صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے کو بڑھانا ہماری ترجیح ہے، آج شروع کی گئی اس شعبے سے متعلق پہل شہریوں کو اعلیٰ معیار کی اور سستی سہولیات فراہم کریں گی: وزیراعظم
یہ ہم سب کے لیے خوشی کی بات ہے کہ آج 150 سے زائد ممالک میں آیوروید کا دن منایا جا رہا ہے: وزیر اعظم
حکومت نے ہیلتھ پالیسی کے پانچ ستون طے کیے ہیں: وزیراعظم
اب ملک کے 70 سال سے زیادہ عمر کے ہر بزرگ کا اسپتال میں مفت علاج ہوگا، ایسے بزرگوں کو آیوشمان ویہ وندنا کارڈ دیا جائے گا: وزیر اعظم
حکومت مہلک بیماریوں سے بچاؤ کے لیے مشن اندرا دھنش مہم چلا رہی ہے: وزیر اعظم
ہماری حکومت صحت کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرکے ہم وطنوں کا پیسہ بچا رہی ہے: وزیراعظم

دھنونتری جینتی اور 9ویں آیوروید  کے دن کے موقع پر، وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید (اے آئی آئی اے) نئی دہلی میں صحت کے شعبے سے متعلق تقریباً 12,850 کروڑ روپے کے متعدد پروجیکٹوں کا آغازکیا، افتتاح  کیااور سنگ بنیاد رکھا۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے دھنونتری جینتی اور دھنتیرس  کا ذکر کیا اور اس موقع پر اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے ملک کے تمام کاروباری مالکان کو اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا کیونکہ زیادہ تر لوگ اپنے گھروں کے لیے کچھ نیا خریدنے کا ارادہ  رکھتے ہیں اور دیوالی کی پیشگی مبارکباد بھی  دی۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ یہ دیوالی  تاریخی ہے کیونکہ ایودھیا میں بھگوان شری رام کے مندر کو ہزاروں دیوں سے روشن کیا جائے گا، جس سے تقریبات کو بے مثال بنایا جائے گا۔ ’’بھگوان رام ایک بار پھر اس سال کی دیوالی میں اپنی جگہ  براجمان ہوگئے ہیں‘‘ وزیر اعظم نے  تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتظار بالآخر 14 نہیں بلکہ 500 برسوں  بعد ختم ہو گیا ہے۔

 

جناب مودی نے کہا کہ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ اس سال کا دھنتیرس کا تہوار خوشحالی اور صحت کا امتزاج ہے بلکہ ہندوستان کی ثقافت اور فلسفہ زندگی کی علامت ہے۔ سادھو  اور سنتوں کا حوالہ دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے وضاحت کی کہ صحت کو سب سے بڑی دولت سمجھا جاتا ہے اور اس قدیم تصور کو یوگا کی شکل میں پوری دنیا میں قبولیت مل رہی ہے۔ جناب مودی نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ آیوروید دیوس آج 150 سے زیادہ ممالک میں منایا جا رہا ہے اور کہا کہ یہ آیوروید کی طرف بڑھتی ہوئی توجہ  اور اس کے قدیم ماضی سے دنیا میں ہندوستان کے تعاون کا ثبوت ہے۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ گزشتہ  دہائی میں ،ملک نے صحت کے شعبے میں جدید طب کے ساتھ آیوروید کے علم کے امتزاج کے ساتھ ایک نئے باب کا آغاز دیکھا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید اس باب کا مرکزی نقطہ رہا ہے۔ جناب مودی نے تبصرہ  کیا کہ سات سال قبل آیوروید کے دن انسٹی ٹیوٹ کے پہلے مرحلے کو ملک کے لیے وقف کرنے کا شرف انہیں حاصل ہوا تھا  اور آج بھگوان دھنونتری کے آشیرواد سے وہ انسٹی ٹیوٹ کے دوسرے مرحلے کا افتتاح کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس انسٹی ٹیوٹ میں پنچکرما جیسی قدیم تکنیکوں کو جدید ٹکنالوجی کے ساتھ ساتھ آیوروید اور طبی سائنس کے شعبوں میں جدید تحقیقی مطالعات کے ساتھ دیکھنا ممکن ہوگا۔ جناب مودی نے اس پیش رفت کے لیے ہندوستان کے شہریوں کو مبارکباد  پیش کی ۔

