وزیر اعظم نے، آسام کےجورہاٹ میں 17500 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کیا، قوم کے نام وقف کیا اور سنگ بنیاد رکھا
وزیر اعظم کے شمال مشرقی خطے کے لئے ترقیاتی پہل (پی ایم-ڈیوائن) اسکیم کے تحت، پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا
آسام میں پی ایم اے وائی-جی کے تحت تعمیر کیے گئے تقریباً 5.5 لاکھ گھروں کا افتتاح کیا
آسام میں 1300 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے اہم ریلوے پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کیا
‘‘وکست بھارت کے لیے، شمال مشرق کی ترقی ضروری ہے’’
’’کازی رنگا نیشنل پارک منفرد ہے، ہر کسی کو اسے دیکھنا چاہیے‘‘
’’ویر لچیت بورفوکن آسام کی شجاعت اور عزم کی علامت ہے‘‘
’’وکاس بھی اور وراثت بھی’’، ہماری ڈبل انجن والی حکومت کا منتر رہا ہے ’’مودی پورے شمال مشرق کو اپنا خاندان سمجھتے ہیں۔ اسی لیے ہم ان منصوبوں پر بھی توجہ مرکوز کر رہے، ہیں جو برسوں سے زیر التوا ہیں‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج آسام کےجورہاٹ میں، 17500 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کیا، قوم کے نام وقف کیا اور سنگ بنیاد رکھا۔ آج کے ترقیاتی منصوبوں میں صحت، تیل اور گیس، ریل اور ہاؤسنگ کے شعبے شامل ہیں۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس موقع پر موجود بڑی تعداد میں اجتماع کا شکریہ ادا کیا اور ریاست کے 200 مختلف مقامات سے 2 لاکھ لوگوں کی شمولیت کا اعتراف کیا۔ جناب مودی نے کولاگھاٹ کے لوگوں کی طرف سے ہزاروں دیے روشن کرنے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ لوگوں کی محبت اور پیار ان کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ انہوں نے صحت، ہاؤسنگ اور پیٹرولیم کے شعبوں سے متعلق آج تقریباً 17500 کروڑ روپے کے قومی ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھ کر آسام کی ترقی کو رفتار دینے کی تصدیق کی ہے۔

 

کازی رنگا نیشنل پارک کے اپنے دورے کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اسے ایک منفرد قومی پارک اور ٹائیگر ریزرو قرار دیا اور اس کی حیاتیاتی تنوع اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کے ماحولیاتی نظام کی کشش کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘70 فیصد واحد سینگ والے گینڈے کازی رنگا میں ہیں’’۔انہوں نے جنگلی حیات جیسے ہرن، شیر، ہاتھی اور جنگلی بھینسوں کو تلاش کرنے کے تجربے کے بارے میں بھی بات کی۔ وزیر اعظم نے نشاندہی کی کہ کس طرح غفلت اور مجرمانہ تعاون کی وجہ سے، گینڈا خطرے میں پڑ گیا تھا۔ انہوں نے 2013 میں ایک ہی سال میں 27 گینڈوں کے شکار کئے جانے کی یاددہانی کرائی۔ حکومت کی کوششوں سے 2022 میں یہ تعداد صفر پر لائی گئی۔ کازی رنگا کے گولڈن جوبلی سال پر آسام کے لوگوں کو مبارکباد دیتے ہوئے ،وزیر اعظم نے شہریوں کو نیشنل پارک کا دورہ کرنے کی تلقین کی۔

