Share
 
Comments
Releases book 'Lachit Borphukan - Assam's Hero who Halted the Mughals'
“Lachit Borphukan's life inspires us to live the mantra of 'Nation First'”
“Lachit Borphukan's life teaches us that instead of nepotism and dynasty, the country should be supreme”
“Saints and seers have guided our nation since time immemorial”
“Bravehearts like Lachit Borphukan showed that forces of fanaticism and terror perish but the immortal light of Indian life remains eternal”
“The history of India is about emerging victorious, it is about the valour of countless greats”
“Unfortunately, we were taught, even after independence, the same history which was written as a conspiracy during the period of slavery”
“When a nation knows its real past, only then it can learn from its experiences and treads the correct direction for its future. It is our responsibility that our sense of history is not confined to a few decades and centuries”
“We have to make India developed and make Northeast, the hub of India’s growth”

 وزیر اعظم جناب  نریندر مودی نے آج نئی دہلی میں عظیم ہیرو لاچت بورفوکن کی چارسو ویں سالگرہ کی سال بھر تک چلنے والی تقریبات کی اختتامی تقریب سے خطاب کیا۔وزیر اعظم نے اس موقع پر لاچت بورفوکن –آسام ہیرو سے متعلق کتاب کا اجراءکیا جس نے مغلوں کے حملوں کو روکا تھا۔

گمنام سورماؤں کو ایک مؤثر ڈھنگ سے اعزاز دینے کے وزیر اعظم کے ویژن کے مطابق آج کا یہ موقع اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ لاچت بورفوکن کی 400 ویں سالگرہ کے اعزاز کا جشن منایا جائے جو آسام کی اہوم سلطنت کی شاہی فوج کا مشہور جرنل تھا جس نے مغلوں کو شکست دی اور اورنگ زیب کے ماتحت مغلوں کی توسیع پسندانہ خواہش اور عزائم کو کامیابی کے ساتھ روکا۔

اس موقع پر منعقد ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے آسام کی سرزمین کے لئے اپنا احترام اور عزت کا اظہار کرنا شروع کیا۔ جس نے ویر لاچت جیسے بہادر سپُتر دیئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم بہادر لاچت بورفوکن کا ان کی 400 ویں سالگرہ کے موقع پر ان کا احترام کرتے ہیں اور ان کو سلام کرتے ہیں۔ لاچت بورفوکن نے آسام کے ثقافت کے تحفظ میں کلیدی رول ادا کیا تھا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان ایک ایسے وقت میں لاچت بورفوکن کی 400 ویں سالگرہ منا رہا ہے جب ملک آزادی کا امرت مہوتسو منا رہا ہے۔ آسام کی تاریخ کے شاندار باب میں بھی ویر لاچت بورفوکن کا ایک بڑا حصہ ہے اور اس عظیم قربانی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ میں ہندوستان کے ابدی بہادری اور بیرونی وجود کے فیسٹول کے موقع پر اس عظیم روایت کو سلام کرتا ہوں۔ وزیر اعظم نے ہندوستان کے مزاج کا ذکر کرتے ہوئے اس بات کو دہرایا کہ ذہنی غلامی سے چھٹکارا حاصل کیا جائے اور اپنی وراثت پر فخر کیا جائے ۔ ہندوستان نہ صرف اپنی ثقافتی سرنگو منا رہا ہے بلکہ وہ اپنی تاریخ کے  گمنام ہیرواور ہیروئن کی قربانیوں  کو بھی تسلیم کررہا ہے ۔لاچت بورفوکن جیسے ماں بھارتی کے لافانی سپترامرت کال کے عزم کو پورا کرنے کی تحریک ہیں۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ وہ ہماری تاریخ کی شناخت اور عظمت سے واقف کراتے ہیں اور ہماری اس بات کے لئے حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ ملک کے تئیں خود کو وقف کردیا جائے۔

