Today, with the grace of Sri Sri Harichand Thakur ji, I have got the privilege to pray at Orakandi Thakurbari: PM Modi
Both India and Bangladesh want to see the world progressing through their own progress: PM Modi in Orakandi
Our government is making efforts to make Orakandi pilgrimage easier for people in India: PM Modi


ہاری۔ بول! ہاری۔بول! جائے ہاری ۔بول!

بنگلہ دیش سرکار کے ممتاز نمائندے وزیر زراعت ڈاکٹر محمد عبدالرزاق جی، جناب شیخ سلیم جی، لیفٹیننٹ کرنل محمد فاروق خان جی، بھارت کی پارلیمنٹ میں میرے خاص معاون اور میرے دوست، شری شری ہری چند ٹھاکر جی کی روایات اور اقدار کی نمائندگی کر رہے جناب شانتنو ٹھاکر جی، بھارت سے آئے آل انڈیا متووا مہاسنگھ کے نمائندے، شری شری ہری چندٹھاکر جی میں خصوصی عقیدت رکھنے والے میرے بھائیو ۔ بہنو اور تمام معزز ساتھیو! آپ سب کو پورے احترام کے ساتھ

نوموشکار!
آج شری شری ہری چند ٹھاکر جی کی مہربانی سے مجھے اوراکانڈی ٹھاکر باڑی کی اس مقدس سرزمین کو پرنام کرنے کی خوش نصیبی حاصل ہوئی ہے۔ میں شری شری ہری چند ٹھاکر جی، شری شری گوروچند ٹھاکر جی کے قدموں میں سرجھاکر سلام پیش کرتا ہوں۔

ابھی میری یہاں کچھ معزز شخصیات سے بات ہو رہی تھی تو انہوں نے کہا – کس نے سوچا تھا کہ بھارت کا وزیر اعظم کبھی اوراکانڈی آئے گا۔ میں آج ویسا ہی محسوس کر رہا ہوں، جو بھارت میں رہنے والے ’ماتوا شومپردائی‘ کے میرے ہزاروں ۔ لاکھوں بھائی بہن اوراکانڈی آکر محسوس کرتے ہیں۔ میں آج یہاں آیا تو میں نے ان کی طرف سے بھی اس مقدس سرزمین پر قدم رکھا ہے۔
اس دن کا ، اس مبارک موقع کا انتظار مجھے کئی برسوں سے تھا۔ سال 2015 میں جب میں وزیر اعظم کے طور پر پہلی مرتبہ بنگلہ دیش آیا تھا، تبھی میں نے یہاں آنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ وہ میری خواہش، وہ میری آرزو آج پوری ہوئی ہے۔

مجھے مسلسل شری شری ہری چند ٹھاکر جی کے معتقدین سے پیار اور محبت حاصل ہوتا رہا ہے،ان کے کنبے کی اپنائیت مجھے ملتی رہی ہے۔ میں آج ٹھاکر باڑی کی زیارت کے پیچھے ان کے آشیرواد کا اثر بھی مانتا ہوں۔
مجھے یاد ہے، مغربی بنگال میں ٹھاکر نگر میں جب میں گیا تھا، تو وہاں میری ماتوا بھائیو۔ بہنو نے مجھے کنبے کے رکن کی طرح بہت پیار دیا تھا۔ خصوصاً ’بارو۔ماں‘ جیسا اپنا پن، ماں کی طرح ان کا آشیرواد، میری زندگی کے بیش قیمتی لمحات رہے ہیں۔

