ابھیدھم دھم میں موجود ہے، دھم کے جوہر کوسمجھنے کے لیے پالی زبان کا علم ضروری ہے: وزیر اعظم
زبان صرف رابطے کا ذریعہ نہیں، زبان تہذیب و ثقافت کی روح ہے: وزیراعظم
ہر قوم اپنے ورثے کو اپنی شناخت کے ساتھ جوڑتی ہے، بدقسمتی سے ہندوستان اس سمت میں بہت پیچھے رہ گیا تھا، لیکن ملک اب بڑے بڑے فیصلے لیتے ہوئے احساس کمتری سے آزاد ہوکر آگے بڑھ رہا ہے: وزیراعظم
جب سے ملک کے نوجوانوں کو نئی تعلیمی پالیسی کے تحت اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کا اختیار ملا ہے، زبانیں زیادہ مضبوط ہو رہی ہیں: وزیراعظم
آج ہندوستان تیز رفتار ترقی اور مالا مال ورثے ،دونوں مقاصد کو بیک وقت پورا کرنے میں مصروف ہے: وزیر اعظم
بھگوان بدھ کی وراثت کی نشاۃ ثانیہ میں، ہندوستان اپنی ثقافت اور تہذیب کو نئے سرے سے دریافت کر رہا ہے: وزیر اعظم
بھارت نے عالمی جنگ نہیں، بلکہ مہاتما بدھ کودیا ہے
آج ابھیدھم پرو کے موقع پر، میں پوری دنیا سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ جنگ میں نہیں بلکہ بھگوان بدھ کی تعلیمات سے حل تلاش کریں، جس سے امن کی راہ ہموار ہوتی ہے: وزیر اعظم
بھگوان بدھ کا سب کے لیے خوشحالی کا پیغام انسانیت کے لیے راستہ ہے: وزیر اعظم
بھگوان بدھ کی تعلیمات اس روڈ میپ میں ہماری رہنمائی کریں گی، جو ہندوستان نے اپنی ترقی کے لیے بنایا ہے: وزیر اعظم
بھگوان بدھ کی تعلیمات ‘مشن لائف’ کے مرکز میں ہیں، پائیدار مستقبل کا راستہ ہر شخص کے پائیدار طرز زندگی سے نکلے گا: وزیراعظم
ہندوستان ترقی کی طرف بڑھ رہا ہے اور اپنی جڑیں بھی مضبوط کر رہا ہے، ہندوستان کے نوجوانوں کو نہ صرف سائنس اور ٹیکنالوجی میں دنیا کی قیادت کرنی چاہئے بلکہ اپنی ثقافت اور اقدار پر بھی فخر کرنا چاہئے: وزیر اعظم

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے وگیان بھون میں بین الاقوامی ابھیدھم دیوس منانے اور پالی کو کلاسیکی زبان کے طور پر تسلیم کرنے کی تقریب سے خطاب کیا۔ ابھیدھم  دیوس ، ابھیدھم کی تعلیم کے بعد آسمانی دائرے سے بھگوان بدھ کے نزول کی یاد مناتا ہے۔ پالی کو ایک کلاسیکی زبان کے طور پر حال ہی میں تسلیم کرنے سے اس سال کے ابھیدھم دیوس کی تقریبات کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ ابھیدھم پر بھگوان بدھ کی تعلیمات اصل میں پالی زبان میں دستیاب ہیں۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ابھیدھم دیوس  کی تقریب میں موجود ہونے پر اظہار تشکر کیا اور کہا کہ یہ موقع لوگوں کو پیار اور شفقت کے ساتھ دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے کی یاد دلاتا ہے۔ جناب مودی نے گزشتہ سال کشی نگر میں اسی طرح کی ایک تقریب میں شرکت کو یاد کیا اور کہا کہ بھگوان بدھ سے جڑنے کا سفر ان کی پیدائش سے شروع ہوا اور آج بھی جاری ہے۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ وہ  واد نگر، گجرات میں پیدا ہوئے تھے، جو ایک وقت میں بدھ مت کا ایک قابل ذکر مرکز تھا اور یہی وہ تحریک بن گیا، جس کی وجہ سے انہیں بھگوان بدھ کے دھم اور تعلیمات کے تجربات حاصل ہوئے۔ وزیر اعظم نے ہندوستان اور دنیا کے مختلف مواقع کا ذکر کیا، جہاں انہوں نے گزشتہ 10 سالوں میں بھگوان بدھ سے متعلق متعدد مبارک تقریبات میں حصہ لیا اور نیپال میں بھگوان بدھ کی جائے پیدائش کا دورہ کرنے، منگولیا میں بھگوان بدھ کے مجسمے کی نقاب کشائی اور سری لنکا میں  بیساکھ سماروہ کی مثالیں دیں۔ وزیر اعظم نے اس یقین کا اظہار کیا کہ سنگھ اور سادھک کا امتزاج بھگوان بدھ کے آشیرواد کا نتیجہ ہے اور انہوں نے  اس موقع پر اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے شرد پورنیما کے مبارک موقع اور بابا مہارشی والمیکی کی یوم پیدائش پر گفتگو  کی۔  وزیراعظم نے تمام شہریوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