انسانی وجود کی ہزاروں سال پرانی تاریخ میں وزیر اعظم نے اس بات کا ذکر کیا کہ ایسی بہت سی تہذیبیں تھیں جو کہ کرۂ ارض پر دیکھی گئیں ،ان میں سے بہت سی زوال پذیر ہوگئیں  لیکن یہ وقت کا پہیا ہی ہےجس نے انہیں گھٹنوں کے بل گرایا۔دیگر تہذیبوں اور ہندوستان کے درمیان اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آج دنیا اس طرح کے تہذیبوں کے باقی رہنے کی بنیاد پر تاریخ انداز لگاتی ہے۔ لیکن ہندوستان جس نے تاریخ میں غیر متوقع طور پر دشمنیوں کا سامنا کیا اور غیر ملکی حملہ آوروں کے ناقابل تصور دہشت کے سامنے کھڑا رہا اب بھی اسی قوت کے ساتھ پوری طرح کھڑا ہے اور پوری طرح بیدار ہے۔وزیر اعظم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ  یہ اس حقیقت کی وجہ سے ممکن ہوا کہ جب کبھی بحران آیا تو کچھ شخصیتیں ابھر کر سامنے آئیں تاکہ اس سے نمٹ سکیں۔ ایسے دور میں سنت اور سادھو اور اسکالرس  ہندوستان کی روحانی اور ثقافتی شناخت کو بچانے کے لئے آگے آئے ،لاچت بورفوکن جیسے بہادر سورما نے ثابت کیا کہ کٹر پرستی اور دہشت گردی کی قوتیں مٹ جاتی ہیں لیکن ہندوستانی زندگی کی ابدی روشنی ہمیشہ قائم رہتی ہے۔

آسام کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ہندوستان کے ثقافت کے سفر کی قیمتی وراثت سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ سوچ اور نظریہ ، معاشرے اور ثقافت،اعتماد اور روایات  کا ایک مجموعہ ہے ۔آسام اور شمال مشرق کی سرزمین کی بے مثال بہادری کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس سرزمین کے لوگوں نے ترکوں ، افغانوں اور مغلوں کو دیکھا ہے جنھیں کئی بار اور کئی موقعوں پر پست کیا گیا ہے۔ اور وہاں سے کھدیڑ دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود مغلوں نے گوہاٹی پر قبضہ کیا تھا لیکن یہ لاچت بورفوکن کی بہادری ہی تھی جس نے مغلوں کے سلطنت کے ظالم حکمرانوں کے چنگل سے آزادی حاصل کی۔سرائے گھاٹ میں  ویر لاچت بورفوکن کی جانب سے دکھائی گئی بہادری کا کارنامہ مادروطن کے لئے ناختم ہونے والے پیار اور محبت کی ایک مثال ہی نہیں تھی بلکہ بہادر لاچت کے پاس پورے آسام خطے کو متحد کرنے کی صلاحیت اور طاقت بھی تھی جہاں ہر شہری ضرورت پڑنے پر مادر وطن کا دفاع کرنے کے لئے تیار تھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ لاچت بورفوکن کی بہادری اور بے خوفی آسام کی شناخت ہے۔

’’ہندوستان کی تاریخ صرف غلامی کے بارے میں نہیں ہے‘‘، وزیر اعظم نے اس دوران  کہا کہ  ’’ہندوستان کی تاریخ ابھرتی ہوئی فتح کے بارے میں ہے، یہ بے شمار  عظیم بہادروں کے بارے میں ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کی تاریخ بے مثال بہادری اور جرأت کے ساتھ ظلم کے خلاف کھڑی ہے۔ بدقسمتی سے ہمیں آزادی کے بعد بھی وہی تاریخ پڑھائی گئی جو غلامی کے دور میں ایک سازش کے طور پر لکھی گئی۔ آزادی کے بعد ہمیں غلام بنانے والے غیر ملکیوں کے ایجنڈے کو تبدیل کرنے کی ضرورت تھی، تاہم ایسا نہیں کیا گیا۔ ملک کے ہر حصے میں ظلم کے خلاف شدید مزاحمت کی داستانیں جان بوجھ کر دبا دی گئیں۔ جبر کے طویل عرصے میں ظلم پر فتح کی ان گنت کہانیاں ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان واقعات کو مرکزی دھارے میں نہ لانے  کی غلطی کو اب سدھارا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تقریب دہلی میں ہو رہی ہے، جو کہ  اس تبدیلی کی عکاس ہے۔