اس بات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہ کسی قوم کی ترقی اس کے شہریوں کی صحت سے براہ راست متناسب ہے، وزیر اعظم نے اپنے شہریوں کی صحت کے لیے حکومت کی ترجیح کو اجاگر کیا اور صحت کی پالیسی کے پانچ ستونوں کا خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے پانچ ستونوں کو احتیاطی صحت کی دیکھ بھال، بیماریوں کا جلد پتہ لگانے، مفت اور کم لاگت کے علاج اور ادویات، چھوٹے شہروں میں ڈاکٹروں کی دستیابی اور آخر میں صحت کی خدمات میں ٹیکنالوجی کی توسیع کے طور پر درج کیا۔جناب مودی نے کہا  ’’ہندوستان  صحت کے شعبے کو ایک مکمل صحت کے طور پر دیکھ رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ  آج کے پروجیکٹ ان پانچ ستونوں کی جھلک پیش  کرتے ہیں۔ 13,000 کروڑ روپے سے زیادہ کے پروجیکٹوں کے افتتاح  کرنے اور سنگ بنیاد رکھنے کے موقع پر وزیر اعظم نے آیوش ہیلتھ اسکیم کے تحت 4 سنٹرس آف ایکسی لینس بنانے، ڈرون کے استعمال سے صحت خدمات کی توسیع، رشی کیش میں واقع ایمس میں ہیلی کاپٹر سروس ، نئی دہلی کے ایمس اور بلاسپور کے ایمس میں نئے بنیادی ڈھانچے، ملک کے پانچ دیگر ایمس میں خدمات کی توسیع، میڈیکل کالجوں کا قیام، نرسنگ کالجوں کا بھومی پوجن اور صحت کے شعبے سے متعلق دیگر پروجیکٹوں کا ذکر کیا ۔ وزیر اعظم نے اس بات پر  خوشی کا اظہار کیا کہ  شرمکوں کے علاج کے لیے کئی اسپتالوں کا قیام ہو رہا ہے اور کہا کہ یہ مزدوروں کے علاج کا مرکز بنے گا۔ انہوں نے فارما یونٹس کے افتتاح پر بھی بات کی جو جدید ادویات اور اعلیٰ معیار کے اسٹینٹ اور امپلانٹس کی تیاری اور ہندوستان کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

 

وزیر اعظم نے کہا  کہ ہم میں سے بیشتر ایسے پس منظر سے آتے ہیں جہاں بیماری کا مطلب پورے خاندان پر بجلی گرنا ہوتا ہے اور خاص طور پر غریب گھرانے میں اگر کوئی شخص شدید بیماری میں مبتلا ہو تو خاندان کا ہر فرد شدید متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک وقت تھا جب لوگ علاج کے لیے اپنا گھر، زمینیں، زیورات، سب کچھ بیچ دیتے تھے اور جیب سے ہونے والے بھاری اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہیں رہتے تھے جب کہ غریب لوگوں کو صحت کی دیکھ بھال اور خاندان کی دیگر ترجیحات میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا تھا۔ جناب مودی نے اس بات پر زور دیا کہ غریبوں کی مایوسی پر قابو پانے کے لیے، ہماری حکومت نے آیوشمان بھارت یوجنا متعارف کرائی، جس میں حکومت غریبوں کے اسپتال میں داخل ہونے پر 5 لاکھ  روپے تک کے  خرچ برداشت کرے گی۔ وزیر اعظم نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ملک میں تقریباً 4 کروڑ غریب لوگوں نے ایک روپیہ ادا کیے بغیر علاج کروا کر آیوشمان یوجنا سے استفادہ کیا ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ جب وہ ملک کی مختلف ریاستوں میں آیوشمان یوجنا کے استفادہ کنندگان سے ملتے ہیں، تو وہ مطمئن ہوتے ہیں کہ یہ اسکیم اس سے جڑے ہر فرد کے لیے ایک نعمت تھی، چاہے وہ ڈاکٹر ہو یا پیرا میڈیکل  اسٹاف ہو۔