 

وزیر اعظم نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ اس سال کا ابھیدھم دیواس خاص ہے،  کیونکہ زبان، پالی، جس میں بھگوان بدھ نے اپنے خطبے دئے تھے، اس مہینے میں ہی حکومت ہند نے اسے تسلیم کیا ہے اور اسے کلاسیکی زبان کا درجہ دیا ہے۔ اس لیے انہوں نے مزید کہا کہ آج کا موقع اور بھی خاص  ہو جاتا ہے۔ وزیر اعظم نے تبصرہ  کیا کہ پالی کو کلاسیکی زبان کے طور پر  تسلیم کرکے جو اعزاز دیا گیا ہے، وہ بھگوان بدھ کی عظیم میراث اور ورثے کو خراج تحسین ہے۔ جناب مودی نے مزید کہا کہ ابھیدھم، دھم میں موجود ہے اور دھم کے حقیقی جوہر کو سمجھنے کے لیے پالی زبان کا علم ہونا ضروری  ہے۔ دھم کے مختلف معنی بیان کرتے ہوئے، جناب مودی نے کہا کہ دھم کا مطلب بھگوان بدھ کا پیغام اور نظریہ، انسانی وجود سے متعلق سوالات کا حل، نسل انسانی کے لیے امن کا راستہ، بدھ کی لازوال تعلیمات اور پوری انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے ایک پختہ یقین دہانی ہے۔  انہوں نے مزید کہا کہ پوری دنیا کو بدھ کے دھم سے مسلسل روشنی  حاصل ہورہی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے پالی زبان، جو بھگوان بدھ بولتے تھے، اب عام استعمال میں نہیں ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ زبان صرف بات چیت کا ذریعہ نہیں ہے، بلکہ ثقافت اور روایت کی روح ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ یہ بنیادی اظہار کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اور اسے آج کے دن اور دور میں پالی کو زندہ رکھنے کی مشترکہ ذمہ داری قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ موجودہ حکومت نے اس ذمہ داری کو عاجزی کے ساتھ نبھایا ہے اور بھگوان بدھ کے کروڑوں شاگردوں کو مخاطب کرنے کی کوشش کی ہے۔

 