وزیر اعظم نے آج ویر لچیت بورفوکن کے شاندار مجسمے کی نقاب کشائی کا ذکر کیا اور کہا کہ ‘‘ویر لچیت بورفوکن آسام کی شجاعت اور عزم کی علامت ہے’’۔ انہوں نے نئی دہلی میں 2002 میں انکی400 ویں یوم پیدائش کو بڑی شان و شوکت کے ساتھ منانے اور بہادر جنگجو کو تعظیم پیش کرنے کی بھی یاد دہانی کرائی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ‘‘وکاس بھی اور وراثت بھی’’- ترقی کے ساتھ ساتھ وراثت بھی ہماری ڈبل انجن والی حکومت کا منتر ہے’’۔ انہوں نے کہا کہ آسام نے بنیادی ڈھانچے، صحت اور توانائی کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی ہے۔ صحت کے بنیادی ڈھانچے جیسے کہ ایمس، تین سکھیا میڈیکل کالج، شیو ساگر میڈیکل کالج اور جورہاٹ میں کینسر ہسپتال، آسام کو پورے شمال مشرق کے لیے طبی مرکز بنائے گا۔

 

وزیر اعظم نے پی ایم اُرجا گنگا یوجنا کے تحت، برونی - گوہاٹی پائپ لائن کو قوم کے نام وقف کرنے پر بھی بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ گیس پائپ لائن، شمال مشرقی گرڈ کو قومی گرڈ سے جوڑے گی اور 30 لاکھ گھروں اور 600 سے زیادہ سی این جی اسٹیشنوں کو گیس کی فراہمی میں مدد کرے گی، اس طرح بہار، مغربی بنگال اور آسام کے 30 سے زیادہ اضلاع کے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔

ڈگبوئی ریفائنری اور گوہاٹی ریفائنری کی توسیع کے افتتاح کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ پچھلی حکومتوں نے آسام میں ریفائنریوں کی صلاحیت کو بڑھانے کے لوگوں کے دیرینہ مطالبہ کو نظر انداز کیا تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ موجودہ حکومت کی کوششوں سے، آسام میں ریفائنریوں کی کل صلاحیت اب دوگنی ہو جائے گی ،جبکہ نومالی گڑھ ریفائنری کی صلاحیت تین گنا ہو جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ‘‘کسی بھی خطے کی ترقی اس وقت تیز رفتاری سے ہوتی ہے، جب ترقی کے ارادے مضبوط ہوں’’۔

انہوں نے 5.5 لاکھ خاندانوں کو مبارکباد دی، جنہیں آج اپنا پکا مکان ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ گھر صرف گھر نہیں ہیں ،بلکہ ان میں بیت الخلاء، گیس کنکشن، بجلی اور پانی کے پائپ کنکشن جیسی سہولیات بھی موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 18 لاکھ خاندانوں کو ایسے گھر فراہم کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ان میں سے زیادہ تر گھر خواتین کے نام پر ہیں۔

 

آسام کی ہر خاتون کی زندگی کو آسان بنانے اور اس کی بچت کو بہتر بنانے کے حکومت کے عزم کو دہراتے ہوئے ،وزیر اعظم نے یوم خواتین کے موقع پر، گیس سلنڈر کی قیمت میں 100 روپے کی کمی کے کل کے فیصلے کا ذکر کیا۔ آیوشمان کارڈ جیسی اسکیمیں بھی خواتین کو فائدہ پہنچا رہی ہیں۔ جل جیون مشن کے تحت آسام میں 50 لاکھ سے زیادہ گھرانوں کو پائپ پانی کے کنکشن مل چکے ہیں۔ انہوں نے 3 کروڑ لکھ پتی دیدی وضع کرنے کے اپنے عزم کو بھی دہرایا۔

سال2014 کے بعد آسام میں رونما ہونے والی تاریخی تبدیلیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے 2.5 لاکھ سے زیادہ بے زمین باشندوں کو زمین کے حقوق فراہم کرنے اور تقریباً 8 لاکھ چائے کے باغات کے کارکنوں کو، بینکنگ سسٹم سے جوڑنے کا ذکر کیا، جس کے نتیجے میں سرکاری فوائد براہ راست ان کے بینک کھاتوں میں منتقل کیے گئے۔  وزیر اعظم نے کہا کہ اس نے دلالوں کے لیے تمام راہیں مسدود کردی ہیں۔

وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ ‘‘شمال مشرق کی ترقی وکست بھارت کے لیے ضروری ہے’’۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘‘مودی پورے شمال مشرق کو اپنا خاندان سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ان منصوبوں پر بھی توجہ مرکوز کر رہے ہیں جو برسوں سے زیر التوا ہیں’’۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے 2014 میں آسام میں سرائے گھاٹ پر پل، دھولا-سدیہ پل، بوگیبیل پل، باراک وادی تک ریلوے براڈ گیج کی توسیع، ملٹی ماڈل لاجسٹک پارک، جوگی گھوپا، دریائے برہم پترا پر دو نئے پل اور شمال مشرق میں 18 آبی گزرگاہوں جیسے پروجیکٹوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں سے خطے میں نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے انّتی اسکیم کا بھی تذکرہ کیا، جسے کابینہ کے گزشتہ اجلاس میں توسیعی دائرہ کار کے ساتھ، نئی شکل میں منظور کیا گیا تھا۔ کابینہ نے پٹ سن کے ایم ایس پی میں بھی اضافہ کیا ہے، جس سے ریاست کے پٹ سن کے کاشتکاروں کو فائدہ ہوگا۔

 

وزیر اعظم نے لوگوں کے پیار اور جذبے کے لیے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہر ہندوستانی ان کا خاندان ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ آج کا موقع اسی یقین کی نمائندگی کرتا ہے، کہا کہ‘‘لوگوں کی محبت مودی کو نہ صرف اس لیے ملی ہے کہ وہ مانتے ہیں کہ ہندوستان کے 140 کروڑ شہری ان کا خاندان ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ دن رات ان کی خدمت کر رہے ہیں’’۔ انہوں نے آج کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے شہریوں کو مبارکباد دیتے ہوئے ‘بھارت ماتا کی جئے’ کے نعروں کے ساتھ اپنے خطاب کا اختتام کیا۔

اس موقع پر آسام کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہمنتا بسوا سرما اور مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال بھی موجود تھے۔

 

پس منظر

وزیر اعظم نے، شمال مشرقی علاقہ کے لیے وزیر اعظم کی ترقیاتی پہل (پی ایم- ڈیوائن) اسکیم کے تحت پروجیکٹس کا سنگ بنیاد رکھا جس میں شیوساگر میں میڈیکل کالج اور اسپتال اور گوہاٹی میں ہیماٹو-لیمفائیڈ سینٹر شامل ہیں۔ انہوں نے تیل اور گیس کے شعبے میں اہم منصوبوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا جس میں ڈگبوئی ریفائنری کی صلاحیت کو 0.65 سے ایک ایم ایم ٹی پی اے(ملین میٹرک ٹن سالانہ) تک بڑھانا شامل ہے۔ کیٹلیٹک ریفارمنگ یونٹ (یو آر یو) کی تنصیب کے ساتھ، گوہاٹی ریفائنری کی توسیع (1.0 سے 1.2 ایم ایم ٹی پی اے) ؛ اور(بیت کچی گوہاٹی) ٹرمینل میں سہولیات میں اضافہ: انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ کے علاوہ دیگر شامل ہیں۔

وزیر اعظم نے تین سوکھیا میں نئے میڈیکل کالج اور اسپتال،718 کلومیٹر لمبی برونی - گوہاٹی پائپ لائن (پردھان منتری ارجا گنگا پروجیکٹ کا حصہ)، جو تقریباً 3992 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی ہے، جیسے اہم پروجیکٹوں اور دیگر پروجیکٹوں کو کو قوم کے نام وقف کیا۔ وزیر اعظم نے پردھان منتری آواس یوجنا – گرامین (پی ایم اے وائی-جی) کے تحت ،تقریباً 5.5 لاکھ گھروں کا بھی افتتاح کیا، جنھیں تقریباً 8450 کروڑ روپے کی کل لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے۔

 

وزیر اعظم نے آسام میں 1300 کروڑ روپے سے زیادہ کے اہم ریلوے پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کیا جن میں دھوپدھرا-چھائے گاوں سیکشن (نئے بونگائی گاؤں - گوہاٹی ویا گولپارہ ڈبلنگ پروجیکٹ کا حصہ) اور نیو بونگائی گاؤں - سوربھوگ سیکشن (نئے بونگائی گاؤں - اگتھوری ڈبلنگ پروجیکٹ کا حصہ)شامل ہیں۔

