔

اتر پردیش میں  وزیراعظم

وزیر اعظم 42000 کروڑ روپے سے زیادہ کے متعدد ترقیاتی اقدامات کا افتتاح کریں گے،قوم کے نام وقف کریں گے اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔

شہری ہوا بازی کے شعبے کو ایک بڑا فروغ فراہم کرتے ہوئے، وزیر اعظم ملک بھر میں 9800 کروڑ روپے سے زیادہ کی مالیت کے 15 ہوائی اڈوں کے پروجیکٹوں کا افتتاح کریں گے اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔ وہ پونے، کولہاپور، گوالیار، جبل پور، دہلی، لکھنؤ، علی گڑھ، اعظم گڑھ، چترکوٹ، مراد آباد، شراوستی اور آدم پور ہوائی اڈوں کی 12 نئی ٹرمینل عمارتوں کا افتتاح کریں گے۔ وزیر اعظم کڑپہ، ہبلی اور بیلگاوی ہوائی اڈوں کی تین نئی ٹرمینل عمارتوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔

12 نئی ٹرمینل عمارتوں میں سالانہ 620 لاکھ مسافروں کی خدمت کرنے کی مشترکہ گنجائش ہو گی، جب کہ تین ٹرمینل عمارتوں کے لیے، جن کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہے، ایک بار مکمل ہو جانے کے بعد، ان ہوائی اڈوں کی مشترکہ مسافروں کو سنبھالنے کی صلاحیت سالانہ 95 لاکھ مسافروں تک پہنچ جائے گی۔ ان ٹرمینل عمارتوں میں جدید ترین مسافروں کی سہولیات ہیں اور یہ مختلف پائیدار خصوصیات سے بھی لیس ہیں جیسے ڈبل انسولیٹڈ روفنگ سسٹم، توانائی کی بچت کے لیے کینوپیز کی فراہمی، ایل ای ڈی لائٹنگ وغیرہ۔ ان ہوائی اڈوں  کے ڈیزائن اس ریاست  کے مختلف عام عناصر اور شہر کے ورثے کے ڈھانچے  کی بنیاد پر تیار کئے گئے ہیں اور اس طرح یہ مقامی ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں اور خطے کے ورثے کو اجاگر کرتے ہیں۔

وزیر اعظم کے اہم ترین شعبوں میں سے ایک، سب کے لیے رہائش فراہم کرنا ہے۔ اس وژن کی رہنمائی میں، اسے حاصل کرنے کے لیے ایک جدید ذریعہ لائٹ ہاؤس پروجیکٹ کا تصور کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم لکھنؤ اور رانچی میں لائٹ ہاؤس پروجیکٹ (ایل ایچ پی) کا افتتاح کریں گے، جس کے تحت جدید بنیادی ڈھانچہ کے ساتھ 2000 سے زیادہ سستے فلیٹ بنائے گئے ہیں۔ ان ایل ایچ پیز میں استعمال کی جانے والی جدید تعمیراتی ٹکنالوجی، خاندانوں کو ایک پائیدار اور مستقبل کی زندگی کا تجربہ فراہم کرے گی۔ اس سے پہلے وزیر اعظم چنئی، راجکوٹ اور اندور میں اسی طرح کے لائٹ ہاؤس پروجیکٹس کا افتتاح کر چکے ہیں۔ ان ایل ایچ پیز  کا سنگ بنیاد وزیر اعظم نے یکم جنوری 2021 کو رکھا تھا۔

رانچی ایل ایچ پی کے لیے، جرمنی کے پری کاسٹ کنکریٹ کنسٹرکشن سسٹم - تھری ڈی والیومیٹرک ٹیکنالوجی کو اپنایا گیا ہے۔ ایل ایچ پی رانچی کی ایک منفرد خصوصیت یہ ہے کہ ہر کمرے کو الگ سے بنایا گیا ہے اور پھر پورے ڈھانچے کو لیگو بلاکس کے کھلونوں کی طرح جوڑا گیا ہے۔ ایل ایچ پی لکھنؤ کو، کینیڈا کے اسٹے ان پلیس پی وی سی فارم ورک کا استعمال کرتے ہوئے پری انجینئرڈ فولادی  بنیادی ڈھانچے کے نظام کے ساتھ تعمیر کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم اترپردیش میں تقریباً 11500 کروڑ روپے کے بقدر کے مختلف سڑک پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کریں گے اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔ یہ سڑک پروجیکٹس کنکٹیویٹی کو بہتر بنائیں گے، ٹریفک کی بھیڑ بھاڑ میں تخفیف کریں گے اور خطے میں سماجی اقتصادی ترقی کے لیے راہیں ہموار کریں گے۔