وزیراعظم نے کہا کہ "کسی بھی معاشرے کی زبان، ادب، فن اور روحانیت کا ورثہ اس کے وجود کا تعین کرتا ہے"۔ انہوں  نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کسی بھی ملک کی طرف سے دریافت ہونے والے تاریخی آثار یا نمونے پوری دنیا کے سامنے فخر کے ساتھ پیش کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہر قوم اپنے ورثے کو شناخت سے جوڑتی ہے، لیکن آزادی سے پہلے کے حملوں اور آزادی کے بعد غلامی کی ذہنیت کی وجہ سے ہندوستان پیچھے رہ گیا۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کو ایک ایسے ماحولیاتی نظام نے اپنی گرفت میں لے لیا، جس نے قوم کو مخالف سمت میں دھکیلنے کا کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی روح میں بسنے والے مہاتما بدھ اور ان کی علامتوں کو جو آزادی کے وقت اپنایا گیا تھا، بعد کی دہائیوں میں فراموش کر دیا گیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ آزادی کے سات دہائیوں کے بعد بھی پالی کو اس کا صحیح مقام نہیں ملا۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ملک اب اس احساس کمتری سے آگے بڑھ رہا ہے اور بڑے فیصلے لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف پالی زبان کو کلاسیکی زبان کا درجہ ملا، تو دوسری طرف مراٹھی زبان کو بھی وہی عزت دی گئی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بابا صاحب امبیڈکر جن کی مادری زبان مراٹھی تھی، وہ بھی بدھ مت کے زبردست حامی تھے اور پالی زبان  انہوں نے  دھم  دکشا  لی تھی۔ جناب مودی نے بنگالی، آسامی اور پراکرت زبانوں کو کلاسیکی زبان کا درجہ دینے کے بارے میں بھی بات کی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ "ہندوستان کی مختلف زبانیں ہمارے تنوع کو پروان چڑھاتی ہیں"۔  ماضی میں زبان کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے جناب مودی نے تبصرہ کیا کہ ہماری ہر زبان نے ملک کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کی طرف سے آج جو نئی قومی تعلیمی پالیسی اپنائی گئی ہے، وہ بھی ان زبانوں کے تحفظ کا ذریعہ بن رہی ہے۔ جناب مودی نے تبصرہ  کیا کہ جب سے ملک کے نوجوانوں کو اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کا اختیار ملا ہے،  تب سے مادری زبانیں مضبوط ہوتی جارہی ہیں۔

 

وزیر اعظم نے تبصرہ کیا کہ حکومت نے قراردادوں کو پورا کرنے کے لیے لال قلعہ سے 'پنچ پرن' کا وژن پیش کیا تھا۔ پنچ پرن کے خیال کی وضاحت کرتے ہوئے، جناب مودی نے کہا کہ اس کا مطلب ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر، غلامی کی ذہنیت سے آزادی، ملک کی یکجہتی، فرائض کی تکمیل اور ہماری وراثت پر فخر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج ہندوستان تیز رفتار ترقی اور بھرپور ورثے کی دونوں مقاصد کو بیک وقت پورا کرنے میں مصروف ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ بھگوان بدھ  سے متعلق ورثے کا تحفظ پنچ پرن مہم کی ترجیح ہے۔

بھارت اور نیپال میں بھگوان بدھ سے متعلق مقامات کے ترقیاتی منصوبوں کو بدھ سرکٹ کے طور پر درج کرتے ہوئے، جناب مودی نے کہا کہ کشی نگر میں ایک بین الاقوامی ہوائی اڈہ شروع کیا گیا، انڈیا انٹرنیشنل سنٹر فار بدھسٹ کلچر اینڈ ہیریٹیج لمبنی میں بنایا جا رہا ہے، لمبیی میں بدھسٹ یونیورسٹی میں ڈاکٹر بابا صاحب چیئر برائے بدھسٹ مطالعات قائم کیا گیا ہے، ساتھ  ہی ساتھ بودھ گیا، شراوستی، کپل وستو، سانچی، ستنا اور ریوا جیسی بہت ساری  جگہوں میں ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔ جناب مودی نے یہ بھی بتایا کہ وہ 20 اکتوبر 2024 کو سارناتھ، وارانسی میں کئی ترقیاتی کاموں کا افتتاح کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئی تعمیر کے ساتھ ساتھ، حکومت ہندوستان کے شاندار ماضی کو محفوظ رکھنے کی کوششیں بھی کر رہی ہے۔ جناب مودی نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت پچھلی دہائی میں 600 سے زیادہ قدیم ورثے، نمونے اور آثار ہندوستان کو واپس لائی ہے، جن میں سے اکثر کا تعلق بدھ مت سے ہے۔  انہوں نے مزید کہا کہ بدھ کے ورثے کی نشاۃ ثانیہ میں ہندوستان اپنی ثقافت اور تہذیب کو ایک نئے انداز میں پیش کر رہا ہے۔