آیوشمان یوجنا کی توسیع پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ ہر بزرگ اس کا انتظار کر رہا تھا اور انتخابات میں  دی گئی یہ گارنٹی کہ  اگر تیسری مدت کے لیے منتخب ہوئے تو 70 سال سے زیادہ عمر کے تمام بزرگوں کو آیوشمان یوجنا کے دائرہ کار میں لایا جائے گا، پورا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں 70 سال سے زیادہ عمر کے ہر بزرگ کو آیوشمان ویہ وندنا کارڈ کے ذریعے اسپتال میں مفت علاج ملے گا۔ جناب مودی نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کارڈ یونیورسل ہے اور آمدنی پر کوئی پابندی نہیں ہے، خواہ وہ غریب ہو یا متوسط ​​طبقہ یا اعلیٰ طبقہ۔ یہ بتاتے ہوئے کہ یہ اسکیم اس کے ہمہ گیر نفاذ کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگی، جناب مودی نے  کہا کہ گھر میں ایک بزرگ کے لیے آیوشمان ویہ وندنا کارڈ کے ساتھ، جیب سے باہر ہونے والے اخراجات کو کافی حد تک کم کیا جائے گا۔ انہوں نے اس اسکیم کے لیے تمام ہم وطنوں کو مبارکباد دی اور یہ بھی بتایا کہ دہلی اور مغربی بنگال میں اس اسکیم کو نافذ نہیں کیا گیا ہے۔

علاج کی لاگت کو کم کرنے کی حکومت کی ترجیح کا اعادہ کرتے ہوئے، خواہ وہ غریب ہو یا متوسط ​​طبقہ، وزیر اعظم نے ملک بھر میں 14,000 سے زیادہ پی ایم جن اوشدھی کیندروں کے آغاز کا ذکر کیا جہاں 80 فیصد رعایت پر دوائیں دستیاب ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ غریب اور متوسط ​​طبقے کو سستی ادویات کی دستیابی سے 30,000 کروڑ روپے کی بچت ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسٹینٹ اور گھٹنے کے امپلانٹس جیسے آلات کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے، اس لیے عام شہریوں کے 80,000 کروڑ روپے سے زیادہ کے نقصان کو روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے مہلک بیماریوں سے بچاؤ اور حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کی جان بچانے کے لیے مفت ڈائلیسس اسکیم اور مشن اندرا دھنش مہم کا بھی ذکر کیا۔ وزیراعظم نے یقین دلایا کہ جب تک ملک کا غریب اور متوسط ​​طبقہ مہنگے علاج کے بوجھ سے آزاد نہیں ہو جاتا وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

 

وزیر اعظم نے بیماریوں سے وابستہ خطرات اور تکلیفوں کو کم کرنے کے لیے بروقت جانچ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جلد جانچ اور علاج کی سہولت کے لیے ملک بھر میں دو لاکھ سے زیادہ آیوشمان آروگیہ مندر قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ آروگیہ مندر کروڑوں شہریوں کو کینسر، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسی بیماریوں کی ہموار طریقے سے  جانچ کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بروقت تشخیص سے فوری علاج ہوتا ہے، بالآخر مریضوں کے اخراجات کی بچت ہوتی ہے۔ وزیر اعظم نے وضاحت کی کہ حکومت صحت کی دیکھ بھال کو بڑھانے اور ای سنجیونی اسکیم کے تحت شہریوں کے پیسے بچانے کے لیے ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھا رہی ہے جہاں 30 کروڑ سے زیادہ لوگوں نے آن لائن ڈاکٹروں سے مشورہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا ’’ڈاکٹروں کی مفت اور درست مشاورت نے صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات میں نمایاں کمی کی ہے‘‘۔ جناب مودی نے یو- ون پلیٹ فارم کے آغاز کا اعلان کیا جو ہندوستان کو صحت کے شعبے میں تکنیکی طور پر جدید انٹرفیس فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا ’’دنیا نے  عالمی وبا  کے دوران ہمارے کو- ون  پلیٹ فارم کی کامیابی کا مشاہدہ کیا  اور یو پی آئی  ادائیگی کے نظام کی کامیابی ایک عالمی کہانی بن گئی ہے‘‘۔  انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کا مقصد ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے ذریعے صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں اس کامیابی کو دہرانا ہے۔