وزیر اعظم ، اتر پردیش میں 19000 کروڑ روپے سے زیادہ کے کئی سڑک پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کریں گے اور  سنگ بنیاد رکھیں گے۔ قوم کو وقف کئے گئے منصوبوں میں، چار لین لکھنؤ رنگ روڈ کے تین پیکج اور این ایچ -2 کے الہ آباد سیکشن تک چکیری  تک کی چھ لیننگ شامل ہیں۔ وزیر اعظم رام پور – رودرا پور کے مغربی سائیڈ اسپر کی چار لیننگ کا سنگ بنیاد بھی رکھیں گے۔ کانپور رنگ روڈ کی چھ لیننگ کے دو پیکیج، اور این ایچ –24بی / این ایچ -30 کے رائے بریلی – پریاگ راج سیکشن کو چار لیننگ بھی شامل ہیں۔ سڑک کے منصوبے، رابطے کو بہتر بنائیں گے، ٹریفک کی بھیڑ کو کم کرنے میں مدد کریں گے اور خطے میں سماجی اقتصادی ترقی کا باعث بنیں گے۔

وزیر اعظم ،پردھان منتری گرام سڑک یوجنا کے تحت بنائے گئے 3700 کروڑ روپے سے زیادہ کے 744 دیہی سڑکوں کے پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کریں گے۔ ان پروجیکٹوں کے نتیجے میں، اتر پردیش میں 5400 کلومیٹر سے زیادہ دیہی سڑکوں کی مجموعی تعمیر ہوگی، جس سے ریاست کے تقریباً 59 اضلاع مستفید ہوں گے۔ اس سے رابطے میں اضافہ ہوگا اور سماجی و اقتصادی ترقی کو نمایاں فروغ ملے گا۔

پروگرام کے دوران، وزیر اعظم تقریباً 8200 کروڑ روپے کے متعدد ریل پروجیکٹوں کا افتتاح کریں گے، قوم کے نام وقف کریں گے اور سنگ بنیاد رکھیں گے، جس سے اتر پردیش میں ریل کے بنیادی ڈھانچے کو تقویت ملے گی۔ وہ ریل کے متعدد اہم حصوں کو ڈبل کرنے  اور بجلی بنانے کے لیے وقف کریں گے۔ وہ بھٹنی-پیکول بائی پاس لائن بھی قوم کے نام وقف کریں گے، جس سے بھٹنی میں انجن الٹنے کا مسئلہ ختم ہو جائے گا اور بغیر کسی رکاوٹ کے ٹرینوں کو چلانے میں سہولت ہو گی۔ وزیر اعظم بہرائچ-نانپارہ-نیپال گنج روڈ ریل سیکشن کے گیج کی تبدیلی کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد یہ خطہ، ایک براڈ گیج لائن کے ذریعے میٹروپولیٹن شہروں سے منسلک ہو جائے گا، جس سے تیز رفتار ترقی میں سہولت ہو گی۔ وزیر اعظم غازی پور سٹی اور غازی پور گھاٹ سے تاریگھاٹ تک نئی ریل لائن کا بھی افتتاح کریں گے ،جس میں دریائے گنگا پر ایک ریل پل بھی شامل ہے۔ وہ غازی پور سٹی-تاریگھاٹ-دلدار نگر کے درمیان ایم ای ایم یو  ٹرین سروس کو بھی جھنڈی دکھا کر روانہ کریں گے ۔

مزید برآں، وزیر اعظم پریاگ راج، جونپور اور اٹاوہ میں متعدد سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس اور اس طرح کے دیگر پروجیکٹوں کا افتتاح کریں گےاور قوم کے نام وقف کریں گے۔

مہاتری وندنا یوجنا

چھتیس گڑھ میں خواتین کو بااختیار بنانے کے ایک بڑےاقدام میں، وزیر اعظم مہاتری وندنا یوجنا کے تحت پہلی قسط تقسیم کریں گے۔ یہ اسکیم چھتیس گڑھ میں شروع کی گئی ہے، تاکہ ریاست کی اہل شادی شدہ خواتین کو ماہانہ ڈی بی ٹی کے طور پر 1000 روپے ماہانہ کی مالی امداد فراہم کی جا سکے۔ اس کا تصور، خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے، انہیں مالی تحفظ فراہم کرنے، صنفی مساوات کو فروغ دینے اور خاندان میں خواتین کے فیصلہ کن کردار کو مضبوط کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

یہ اسکیم، ریاست کی ان تمام اہل شادی شدہ خواتین کو فوائد فراہم کرے گی، جن کی عمر یکم جنوری 2024  تک 21 سال سے زیادہ ہے۔ بیوہ، طلاق یافتہ اور بے سہارا  خواتین بھی اس اسکیم کے لیے اہل ہوں گی۔ اس اسکیم سے تقریباً 70 لاکھ خواتین مستفید ہوں گی۔

 

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
'Grateful to PM Modi's leadership…': White House praises India's democracy and electoral process

Media Coverage

'Grateful to PM Modi's leadership…': White House praises India's democracy and electoral process
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi's interview to Prabhat Khabar
May 19, 2024

प्रश्न- भाजपा का नारा है-‘अबकी बार 400 पार’, चार चरणों का चुनाव हो चुका है, अब आप भाजपा को कहां पाते हैं?

