’’زلزلے کے دوران ہندوستان کے فوری ردعمل نے پوری دنیا کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ یہ ہماری ریسکیو اور ریلیف ٹیموں کی تیاری کا عکاس ہے‘‘
’’ہندوستان نے اپنی خود کفالت کے ساتھ اپنی بے لوثی کو بھی پروان چڑھایا ہے‘‘
’’دنیا میں جہاں بھی کوئی آفت آتی ہے، ہندوستان سب سے پہلے جواب دہندہ کے طور پر تیار پایا جاتا ہے‘‘
’’ہم ’ترنگا‘ کے ساتھ جہاں بھی پہنچتے ہیں، وہاں ایک یقین دہانی ہوتی ہے کہ اب جب کہ ہندوستانی ٹیمیں پہنچ چکی ہیں، حالات بہتر ہونا شروع ہو جائیں گے‘‘
’’این ڈی آر ایف نے ملک کے لوگوں میں بہت اچھی ساکھ بنائی ہے۔ ملک کے عوام آپ پر اعتماد کرتے ہیں‘‘
’’ہمیں دنیا کی بہترین ریلیف اور ریسکیو ٹیم کے طور پر اپنی شناخت کو مضبوط کرنا ہے۔ ہماری اپنی تیاری جتنی بہتر ہوگی ہم اتنی ہی بہتر دنیا کی خدمت کر پائیں گے‘‘

وزیر اعظم نے زلزلہ سے متاثرہ ترکی اور شام میں آپریشن دوست میں شامل نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس کے اہلکاروں سے بات چیت کی۔

اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے زلزلہ سے متاثرہ ترکی اور شام میں آپریشن دوست کے عظیم کام پر ان کی تعریف کی۔ وزیر اعظم نے وسودھیو کٹمبکم کے تصور کی وضاحت کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ترکی اور شام میں ہندوستانی ٹیم ،ہمارے لئے پوری دنیا کے ایک خاندان ہونے کے جذبے کی عکاسی کرتی ہے۔

قدرتی آفات کے دوران فوری رسپانس ٹائم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ’گولڈن آور‘ کا حوالہ دیا اور کہا کہ ترکی میں این ڈی آر ایف ٹیم کے تیز رفتار ردعمل نے پوری دنیا کی توجہ مبذول کرائی۔ انہوں نے کہا کہ فوری ردعمل ٹیم کی تیاری اور تربیتی صلاحیتوں کو اجاگر کرتا ہے۔

ایک ماں کی تصویروں کو یاد کرتے ہوئے جس نے ٹیم کے ارکان کو ان کی کوششوں کے لیے آشیرواد دیا، وزیر اعظم نے اس فخر کو نوٹ کیا جو ہر ہندوستانی نے متاثرہ علاقوں میں بچاؤ اور راحتی کارروائیوں کی ہر تصویر کو دیکھنے کے بعد محسوس کیا۔ وزیر اعظم نے بے مثال پیشہ ورانہ مہارت اور انسانی رابطے کو اجاگر کیا اور کہا کہ یہ ایک اہم کردار ادا کرتا ہے جب کوئی شخص صدمے سے گذر  رہا ہوتا ہے اور وہ اپنا سب کچھ کھو چکا ہوتا ہے۔ وزیر اعظم نے ٹیم کی طرف سے دکھائے گئے ہمدردی کے کاموں کی بھی تعریف کی۔

گجرات میں 2001 کے زلزلے اور وہاں ایک رضاکار کے طور پر اپنے وقت کو یاد کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے ملبہ ہٹانے اور اس کے  نیچے دبے  لوگوں کو تلاش کرنے کے کام کی دشواریوں پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ کس طرح پورا طبی نظام متاثر ہوا  تھا کیوں کہ بھوج میں اسپتال  ہی منہدم ہو گیا تھا۔ وزیر اعظم نے 1979 میں ماچھو ڈیم کے سانحہ کو بھی یاد کیا۔ وزیر اعظم نے کہا ’’ان آفات میں اپنے تجربات کی بنیاد پر، میں آپ کی محنت، جذبے اور جذبات کی تعریف کر سکتا ہوں۔ آج میں آپ سب کو سلام پیش کرتا ہوں۔‘‘

