‏وزیر اعظم نے‏ ‏اسٹارٹ اپس سے گفت و شنید کی

Published By : Admin | January 15, 2022 | 11:20 IST
اسٹارٹ اپس نے چھ موضوعات پر وزیر اعظم کے سامنے پریزنٹیشن پیش کیں
"اسٹارٹ اپ کلچر کو ملک کے دور دراز علاقوں میں لے جانے کے لیے 16 جنوری کو قومی اسٹارٹ اپس ڈے کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے"
"حکومتی کوششوں کے تین پہلو: پہلا، کاروبار کو آزاد کرنا، جدت طرازی کو حکومتی کارروائیوں کے جال اور نوکرشاہی کے سائلوز سے؛دوسرا، جدت طرازی کو فروغ دینے کے لیے ادارہ جاتی میکنزم تشکیل دینا؛ تیسرا، نوجوان اختراع کاروں اور نئے کاروباری اداروں کو مدد فراہم کرنا"
"ہمارے اسٹارٹ اپس منظرنامے کو تبدیل کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے یقین ہے کہ اسٹارٹ اپس نئے بھارت کی ریڑھ کی ہڈی بننے والے ہیں۔ " ‏
‏"گزشتہ سال ملک میں 42 یونیکورن آئے ‏تھے۔ ہزاروں کروڑ روپے مالیت کی یہ کمپنیاں خود کفیل اور خود اعتماد‏ ‏بھارت کی پہچان ہیں"
"آج بھارت تیزی سے یونیکورن کی صدی کے نشانے کی سمت میں بڑھ رہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ بھارت کے اسٹارٹ اپس کا ‏سنہری دور اب شروع ہو رہا ہے"
"اپنے خوابوں کو محض مقامی نہ رکھیں، انہیں عالمی بنائیں۔ اس منتر کو یاد رکھیں‏

‏ وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اسٹارٹ اپس سے گفت و شنید کی۔ ‏‏اسٹارٹ اپس نے وزیر اعظم کو چھ موضوعات پر پریزنٹیشن، جو اس طرح ہیں: جڑوں سے بڑھنا؛ ڈی این اے کو آگے بڑھانا؛ مقامی سے عالمی تک؛ مستقبل کی ٹیکنالوجی؛ مینوفیکچرنگ میں چیمپئنز کی تشکیل؛ اور پائیدار ترقی۔ ان پریزنٹیشنوں کے مقصد سے 150 سے زیادہ اسٹارٹ اپس کو چھ ورکنگ گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ہر موضوع کے لیے دو اسٹارٹ اپس نمائندوں کی پریزنٹیشنیں تھیں، جنہوں نے اس مخصوص موضوع کے لیے منتخب تمام اسٹارٹ اپس کی طرف سے بات کی۔ ‏

‏اپنی پریزنٹیشنز کے دوران اسٹارٹ اپس نمائندوں نے اپنے خیالات کے تبادلے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنے کے موقع پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا اور اسٹارٹ اپس ایکو سسٹم کے لیے ان کے وژن اور حمایت کی ستائش کی۔ انہوں نے زراعت میں ڈیٹا اکٹھا کرنا؛ بھارت کو زرعی کاروباری مرکز بنانا؛ ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے صحت کی دیکھ بھال کو فروغ دینا؛ ذہنی صحت کے مسئلے سے نمٹنا؛ ورچوئل دوروں جیسی اختراعات کے ذریعے سفر اور سیاحت کو فروغ دینا؛ ایڈ ٹیک اور ملازمت کی شناخت؛ خلائی شعبہ؛ آف لائن خوردہ بازار کو ڈیجیٹل کامرس سے جوڑنا؛ مینوفیکچرنگ کی کارکردگی میں اضافہ؛ دفاعی برآمدات؛ سبز پائیدار مصنوعات اور ٹرانسپورٹ کے پائیدار ذرائع کو فروغ دینا، وغیرہ جیسے مختلف شعبوں اور محکموں پر خیالات اور معلومات کا اشتراک کیا۔

‏اس موقع پر مرکزی وزراء جناب پیوش گوئل، ڈاکٹر منسکھ منڈاویا، جناب اشونی واسنو، جناب سربانند سونووال، جناب پرشوتم روپالا، جناب جی کشن ریڈی، جناب پشوپتی کمار پارس، ڈاکٹر جتیندر سنگھ، جناب سوم پرکاش بھی موجود تھے۔‏