उत्तर- चार चरणों के चुनाव में भाजपा और एनडीए की सरकार को लेकर लोगों ने जो उत्साह दिखाया है, उसके आधार पर मैं कह सकता हूं कि हम 270 सीटें जीत चुके हैं. अब बाकी के तीन चरणों में हम 400 का आंकड़ा पार करने वाले हैं. 400 पार का नारा, भारत के 140 करोड़ लोगों की भावना है, जो इस रूप में व्यक्त हो रही है. दशकों तक जम्मू-कश्मीर में आर्टिकल 370 को देश ने सहन किया. लोगों के मन में यह स्वाभाविक प्रश्न था कि एक देश में दो विधान कैसे चल सकता है. जब हमें अवसर मिला, हमने आर्टिकल 370 को खत्म कर जम्मू-कश्मीर में भारत का संविधान लागू किया. इससे देश में एक अभूतपूर्व उत्साह का प्रवाह हुआ. लोगों ने तय किया कि जिस पार्टी ने आर्टिकल 370 को खत्म किया, उसे 370 सीटें देंगे. इस तरह भाजपा को 370 सीट और एनडीए को 400 सीट देने का लोगों का इरादा पक्का हुआ. मैं पूरे देश में जा रहा हूं. उत्तर से दक्षिण, पूरब से पश्चिम मैंने लोगों में 400 पार नारे को सच कर दिखाने की प्रतिबद्धता देखी है. मैं पूरी तरह से आश्वस्त हूं कि इस बार जनता 400 से ज्यादा सीटों पर हमारी जीत सुनिश्चित करेगी.

प्रश्न- लोग कहते हैं कि हम मोदी को वोट कर रहे हैं, प्रत्याशी के नाम पर नहीं. लोगों का इतना भरोसा है, इस भरोसे को कैसे पूरा करेंगे?

उत्तर- देश की जनता का यह विश्वास मेरी पूंजी है. यह विश्वास मुझे शक्ति देता है. यही शक्ति मुझे दिन रात काम करने को प्रेरित करती है. मेरी सरकार लगातार एक ही मंत्र पर काम कर रही है, वंचितों को वरीयता. जिन्हें किसी ने नहीं पूछा, मोदी उनको पूजता है. इसी भाव से मैं अपने आदिवासी भाई-बहनों, दलित, पिछड़े, गरीब, युवा, महिला, किसान सभी की सेवा कर रहा हूं. जनता का भरोसा मेरे लिए एक ड्राइविंग फोर्स की तरह काम करता है.

देखिए, जो संसदीय व्यवस्था है, उसमें पीएम पद का एक चेहरा होता है, लेकिन जनता सरकार बनाने के लिए एमपी को चुनती है. इस चुनाव में चाहे भाजपा का पीएम उम्मीदवार हो या एमपी उम्मीदवार, दोनों एक ही संदेश लेकर जनता के पास जा रहे हैं. विकसित भारत का संदेश. पीएम उम्मीदवार नेशनल विजन की गारंटी है, तो हमारा एमपी उम्मीदवार स्थानीय आकांक्षाओं को पूरा करने की गारंटी है.

भारतीय जनता पार्टी (भाजपा) एक टीम की तरह काम करती है और इस टीम के लिए उम्मीदवारों के चयन में हमने बहुत ऊर्जा और समय खर्च किया है. हमने उम्मीदवारों के चयन का तरीका बदल दिया है. हमने किसी सीट पर उम्मीदवार के चयन में कोई समझौता नहीं किया, न ही किसी तरह के दबाव को महत्व दिया. जिसमें योग्यता है, जिसमें जनता की उम्मीदों को पूरा करने का जज्बा है, उसका चयन किया गया है. हमें मिल कर हर सीट पर कमल खिलाना है. भाजपा और एनडीए की यह टीम 140 करोड़ भारतीयों की आकांक्षाओं को पूरा करने के लिए हमेशा समर्पित रहेगी.

प्रश्न- आपने 370 को हटाया, राम मंदिर बनवा दिया. अब तीसरी बार आपकी सरकार अगर लौटती है, तो कौन से वे बड़े काम हैं, जिन्हें आप पहले पूरा करना चाहेंगे?

उत्तर- जब आप चुनाव जीत कर आते हैं, तो आपके साथ जनता-जनार्दन का आशीर्वाद होता है. देश के करोड़ों लोगों की ऊर्जा होती है. जनता में उत्साह होता है. इससे आपके काम करने की गति स्वाभाविक रूप से बढ़ जाती है. 2024 के चुनाव में जिस तरीके से भाजपा को समर्थन मिल रहा है, ऐसे में ज्यादातर लोगों के मन में यह सवाल आ रहा है कि तीसरी बार सरकार में आने के बाद क्या बड़े काम होने वाले हैं.