وزیر اعظم نے اپنے ہیروز کی وراثت کو منانے کے لیے اقدامات کرنے پر آسام حکومت کی تعریف کی۔ انہوں نے آسام میں اپنے ہیروز کے اعزاز میں میوزیم اور ایک یادگار جیسے منصوبوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات سے نوجوان نسل کو قربانیوں اور بہادری کی تاریخ جاننے میں مدد ملے گی۔ وزیر اعظم نے کہا ’’لاچت بورفوکن کی زندگی ہمیں ’نیشن فرسٹ‘(ملک پہلے) کے منتر کو جینے کی ترغیب دیتی ہے۔ ان کی زندگی ہمیں خود سے اوپر اٹھنے اور قومی مفاد کو اولین ترجیح دینے کی ترغیب دیتی ہے۔ ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ اقربا پروری اور خاندان پرستی کے بجائے ملک کو فوقیت دیناچاہیے۔ ویر  لاچت  بورفوکن کی زندگی کی مثال دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا، ’’کوئی شخص یا رشتہ ملک  سے بالاتر نہیں ہے‘‘۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ جب کوئی قوم اپنے حقیقی ماضی کو جانتی ہے، تب ہی وہ اپنے تجربات سے سیکھ سکتی ہے اور اپنے مستقبل کے لیے صحیح سمت چل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہماری تاریخ کا احساس چند دہائیوں اور صدیوں تک محدود نہ رہے۔ بھارت رتن بھوپین ہزاریکا کی سطروں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بار بار یاد کرنے سے ہی ہم آنے والی نسل کو تاریخ کی صحیح تصویر دکھا سکتے ہیں۔

وزیر اعظم نے چھترپتی شیواجی مہاراج کی طرز پر لاچت  بورفوکن پر ایک عظیم الشان تھیٹر ڈرامہ تیار کرنے  اور اسے ملک کے کونے کونے تک لے جانے کا مشورہ دیا۔ اس سے ’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘ کے عزم کو زبردست فروغ ملے گا۔ وزیر اعظم نے اپنی تقریر کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ  ’’ہمیں ہندوستان کو ترقی یافتہ بنانا ہے اور شمال -مشرق کو، ہندوستان کی ترقی کا مرکز بنانا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ویر لاچت  بورفوکن کی 400 ویں جینتی کا جذبہ ہمارے عزم کو تقویت دے گا اور قوم اپنے اہداف حاصل کرے گی‘‘۔  

وزیر اعظم نے وگیان بھون کے مغربی صحن میں پہنچنے پر،  دیہی آسام کے سیٹ اپ کو دیکھا اور تاریخی پس منظر پر لگی   نمائش کا دورہ بھی کیا۔ اس کے بعد وزیر اعظم نے چراغ روشن کیا اور لاچت  بورفوکن کی تصویر پر گلہائے عقیدت نذر کئے۔

آسام کے گورنر پروفیسر جگدیش مکھی، آسام کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہیمنتا  بسوا شرما، مرکزی وزیر جناب  سربانند سونووال، ممبران پارلیمنٹ، جسٹس (ریٹائرڈ) رنجن گوگوئی، جناب  توپون کمار گوگوئی اور آسام حکومت کے دیگر ممبران اس موقع پر موجود تھے۔

پس منظر

وزیر اعظم کی یہ مسلسل کوشش رہی ہے کہ گمنام  ہیروز کو مناسب طریقے سے نوازا جائے۔ اسی مناسبت سے، ملک سال 2022 کو لاچت  بورفوکن کی 400ویں یوم پیدائش کے طور پر منا رہا ہے۔ تقریبات کا افتتاح اس سال فروری میں اس وقت کے صدر جمہوریہ ہند جناب رام ناتھ کووند نے گوہاٹی میں کیا تھا۔