مغربی بنگال میں ٹھاکر نگر سے بنگلہ دیش میں ٹھاکرباڑی تک، ویسی ہی عقیدت ہے، ویسا ہی یقین ہے، اور ویسا ہی احساس ہے۔
میں بنگلہ دیش کے قومی تیوہار پر بھارت کے 130 کروڑ بھائیو ۔ بہنو کی جانب سے آپ کے لئے محبت اور نیک خواہشات لایا ہوں۔ آپ سبھی کو بنگلہ دیش کی آزادی کے 50 سال مکمل ہونے پر تہہ دل سے بہت بہت مبارکباد ۔
کل ڈھاکہ میں نیشنل ڈے پروگرام کے دوران میں نے بنگلہ دیش کی شجاعت کی، اس ثقافت کی حیرت انگیز جھانکی دیکھی، جسے اس حیرت انگیز ملک نے حفاظت سے رکھا ہے اور جس کا آپ بہت اہم حصہ ہیں۔
یہاں آنے سے قبل میں جاتر پیتا بانگو بوندھو شیخ مجیب الرحمٰن کی ’شمادھی شودھو‘ پر گیا، وہاں گلہائے عقیدت پیش کیے۔ شیخ مجیب الرحمٰن جی کی قیادت، ان کا ویژن اور بنگلہ دیش کے لوگوں پر ان کا یقین ایک مثال ہے۔
آج جس طرح بھارت۔بنگلہ دیش کی حکومتیں دونوں ممالک کے درمیان فطری تعلقات کو مضبوط کر رہی ہیں، ثقافتی طور پر یہی کام ٹھاکرباڑی اور شری شری ہری چند ٹھاکر جی کے پیغامات دہائیوں سے کرتے آرہے ہیں۔

ایک طرح سے یہ مقام بھارت اور بنگلہ دیش کے روحانی رشتے کی زیارت گاہ ہے۔ ہمارا رشتہ عوام سے عوام کا رشتہ ہے، من سے من کا رشتہ ہے۔
بھارت اور بنگلہ دیش دونوں ہی ممالک اپنی ترقی کو، اپنی پیش رفت سے پوری دنیا کی پیش رفت دیکھنا چاہتے ہیں۔ دونوں ہی ممالک دنیا میں عدم استحکام، دہشت اور ہنگامے کی جگہ استحکام، محبت اور امن چاہتے ہیں۔
یہی قدر، یہی تعلیم شری شری ہری چند ٹھاکر دیوجی نے ہمیں دی تھی۔ آج ساری دنیا جن اقدار کی بات کرتی ہے، انسانیت کے جس مستقبل کا خواب دیکھتی ہے، ان اقدار کے لئے شری شری ہری چند جی نے اپنی زندگی وقف کردی تھی۔
عظیم شاعر جناب مہاناندو ہالدار نے شری شری گورو چاند چاریتا میں لکھا ہے۔

تپشیل جاتی مادھوج جا کیچھو ہوئے چے۔

ہاریچند کلپ ورکش ساکلی فیلیچھے ۔۔
مطلب، استحصال کے شکار، مظلوم، دلت، محروم سماج نے جو کچھ بھی چاہا، جو کچھ حاصل کیا، وہ شری شری ہری چند جی جیسے کلپ ورکش کا ہی پھل ہے۔

شری شری ہری چند جی کے ذریعہ دکھائے گئے راستے پر ہی چلتے ہوئے آج ہم ایک مساوی سماج کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے اس دور میں خواتین کی تعلیم، ان کی سماجی شراکت داری کے لئے کام شروع کر دیا تھا۔ آج ہم خواتین کی اختیارکاری کے لئے کوششوں کو پوری دنیا میں آگے بڑھتا دیکھ رہے ہیں۔
جب ہم شری شری ہری چند ٹھاکر کے پیغامات کو سمجھتے ہیں، ’ہاری ۔ لیلا۔ امرتو‘ کا سبق پڑھتے ہیں، تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انہوں نے آگے کی صدیوں کو پہلے ہی دیکھ لیا تھا۔ ان کے پاس خداداد نظر اور ایک معجزاتی حکمت تھی۔
غلامی کے اس دور میں بھی انہوں نے سماج کو یہ بتایا کہ ہماری حقیقی ترقی کا راستہ کیا ہے۔ آج بھارت ہو یا بنگلہ دیش، سماجی اتحاد، برابری کے انہیں اصولوں سے اپنے مستقبل کی تعمیر کر رہے ہیں، ترقی کی نئی بلندیاں سر کر رہے ہیں۔
ساتھیو،
شری شری ہری چند دیو جی کی زندگی نے ہم کو ایک اور سیکھ دی ہے۔ انہوں نے خدائی محبت کا بھی پیغام دیا، لیکن ساتھ ہی ہمیں ہمارے فرائض کا بھی احساس کرایا۔ انہوں نے ہمیں یہ بتایا کہ استحصال اور دکھ کے خلاف جدوجہد بھی عباد ت ہے۔