यह चर्चा इसलिए भी हो रही है, क्योंकि 2014 और 2019 में चुनाव जीतने के बाद ही सरकार एक्शन मोड में आ गयी थी. 2019 में हमने पहले 100 दिन में ही आर्टिकल 370 और तीन तलाक से जुड़े फैसले लिये थे. बैंकों के विलय जैसा महत्वपूर्ण फैसला भी सरकार बनने के कुछ ही समय बाद ले लिया गया था. हालांकि इन फैसलों के लिए आधार बहुत पहले से तैयार कर लिया गया था.

इस बार भी हमारे पास अगले 100 दिनों का एक्शन प्लान है, अगले पांच वर्षों का रोडमैप है और अगले 25 वर्षों का विजन है. मुझे देशभर के युवाओं ने बहुत अच्छे सुझाव भेजे हैं. युवाओं के उत्साह को ध्यान में रखते हुए हमने 100 दिनों के एक्शन प्लान में 25 दिन और जोड़ दिये हैं. 125 में से 25 दिन भारत के युवाओं से जुड़े निर्णय के होंगे. हम आज जो भी कदम उठा रहे हैं, उसमें इस बात का ध्यान रख रहे हैं कि इससे विकसित भारत का लक्ष्य प्राप्त करने में कैसे मदद मिल सकती है.

प्रश्न- दक्षिण पर आपने काफी ध्यान दिया है. लोकप्रियता भी बढ़ी है. वोट प्रतिशत भी बढ़ेगा, लेकिन क्या सीट जीतने लायक स्थिति साउथ में बनी है?

उत्तर- देखिए, दक्षिण भारत में बीजेपी अब भी सबसे बड़ी पार्टी है. पुद्दुचेरी में हमारी सरकार है. कर्नाटक में हम सरकार में रह चुके हैं. 2024 के चुनाव में मैंने दक्षिण के कई जिलों में रैलियां और रोड शो किये हैं. मैंने लोगों की आंखों में बीजेपी के लिए जो स्नेह और विश्वास देखा है, वह अभूतपूर्व है. इस बार दक्षिण भारत के नतीजे चौंकाने वाले होंगे.

तेलंगाना और आंध्र प्रदेश में हम सबसे ज्यादा सीटें जीतेंगे. लोगों ने आंध्र विधानसभा में एनडीए की सरकार बनाने के लिए वोट किया है. कर्नाटक में भाजपा एक बार फिर सभी सीटों पर जीत हासिल करेगी. मैं आपको पूरे विश्वास से कह रहा हूं कि तमिलनाडु में इस बार के परिणाम बहुत ही अप्रत्याशित होंगे और भारतीय जनता पार्टी के पक्ष में होंगे.

प्रश्न- ओडिशा और पश्चिम बंगाल से भाजपा को बहुत उम्मीदें हैं. भाजपा कितनी सीटें जीतने की उम्मीद करती है?

उत्तर- मैं ओडिशा और पश्चिम बंगाल में जहां भी जा रहा हूं, मुझे दो बातें हर जगह देखने को मिल रही हैं. एक तो भाजपा पर लोगों का भरोसा और दूसरा दोनों ही राज्यों में वहां की सरकार से भारी नाराजगी. लोगों की आकांक्षाओं को मार कर राज करने को सरकार चलाना नहीं कह सकते. ओडिशा और पश्चिम बंगाल में लोगों की आकांक्षाओं, भविष्य और सम्मान को कुचला गया है. पश्चिम बंगाल की टीएमसी सरकार भ्रष्टाचार, गुंडागर्दी का दूसरा नाम बन गयी है. लोग देख रहे हैं कि कैसे वहां की सरकार ने महिलाओं की सुरक्षा को ताक पर रख दिया है.

संदेशखाली की पीड़ितों की आवाज दबाने की कोशिश की गयी. लोगों को अपने त्योहार मनाने से रोका जा रहा है. टीएमसी सरकार लोगों तक केंद्र की योजनाओं का फायदा नहीं पहुंचने दे रही. इसका जवाब वहां के लोग अपने वोट से देंगे. पश्चिम बंगाल के लोग भाजपा को एक उम्मीद के तौर पर देख रहे हैं. बंगाल में इस बार हम बड़ी संख्या में सीटें हासिल करेंगे. मैं ओडिशा के लोगों से कहना चाहता हूं कि उनकी तकलीफें जल्द खत्म होने वाली हैं. चुनाव नतीजों में हम ना सिर्फ लोकसभा की ज्यादा सीटें जीतेंगे, बल्कि विधानसभा में भी भाजपा की सरकार बनेगी.

पहली बार ओडिशा के लोगों को डबल इंजन की सरकार के फायदे मिलेंगे. बीजेडी की सरकार हमारी जिन योजनाओं को ओडिशा में लागू नहीं होने दे रही, हमारी सरकार बनते ही उनका फायदा लोगों तक पहुंचने लगेगा. बीजेडी ने अपने कार्यकाल में सबसे ज्यादा नुकसान उड़िया संस्कृति और भाषा का किया है. मैंने ओडिशा को भरोसा दिया है कि राज्य का अगला सीएम भाजपा का होगा, और वह व्यक्ति होगा, जो ओडिशा की मिट्टी से निकला हो, जो ओडिशा की संस्कृति, परंपरा और उड़िया लोगों की भावनाओं को समझता हो.