 

وزیر اعظم نے بھگوان بدھ کی تعلیمات کو نہ صرف ملک کے فائدے کے لیے بلکہ انسانیت کی خدمت کے لیے فروغ دینے کے لیے ہندوستان کے عزم پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مہاتما بدھ کی تعلیمات پر عمل کرنے والے ممالک کو متحد کرنے کے لیے عالمی سطح پر کوششیں کی جا رہی ہیں اور میانمار، سری لنکا اور تھائی لینڈ جیسے کئی ممالک فعال طور پر پالی زبان کی تفسیریں مرتب کر رہے ہیں۔ جناب مودی نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت پالی کو فروغ دینے کے لیے روایتی طریقوں اور جدید طریقوں جیسے آن لائن پلیٹ فارم، ڈیجیٹل آرکائیوز اور ایپس دونوں کا استعمال کرتے ہوئے ہندوستان میں اسی طرح کی کوششوں کو تیز کر رہی ہے۔ بھگوان بدھ کو سمجھنے میں تحقیق کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے، جناب مودی نے تبصرہ کیا کہ "بدھ علم اور جستجو دونوں ہیں"، جس نے بدھ کی تعلیمات میں باطنی کھوج اور علمی تحقیق دونوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اس مشن کی طرف نوجوانوں کی رہنمائی میں بدھ اداروں اور راہبوں کی طرف سے فراہم کردہ رہنمائی پر فخر کا اظہار کیا۔

21ویں صدی میں بڑھتے ہوئے عالمی عدم استحکام پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ بدھ کی تعلیمات آج کی دنیا میں نہ صرف افادیت  پر مبنی بلکہ ضروری ہیں۔ اقوام متحدہ کی طرف سے اپنے پیغام کو دہراتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ’’ہندوستان نے عالمی جنگ نہیں بلکہ بدھ دیا ہے‘‘۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا بھگوان بدھ میں حل تلاش کرے گی نہ کہ جنگ میں، جیسا کہ انہوں نے دنیا کو بدھ سے سیکھنے، جنگ کو مسترد کرنے اور امن کی راہ ہموار کرنے پر زور دیا۔ بھگوان بدھ کے الفاظ کا حوالہ دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے وضاحت کی کہ امن سے بڑی خوشی کوئی نہیں ہے۔ انتقام، انتقام کو ختم نہیں کرتا اور صرف رحم اور انسانیت کے ذریعے ہی نفرت پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بھگوان بدھ کا سب کے لیے خوشی اور بہبود کا پیغام بھی دیا۔

 

یہ واضح کرتے ہوئے کہ ہندوستان نے 2047 تک آنے والے 25 سالوں کو امرت کال کے طور پر شناخت کیا ہے، جناب مودی نے کہا کہ امرت کال کا یہ دور ہندوستان کی ترقی کا دور ہوگا، ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کا دور ہوگا، جہاں بھگوان بدھ کی تعلیمات اس روڈ میپ میں رہنمائی کریں گی،  جو ہندوستان نے اپنی ترقی کے لیے تیار کیاہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ صرف بدھ کی سرزمین پر ہی ممکن ہوا کہ آج دنیا کی سب سے بڑی آبادی وسائل کے استعمال کے بارے میں شعور رکھتی ہے۔ پوری دنیا کو درپیش موسمیاتی تبدیلی کے بحران پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے واضح کیا کہ ہندوستان نہ صرف اپنے طور پر ان چیلنجوں کا حل تلاش کر رہا ہے، بلکہ دنیا کے ساتھ ان کا اشتراک بھی کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان نے دنیا کے کئی ممالک کو ساتھ لے کر مشن لائف کا آغاز کیا۔