 

 

 

 

 

Click here to read full text speech

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Emerging cities see 42% growth in GCC jobs, outpacing metros: Report

Media Coverage

Emerging cities see 42% growth in GCC jobs, outpacing metros: Report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi chairs 51st PRAGATI Meeting
May 27, 2026
PM reviews seven critical infrastructure projects across the Railways, Power and Road sectors
Projects reviewed span across 9 States with cumulative investment of around ₹30,000 crore
PM also reviews Ken Betwa Link Project and Swachh Bharat Mission-Urban 2.0
PM says Ken-Betwa River Inter-linking Project should serve as a model for other States to resolve inter-State water issues amicably
PM asks States to expedite the completion of solid waste management-related infrastructure, including waste processing plants and GOBARdhan plants
PM calls for mission-mode rooftop solar coverage in urban areas
Acting upon the advice of PM, system of monthly review of social sector schemes at State level operationalised, starting with review of Swachh Bharat Mission

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 51st meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform aimed at fostering Pro-Active Governance and Timely Implementation, by seamlessly integrating efforts of the Central and State governments, at Seva Teerth, earlier today.

During the meeting, the Prime Minister reviewed seven critical infrastructure projects across the Railways, Power and Road sectors covering nine States worth around ₹30,000 crore. These projects, pivotal to economic growth and public welfare, were reviewed with a focus on timelines, inter-agency coordination, and timely issue resolution. Prime Minister also reviewed Ken Betwa Link Project and Swachh Bharat Mission-Urban 2.0.

While reviewing power sector projects, Prime Minister emphasized the need to accelerate rooftop solar adoption across urban areas, with a special focus on cities, residential clusters and public institutions. He underlined that rooftop solar should be taken up in mission mode to reduce electricity costs, improve energy security and promote clean energy at the household and community level.

While reviewing road and port connectivity projects, it was emphasised that Vadhavan Port should be developed as a model of port-led, multi-modal development, where every major mode of transport is seamlessly integrated to create a future-ready logistics ecosystem. The project should not be seen merely as a port, but as a national gateway connected through coastal shipping, inland waterways, dedicated freight corridors, high-speed rail connectivity, highways and airport linkages.

Prime Minister emphasised the need for effective implementation of Swachh Bharat Mission 2.0 and underlined that the mission should move beyond infrastructure creation and ensure measurable outcomes through regular monitoring, citizen participation and convergence between various stakeholders. He asked States to expedite the completion of solid waste management-related infrastructure, including waste processing plants and GOBARdhan plants.

While reviewing Ken-Betwa River Inter-linking Project, Prime Minister observed that Ken-Betwa project should serve as a model for other States to resolve inter-State water issues through cooperation, timely clearances, technology-based monitoring and mission-mode execution. States were encouraged to identify similar opportunities where river-linking, water conservation, groundwater recharge and efficient irrigation can be taken up in an integrated manner to ensure long-term water security.

Prime Minister also underlined that the delay in the implementation of public projects leads not only to cost escalation but also deprives citizens of timely access to essential facilities and development benefits. He observed that every delay has a direct impact on people’s lives, regional growth and public resources. He stressed that Ministries, Departments and States must adopt a more proactive and time-bound approach to resolve pending issues, remove bottlenecks and ensure faster execution.

Prime Minister also emphasized that innovative use of canal networks should be explored, including installation of solar panels along canals and over canals for clean electricity generation. This would help optimize land use, reduce evaporation losses, generate renewable energy and create additional economic value from water infrastructure.

At the beginning of the meeting, the Cabinet Secretary informed that, in pursuance of the directions of the Prime Minister, a system of monthly review of social sector schemes at the State level has also been operationalised. This mechanism aims to ensure regular monitoring, faster resolution of implementation issues and greater accountability at the State and district levels. As part of this initiative, Swachh Bharat Mission has been taken up for review at the State level in the first instance.