لاچت  بورفوکن (24 نومبر 1622 - 25 اپریل 1672) آسام کی آہوم بادشاہی کی شاہی فوج کے مشہور جنرل تھے،  جنہوں  نے مغلوں کو شکست دی اور اورنگ زیب کے ماتحت مغلوں کے بڑھتے ہوئے عزائم کو کامیابی سے روکا۔ لاچت  بورفوکن نے 1671 میں لڑی گئی سرائے گھاٹ  کی جنگ  میں آسامی فوجیوں کو متاثر کیا، اور مغلوں کو عبرت ناک اور ذلت آمیز شکست دی۔ لاچت  بورفوکن اور ان  کی فوج کی بہادرانہ لڑائی ہمارے ملک کی تاریخ میں مزاحمت کے سب سے متاثر کن فوجی کارناموں میں سے ایک ہے۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن

Popular Speeches

لال قلعہ کی فصیل سے، 76ویں یوم آزادی کے موقع پر، وزیراعظم کے خطاب کا متن
The Bharat Budget: Why this budget marks the transition from India to Bharat

Media Coverage

The Bharat Budget: Why this budget marks the transition from India to Bharat
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Text of PM’s address at the Krishnaguru Eknaam Akhand Kirtan for World Peace
February 03, 2023
Share
 
Comments
“Krishnaguru ji propagated ancient Indian traditions of knowledge, service and humanity”
“Eknaam Akhanda Kirtan is making the world familiar with the heritage and spiritual consciousness of the Northeast”
“There has been an ancient tradition of organizing such events on a period of 12 years”
“Priority for the deprived is key guiding force for us today”
“50 tourist destination will be developed through special campaign”
“Gamosa’s attraction and demand have increased in the country in last 8-9 years”
“In order to make the income of women a means of their empowerment, ‘Mahila Samman Saving Certificate’ scheme has also been started”
“The life force of the country's welfare schemes are social energy and public participation”
“Coarse grains have now been given a new identity - Shri Anna”

जय कृष्णगुरु !

जय कृष्णगुरु !

जय कृष्णगुरु !

जय जयते परम कृष्णगुरु ईश्वर !.

कृष्णगुरू सेवाश्रम में जुटे आप सभी संतों-मनीषियों और भक्तों को मेरा सादर प्रणाम। कृष्णगुरू एकनाम अखंड कीर्तन का ये आयोजन पिछले एक महीने से चल रहा है। मुझे खुशी है कि ज्ञान, सेवा और मानवता की जिस प्राचीन भारतीय परंपरा को कृष्णगुरु जी ने आगे बढ़ाया, वो आज भी निरंतर गतिमान है। गुरूकृष्ण प्रेमानंद प्रभु जी और उनके सहयोग के आशीर्वाद से और कृष्णगुरू के भक्तों के प्रयास से इस आयोजन में वो दिव्यता साफ दिखाई दे रही है। मेरी इच्छा थी कि मैं इस अवसर पर असम आकर आप सबके साथ इस कार्यक्रम में शामिल होऊं! मैंने कृष्णगुरु जी की पावन तपोस्थली पर आने का पहले भी कई बार प्रयास किया है। लेकिन शायद मेरे प्रयासों में कोई कमी रह गई कि चाहकर के भी मैं अब तक वहां नहीं आ पाया। मेरी कामना है कि कृष्णगुरु का आशीर्वाद मुझे ये अवसर दे कि मैं आने वाले समय में वहाँ आकर आप सभी को नमन करूँ, आपके दर्शन करूं।