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جو اپنی مدد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ خود کفیل کہلاتے ہیں لیکن جو ضرورت کے وقت دوسروں کی مدد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ بے لوث کہلاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کا اطلاق نہ صرف افراد پر ہوتا ہے بلکہ قوموں پر بھی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے کچھ سالوں میں ہندوستان نے اپنی خود کفالت کے ساتھ اپنی بے لوثی کو بھی پروان چڑھایا ہے۔ وزیر اعظم نے یوکرین میں ترنگا کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ "جہاں بھی ہم 'ترنگا' کے ساتھ پہنچتے ہیں، وہاں ایک یقین دہانی  ہوتی ہے کہ اب جب کہ ہندوستانی ٹیمیں پہنچ چکی ہیں، صورتحال بہتر ہونا شروع ہو جائے گی۔" وزیر اعظم نے مقامی لوگوں میں ترنگے کو حاصل ہونے والے احترام کے بارے میں بھی بات کی۔ وزیر اعظم نے یہ بھی یاد دلایا  کہ کس طرح ترنگا آپریشن گنگا کے دوران یوکرین میں ہر ایک کے لیے ڈھال کا کام کرتا تھا۔ اسی طرح آپریشن دیوی شکتی میں افغانستان سے انتہائی نامساعد حالات میں انخلاء کیا گیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہی عزم کورونا  کی وبا کے دوران ظاہر ہوا جب ہندوستان نے ہر شہری کو گھر واپس لایا اور ادویات اور ویکسین کی فراہمی کے ذریعے عالمی خیر سگالی حاصل کی۔

وزیر اعظم نے ’آپریشن دوست‘ کے ذریعے انسانیت کے تئیں ہندوستان کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب ترکی اور شام میں زلزلہ آیا تو ہندوستان سب سے پہلے جواب دہندگان میں سے ایک تھا‘‘۔ انہوں نے نیپال میں زلزلے، مالدیپ اور سری لنکا کے بحران کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ مدد کے لیے سب سے پہلے ہندوستان آگے آیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی افواج کے ساتھ ساتھ این ڈی آر ایف پر دوسرے ممالک کا اعتماد بھی بڑھ رہا ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ این ڈی آر ایف نے گزشتہ برسوں میں ملک کے لوگوں میں بہت اچھی ساکھ بنائی ہے۔ انہوں نے کہا،’’ملک کے لوگ این ڈی آر ایف پر بھروسہ کرتے ہیں‘‘۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب این ڈی آر ایف میدان میں پہنچتا ہے تو لوگوں کے اعتماد اور امید کو تقویت ملتی ہے اور یہ اپنے آپ میں ایک بڑی کامیابی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا  کہ جب کسی قوت میں مہارت کے ساتھ حساسیت کا اضافہ کیا جاتا ہے تو اس قوت کی طاقت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

آفت کے وقت راحت اور بچاؤ کے لئے ہندوستان کی صلاحیت کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا، ’’ہمیں دنیا کی بہترین راحت اور بچاؤ ٹیم کے طور پر اپنی شناخت کو مضبوط کرنا ہے۔ ہماری اپنی تیاری جتنی بہتر ہوگی ہم اتنی ہی بہتر دنیا کی خدمت کر پائیں گے‘‘۔ خطاب کے اختتام پر، وزیر اعظم نے این ڈی آر ایف ٹیم کی کوششوں اور تجربات کی تعریف کی اور کہا کہ اگرچہ وہ میدان میں بچاؤ کی کارروائیاں کر رہے تھے ، لیکن وہ  بھی پچھلے 10 دنوں سے ہمیشہ ان کے ساتھ دل و دماغ سے جڑے ہوئے تھے۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
Emerging cities see 42% growth in GCC jobs, outpacing metros: Report

