’’سیمی کنڈکٹر ڈیجیٹل دور کی بنیاد ہے‘‘: وزیر اعظم
وزیراعظم نے کہاکہ جمہوریت اور ٹکنالوجی مل کر انسانیت کی بہبود کو یقینی بناسکتے ہیں
وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت متنوع سیمی کنڈکٹر سپلائی چین میں قابل اعتماد شراکت دار بننے کی صلاحیت رکھتا ہے
سی ای اوز نے ملک میں صنعت کے لیے موزوں ماحول کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سیمی کنڈکٹر صنعت کا مرکز بھارت کی طرف منتقل ہونا شروع ہوچکی ہے
کاروباری ماحول پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سی ای اوز نے کہاکہ صنعت میں متفقہ اتفاق رائے یہ ہے کہ بھارت سرمایہ کاری کرنے کا مقام ہے
سی اوز نے مزید کہا کہ آج بھارت میں بے پناہ مواقع موجود ہیں جو پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے
وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج صبح 7 لوک کلیان مارگ پر واقع اپنی رہائش گاہ پر سیمی کنڈکٹر ایگزیکٹوز گول میز اجلاس کی صدارت کی۔

 وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج صبح 7 لوک کلیان مارگ پر واقع اپنی رہائش گاہ پر سیمی کنڈکٹر ایگزیکٹوز گول میز اجلاس کی صدارت کی۔

 

ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ ان کے خیالات نہ صرف ان کے کاروبار بلکہ بھارت کے مستقبل کو بھی تشکیل دیں گے۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ آنے والا وقت ٹکنالوجی پر مبنی ہوگا ، وزیر اعظم نے کہا کہ سیمی کنڈکٹر ڈیجیٹل دور کی بنیاد ہے اور وہ دن دور نہیں جب سیمی کنڈکٹر صنعت ہماری بنیادی ضروریات کی بنیاد ہوگی۔

 

وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ جمہوریت اور ٹکنالوجی مل کر انسانیت کی بہبود کو یقینی بنا سکتے ہیں اور بھارت سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں اپنی عالمی ذمہ داری کو تسلیم کرتے ہوئے اس راستے پر آگے بڑھ رہا ہے۔

 

وزیر اعظم نے ترقی کے ستونوں کے بارے میں بات کی جن میں سماجی ، ڈیجیٹل اور جسمانی بنیادی ڈھانچے کی ترقی ، جامع ترقی کو فروغ دینا ، تعمیل کے بوجھ کو کم کرنا اور مینوفیکچرنگ اور جدت طرازی میں سرمایہ کاری کو راغب کرنا شامل ہے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ بھارت متنوع سیمی کنڈکٹر سپلائی چین میں قابل اعتماد شراکت دار بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

 

وزیر اعظم نے بھارت کے ٹیلنٹ پول اور اس صنعت کے لیے تربیت یافتہ افرادی قوت کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ہنرمندی پر حکومت کی بے پناہ توجہ کے بارے میں بات کی۔ انھوں نے کہا کہ بھارت کی توجہ ایسی مصنوعات تیار کرنے پر ہے جو عالمی سطح پر مسابقتی ہوں۔ انھوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ بھارت ہائی ٹیک انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے لیے ایک عظیم مارکیٹ ہے اور کہا کہ سیمی کنڈکٹر سیکٹر کے رہنماؤں کے ذریعہ آج جو جوش و خروش پایا جاتا ہے وہ حکومت کو اس شعبے کے لیے مزید محنت کرنے کی ترغیب دے گا۔

 

وزیر اعظم نے رہنماؤں کو یقین دلایا کہ بھارتی حکومت ایک قابل پیشگوئی اور مستحکم پالیسی پر عمل کرے گی۔ میک ان انڈیا اور میک فار دی ورلڈ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت ہر قدم پر اس صنعت کی مدد جاری رکھے گی۔

 

سی ای اوز نے سیمی کنڈکٹر سیکٹر کی ترقی کے لیے بھارت کے عزم کی ستائش کی اور کہا کہ آج جو کچھ ہورہا ہے اس کی نظیر نہیں ملتی یعنی پورے سیمی کنڈکٹر سیکٹر رہنماؤں کو ایک چھت کے نیچے لایا گیا ہے۔ انھوں نے سیمی کنڈکٹر صنعت کی بے پناہ ترقی اور مستقبل کے دائرہ کار کے بارے میں بات کی۔ انھوں نے کہا کہ سیمی کنڈکٹر صنعت کی کشش ثقل کا مرکز بھارت کی طرف منتقل ہونا شروع ہو گیا ہے ، انھوں نے مزید کہا کہ ملک میں اب صنعت کے لیے مناسب ماحول ہے جس نے بھارت کو سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں عالمی نقشے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اس یقین کا اظہار کرتے ہوئے کہ جو بھارت کے لیے اچھا ہے وہ دنیا کے لیے اچھا ہوگا ۔ انھوں نے کہا کہ بھارت میں سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں خام مال میں عالمی پاور ہاؤس بننے کی حیرت انگیز صلاحیت ہے۔