وزیر اعظم نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستان کے صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں ہونے والی بے مثال پیشرفت پر روشنی ڈالی، اسے پچھلی چھ سے سات دہائیوں کی محدود کامیابیوں سے متصادم قرار دیا اور کہا ’’پچھلے 10 سالوں میں، ہم نے ریکارڈ تعداد میں نئے ایمس دیکھے ہیں۔ میڈیکل کالجز قائم کیے جا رہے ہیں۔‘‘ آج کے موقع کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کرناٹک، اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور آندھرا پردیش میں اسپتالوں کا افتتاح کیا گیا۔ انہوں نے کرناٹک کے نرسا پور اور بوماسندرا، مدھیہ پردیش میں پیتھم پور، آندھرا پردیش کے اچیتا پورم اور ہریانہ کے فرید آباد میں نئے میڈیکل کالجوں کا سنگ بنیاد رکھنے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے مزید کہا’’اس کے علاوہ، میرٹھ، اتر پردیش میں نئے ای ایس آئی سی  اسپتال پر کام شروع ہو گیا ہے، اور اندور میں ایک نئے اسپتال کا افتتاح کیا گیا ہے‘‘۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ اسپتالوں کی بڑھتی ہوئی تعداد میڈیکل سیٹوں میں متناسب اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ کسی غریب بچے کا ڈاکٹر بننے کا خواب چکنا چور نہیں ہوگا اور ہندوستان میں متبادل کی کمی کی وجہ سے کوئی بھی متوسط ​​طبقہ کا طالب علم بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے پر مجبور نہیں ہوگا۔ جناب مودی نے بتایا کہ پچھلے 10 سالوں میں تقریباً  ایک  لاکھ نئی ایم بی بی ایس اور ایم ڈی سیٹیں شامل کی گئی ہیں اور اگلے پانچ سالوں میں مزید 75,000 سیٹوں کا اعلان کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیر اعظم نے بتایا کہ 7.5 لاکھ رجسٹرڈ آیوش پریکٹیشنرز پہلے ہی ملک کی صحت کی دیکھ بھال میں اپنا  تعاون  دے رہے ہیں۔ انہوں نے اس تعداد کو مزید بڑھانے پر زور دیا اور ہندوستان میں طبی اور صحت سے متعلق  سیاحت کی بڑھتی ہوئی مانگ کو اجاگر کیا۔ انہوں نے نوجوانوں اور آیوش پریکٹیشنرز کی ضرورت پر زور دیا کہ وہ ہندوستان اور بیرون ملک دونوں شعبوں جیسے کہ احتیاطی  کارڈیالوجی، آیورویدک آرتھوپیڈکس اور آیورویدک  بحالی مراکز کے لیے تیاری کریں۔ انہوں نے مزید کہا ’’آیوش پریکٹیشنرز کے لیے بے پناہ مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔ ہمارے نوجوان ان مواقع کے ذریعے نہ صرف خود کو ترقی دیں گے بلکہ انسانیت کی عظیم خدمت بھی کریں گے۔‘‘

 

وزیراعظم  مودی نے 21ویں صدی کے دوران ادویات میں تیز رفتار ترقی کا ذکر کیا، جس میں سابقہ ​​لاعلاج بیماریوں کے علاج میں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا ’’جیسا کہ دنیا علاج کے ساتھ ساتھ تندرستی کو بھی اہمیت دیتی ہے، ہندوستان کے پاس اس شعبے میں ہزاروں سال کا علم ہے۔‘‘وزیر اعظم نے پراکرتی پرکشن ابھیان کے آغاز کا اعلان کیا جس کا مقصد آیوروید کے اصولوں کا استعمال کرنے والے افراد کے لیے مثالی طرز زندگی اور خطرے کا تجزیہ کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ  پہل عالمی سطح پر صحت کی دیکھ بھال کے شعبے کی نئی تعریف کر سکتی ہے اور پوری دنیا کے لیے ایک نیا تصور فراہم کر سکتی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے روایتی جڑی بوٹیوں جیسے اشوگندھا، ہلدی اور کالی مرچ کو اعلیٰ اثر والے سائنسی مطالعات کے ذریعے درست کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ذکر کیا  ’’ہمارے روایتی صحت کی دیکھ بھال کے نظام کی لیبارٹری کی توثیق نہ صرف ان جڑی بوٹیوں کی قدر میں اضافہ کرے گی بلکہ ایک اہم مارکیٹ بھی بنائے گی۔ ‘‘انہوں نے اشوگندھا کی بڑھتی ہوئی مانگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، جس کے اس دہائی کے آخر تک 2.5 بلین ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ آیوش کی کامیابی نہ صرف صحت کے شعبے کو بلکہ معیشت کو بھی بدل رہی ہے، وزیر اعظم نے بتایا کہ آیوش مینوفیکچرنگ سیکٹر 2014 میں 3 بلین ڈالر سے بڑھ کر آج تقریباً 24 بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جو محض 10 سالوں میں 8 گنا زیادہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 900 سے زیادہ آیوش اسٹارٹ اپ اب ہندوستان میں کام کر رہے ہیں، جو نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے 150 ممالک کو آیوش مصنوعات کی عالمی برآمدات پر روشنی ڈالی، جس سے مقامی جڑی بوٹیوں اور سپر فوڈز کو عالمی اجناس میں تبدیل کرکے ہندوستانی کسانوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے نمامی گنگے پروجیکٹ جیسے اقدامات کی بھی نشاندہی کی، جو گنگا ندی کے کنارے قدرتی کھیتی اور جڑی بوٹیوں کی کاشت کو فروغ دیتا ہے۔