Media Coverage

Emerging cities see 42% growth in GCC jobs, outpacing metros: Report
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM Modi chairs 51st PRAGATI Meeting
May 27, 2026
PM reviews seven critical infrastructure projects across the Railways, Power and Road sectors
Projects reviewed span across 9 States with cumulative investment of around ₹30,000 crore
PM also reviews Ken Betwa Link Project and Swachh Bharat Mission-Urban 2.0
PM says Ken-Betwa River Inter-linking Project should serve as a model for other States to resolve inter-State water issues amicably
PM asks States to expedite the completion of solid waste management-related infrastructure, including waste processing plants and GOBARdhan plants
PM calls for mission-mode rooftop solar coverage in urban areas
Acting upon the advice of PM, system of monthly review of social sector schemes at State level operationalised, starting with review of Swachh Bharat Mission

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired the 51st meeting of PRAGATI, the ICT-enabled, multi-modal platform aimed at fostering Pro-Active Governance and Timely Implementation, by seamlessly integrating efforts of the Central and State governments, at Seva Teerth, earlier today.

During the meeting, the Prime Minister reviewed seven critical infrastructure projects across the Railways, Power and Road sectors covering nine States worth around ₹30,000 crore. These projects, pivotal to economic growth and public welfare, were reviewed with a focus on timelines, inter-agency coordination, and timely issue resolution. Prime Minister also reviewed Ken Betwa Link Project and Swachh Bharat Mission-Urban 2.0.

While reviewing power sector projects, Prime Minister emphasized the need to accelerate rooftop solar adoption across urban areas, with a special focus on cities, residential clusters and public institutions. He underlined that rooftop solar should be taken up in mission mode to reduce electricity costs, improve energy security and promote clean energy at the household and community level.

While reviewing road and port connectivity projects, it was emphasised that Vadhavan Port should be developed as a model of port-led, multi-modal development, where every major mode of transport is seamlessly integrated to create a future-ready logistics ecosystem. The project should not be seen merely as a port, but as a national gateway connected through coastal shipping, inland waterways, dedicated freight corridors, high-speed rail connectivity, highways and airport linkages.

Prime Minister emphasised the need for effective implementation of Swachh Bharat Mission 2.0 and underlined that the mission should move beyond infrastructure creation and ensure measurable outcomes through regular monitoring, citizen participation and convergence between various stakeholders. He asked States to expedite the completion of solid waste management-related infrastructure, including waste processing plants and GOBARdhan plants.

While reviewing Ken-Betwa River Inter-linking Project, Prime Minister observed that Ken-Betwa project should serve as a model for other States to resolve inter-State water issues through cooperation, timely clearances, technology-based monitoring and mission-mode execution. States were encouraged to identify similar opportunities where river-linking, water conservation, groundwater recharge and efficient irrigation can be taken up in an integrated manner to ensure long-term water security.

Prime Minister also underlined that the delay in the implementation of public projects leads not only to cost escalation but also deprives citizens of timely access to essential facilities and development benefits. He observed that every delay has a direct impact on people’s lives, regional growth and public resources. He stressed that Ministries, Departments and States must adopt a more proactive and time-bound approach to resolve pending issues, remove bottlenecks and ensure faster execution.

Prime Minister also emphasized that innovative use of canal networks should be explored, including installation of solar panels along canals and over canals for clean electricity generation. This would help optimize land use, reduce evaporation losses, generate renewable energy and create additional economic value from water infrastructure.

At the beginning of the meeting, the Cabinet Secretary informed that, in pursuance of the directions of the Prime Minister, a system of monthly review of social sector schemes at the State level has also been operationalised. This mechanism aims to ensure regular monitoring, faster resolution of implementation issues and greater accountability at the State and district levels. As part of this initiative, Swachh Bharat Mission has been taken up for review at the State level in the first instance.