‏پریزنٹیشنز کے بعد خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آزادی کے امرت مہوتسو کے اس سال میں اس اسٹارٹ اپس انڈیا اختراعی ہفتے کا انعاد سب سے اہم ہے کیونکہ جب بھارت آزادی کے اپنے سو سال تکمیل کرے گا تو اسٹارٹ اپس کا کردار اہم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میں ملک کے تمام اسٹارٹ اپس، تمام جدت طراز نوجوانوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جو اسٹارٹ اپس کی دنیا میں بھارت کا پرچم بلند کر رہے ہیں۔ اسٹارٹ اپس کے اس کلچر کو ملک کے دور دراز حصوں تک پہنچانے کے لیے 16 جنوری کو قومی اسٹارٹ اپس ڈے کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔"‏

‏موجودہ دہائی کے تصور کو بھارت کے 'ٹیک ایڈ' قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے اس دہائی میں حکومت کی جانب سے جدت طرازی، کاروبار اور اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے کے لیے کی جانے والی بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کے تین اہم پہلوؤں کو گنوایا۔ سب سے پہلے، کاروبار اور جدت طرازی کو حکومتی عمل کے جال اور نوکر شاہی کے سائلوز سے آزاد کرانا۔ دوسرا، جدت طرازی کو فروغ دینے کے لیے ادارہ جاتی میکنزم تشکیل دینا۔ اور تیسرا، نوجوان جدت طرازوں اور نئَ کاروباری اداروں کو مدد فراہم کرنا۔ انہوں نے ان کوششوں کے حصے کے طور پر اسٹارٹ اپ انڈیا اور اسٹینڈ اپ انڈیا جیسے پروگرام گنوائے۔ 'اینجل ٹیکس' کے مسائل کو دور کرنے، ٹیکس کے طریقہ کار کو آسان بنانے، سرکاری فنڈنگ کا انتظام کرنے، 9 لیبر اور 3 ماحولیاتی قوانین کی خود تصدیق کی اجازت دینے اور 25 ہزار سے زائد تعمیلات کو ختم کرنے جیسے اقدامات نے اس عمل کو مزید آگے بڑھایا ہے۔ سرکاری ای مارکیٹ پلیس (جی ای ایم) پلیٹ فارم پر اسٹارٹ اپس رن وے حکومت کو اسٹارٹ اپس خدمات کی فراہمی میں سہولت فراہم کر رہا ہے۔‏

‏وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ بچپن سے ہی طلبا میں جدت طرازی کے لیے کشش پیدا کرکے ملک میں جدت طرازی کو ادارہ جاتی شکل دی جائے۔ 9000 سے زائد اٹل ٹنکرنگ لیبز بچوں کو اسکولوں میں جدت لانے اور نئے خیالات پر کام کرنے کا موقع دے رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواہ ڈرون کے نئے قواعد ہوں یا نئی خلائی پالیسی، حکومت کی ترجیح زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو جدت طرازی کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری حکومت نے آئی پی آر رجسٹریشن سے متعلق قواعد کو بھی آسان بنا دیا ہے۔‏

‏وزیر اعظم نے جدت طرازی کے اشاریوں میں تیزی سے اضافے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سال 2013-14 میں 4000 پیٹنٹ کو منظوری دی گئی، گزشتہ سال 28 ہزار سے زائد پیٹنٹ دیئے گئے تھے۔ سال 2013-14 میں، جہاں تقریباً 70000 ٹریڈ مارک رجسٹرڈ تھے، 2020-21 میں 2.5 لاکھ سے زائد ٹریڈ مارک رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔ سال 2013-14 میں، جہاں صرف 4000 کاپی رائٹ دیئے گئے تھے، گزشتہ سال ان کی تعداد 16000 سے تجاوز کر گئی ہے۔ وزیر اعظم نے نشاندہی کی کہ جدت طرازی کے لیے بھارت کی مہم کے نتیجے میں عالمی اختراعی اشاریہ میں بھارت کی درجہ بندی میں بہتری آئی ہے جہاں پہلے بھارت 81 ویں پائیدان پر کھڑا تھا، اب اشاریے میں بھارت 46 ویں پائیدان پر ہے۔‏