साथियों,

कृष्णगुरु जी ने विश्व शांति के लिए हर 12 वर्ष में 1 मास के अखंड नामजप और कीर्तन का अनुष्ठान शुरू किया था। हमारे देश में तो 12 वर्ष की अवधि पर इस तरह के आयोजनों की प्राचीन परंपरा रही है। और इन आयोजनों का मुख्य भाव रहा है- कर्तव्य I ये समारोह, व्यक्ति में, समाज में, कर्तव्य बोध को पुनर्जीवित करते थे। इन आयोजनों में पूरे देश के लोग एक साथ एकत्रित होते थे। पिछले 12 वर्षों में जो कुछ भी बीते समय में हुआ है, उसकी समीक्षा होती थी, वर्तमान का मूल्यांकन होता था, और भविष्य की रूपरेखा तय की जाती थी। हर 12 वर्ष पर कुम्भ की परंपरा भी इसका एक सशक्त उदाहरण रहा है। 2019 में ही असम के लोगों ने ब्रह्मपुत्र नदी में पुष्करम समारोह का सफल आयोजन किया था। अब फिर से ब्रह्मपुत्र नदी पर ये आयोजन 12वें साल में ही होगा। तमिलनाडु के कुंभकोणम में महामाहम पर्व भी 12 वर्ष में मनाया जाता है। भगवान बाहुबली का महा-मस्तकाभिषेक ये भी 12 साल पर ही होता है। ये भी संयोग है कि नीलगिरी की पहाड़ियों पर खिलने वाला नील कुरुंजी पुष्प भी हर 12 साल में ही उगता है। 12 वर्ष पर हो रहा कृष्णगुरु एकनाम अखंड कीर्तन भी ऐसी ही सशक्त परंपरा का सृजन कर रहा है। ये कीर्तन, पूर्वोत्तर की विरासत से, यहाँ की आध्यात्मिक चेतना से विश्व को परिचित करा रहा है। मैं आप सभी को इस आयोजन के लिए अनेकों-अनेक शुभकामनाएं देता हूँ।

साथियों,

कृष्णगुरु जी की विलक्षण प्रतिभा, उनका आध्यात्मिक बोध, उनसे जुड़ी हैरान कर देने वाली घटनाएं, हम सभी को निरंतर प्रेरणा देती हैं। उन्होंने हमें सिखाया है कि कोई भी काम, कोई भी व्यक्ति ना छोटा होता है ना बड़ा होता है। बीते 8-9 वर्षों में देश ने इसी भावना से, सबके साथ से सबके विकास के लिए समर्पण भाव से कार्य किया है। आज विकास की दौड़ में जो जितना पीछे है, देश के लिए वो उतनी ही पहली प्राथमिकता है। यानि जो वंचित है, उसे देश आज वरीयता दे रहा है, वंचितों को वरीयता। असम हो, हमारा नॉर्थ ईस्ट हो, वो भी दशकों तक विकास के कनेक्टिविटी से वंचित रहा था। आज देश असम और नॉर्थ ईस्ट के विकास को वरीयता दे रहा है, प्राथमिकता दे रहा है।

इस बार के बजट में भी देश के इन प्रयासों की, और हमारे भविष्य की मजबूत झलक दिखाई दी है। पूर्वोत्तर की इकॉनमी और प्रगति में पर्यटन की एक बड़ी भूमिका है। इस बार के बजट में पर्यटन से जुड़े अवसरों को बढ़ाने के लिए विशेष प्रावधान किए गए हैं। देश में 50 टूरिस्ट डेस्टिनेशन्स को विशेष अभियान चलाकर विकसित किया जाएगा। इनके लिए आधुनिक इनफ्रास्ट्रक्चर बनाया जाएगा, वर्चुअल connectivity को बेहतर किया जाएगा, टूरिस्ट सुविधाओं का भी निर्माण किया जाएगा। पूर्वोत्तर और असम को इन विकास कार्यों का बड़ा लाभ मिलेगा। वैसे आज इस आयोजन में जुटे आप सभी संतों-विद्वानों को मैं एक और जानकारी देना चाहता हूं। आप सबने भी गंगा विलास क्रूज़ के बारे में सुना होगा। गंगा विलास क्रूज़ दुनिया का सबसे लंबा रिवर क्रूज़ है। इस पर बड़ी संख्या में विदेशी पर्यटक भी सफर कर रहे हैं। बनारस से बिहार में पटना, बक्सर, मुंगेर होते हुये ये क्रूज़ बंगाल में कोलकाता से आगे तक की यात्रा करते हुए बांग्लादेश पहुंच चुका है। कुछ समय बाद ये क्रूज असम पहुँचने वाला है। इसमें सवार पर्यटक इन जगहों को नदियों के जरिए विस्तार से जान रहे हैं, वहाँ की संस्कृति को जी रहे हैं। और हम तो जानते है भारत की सांस्कृतिक विरासत की सबसे बड़ी अहमियत, सबसे बड़ा मूल्यवान खजाना हमारे नदी, तटों पर ही है क्योंकि हमारी पूरी संस्कृति की विकास यात्रा नदी, तटों से जुड़ी हुई है। मुझे विश्वास है, असमिया संस्कृति और खूबसूरती भी गंगा विलास के जरिए दुनिया तक एक नए तरीके से पहुंचेगी।