ये मेरी गारंटी है कि 10 जून को ओडिशा का बेटा सीएम पद की शपथ लेगा. राज्य के लोग अब एक ऐसी सरकार चाहते हैं, जो उनकी उड़िया पहचान को विश्व पटल पर ले जाए, इसलिए उनका भरोसा सिर्फ भाजपा पर है.

प्रश्न- बिहार और झारखंड में पार्टी का प्रदर्शन कैसा रहेगा, आप क्या उम्मीद करते हैं?

उत्तर- मेरा विश्वास है कि इस बार बिहार और झारखंड में भाजपा को सभी सीटों पर जीत हासिल होगी. दोनों राज्यों के लोग एक बात स्पष्ट रूप से समझ गये हैं कि इंडी गठबंधन में शामिल पार्टियों को जब भी मौका मिलेगा, तो वे भ्रष्टाचार ही करेंगे. इंडी ब्लॉक में शामिल पार्टियां परिवारवाद से आगे निकल कर देश और राज्य के विकास के बारे में सोच ही नहीं सकतीं.

झारखंड में नेताओं और उनके संबंधियों के घर से नोटों के बंडल बाहर निकल रहे हैं. यह किसका पैसा है? ये गरीब के हक का पैसा है. ये पैसा किसी गरीब का अधिकार छीन कर इकट्ठा किया गया है. अगर वहां भ्रष्टाचार पर रोक रहती, तो यह पैसा कई लोगों तक पहुंचता. उस पैसे से हजारों-लाखों लोगों का जीवन बदल सकता था, लेकिन जनता का वोट लेकर ये नेता गरीबों का ही पैसा लूटने लगे. दूसरी तरफ जनता के सामने केंद्र की भाजपा सरकार है, जिस पर 10 साल में भ्रष्टाचार का एक भी दाग नहीं लगा.

आज झारखंड में जिहादी मानसिकता वाले घुसपैठिये झुंड बना कर हमला करते हैं और झारखंड सरकार उन्हें समर्थन देती है. इन घुसपैठियों ने राज्य में हमारी बहनों-बेटियों की सुरक्षा को खतरे में डाल दिया है. वहीं अगर बिहार की बात करें, तो जो पुराने लोग हैं, उन्हें जंगलराज याद है. जो युवा हैं, उन्होंने इसका ट्रेलर कुछ दिन पहले देखा है.

आज राजद और इंडी गठबंधन बिहार में अपने नहीं, नीतीश जी के काम पर वोट मांग रहा है. इंडी गठबंधन के नेता तुष्टीकरण में इतने डूब चुके हैं एससी-एसटी-ओबीसी का पूरा का पूरा आरक्षण मुस्लिम समाज को देना चाहते हैं. जनता इस साजिश को समझ रही है. इसलिए, भाजपा को वोट देकर इसका जवाब देगी.

प्रश्न- संपत्ति का पुनर्वितरण इन दिनों बहस का मुद्दा बना हुआ है. इस पर आपकी क्या राय है?

उत्तर- शहजादे और उनके सलाहकारों को पता है कि वे सत्ता में नहीं आने वाले. इसीलिए ऐसी बात कर रहे हैं. यह माओवादी सोच है, जो सिर्फ अराजकता को जन्म देगी. इंडी गठबंधन की परेशानी यह है कि वे तुष्टीकरण से आगे कुछ भी सोच नहीं पा रहे. वे किसी तरह एक समुदाय का वोट पाना चाहते हैं, इसलिए अनाप-शनाप बातें कर रहे हैं. लूट-खसोट की यह सोच कभी भी भारत की संस्कृति का हिस्सा नहीं रही. वे एक्सरे कराने की बात कर रहे हैं, उनका प्लान है कि एक-एक घर में जाकर लोगों की बचत, उनकी जमीन, संपत्ति और गहनों का हिसाब लिया जायेगा. कोई भी इस तरह की व्यवस्था को स्वीकार नहीं करेगा. पिछले 10 वर्षों में हमारा विकास मॉडल लोगों को अपने पैरों पर खड़ा करने का है. इसके लिए हम लोगों तक वे मूलभूत सुविधाएं पहुंचा रहे हैं, जो दशकों पहले उन्हें मिल जाना चाहिए था. हम रोजगार के नये अवसर तैयार कर रहे हैं, ताकि लोग सम्मान के साथ जी सकें.

प्रश्न- भारत की अर्थव्यवस्था लगातार मजबूत हो रही है. भारत दुनिया की तीसरी सबसे बड़ी अर्थव्यवस्था बनने जा रहा है. आम आदमी को इसका लाभ कैसे मिलेगा?