‏جناب مودی نے بتایا کہ بھارت کے اسٹارٹ اپس 55 الگ الگ صنعتوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور اسٹارٹ اپس کی تعداد پانچ سال پہلے کے 500 سے کم ہو کر آج 60 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ "ہمارے اسٹارٹ اپس منظرنامہ تبدیل کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے یقین ہے کہ اسٹارٹ اپس نئے بھارت کی ریڑھ کی ہڈی بننے والے ہیں۔ " وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ سال ملک میں 42 یونیکورن آئے تھے۔ ہزاروں کروڑ روپے مالیت کی یہ کمپنیاں خود کفیل اور خود اعتماد بھارت کی پہچان ہیں۔ "آج بھارت تیزی سے یونیکورن کی صدی کو نشانہ بنانے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے یقین ہے کہ بھارت کے اسٹارٹ اپس کا سنہری دور اب شروع ہو رہا ہے۔‏

‏وزیر اعظم نے ترقی اور علاقائی صنفی تفاوت کے مسائل سے نمٹنے میں کاروباری صلاحیت کے ذریعے بااختیار بنانے کے کردار پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ آج ملک کے 625 اضلاع میں سے ہر ایک میں کم از کم ایک اسٹارٹ اپ موجود ہے اور آدھے سے زیادہ اسٹارٹ اپ ٹائر 2 اور ٹائر 3 شہروں سے ہیں۔ یہ عام غریب خاندانوں کے خیالات کو کاروبار میں تبدیل کر رہے ہیں اور لاکھوں نوجوان بھارتیوں کو روزگار مل رہا ہے۔‏

‏جناب نریندر مودی نے بھارت کے تنوع کو بھارت کی عالمی شناخت کی ایک اہم طاقت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی یونیکورن اور اسٹارٹ اپس اس تنوع کے پیامبر ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت سے اسٹارٹ اپس آسانی سے دنیا کے دیگر ممالک تک پہنچ سکتے ہیں۔ انہوں نے جدت پسندوں کو تلقین کی کہ " اپنے خوابوں کو مقامی نہ رکھیں، بلکہ انہیں عالمی بنائیں۔ اس منتر کو یاد رکھیں- آئیے بھارت کے لیے جدت طرازی لائیں، بھارت کے لیے اختراع کریں۔"‏

‏وزیر اعظم نے بہت سے شعبے تجویز کیے جہاں اسٹارٹ اپس ایکو سسٹم اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان پر اضافی جگہ ای وی چارجنگ بنیادی ڈھانچے کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح دفاعی مینوفیکچرنگ، چپ مینوفیکچرنگ جیسے شعبے بھی بہت سے امکانات پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے ڈرون کے شعبے کے بارے میں کہا کہ نئی ڈرون پالیسی کے بعد بہت سے سرمایہ کار ڈرون اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ فوج، بحریہ اور فضائیہ نے ڈرون اسٹارٹ اپس کو 500 کروڑ روپے مالیت کے آرڈر دیئے ہیں۔ شہری منصوبہ بندی میں وزیر اعظم نے 'واک ٹو ورک تصورات'، مربوط صنعتی ایسٹیٹ اور اسمارٹ موبلیٹی کے ممکنہ علاقوں کا ذکر کیا۔‏

‏وزیر اعظم نے کہا کہ آج اس صدی کی نسل اپنے خاندانوں کی خوش حالی اور قوم کی خود انحصاری دونوں کا سنگ بنیاد ہے۔ 'دیہی معیشت سے لے کر صنعت 4.0 تک، ہماری ضروریات اور ہماری صلاحیتیں دونوں لامحدود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کی ٹیکنالوجی سے متعلق تحقیق اور ترقی پر سرمایہ کاری آج حکومت کی ترجیح ہے۔‏

‏مستقبل کے امکانات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اب تک ہماری نصف آبادی آن لائن ہے اس لیے مستقبل کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور انہوں نے اسٹارٹ اپس سے اپیل کی کہ وہ دیہات کی طرف بھی بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ موبائل انٹرنیٹ ہو، براڈ بینڈ کنکٹیویٹی ہو یا طبعی رابطہ، دیہات کی امنگیں بڑھ رہی ہیں اور دیہی اور نیم شہری علاقے توسیع کی ایک نئی لہر کے منتظر ہیں۔‏