بھگوان بدھ کی تعلیم کو سناتے ہوئے، جناب مودی نے کہا کہ کسی بھی طرح کی بھلائی کا آغاز خود سے کرنا چاہئے اور یہی  مشن لائف کے خیال کا مرکز تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پائیدار مستقبل کا راستہ ہر شخص کے پائیدار طرز زندگی سے نکلے گا۔ بین الاقوامی شمسی اتحاد کے پلیٹ فارم، جی-20 کی صدارت کے دوران گلوبل بائیو فیول الائنس کی تشکیل، ایک سورج، ایک دنیا، ایک گرڈ کے وژن جیسی پالیسیوں  سے دنیا میں ہندوستان کے تعاون پر روشنی ڈالتے ہوئے، جناب مودی نے کہا کہ یہ سب بھگوان بدھ کے خیالات کی عکاسی کرتی ہیں۔  انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کی ہر کوشش دنیا کے لئے ایک پائیدار مستقبل کو یقینی بنانے کی طرف ہے۔ وزیر اعظم نے نشاندہی  کی کہ ہندوستان-مشرق وسطی-یورپ اقتصادی راہداری، ہندوستان کا گرین ہائیڈروجن مشن، ہندوستانی ریلوے کو 2030 تک خالص صفر کرنے کا ہدف، پٹرول میں ایتھنول کی ملاوٹ کو 20 فیصد تک بڑھانے، جیسے مختلف اقدامات زمین کی حفاظت کے لیے ہندوستان کے پختہ ارادے کو ظاہر کر رہے ہیں۔

 

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کے بہت سے فیصلے بدھ، دھم اور سنگھ سے متاثر ہیں اور انہوں نے  ہندوستان کی دنیا میں بحران کے وقت سب سے پہلے جواب دہندہ ہونے کی مثال پیش کی۔ انہوں نے عالمی ہنگامی صورتحال جیسے کہ ترکی میں زلزلہ، سری لنکا میں معاشی بحران اور کووڈ - 19 وبائی امراض کے دوران ملک کے تیز رفتار کارروائیوں  پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے  وضاحت کی کہ یہ مہاتما بدھ کے ہمدردی کے اصول کی عکاسی کرتی ہیں ۔ انہوں نے تبصرہ کیا کہ "وشوا بندھو  (دنیا کے دوست) کے طور پر، ہندوستان سب کو ساتھ لے کر چل رہا ہے"۔  انہوں نے کہا کہ یوگا، موٹے اناج ، آیوروید اور قدرتی زراعت جیسے اقدامات بھگوان بدھ کی تعلیمات سے متاثر ہیں۔

خطاب کے اختتام پر، وزیر اعظم نے کہا کہ "ہندوستان، جو ترقی کی طرف گامزن ہے، اپنی جڑیں بھی مضبوط کر رہا ہے"۔  انہوں نے  وضاحت کی  کہ ہندوستان کے نوجوانوں کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنی ثقافت اور اقدار پر فخر کرتے ہوئے سائنس اور ٹیکنالوجی میں دنیا کی قیادت کریں۔ انہوں نے کہا کہ بدھ مت کی تعلیمات ان کوششوں میں ہماری سب سے بڑی رہنما ہیں اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ہندوستان بھگوان بدھ کی تعلیمات کے ساتھ ترقی کرتا رہے گا۔

 

اس موقع پر مرکزی وزیر ثقافت جناب گجیندر سنگھ شیخاوت اور پارلیمانی امور اور اقلیتی امور کے مرکزی وزیر جناب کرن رجیجو منجملہ  دیگر کے موجود تھے۔

 

پس منظر

حکومت ہند اور بین الاقوامی بدھ مت کنفیڈ ریشن کے زیر اہتمام بین الاقوامی ابھیدھم  دیوس کی تقریب میں 14 ممالک کے ماہرین تعلیم اور راہبوں اور ہندوستان بھر کی مختلف یونیورسٹیوں سے بدھ دھم کے بارے میں نوجوان ماہرین کی ایک قابل ذکر تعداد نے شرکت کی۔