 

صحت اور بہبود کے تئیں ہندوستان کی وابستگی کی عکاسی کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ یہ ہندوستان کے قومی کردار اور سماجی تانے بانے کی روح ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گزشتہ 10 سالوں میں حکومت نے ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کے فلسفے کے ساتھ ملک کی پالیسیوں کو ہم آہنگ کیا ہے۔ مودی نے اپنے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوششیں آئندہ 25 برسوں میں ایک ترقی یافتہ اور  صحت مند ہندوستان کے لئے مضبوط بنیاد  رکھیں گی۔

اس موقع پر صحت اور خاندانی بہبود اور کیمیکل اور کھاد کے مرکزی وزیر جناب جے پی نڈا اور محنت اور روزگار اور نوجوانوں کے امور اور کھیل  کودکے وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ اس موقع پر موجود تھے۔

پس منظر

فلیگ شپ اسکیم آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (پی ایم- جے اے وائی) میں ایک اہم اضافے کے طور پر، وزیر اعظم نے 70 سال یا اس سے زیادہ عمر کے تمام بزرگ شہریوں کے لیے صحت کی کوریج کی توسیع کا آغاز کیا۔ اس سے تمام بزرگ شہریوں کو ان کی آمدنی سے قطع نظر ہیلتھ کوریج فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

وزیر اعظم کی یہ مسلسل کوشش رہی ہے کہ ملک بھر میں صحت کی معیاری خدمات فراہم کی جائیں۔ صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے کو فروغ  دیتے ہوئے ، وزیر اعظم نے صحت کی دیکھ بھال کے کئی  اداروں کا افتتاح  کیا اور سنگ بنیاد رکھا۔

وزیر اعظم نے ہندوستان کے پہلے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید کے فیز II کا افتتاح کیا۔ اس میں ایک پنچ کرما اسپتال، ادویات کی تیاری کے لیے ایک آیورویدک فارمیسی، ایک اسپورٹس میڈیسن یونٹ، ایک مرکزی لائبریری، ایک آئی ٹی اور اسٹارٹ اپس انکیوبیشن سینٹر اور دیگر کے علاوہ 500 نشستوں والا آڈیٹوریم شامل ہے۔ انہوں نے مدھیہ پردیش کے مندسور، نیمچ اور سیونی میں تین میڈیکل کالجوں کا بھی افتتاح کیا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے ہماچل پردیش کے  بلاس پور، مغربی بنگال کے کلیانی، بہار کے  پٹنہ، اتر پردیش کے  گورکھپور، مدھیہ پردیش کے  بھوپال، آسام کے گوہاٹی اور نئی دہلی میں  مختلف ایمس میں سہولت اور  توسیعی خدمات  کا افتتاح کیا، جس میں ایک جن اوشدھی کیندر بھی شامل ہوگا۔وزیر اعظم نے چھتیس گڑھ کے بلاس پور میں سرکاری میڈیکل کالج میں ایک سپر اسپیشلٹی بلاک اور  اڈیشہ کے بارگڑھ میں ایک کریٹیکل کیئر بلاک کا بھی افتتاح کیا۔

