انسداد دہشت گردی، بائیں بازو کی انتہا پسندی، ساحلی سلامتی سمیت قومی سلامتی کے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا
پولیسنگ اور داخلی سلامتی کے معاملات سے متعلق پیشہ ورانہ طور طریقوں اور عمل پر تبادلہ خیال اور اشتراک کیا جائے گا

وزیر اعظم جناب نریندر مودی 30 نومبر سے 1 دسمبر 2024 تک ریاستی کنونشن سینٹر، لوک سیوا بھون، بھونیشور، اڈیشہ میں ڈائریکٹر جنرلز/انسپکٹر جنرل آف پولیس 2024 کی آل انڈیا کانفرنس میں شرکت کریں گے۔

29 نومبر سے یکم دسمبر 2024 تک منعقد ہونے والی تین روزہ کانفرنس میں قومی سلامتی کے اہم امور بشمول انسداد دہشت گردی، بائیں بازو کی انتہا پسندی، ساحلی سلامتی، نئے فوجداری قوانین، منشیات سمیت دیگر پر غور کیا جائے گا۔ کانفرنس کے دوران نمایاں خدمات پر صدر کا پولیس میڈل بھی دیا جائے گا۔

یہ کانفرنس ملک میں پولیس کے سینئر پیشہ ور افراد اور سیکورٹی ایڈمنسٹریٹرز کو قومی سلامتی سے متعلق مختلف مسائل کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں پولیس کو درپیش مختلف آپریشنل، انفراسٹرکچر اور فلاح و بہبود سے متعلق مسائل پر آزادانہ طور پر تبادلہ خیال اور بحث کرنے کے لیے ایک انٹرایکٹو پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔ جن امور پر غور  وخوض کیا جائے گا ان میں داخلی سلامتی کے خطرات کے علاوہ جرائم پر قابو پانے اور امن و امان کے انتظام سے متعلق چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے پیشہ ورانہ طورطریقوں اور عمل کی تشکیل اور اشتراک شامل ہوگا۔

وزیر اعظم نے ہمیشہ ڈی جی پی کانفرنس میں گہری دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے۔ وزیر اعظم نہ صرف تمام تجاویز کو بغور سنتے ہیں بلکہ کھلے اور غیر رسمی بات چیت کے ماحول کو بھی فروغ دیتے ہیں، جس سے نئے خیالات کے ابھرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس سال کانفرنس میں کچھ انوکھی چیزیں بھی شامل کی گئی ہیں۔ یوگا سیشن، بزنس سیشن، بریک آؤٹ سیشنز اور تھیمیٹک ڈائننگ ٹیبلز سے شروع ہو کر پورے دن کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس سے پولیس کے اعلیٰ حکام کو اہم پولیسنگ اور داخلی سلامتی کے معاملات پر اپنے نقطہ نظر اور تجاویز پیش کرنے کا ایک قیمتی موقع بھی ملے گا جو ملک پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

 

وزیر اعظم نے 2014 سے پورے ملک میں منعقد ہونے والی سالانہ ڈی  جیز پی/آئی جیز پی کانفرنس کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ یہ کانفرنس گوہاٹی (آسام)، رن آف کچھ (گجرات)، حیدرآباد (تلنگانہ)، ٹیکن پور (گوالیار، مدھیہ پردیش)، مجسمہ اتحاد (کیوڑیا، گجرات)، پونے (مہاراشٹرا)، لکھنؤ (اتر پردیش)، نئی دہلی اور جے پور (راجستھان) میں منعقد ہوئی ہے۔ اس روایت کو جاری رکھتے ہوئے، 59ویں ڈی  جیز پی/آئی جیز پی کانفرنس 2024 بھونیشور (اڈیشہ) میں منعقد کی جارہی ہے۔

اس کانفرنس میں مرکزی وزیر داخلہ، وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری، قومی سلامتی کے مشیر، وزرائے مملکت (امورداخلہ)، ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ڈی جی پی اور مرکزی پولیس اداروں کے سربراہان اور دیگر شامل ہوں گے۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets

Media Coverage

PM Modi Praises Farmers For Taking India's Rich Mango Heritage To Global Markets
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister hold talks with Myanmar President U Min Aung Hlaing
June 01, 2026

The Prime Minister, Shri Narendra Modi, today held productive talks with the President of Myanmar, U Min Aung Hlaing.

The Prime Minister noted that India is honoured that President U Min Aung Hlaing chose India for his first foreign visit as President. He also expressed happiness that the President began his programme in India from Bodh Gaya with the blessings of Lord Buddha.

During the talks, the two leaders reviewed the full range of India-Myanmar relations and discussed ways to further strengthen bilateral cooperation.

The discussions covered avenues to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. The two sides also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and other sectors of mutual interest.

The Prime Minister underlined that Myanmar is vital to India’s ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific policies, reaffirming the importance India attaches to its relations with Myanmar.

The Prime Minister wrote on X;

“Had a productive meeting with President U Min Aung Hlaing of Myanmar. We in India are honoured that he has chosen India for his first foreign visit as President. Equally gladdening is the fact that he began the visit from Bodh Gaya, with the blessings of Lord Buddha. We reviewed the full range of India-Myanmar relations. Myanmar is vital to India’s policies of ‘Neighbourhood First’, ‘Act East’ and Indo-Pacific.”

“Our talks covered ways to deepen cooperation in trade, rare earths, healthcare, connectivity, heritage restoration and capacity building. We also agreed to work closely in areas such as maritime security, cyber security and more.”