آج شری شری ہری چند دیو جی کے لاکھوں کروڑوں معتقدین، خواہ وہ بھارت میں ہوں، بنگلہ دیش میں ہوں یا پھر کہیں اور، ان کے بتائے ہوئے راستے پر چل رہے ہیں، انسانیت کے سامنے جو بھی خطرہ ہے، ان کے حل میں مدد کر رہے ہیں۔
میری خوش نصیبی ہے کہ شری شری ہری چند ٹھاکر جی کی وراثت کو سنبھال رہے، شانتنو ٹھاکر جی بھارت میں پارلیمنٹ میں میرے معاون ہیں۔ حالانکہ عمر میں مجھ سے چھوٹے ہیں لیکن مجھے ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ اس کی وجہ یہی ہےکہ انہوں نے شری شری ہری چند ٹھاکر جی کی عظیم تعلیمات کو اپنی زندگی میں اتارا ہے۔ وہ بہت محنتی ہیں۔ سماج کے لوگوں کے لئے پورے احساس ذمہ داری کے ساتھ دن رات کوشش کرتے ہیں۔
ساتھیو،

 

آج بھارت اور بنگلہ دیش کے سامنے، جس طرح کے یکساں مسائل ہیں، ان کے حل کے لئے شری شری ہری چند دیو جی کی ترغیب بہت اہم ہے۔ دونوں ممالک کا ایک ساتھ مل کر ہر چنوتی کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ یہی ہمارا فرض ہے، یہی ان دونوں ممالک کے کروڑوں لوگوں کی فلاح کا راستہ ہے۔

کورونا وبائی مرض کے دوران بھارت اور بنگلہ دیش، دونوں ہی ممالک نے اپنی اہلیت کو ثابت کرکے دکھایا ہے۔ آج دونوں ہی ممالک اس وبائی مرض کا مضبوطی سے مقابلہ کر رہے ہیں اور ایک ساتھ مل کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ میڈ ان انڈیا ویکسین بنگلہ دیش کے شہریوں تک بھی پہنچے، بھارت اسے اپنا فرض سمجھ کر کام کر رہا ہے۔
شری شری ہری چند جی نے ہمیشہ ہی جدیدیت اور تبدیلی کی حمایت کی تھی۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ جب وبائی مرض کا خطرہ شروع ہوا تھا، تو یہاں اوراکانڈی میں آپ سبھی نے تکنالوجی کو اپنایا، آن لائن کیرتن کیے، سماجی خوداعتمادی کو بڑھایا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شری شری ہری چند جی کی ترغیب، ہمیں ہر مشکل میں آگے بڑھنا سکھاتی ہے۔
شری شری ہری چند جی کی تعلیمات کو عوام تک پہنچانے میں، دلت ۔ مظلوم سماج کو متحد کرنے میں بہت بڑا کردار ان کے جانشین شری شری گورو چند ٹھاکر جی کا بھی ہے۔ شری شری گورو چند جی نے ہمیں ’بھکتی، عمل اور علم‘ کا اصول دیا تھا۔
شری شری گورو چند چوریتو کہتا ہے:

انوماتا جاتی ماجے شکھا بستارِت ۔

آگیا کرن ہاری چاند تاری بیدھی ماتے۔۔

یعنی، ہری چند جی نے ہمیں سماج کے کمزور طبقات تک تعلیم پہنچانے کا حکم دیا ہے۔شری گوروچند جی نے اپنی پوری زندگی میں ہری چاند جی کے اس حکم پر عمل کیا۔ خصوصاً بیٹیوں کی تعلیم کے لئے انہوں نے بہت کوششیں کیں۔
آج یہ ہر ہندوستانی کی خوش نصیبی ہے کہ وہ یہاں بنگلہ دیش میں، شری شری گوروچند جی کی کوششوں سے جڑ رہا ہے۔ اوراکانڈی میں تعلیم کی مہم سے اب بھارت کے لوگ بھی جڑیں گے۔
اوراکانڈی میں بھارتی حکومت لڑکیوں کے مڈل اسکول کی تجدید کاری کرے گی، جدید سہولتیں فراہم کرے گی۔ ساتھ ہی، بھارتی حکومت کے ذریعہ یہاں ایک پرائمری اسکول بھی قائم کیا جائے گا۔
یہ بھارت کے کروڑوں لوگوں کی طرف سے شری شری ہری چند ٹھاکر جی کو خراج عقیدت ہے۔ ہم بنگلہ دیش حکومت کے بھی شکر گزار ہیں، جو اس کام میں ہمارا تعاون کر رہی ہے۔


ماتوا شومپرودائے کے ہمارے بھائی بہن شری شری ہری چند ٹھاکر جی کے یوم پیدائش کے مبارک موقع پر ہر سال ’بارونی اشنان اُتشب‘ مناتے ہیں۔ بھارت سے بڑی تعداد میں عقیدت مند اس جشن میں شریک ہونے کے لئے، اوراکانڈی آتے ہیں۔ بھارت کے میرے بھائی بہنو کے لئے یہ تیرتھ یاترا اور آسان بنے، اس کے لئے بھارتی حکومت کی جانب سے مزید کوششیں کی جائیں گی۔ ٹھاکر نگر میں موتوا شومپرودائے کی شاندار تاریخ کی عکاسی کرتے شاندار پروگراموں اور مختلف کاموں کے لئے بھی ہم عہد بستہ ہیں۔
ساتھیو،

بھارت آج ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس‘ اس اصول کو لے کر آگے بڑھ رہا ہے، اور بنگلہ دیش میں اس میں ’شوہو جاتری‘ ہے۔ وہیں بنگلہ دیش آج دنیا کے سامنے ترقی اور تبدیلی کی ایک مضبوط مثال پیش کر رہا ہے اور ان کوششوں میں بھارت آپ کا ’شوہو جاتری‘ ہے۔
مجھے یقین ہے، شری شری ہری چند دیو جی کے آشیرواد سے، شری شری گوروچند دیو جی کی ترغیب سے ہم دونوں ممالک، 21ویں صدی کے اس اہم دور میں ، اپنے ان مشترکہ اہداف کو حاصل کریں گے۔ بھارت اور بنگلہ دیش ترقی اور محبت کے راستے پر دنیا کی رہنمائی کرتے رہیں گے۔

انہیں نیک خواہشات کے ساتھ، آپ سبھی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں!
جائے بانگلہ، جے ہند
بھاروت بانگلہ دیش موئتری چیروجیبی ہوکھ۔

جائے ہاری بول! جائے ہاری ۔ بول!

ہاری ۔ بول! ہاری بول! جائے ہاری ۔ بول!