وزیر اعظم نے مدھیہ پردیش کے شیو پوری، رتلام، کھنڈوا، راج گڑھ اور مندسور میں پانچ نرسنگ کالجوں ، ہماچل پردیش، کرناٹک، منی پور، تمل ناڈو اور راجستھان میں  آیوشمان بھارت ہیلتھ انفراسٹرکچر مشن (پی ایم- اے بی ایچ آئی ایم) کے تحت 21 کریٹیکل کیئر بلاکس اور نئی دہلی اور بلاس پور، ہماچل پردیش میں ایمس میں کئی سہولیات اور خدمات کی توسیع کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔

 

وزیر اعظم نے مدھیہ پردیش کے اندور میں ایک ای ایس آئی سی اسپتال کا بھی افتتاح کیا، اور ہریانہ کے فرید آباد، کرناٹک کے بوماسندرا اور نرسا پور، مدھیہ پردیش میں اندور، اتر پردیش میں میرٹھ اور آندھرا پردیش میں اچوتاپورم میں ای ایس آئی سی اسپتالوں کا سنگ بنیاد رکھا۔ ان  پروجیکٹس سے تقریباً 55 لاکھ ای ایس آئی استفادہ کنندگان کو صحت کی دیکھ بھال کے فوائد پہنچیں گے۔

وزیر اعظم تمام شعبوں میں خدمات کی فراہمی کو بڑھانے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کو  توسیع دینے  کے زبردست حامی رہے ہیں۔ صحت کی دیکھ بھال کو مزید قابل رسائی بنانے کے لیے خدمات کی فراہمی کو بڑھانے کی خاطر ڈرون ٹیکنالوجی کے اختراعی استعمال میں، وزیر اعظم نے 11 ٹرشیری صحت کی دیکھ بھال کے اداروں میں ڈرون خدمات کا آغاز کیا۔ یہ اتراکھنڈ میں ایمس  رشی کیش، تلنگانہ میں ایمس بیبی نگر، آسام میں ایمس گوہاٹی، مدھیہ پردیش میں ایمس بھوپال، راجستھان میں ایمس جودھپور، بہار میں ایمس پٹنہ، ہماچل پردیش میں ایمس بلاسپور، اترپردیش میں ایمس رائے  بریلی ، چھتیس گڑھ ایمس میں  رائے پور ،  آندھرا پردیش میں ایمس منگلاگیری اور منی پور میں رمس امپھال ہیں۔ وہ ایمس رشیکیش سے ہیلی کاپٹر ایمرجنسی میڈیکل سروسز بھی شروع کریں گے، جس سے فوری طبی دیکھ بھال فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

وزیر اعظم نے یو -ون  پورٹل کا آغاز کیا۔ یہ ویکسی نیشن کے عمل کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کر کے حاملہ خواتین اور شیر خوار بچوں کو فائدہ دے گا۔ یہ حاملہ خواتین اور بچوں (پیدائش سے لے کر 16 سال تک) کو 12 ویکسین سے روکے جانے والی بیماریوں کے خلاف زندگی بچانے والی ویکسین کے بروقت انتظام کو یقینی بنائے گا۔ اس کے علاوہ  وزیر اعظم نے الائیڈ اور ہیلتھ کیئر پروفیشنلز اور اداروں کے لیے ایک پورٹل بھی لانچ کیا۔ یہ موجودہ صحت کی دیکھ بھال کے پیشہ ور افراد اور اداروں کے مرکزی ڈیٹا بیس کے طور پر کام کرے گا۔

وزیر اعظم نے ملک میں صحت کی دیکھ بھال کے ایکو سسٹم کو بہتر بنانے کے لیے آر اینڈ ڈی اور ٹیسٹنگ انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے واسطے  کئی اقدامات شروع کیے ہیں۔ وزیر اعظم نے بھونیشور، اڈیشہ کے گوٹھا پٹنہ میں ایک سنٹرل ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کا افتتاح کیا۔

انہوں نے چھتیس گڑھ کے رائے پور، اڈیشہ میں کھوردھا میں یوگا اور نیچروپیتھی کے دو سینٹرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ  کا سنگ بنیاد رکھا۔ انہوں نے طبی آلات کے لیے گجرات میں      این آئی پی ای آر  احمد آباد ، بلک ڈرگز کے لیے تلنگانہ میں این آئی پی ای آر حیدرآباد، فائٹو فارماسیوٹیکل کے لیے آسام میں این آئی پی ای آر گوہاٹی  اور پنجاب میں این آئی پی ای آر موہالی میں اینٹی بیکٹیریل اینٹی وائرل ادویات کی دریافت اور ترقی کے لئے چار سنٹرس آف ایکسی لینس کا بھی سنگ بنیاد رکھا۔