उत्तर- यह बहुत ही अच्छा सवाल है आपका. तीसरे कार्यकाल में भारत की अर्थव्यवस्था दुनिया की तीसरी सबसे बड़ी अर्थव्यवस्था बनेगी. जब मैं यह कहता हूं कि तो इसका मतलब सिर्फ एक आंकड़ा नहीं है. दुनिया की तीसरी सबसे बड़ी अर्थव्यवस्था सम्मान के साथ देशवासियों के लिए समृद्धि भी लाने वाला है. दुनिया की तीसरी सबसे बड़ी अर्थव्यवस्था का मतलब है बेहतर इंफ्रास्ट्रक्चर, कनेक्टिविटी का विस्तार, ज्यादा निवेश और ज्यादा अवसर. आज सरकार की योजनाओं का लाभ जितने लोगों तक पहुंच रहा है, उसका दायरा और बढ़ जायेगा.

भाजपा ने तीसरे टर्म में आयुष्मान भारत योजना का लाभ 70 वर्ष से ऊपर के सभी बुजुर्गों को देने की गारंटी दी है. हमने गरीबों के लिए तीन करोड़ और पक्के मकान बनाने का संकल्प लिया है. तीन करोड़ लखपति दीदी बनाने की बात कही है. जब अर्थव्यवस्था मजबूत होगी, तो हमारी योजनाओं का और विस्तार होगा और ज्यादा लोग लाभार्थी बनेंगे.

प्रश्न- आप लोकतंत्र में विपक्ष को कितना जरूरी मानते हैं और उसकी क्या भूमिका होनी चाहिए?

उत्तर- लोकतंत्र में सकारात्मक विपक्ष बहुत महत्वपूर्ण है. विपक्ष का मजबूत होना लोकतंत्र के मजबूत होने की निशानी है. इसे दुर्भाग्य ही कहेंगे कि पिछले 10 वर्षों में विपक्ष व्यक्तिगत विरोध करते-करते देश का विरोध करने लगा. विपक्ष या सत्ता पक्ष लोकतंत्र के दो पहलू हैं, आज कोई पार्टी सत्ता में है, कभी कोई और रही होगी, लेकिन आज विपक्ष सरकार के विरोध के नाम पर कभी देश की सेना को बदनाम कर रहा है, कभी सेना के प्रमुख को अपशब्द कह रहा है. कभी सर्जिकल स्ट्राइक पर सवाल उठाता है, तो कभी एयरस्ट्राइक पर संदेह जताता है. सेना के सामर्थ्य पर उंगली उठा कर वे देश को कमजोर करना चाहते हैं.

आप देखिए, विपक्ष कैसे पाकिस्तान की भाषा बोलने लगा है. जिस भाषा में वहां के नेता भारत को धमकी देते थे, वही आज कांग्रेस के नेता बोलने लगे हैं. मैं इतना कह सकता हूं कि विपक्ष अपनी इस भूमिका में भी नाकाम हो गया है. वे देश के लोगों का विश्वास नहीं जीत पा रहे, इसलिए देश के खिलाफ बोल रहे हैं.

प्रश्न- झारखंड में बड़े पैमाने पर नोट पकड़े गये, भ्रष्टाचार से इस देश को कैसे मुक्ति मिलेगी?

उत्तर- देखिए, जब कोई सरकार तुष्टीकरण, भ्रष्टाचार और भाई-भतीजावाद के दलदल में फंस जाती है तो इस तरह की चीजें देखने को मिलती हैं. मैं आपको एक आंकड़ा देता हूं. 2014 से पहले, कांग्रेस के 10 साल के शासन में ईडी ने छापे मार कर सिर्फ 35 लाख रुपये बरामद किये थे. पिछले 10 वर्ष में इडी के छापे में 2200 करोड़ रुपये नकद बरामद हुए हैं. यह अंतर बताता है कि जांच एजेंसियां अब ज्यादा सक्रियता से काम कर रही हैं.

आज देश के करोड़ों लाभार्थियों को डीबीटी के माध्यम से सीधे खाते में पैसे भेजे जा रहे हैं. कांग्रेस के एक प्रधानमंत्री ने कहा था कि दिल्ली से भेजे गये 100 पैसे में से लाभार्थी को सिर्फ 15 पैसे मिलते हैं. बीच में 85 पैसे कांग्रेस के भ्रष्टाचार तंत्र की भेंट चढ़ जाते थे. हमने जनधन खाते खोले, उन्हें आधार और मोबाइल नंबर से लिंक किया, इसके द्वारा भ्रष्टाचार पर चोट की. डीबीटी के माध्यम से हमने लाभार्थियों तक 36 लाख करोड़ रुपये पहुंचाये हैं. अगर यह व्यवस्था नहीं होती, तो 30 लाख करोड़ रुपये बिचौलियों की जेब में चले जाते. मैंने संकल्प लिया है कि मैं देश से भ्रष्टाचार को खत्म करके रहूंगा. जो भी भ्रष्टाचारी होगा, उस पर कार्रवाई जरूर होगी. मेरे तीसरे टर्म ये कार्रवाई और तेज होगी.