 

Click here to read full text speech

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Scan, withdraw, done: EPFO 3.0 plans instant PF access via ATMs and UPI

Media Coverage

Scan, withdraw, done: EPFO 3.0 plans instant PF access via ATMs and UPI
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi chairs 51st PRAGATI Meeting
May 27, 2026
PM reviews seven critical infrastructure projects across the Railways, Power and Road sectors
Projects reviewed span across 9 States with cumulative investment of around ₹30,000 crore
PM also reviews Ken Betwa Link Project and Swachh Bharat Mission-Urban 2.0
PM says Ken-Betwa River Inter-linking Project should serve as a model for other States to resolve inter-State water issues amicably
PM asks States to expedite the completion of solid waste management-related infrastructure, including waste processing plants and GOBARdhan plants
PM calls for mission-mode rooftop solar coverage in urban areas
Acting upon the advice of PM, system of monthly review of social sector schemes at State level operationalised, starting with review of Swachh Bharat Mission

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 51st meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform aimed at fostering Pro-Active Governance and Timely Implementation, by seamlessly integrating efforts of the Central and State governments, at Seva Teerth, earlier today.

During the meeting, the Prime Minister reviewed seven critical infrastructure projects across the Railways, Power and Road sectors covering nine States worth around ₹30,000 crore. These projects, pivotal to economic growth and public welfare, were reviewed with a focus on timelines, inter-agency coordination, and timely issue resolution. Prime Minister also reviewed Ken Betwa Link Project and Swachh Bharat Mission-Urban 2.0.

While reviewing power sector projects, Prime Minister emphasized the need to accelerate rooftop solar adoption across urban areas, with a special focus on cities, residential clusters and public institutions. He underlined that rooftop solar should be taken up in mission mode to reduce electricity costs, improve energy security and promote clean energy at the household and community level.

While reviewing road and port connectivity projects, it was emphasised that Vadhavan Port should be developed as a model of port-led, multi-modal development, where every major mode of transport is seamlessly integrated to create a future-ready logistics ecosystem. The project should not be seen merely as a port, but as a national gateway connected through coastal shipping, inland waterways, dedicated freight corridors, high-speed rail connectivity, highways and airport linkages.

Prime Minister emphasised the need for effective implementation of Swachh Bharat Mission 2.0 and underlined that the mission should move beyond infrastructure creation and ensure measurable outcomes through regular monitoring, citizen participation and convergence between various stakeholders. He asked States to expedite the completion of solid waste management-related infrastructure, including waste processing plants and GOBARdhan plants.

While reviewing Ken-Betwa River Inter-linking Project, Prime Minister observed that Ken-Betwa project should serve as a model for other States to resolve inter-State water issues through cooperation, timely clearances, technology-based monitoring and mission-mode execution. States were encouraged to identify similar opportunities where river-linking, water conservation, groundwater recharge and efficient irrigation can be taken up in an integrated manner to ensure long-term water security.

Prime Minister also underlined that the delay in the implementation of public projects leads not only to cost escalation but also deprives citizens of timely access to essential facilities and development benefits. He observed that every delay has a direct impact on people’s lives, regional growth and public resources. He stressed that Ministries, Departments and States must adopt a more proactive and time-bound approach to resolve pending issues, remove bottlenecks and ensure faster execution.

Prime Minister also emphasized that innovative use of canal networks should be explored, including installation of solar panels along canals and over canals for clean electricity generation. This would help optimize land use, reduce evaporation losses, generate renewable energy and create additional economic value from water infrastructure.

At the beginning of the meeting, the Cabinet Secretary informed that, in pursuance of the directions of the Prime Minister, a system of monthly review of social sector schemes at the State level has also been operationalised. This mechanism aims to ensure regular monitoring, faster resolution of implementation issues and greater accountability at the State and district levels. As part of this initiative, Swachh Bharat Mission has been taken up for review at the State level in the first instance.