وزیر اعظم نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس، بنگلورو میں  سینٹر آف ایکسیلنس برائے ذیابیطس اور میٹابولک عوارض،  آئی آئی ٹی دہلی میں جدید تکنیکی حل، اسٹارٹ اپ سپورٹ اور خالص صفر پائیدار حل کے لیے پائیدار آیوش میں سنٹر آف ایکسی لینس؛ سنٹرل ڈرگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، لکھنؤ میں آیوروید میں بنیادی اور تبدیلی لانے والی  تحقیق کے لیے سینٹر آف ایکسی لینس اور جے این یو، نئی دہلی میں آیوروید اور سسٹم میڈیسن پر سنٹر آف ایکسی لینس  جیسے چار آیوش سنٹرس آف ایکسیلنس کا آغاز کیا۔

 

صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں میک ان انڈیا پہل کو ایک بڑے فروغ کے طور پر، وزیر اعظم نے طبی آلات اور بلک ادویات کے لیے پروڈکشن لنکڈ انسینٹیو (پی ایل آئی) اسکیم کے تحت گجرات کے واپی، تلنگانہ میں حیدرآباد، کرناٹک میں بنگلورو، آندھرا میں کاکیناڈا  اور ہماچل پردیش میں  نالہ گڑھ میں پانچ پروجیکٹوں کا افتتاح کیا۔ یہ یونٹ اہم بلک ادویات کے ساتھ اعلیٰ درجے کے طبی آلات، جیسے باڈی ایمپلانٹس اور کریٹیکل کیئر آلات تیار کریں گے۔

وزیر اعظم نے ایک ملک گیر مہم ’’دیش کا پراکرتی پریکشن ابھیان‘‘ بھی شروع کی جس کا مقصد شہریوں میں صحت کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے ہر ریاست اور مرکز کے زیر انتظام خطے کے لیے آب و ہوا کی تبدیلی اور انسانی صحت سے متعلق ریاستوں پر مرکوز ایکشن پلان بھی شروع کیا جو موسمیاتی لچکدار صحت کی دیکھ بھال کی خدمات کو ترقی دینے کے لیے موافقت کی حکمت عملی وضع کرے گا۔

 

Click here to read full text speech

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s electric PV retail sales jump 44% in February; Tata Motors leads: FADA

Media Coverage

India’s electric PV retail sales jump 44% in February; Tata Motors leads: FADA
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
The strong foundation of Viksit Rajasthan is giving more strength to the resolution of Viksit Bharat: PM Modi
March 07, 2026
Today is a day of new hope and new achievement for the entire Hadoti region including Kota, Bundi, Baran and Jhalawar: PM
This modern airport, to be built at a cost of ₹1,500 crore, will give new momentum to the development of the entire region in the coming time: PM
When this airport becomes operational, travel will be easier and trade will grow rapidly across the entire area, including Kota : PM
Kota is today advancing rapidly in the field of connectivity: PM
Under the Amrit Bharat Station Scheme, both major railway stations of Kota are being equipped with modern facilities: PM
The Delhi-Mumbai Expressway, which passes through Kota and Bundi, is opening a new gateway for the development of the entire region: PM

My dear companions from Kota and the entire Hadoti region, Namaskar once again.

Just last week, I had the opportunity to visit Rajasthan. From the sacred land of Ajmer, we inaugurated and laid the foundation stones for development projects worth thousands of crores of rupees. In that same program, appointment letters were handed over to more than 21,000 young people of Rajasthan. And now, only a few days after the Ajmer visit, today I have the privilege of launching this important airport project connected to Kota. Within a single week, these two major development programs in Rajasthan send a powerful message. They show how rapidly Rajasthan is progressing today. Whether it is infrastructure, employment opportunities for youth, schemes for farmers and women, or initiatives in every sector-work is happening at great speed across Rajasthan.

Friends,

Today is a day of new hope and achievement for Kota, Bundi, Baran, Jhalawar, and the entire Hadoti region. This modern airport, being built at a cost of around 1,500 crore rupees, will accelerate the development of the entire region in the coming years. I extend my heartfelt congratulations to the people of Kota and Hadoti on the occasion of the foundation stone laying of this important airport project.