प्रश्न- विपक्ष सरकार पर केंद्रीय एजेंसियों- इडी और सीबीआइ के दुरुपयोग का आरोप लगा रहा है. इस पर आपका क्या कहना है?

उत्तर- आपको यूपीए का कार्यकाल याद होगा, तब भ्रष्टाचार और घोटाले की खबरें आती रहती थीं. उस स्थिति से बाहर निकलने के लिए लोगों ने भाजपा को अपना आशीर्वाद दिया, लेकिन आज इंडी गठबंधन में शामिल दलों की जहां सरकार है, वहां यही सिलसिला जारी है. फिर जब जांच एजेंसियां इन पर कार्रवाई करती हैं तो पूरा विपक्ष एकजुट होकर शोर मचाने लगता है. एक घर से अगर करोड़ों रुपये बरामद हुए हैं, तो स्पष्ट है कि वो पैसा भ्रष्टाचार करके जमा किया गया है. इस पर कार्रवाई होने से विपक्ष को दर्द क्यों हो रहा है? क्या विपक्ष अपने लिए छूट चाहता है कि वे चाहे जनता का पैसा लूटते रहें, लेकिन एजेंसियां उन पर कार्रवाई न करें.

मैं विपक्ष और उन लोगों को चुनौती देना चाहता हूं, जो कहते हैं कि सरकार किसी भी एजेंसी का दुरुपयोग कर रही है. एक भी ऐसा केस नहीं हैं जहां पर कोर्ट ने एजेंसियों की कार्रवाई को गलत ठहराया हो. भ्रष्टाचार में फंसे लोगों के लिए जमानत पाना मुश्किल हो रहा है. जो जमानत पर बाहर हैं, उन्हें फिर वापस जाना है. मैं डंके की चोट पर कहता हूं कि एजेंसियों ने सिर्फ भ्रष्टाचारियों के खिलाफ कार्यवाही की है.

प्रश्न- विपक्ष हमेशा इवीएम की विश्वसनीयता पर सवाल उठाता है, आपकी क्या राय है?

उत्तर- विपक्ष को अब यह स्पष्ट हो चुका है कि उसकी हार तय है. यह भी तय हो चुका है कि जनता ने उन्हें तीसरी बार भी बुरी तरह नकार दिया है. ये लोग इवीएम के मुद्दे पर अभी-अभी सुप्रीम कोर्ट से हार कर आये हैं. ये हारी हुई मानसिकता से चुनाव लड़ रहे हैं, इसलिए पहले से बहाने ढूंढ कर रखा है. इनकी मजबूरी है कि ये हार के लिए शहजादे को दोष नहीं दे सकते. आप इनका पैटर्न देखिए, चुनाव शुरू होने से पहले ये इवीएम पर आरोप लगाते हैं. उससे बात नहीं तो इन्होंने मतदान प्रतिशत के आंकड़ों का मुद्दा उठाना शुरू किया है. जब मतगणना होगी तो गड़बड़ी का आरोप लगायेंगे और जब शपथ ग्रहण होगा, तो कहेंगे कि लोकतंत्र खतरे में है. चुनाव आयोग ने पत्र लिख कर खड़गे जी को जवाब दिया है, उससे इनकी बौखलाहट और बढ़ गयी है. ये लोग चाहे कितना भी शोर मचा लें, चाहे संस्थाओं की विश्वसनीयता पर सवाल उठा लें, जनता इनकी बहानेबाजी को समझती है. जनता को पता है कि इसी इवीएम से जीत मिलने पर कैसे उनके नरेटिव बदल जाते हैं. इवीएम पर आरोप को जनता गंभीरता से नहीं लेती.

प्रश्न- आपने आदिवासियों के विकास के लिए अनेक योजनाएं शुरू की हैं. आप पहले प्रधानमंत्री हैं, जो भगवान बिरसा की जन्मस्थली उलिहातू भी गये. आदिवासी समाज के विकास को लेकर आपका विजन क्या है?

उत्तर- इस देश का दुर्भाग्य रहा है कि आजादी के बाद छह दशक तक जिन्हें सत्ता मिली, उन लोगों ने सिर्फ एक परिवार को ही देश की हर बात का श्रेय दिया. उनकी चले, तो वे यह भी कह दें कि आजादी की लड़ाई भी अकेले एक परिवार ने ही लड़ी थी. हमारे आदिवासी भाई-बहनों का इस देश की आजादी में, इस देश के समाज निर्माण में जो योगदान रहा, उसे भुला दिया गया. भगवान बिरसा मुंडा के योगदान को ना याद करना कितना बड़ा पाप है. देश भर में ऐसे कितने ही क्रांतिकारी हैं जिन्हें इस परिवार ने भुला दिया.