साथियों,

कृष्णगुरु सेवाश्रम, विभिन्न संस्थाओं के जरिए पारंपरिक शिल्प और कौशल से जुड़े लोगों के कल्याण के लिए भी काम करता है। बीते वर्षों में पूर्वोत्तर के पारंपरिक कौशल को नई पहचान देकर ग्लोबल मार्केट में जोड़ने की दिशा में देश ने ऐतिहासिक काम किए हैं। आज असम की आर्ट, असम के लोगों के स्किल, यहाँ के बैम्बू प्रॉडक्ट्स के बारे में पूरे देश और दुनिया में लोग जान रहे हैं, उन्हें पसंद कर रहे हैं। आपको ये भी याद होगा कि पहले बैम्बू को पेड़ों की कैटेगरी में रखकर इसके काटने पर कानूनी रोक लग गई थी। हमने इस कानून को बदला, गुलामी के कालखंड का कानून था। बैम्बू को घास की कैटेगरी में रखकर पारंपरिक रोजगार के लिए सभी रास्ते खोल दिये। अब इस तरह के पारंपरिक कौशल विकास के लिए, इन प्रॉडक्ट्स की क्वालिटी और पहुँच बढ़ाने के लिए बजट में विशेष प्रावधान किया गया है। इस तरह के उत्पादों को पहचान दिलाने के लिए बजट में हर राज्य में यूनिटी मॉल-एकता मॉल बनाने की भी घोषणा इस बजट में की गई है। यानी, असम के किसान, असम के कारीगर, असम के युवा जो प्रॉडक्ट्स बनाएँगे, यूनिटी मॉल-एकता मॉल में उनका विशेष डिस्प्ले होगा ताकि उसकी ज्यादा बिक्री हो सके। यही नहीं, दूसरे राज्यों की राजधानी या बड़े पर्यटन स्थलों में भी जो यूनिटी मॉल बनेंगे, उसमें भी असम के प्रॉडक्ट्स रखे जाएंगे। पर्यटक जब यूनिटी मॉल जाएंगे, तो असम के उत्पादों को भी नया बाजार मिलेगा।

साथियों,

जब असम के शिल्प की बात होती है तो यहाँ के ये 'गोमोशा' का भी ये ‘गोमोशा’ इसका भी ज़िक्र अपने आप हो जाता है। मुझे खुद 'गोमोशा' पहनना बहुत अच्छा लगता है। हर खूबसूरत गोमोशा के पीछे असम की महिलाओं, हमारी माताओं-बहनों की मेहनत होती है। बीते 8-9 वर्षों में देश में गोमोशा को लेकर आकर्षण बढ़ा है, तो उसकी मांग भी बढ़ी है। इस मांग को पूरा करने के लिए बड़ी संख्या में महिला सेल्फ हेल्प ग्रुप्स सामने आए हैं। इन ग्रुप्स में हजारों-लाखों महिलाओं को रोजगार मिल रहा है। अब ये ग्रुप्स और आगे बढ़कर देश की अर्थव्यवस्था की ताकत बनेंगे। इसके लिए इस साल के बजट में विशेष प्रावधान किए गए हैं। महिलाओं की आय उनके सशक्तिकरण का माध्यम बने, इसके लिए 'महिला सम्मान सेविंग सर्टिफिकेट' योजना भी शुरू की गई है। महिलाओं को सेविंग पर विशेष रूप से ज्यादा ब्याज का फायदा मिलेगा। साथ ही, पीएम आवास योजना का बजट भी बढ़ाकर 70 हजार करोड़ रुपए कर दिया गया है, ताकि हर परिवार को जो गरीब है, जिसके पास पक्का घर नहीं है, उसका पक्का घर मिल सके। ये घर भी अधिकांश महिलाओं के ही नाम पर बनाए जाते हैं। उसका मालिकी हक महिलाओं का होता है। इस बजट में ऐसे अनेक प्रावधान हैं, जिनसे असम, नागालैंड, त्रिपुरा, मेघालय जैसे पूर्वोत्तर राज्यों की महिलाओं को व्यापक लाभ होगा, उनके लिए नए अवसर बनेंगे।