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
PM Modi inaugurates Micron’s ₹22,516-crore ATMP facility in Gujarat; calls chips ‘Regulator of 21st century’

Media Coverage

PM Modi inaugurates Micron’s ₹22,516-crore ATMP facility in Gujarat; calls chips ‘Regulator of 21st century’
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi addresses an enthusiastic public rally in Madurai, Tamil Nadu
March 01, 2026
No matter what DMK does, the truth will win and devotees of Bhagwan Murugan will win: PM Modi in Madurai
Criminals and drug mafias will be behind bars, and NDA will ensure safety, dignity and empowerment: PM Modi’s promise to Tamil Nadu
When it comes to honesty in politics, K Kamaraj set an example for the entire country, while DMK represents the opposite: PM Modi
Tamil Nadu has always been at the forefront of India’s civilisational pride: PM Modi

PM Modi addressed a massive public rally in Madurai, beginning his speech with deep reverence for Tamil Nadu’s spiritual heritage. He said he had just visited Tirupparankundram and received the darshan of Bhagwan Murugan, describing it as a truly divine experience. He said he prayed for the prosperity of Tamil Nadu and the entire nation.

The PM said his heart felt heavy as he remembered Thiru Poorna Chandran, the young devotee who sacrificed his life. He met Thirumathi Indumati Poorna Chandran and their two young children and conveyed his deepest condolences. He prayed that Thiru Poorna Chandran’s aatma finds peace at the feet of Bhagwan Murugan. He said it was painful that the insensitivity of the DMK government led to this tragedy, but added firmly that no matter what DMK does, the truth will win and devotees of Bhagwan Murugan will win.

Referring to the 2021 mandate given to DMK after 25 years, PM Modi said the party failed to provide good governance. Instead, it looted the state, promoted dynastic politics and ignored people’s aspirations. Speaking about Madurai, he recalled how the city stood firmly with MGR, who deeply loved it, and alleged that DMK has never liked Madurai for that reason. He said DMK brought mafia-style politics to the city, leaving behind bad roads, poor drainage and poor waste management.

Highlighting Tamil Nadu’s coastal strength, the PM said the state has immense potential that was ignored when Congress and DMK were together in power before 2014. He said projects like the Maduravoyal corridor were stalled and the Thoothukudi trans-shipment project remained only on paper. After 2014, the NDA government revived the Chennai Port-Maduravoyal Elevated Corridor and created India’s first Mega Port Cluster by integrating Kamarajar and Chennai ports. He also mentioned that the capacity at Kamarajar Port nearly tripled.

Speaking about women’s safety, PM Modi said women in Tamil Nadu are facing serious distress, with rising crime and families suffering due to the drug mafia and alcohol. He said many remember how much better life was during Amma Jayalalithaa’s rule. He assured every mother, sister and daughter that once the NDA government comes to power, law and order will be the top priority. Criminals and drug mafias will be behind bars and NDA will ensure safety, dignity and empowerment.

Recalling Tamil Nadu’s contribution to the freedom struggle, PM Modi said the Constitution drafted under the leadership of Dr Babasaheb Ambedkar laid the foundation for a strong democracy. He said every moment of his life has been dedicated to upholding constitutional values and that he was part of the movement to protect democracy during the Emergency. Referring to a remark by a DMK leader claiming they do not fear him or his father, he said that in a democracy nobody needs to fear anyone, and such remarks only strengthen his commitment to democratic values.

PM Modi said that Tamil Nadu kept Congress out of power in the state for 60 years. “You were the first state to become Congress-Mukt. For this, Congress took revenge against Tamil Nadu. It was Congress that gave away Katchatheevu. Then, DMK did not do anything.”

He said Tamil Nadu has always been at the forefront of India’s civilisational pride. He recalled that when the Congress government was at the Centre and DMK was supporting them, a notification was issued banning Jallikattu. Through an ordinance, the NDA government ensured Jallikattu could continue.

On corruption, PM Modi said when it comes to honesty in politics, K Kamaraj Ji set an example for the entire country, while DMK represents the opposite. He listed major alleged scams. He said while ministers usually compete in good work, DMK ministers compete in scams, looting the poor, the youth and farmers. Such a corrupt government, he said, has no moral right to continue.

Concluding his address, PM Modi said the people of Tamil Nadu have decided to bring in an NDA government that will deliver clean and efficient governance, reaffirming ‘Modi Ki Guarantee’ for development, dignity and respect for Tamil culture.