जिन आदिवासी इलाकों तक कोई देखने तक नहीं जाता था, हमने वहां तक विकास पहुंचाया है. हम आदिवासी समाज के लिए लगातार काम कर रहे हैं. जनजातियों में भी जो सबसे पिछड़े हैं, उनके लिए विशेष अभियान चला कर उन्हें विकास की मुख्यधारा से जोड़ा है. इसके लिए सरकार ने 24 हजार करोड़ रुपये की योजना बनायी है.

भगवान बिरसा मुंडा के जन्म दिवस को भाजपा सरकार ने जनजातीय गौरव दिवस घोषित किया. एकलव्य विद्यालय से लेकर वन उपज तक, सिकेल सेल एनीमिया उन्मूलन से लेकर जनजातीय गौरव संग्रहालय तक, हर स्तर पर विकास कर रहे हैं. एनडीए के सहयोग से पहली बार एक आदिवासी बेटी देश की राष्ट्रपति बनी है.अगले वर्ष भगवान बिरसा मुंडा की 150वीं जन्म जयंती है. भाजपा ने संकल्प लिया है कि 2025 को जनजातीय गौरव वर्ष के रूप में मनाया जायेगा.

प्रश्न- देश के मुसलमानों और ईसाइयों के मन में भाजपा को लेकर एक अविश्वास का भाव है. इसे कैसे दूर करेंगे?

उत्तर- हमारी सरकार ने पिछले 10 वर्षों में एक काम भी ऐसा नहीं किया है, जिसमें कोई भेदभाव हुआ हो. पीएम आवास का घर मिला है, तो सबको बिना भेदभाव के मिला है. उज्ज्वला का गैस कनेक्शन मिला है, तो सबको मिला है. बिजली पहुंची है, तो सबके घर पहुंची है. नल से जल का कनेक्शन देने की बात आयी, तो बिना जाति, धर्म पूछे हर किसी को दी गयी. हम 100 प्रतिशत सैचुरेशन की बात करते हैं. इसका मतलब है कि सरकार की योजनाओं का लाभ हर व्यक्ति तक पहुंचे, हर परिवार तक पहुंचे. यही तो सच्चा सामाजिक न्याय है.

इसके अलावा मुद्रा लोन, जनधन खाते, डायरेक्ट बेनिफिट ट्रांसफर, स्टार्ट अप- ये सारे काम सबके लिए हो रहे हैं. हमारी सरकार सबका साथ सबका विकास के विजन पर काम करती है. दूसरी तरफ, जब कांग्रेस को मौका मिला, तो उसने समाज में विभाजन की नीति अपनायी. दशकों तक वोटबैंक की राजनीति करके सत्ता पाती रही, लेकिन अब जनता इनकी सच्चाई समझ चुकी है.

भाजपा को लेकर अल्पसंख्यकों में अविश्वास की बातें कांग्रेसी इकोसिस्टम का गढ़ा हुआ है. कभी कहा गया कि बीजेपी शहरों की पार्टी है. फिर कहा गया कि बीजेपी ऐसी जगहों में नहीं जीत सकती, जहां पर अल्पसंख्यक अधिक हैं. आज नागालैंड सहित नॉर्थ ईस्ट के दूसरे राज्यों में हमारी सरकार है, जहां क्रिश्चियन समुदाय बहुत बड़ा है. गोवा में बार-बार भाजपा को चुना जाता है. ऐसे में अविश्वास की बात कहीं टिकती नहीं.

प्रश्न- झारखंड और बिहार के कई इलाकों में घुसपैठ बढ़ी है, यहां तक कि डेमोग्रेफी भी बदल गयी है. इस पर कैसे अंकुश लगेगा?

उत्तर- झारखंड को एक नयी समस्या का सामना करना पड़ रहा है. जेएमएम सरकार की तुष्टीकरण की नीति से वहां घुसपैठ को जम कर बढ़ावा मिल रहा है. बांग्लादेशी घुसपैठियों की वजह से वहां की आदिवासी संस्कृति को खतरा पैदा हो गया है, कई इलाकों की डेमोग्राफी तेजी से बदल रही है. बिहार के बॉर्डर इलाकों में भी यही समस्या है. झारखंड में आदिवासी समाज की महिलाओं और बेटियों को टारगेट करके लैंड जिहाद किया जा रहा है. आदिवासियों की जमीन पर कब्जे की एक खतरनाक साजिश चल रही है.

ऐसी खबरें मेरे संज्ञान में आयी हैं कि कई आदिवासी बहनें इन घुसपैठियों का शिकार बनी हैं, जो गंभीर चिंता का विषय है. बच्चियों को जिंदा जलाया जा रहा है. उनकी जघन्य हत्या हो रही है. पीएफआइ सदस्यों ने संताल परगना में आदिवासी बच्चियों से शादी कर हजारों एकड़ जमीन को अपने कब्जे में ले लिया है. आदिवासियों की जमीन की सुरक्षा के लिए, आदिवासी बेटी की रक्षा के लिए, आदिवासी संस्कृति को बनाये रखने के लिए भाजपा प्रतिबद्ध है.

Following is the clipping of the interview:

 

 Source: Prabhat Khabar