جمہوریہ فرانس کے صدر عزت مآب جناب ایمانوئل میخواں اور جمہوریہ سلوواکیہ کے وزیر اعظم عزت مآب جناب رابرٹ فیکو کی دعوت پر، میں 13 سے 18 جون 2026 تک فرانس اور جمہوریہ سلوواکیہ کا دورہ کر رہا ہوں۔

بھارت کے اسٹریٹجک ویژن میں فرانس کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ اس سال کے شروع میں، صدر میخواں نے بھارت کا دورہ کیا تھا اور ہم نے اپنے تعلقات کو ایک 'اسپیشل گلوبل اسٹریٹجک پارٹنرشپ' کے درجے تک پہنچایا تھا۔ نیس  میں جب میں جناب میخواں سے ملاقات کروں گا، تو ہم فروری کے بعد سے ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیں گے اور اپنے تعاون کے اگلے اقدامات کا خاکہ تیار کریں گے۔ میں باہمی مفاد کے اہم عالمی مسائل پر بھی ہماری بات چیت کا منتظر ہوں۔

نیس میں، میں 14 جون 2026 کو صدر میخواں کے ساتھ مل کر 'بھارت انوویٹس کا افتتاح کرنے کے لیے بھی بے تابی سے منتظر ہوں۔ یہ سنگ میل کی حیثیت رکھنے والی تقریب، جو 'انڈیا-فرانس ایئر آف انوویشن' (ہند-فرانس جدت طرازی کا سال) کے پس منظر میں منعقد ہو رہا ہے، بھارت کے سب سے امید افزا اسٹارٹ اپس کو عالمی سرمایہ کاری سے جوڑے گا اور بھارت کے اعلیٰ تعلیم کے ماحولیاتی نظام سے ابھرنے والی ایجادات کے لیے ایک بڑے ایکسیلیریٹر کے طور پر کام کرے گا۔

نیس سے، میں 14 سے15 جون 2026 تک سرکاری دورے کے لیے جمہوریہ سلوواکیہ کا سفر کروں گا، جو 1993 میں سلوواکیہ کی آزادی کے بعد سے کسی ہندوستانی وزیر اعظم کا پہلا دورہ ہے۔ یہ تاریخی دورہ ہمارے دو طرفہ تعلقات میں موجود مضبوط رفتار کو مزید آگے بڑھائے گا۔ میں براٹیسلاوا میں صدر پیلیگرینی اور وزیر اعظم فیکو کے ساتھ بات چیت کرنے کا منتظر ہوں۔ مجھے سلوواکیہ کے کاروباری رہنماؤں سے بات چیت کرنے کا موقع بھی ملے گا۔ انڈیا-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے کی رفتار کو آگے بڑھاتے ہوئے، یہ دورہ یورپی یونین کے ساتھ ہماری اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو مزید تقویت بخشے گا، جس کا سلوواکیہ ایک اہم اور قابل قدر رکن ہے۔

سلوواکیہ سے، میں ایویان کا سفر کروں گا، جہاں میں 16 اور 17 جون 2026 کو جی-7 سربراہی اجلاس میں شرکت کروں گا۔ جی-7 میں ہندوستان کی موجودگی اس اعتماد کی عکاس ہے جو ہمارے شراکت دار ہم پر رکھتے ہیں اور یہ ہمارے بڑھتے ہوئے عالمی قد کاٹھ کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ لگاتار آٹھواں جی-7 سربراہی اجلاس ہے جس میں ہندوستان کو مدعو کیا گیا ہے۔ جی-7 میں، بھارت نہ صرف اپنی بات رکھے گا، بلکہ یہ عالمِ جنوب کی امنگوں کو بھی آواز دے گا۔

میں 18 جون 2026 کو پیرس میں فرانس کے اپنے دورے کا اختتام کروں گا جہاں میں صدر میخواں کے ساتھ 'ویوا ٹیک 2026' میں شرکت کروں گا۔ 'ویوا ٹیک' ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کا یورپ کا سب سے اہم اجتماع ہے، اور اس ایڈیشن میں ہندوستان کا سب سے بڑا قومی پویلین ہوگا، جو ہندوستانی اور یورپی جدت طرازی کے ماحولیاتی نظام کے درمیان شراکت داری کے بے پناہ امکانات کی ایک موزوں علامت ہے۔ میں پیرس میں متحرک ہندوستانی کمیونٹی کے ارکان سے ملاقات کا بھی منتظر ہوں، جو ہمارے دونوں ممالک کے درمیان ایک زندہ پل کی حیثیت رکھتے ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ فرانس اور جمہوریہ سلوواکیہ کے میرے دورے یورپ اور جی-7 دونوں کے ساتھ بھارت کی گہری وابستگی کو مضبوط کریں گے، اور براعظم یورپ اور اس سے آگے تک ہماری شراکت داری کے افق کو وسیع کرنے کے ہمارے پختہ عزم کی عکاسی کریں گے۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Mapping the subsurface: How ICAR’s ‘Soil Intelligence’ is reshaping India’s mega infrastructure boom

Media Coverage

Mapping the subsurface: How ICAR’s ‘Soil Intelligence’ is reshaping India’s mega infrastructure boom
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
وزیر اعظم نے آچاریہ ونوبا بھاوے کو ان کی جینتی پر خراج عقیدت پیش کیا
September 11, 2026

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آچاریہ ونوبا بھاوے کی جینتی پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آچاریہ ونوبا بھاوے کا پُرجوش نعرہ ’’جے جگت‘‘ تمام حدود سے بالاتر تھا اور اس نے انسانیت کو سب سے مقدم رکھا۔

جناب مودی نے کہا کہ آچاریہ ونوبا بھاوے نے اپنی مختلف کوششوں کے ذریعے سب کی فلاح و بہبود اور انہیں بااختیار بنانے کے لئے کام کیا۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ مساوات، وقار اور خدمت پر ان کے اٹل اعتمادنے معاشرے کے سب سے محروم طبقات کو طاقت فراہم کی۔

جناب مودی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا:

’’آچاریہ ونوبا بھاوے کی جینتی پر انہیں خراجِ عقیدت۔

ان کا پُرجوش نعرہ ‘جے جگت’ تمام حدود سے بالاتر تھا اور انہوں نے انسانیت کو سب سے مقدم رکھا۔

اپنی مختلف کوششوں کے ذریعے انہوں نے سب کی فلاح و بہبود اور بااختیار بنانے کے لئے کام کیا۔

مساوات، وقار اور خدمت پر ان کے غیر متزلزل یقین نے معاشرے کے سب سے پسماندہ طبقات کو طاقت فراہم کی۔‘‘