‏وزیراعظم نے اسٹارٹ اپس کو بتایا کہ یہ اختراع کا ایک نیا دور ہے یعنی خیالات، صنعت اور سرمایہ کاری اور ان کی محنت، انٹرپرائز، دولت کی تخلیق اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا بھارت کے لیے ہونا چاہئے۔ انہوں نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں، حکومت آپ کے ساتھ ہے اور پورا ملک آپ کے ساتھ کھڑا ہے۔

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کا متن
Getting excellent feedback, clear people across India voting for NDA, says PM Modi

Media Coverage

Getting excellent feedback, clear people across India voting for NDA, says PM Modi
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Overwhelming support for the NDA at PM Modi's rally in Nanded, Maharashtra
April 20, 2024
For decades, Congress stalled the development of Vidarbha & Marathwada: PM Modi
The land of Nanded reflects the purity of India's Sikh Gurus: PM Modi
The I.N.D.I alliance only believe in vote-bank politics: PM Modi

Ahead of the Lok Sabha elections, PM Modi addressed a public meeting in Nanded, Maharashtra amid overwhelming support by the people of BJP-NDA. He bowed down to prominent personalities including Guru Gobind Singh Ji, Nanaji Deshmukh, and Babasaheb Ambedkar.

Speaking on the initial phase of voting for the Lok Sabha elections, PM Modi said, “We have the popular support of the First-time voters with us.” He added, “I.N.D.I alliance have come together to save and protect their corruption and the people have thoroughly rejected them in the 1st phase of polling.” He added that the Congress Shehzada now has no choice but to contest from Wayanad, but like he left Amethi he may also leave Wayanad. He said that the country is voting for BJP-NDA for a ‘Viksit Bharat’.

Lamenting the Congress for stalling the development of the people, PM Modi said, “Congress is the wall between the development of Dalits, Poor & deprived.” He added that Congress even today opposes any developmental work that our government intends to carry out. He said that one can never expect them to resolve any issues and people cannot expect robust developmental prospects from them.

Highlighting the dire state and fragile conditions of Marathwada and Vidarbha, PM Modi said, “For decades, Congress stalled the development of Vidarbha & Marathwada.” He “It is the policies of the Congress that both Marathwada and Vidarbha are water-deficient, its farmers are poor and there are no prospects for industrial growth.” He said that our government has enabled 'Nal se Jal' to 80% of households in Nanded. He said that our constant endeavor has been to facilitate the empowerment of our farmers through record rise in MSPs, income support through PM-KISAN, and the promotion of ‘Sree Anna’.

Highlighting the infra impetus in Nanded in the last decade, PM Modi said, “To treat every wound given by Congress is Modi's guarantee.” He added “The ‘Shaktipeeth highway’ and ‘Latur Rail Coach Factory’ is our commitment to a robust infra.” He said that we aim to foster the development of the Marathwada region in the next 5 years.

Elaborating on the relationship between the Sikh Gurus and Nanded, PM Modi said, “The land of Nanded reflects the purity of India's Sikh Gurus.” He added that we are guided by the principles of Guru Gobind Singh Ji. “Over the years we have celebrated the 550th birth anniversary of Guru Nanak Dev Ji, the 400th birth anniversary of Guru Teg Bahadur Ji, and the 350th birth anniversary of Guru Gobind Singh Ji,” said PM Modi. He said that the Congress has always opposed the Sikh community and is taking revenge for 1984. He said that it is due to this that they oppose the CAA that aims to bring the Sikh brothers and sisters to India, granting them citizenship. He said that it was our government that brought back the Guru Granth Sahib from Afghanistan and facilitated the Kartarpur corridor. He said that various other decisions like the abrogation of Article 370 and the abolition of Triple Talaq have greatly benefitted our Muslim sisters and brothers.

Taking a dig at the I.N.D.I alliance, PM Modi said “The I.N.D.I alliance only believe in vote-bank politics.” He added that for this they have left no stone unturned to criticize and disrespect ‘Sanatana’. He said that it is the same I.N.D.I alliance that boycotted the Pran-Pratishtha of Shri Ram.

In conclusion, PM Modi said that we all must strive to ensure that India becomes a ‘Viksit Bharat’, and for that, it is the need of the hour to vote for the BJP-NDA. He thanked the people of Nanded for their overwhelming support and expressed confidence in a Modi 3.0.