 

بھارت میں کاروبار دوست ماحول کی ستائش کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پیچیدہ جغرافیائی سیاسی صورت حال کی دنیا میں بھارت مستحکم ہے۔ بھارت کی صلاحیت پر اپنے بے پناہ یقین کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ صنعت میں متفقہ اتفاق رائے ہے کہ بھارت سرمایہ کاری کی جگہ ہے۔ انھوں نے ماضی میں بھی وزیر اعظم کی طرف سے دی گئی حوصلہ افزائی کو یاد کیا اور کہا کہ آج بھارت میں موجود بے پناہ مواقع پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے تھے اور انھیں بھارت کے ساتھ شراکت داری پر فخر ہے۔

 

اجلاس میں سی ای ایم آئی، مائیکرون، این ایکس پی، پی ایس ایم سی، آئی ایم ای سی، رینساس، ٹی ای پی ایل، ٹوکیو الیکٹرون لمیٹڈ، ٹاور، سینوپسس، کیڈنس، ریپڈس، جیکبز، جے ایس آر، انفینون، ایڈوانٹیسٹ، ٹیراڈین، اپلائیڈ مٹیریلز، لیم ریسرچ، مرک، سی جی پاور اور کینز ٹیکنالوجی سمیت مختلف اداروں کے سی ای اوز، سربراہان اور نمائندوں نے شرکت کی۔ اس میٹنگ میں اسٹینفورڈ یونیورسٹی، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان ڈیاگو اور آئی آئی ٹی بھوبنیشور کے پروفیسر بھی موجود تھے۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s space programme, a people’s space journey

Media Coverage

India’s space programme, a people’s space journey
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM to Inaugurate Grand International Exposition of Sacred Piprahwa Relics related to Bhagwan Buddha on 3rd January
January 01, 2026
Piprahwa Relics are among earliest and most historically significant relics directly connected to Bhagwan Buddha
Exposition titled “The Light & the Lotus: Relics of the Awakened One” provides insights into the life of Bhagwan Buddha
Exposition showcases India’s enduring Buddhist heritage
Exposition brings together Repatriated Relics and Archaeological Treasures of Piprahwa after more than a century

Prime Minister Shri Narendra Modi will inaugurate the Grand International Exposition of Sacred Piprahwa Relics related to Bhagwan Buddha, titled “The Light & the Lotus: Relics of the Awakened One”, on 3rd January, 2026 at around 11 AM at the Rai Pithora Cultural Complex, New Delhi.

The Exposition brings together, for the first time, the Piprahwa relics repatriated after more than a century with authentic relics and archaeological materials from Piprahwa that are preserved in the collections of the National Museum, New Delhi, and the Indian Museum, Kolkata.

Discovered in 1898, the Piprahwa relics hold a central place in the archaeological study of early Buddhism. These are among the earliest and most historically significant relic deposits directly connected to Bhagwan Buddha. Archaeological evidence associates the Piprahwa site with ancient Kapilavastu, widely identified as the place where Bhagwan Buddha spent his early life prior to renunciation.

The exposition highlights India’s deep and continuing civilizational link with the teachings of Bhagwan Buddha and reflects the Prime Minister’s commitment to preserve India’s rich spiritual and cultural heritage. The recent repatriation of these relics has been achieved through sustained government effort, institutional cooperation and innovative public-private partnership.

The exhibition is organised thematically. At its centre is a reconstructed interpretive model inspired by the Sanchi stupa, which brings together authentic relics from national collections and the repatriated gems. Other sections include Piprahwa Revisited, Vignettes of the Life of Buddha, Intangible in the Tangible: The Aesthetic Language of Buddhist Teachings, Expansion of Buddhist Art and Ideals Beyond Borders, and Repatriation of Cultural Artefacts: The Continuing Endeavour.

To enhance public understanding, the exposition is supported by a comprehensive audio-visual component, including immersive films, digital reconstructions, interpretive projections, and multimedia presentations. These elements provide accessible insights into the life of Bhagwan Buddha, the discovery of the Piprahwa relics, their movement across regions, and the artistic traditions associated with them.