Friends,

I remember, when I came to Kota in November 2023, I made a promise to the people of Kota. I had said that the airport would not remain just a dream, but it would be turned into reality. Today, I am happy that the moment has arrived when the construction of Kota Airport is beginning. Until now, people of Kota had to travel to Jaipur or Jodhpur to catch flights. This consumed a lot of time and caused inconvenience. That situation is now going to change. Once this airport becomes operational, travel will become easier and trade will grow rapidly in Kota and the surrounding areas.

Friends,

Kota is not only a hub of education but also a major center of energy. It is a unique region where electricity is produced from almost all sources-nuclear, coal-based, gas, and water. The land of Hadoti is equally famous for its heritage. The taste of Kota Kachori, the elegance of Kota Doria sarees, and the shine of Kota stone and sandstone have earned recognition worldwide. The coriander from here, Bundi’s basmati rice-their aroma reaches international markets. This region is known for its hard work, production, and immense potential. Now, this new airport in Kota will multiply these possibilities many times over.

Friends,

The land of Kota and Hadoti is also a great center of enterprise and faith. For centuries, devotees from across the country and the world have been coming here to visit the sacred Mathuradheesh Ji Peeth, the Keshav Rai Patan pilgrimage, Khade Ganesh Ji Maharaj, and Godavari Balaji Dham. The view of Chambal from Garadia Mahadev mesmerizes everyone. Wildlife sanctuaries like Mukundra Hills and Ramgarh Vishdhari make this region a major hub of wildlife tourism. With increased air connectivity, tourists from across the country and the world will come here, directly benefiting the youth, traders, and the local economy.

Friends,

Kota is already rapidly advancing in connectivity. Under the Amrit Bharat Station scheme, both major railway stations of Kota are being equipped with modern facilities. The Delhi-Mumbai Expressway, which passes through Kota and Bundi, is opening new doors of development for the entire region. Now, big cities like Delhi, Vadodara, and Mumbai are only a few hours away. With better road and rail connectivity, new industries are being established here. Especially for agro-based industries, this region will become a major hub. After rail and road, this new chapter of air connectivity will further accelerate Kota’s development. The Kota Airport will bring new opportunities of progress for the entire Hadoti region and nearby districts.

Friends,

I also want to appreciate the continuous efforts of Kota’s Member of Parliament, Shri Om Birla Ji, for this important project. His constant endeavor has been to improve the lives of the people of Kota and provide them with new opportunities. Whether it is the airport, the new campus of IIIT, or the expansion of roads, he has been working tirelessly for Kota’s development. It is because of his efforts that Kota and the entire region are witnessing new momentum in growth.

Friends,

Om Birla Ji is not only an excellent Member of Parliament but also a remarkable Speaker of the Lok Sabha. He is fully dedicated to the Constitution and deeply committed to parliamentary traditions. Today, he stands above party and opposition, embodying neutrality. When I see him in the House, I often feel that perhaps coming from the city of education has influenced his role as Speaker-he leads like a good head of the family, taking everyone along. He respects the feelings and requests of all Members of Parliament. He is a Speaker who naturally honors MPs the most. Even when some arrogant and disruptive individuals occasionally create disturbances, he manages everything with dignity, never insulting anyone, patiently enduring harsh words, and always smiling with warmth. Perhaps that is one reason why he is universally admired in the House.

Friends,

When connectivity increases, the speed of development also rises. In the past 11 years, new airports built across different parts of the country have given fresh momentum to growth. Before 2014, there were around 70 airports in the country. Today, that number has risen to more than 160. These new airports have made air travel easier, boosted tourism, created employment opportunities for youth, and accelerated regional development. Even around Delhi, several new airports have come up-Hisar, Hindon, Jewar. When new airports and terminals are built, new enterprises and companies reach smaller cities too. I am confident that Kota’s new airport will similarly give new momentum to the development of this region in the coming times.

Friends,

When the state government and the central government work together, when intentions are clear and determination is strong, the pace of development multiplies. That is exactly what is happening in Rajasthan today. This strong foundation of a developed Rajasthan is giving greater strength to the resolve of a developed India. I am fully confident that together we will succeed in building a Rajasthan that is prosperous, strong, and full of opportunities. With this belief, I extend my heartfelt congratulations to all of you on this foundation stone laying ceremony. Thank you very much. Vande Mataram.