साथियों,

कृष्णगुरू कहा करते थे- नित्य भक्ति के कार्यों में विश्वास के साथ अपनी आत्मा की सेवा करें। अपनी आत्मा की सेवा में, समाज की सेवा, समाज के विकास के इस मंत्र में बड़ी शक्ति समाई हुई है। मुझे खुशी है कि कृष्णगुरु सेवाश्रम समाज से जुड़े लगभग हर आयाम में इस मंत्र के साथ काम कर रहा है। आपके द्वारा चलाये जा रहे ये सेवायज्ञ देश की बड़ी ताकत बन रहे हैं। देश के विकास के लिए सरकार अनेकों योजनाएं चलाती है। लेकिन देश की कल्याणकारी योजनाओं की प्राणवायु, समाज की शक्ति और जन भागीदारी ही है। हमने देखा है कि कैसे देश ने स्वच्छ भारत अभियान शुरू किया और फिर जनभागीदारी ने उसे सफल बना दिया। डिजिटल इंडिया अभियान की सफलता के पीछे भी सबसे बड़ी वजह जनभागीदारी ही है। देश को सशक्त करने वाली इस तरह की अनेकों योजनाओं को आगे बढ़ाने में कृष्णगुरु सेवाश्रम की भूमिका बहुत अहम है। जैसे कि सेवाश्रम महिलाओं और युवाओं के लिए कई सामाजिक कार्य करता है। आप बेटी-बचाओ, बेटी-पढ़ाओ और पोषण जैसे अभियानों को आगे बढ़ाने की भी ज़िम्मेदारी ले सकते हैं। 'खेलो इंडिया' और 'फिट इंडिया' जैसे अभियानों से ज्यादा से ज्यादा युवाओं को जोड़ने से सेवाश्रम की प्रेरणा बहुत अहम है। योग हो, आयुर्वेद हो, इनके प्रचार-प्रसार में आपकी और ज्यादा सहभागिता, समाज शक्ति को मजबूत करेगी।

साथियों,

आप जानते हैं कि हमारे यहां पारंपरिक तौर पर हाथ से, किसी औजार की मदद से काम करने वाले कारीगरों को, हुनरमंदों को विश्वकर्मा कहा जाता है। देश ने अब पहली बार इन पारंपरिक कारीगरों के कौशल को बढ़ाने का संकल्प लिया है। इनके लिए पीएम-विश्वकर्मा कौशल सम्मान यानि पीएम विकास योजना शुरू की जा रही है और इस बजट में इसका विस्तार से वर्णन किया गया है। कृष्णगुरु सेवाश्रम, विश्वकर्मा साथियों में इस योजना के प्रति जागरूकता बढ़ाकर भी उनका हित कर सकता है।

साथियों,

2023 में भारत की पहल पर पूरा विश्व मिलेट ईयर भी मना रहा है। मिलेट यानी, मोटे अनाजों को, जिसको हम आमतौर पर मोटा अनाज कहते है नाम अलग-अलग होते है लेकिन मोटा अनाज कहते हैं। मोटे अनाजों को अब एक नई पहचान दी गई है। ये पहचान है- श्री अन्न। यानि अन्न में जो सर्वश्रेष्ठ है, वो हुआ श्री अन्न। कृष्णगुरु सेवाश्रम और सभी धार्मिक संस्थाएं श्री-अन्न के प्रसार में बड़ी भूमिका निभा सकती हैं। आश्रम में जो प्रसाद बँटता है, मेरा आग्रह है कि वो प्रसाद श्री अन्न से बनाया जाए। ऐसे ही, आज़ादी के अमृत महोत्सव में हमारे स्वाधीनता सेनानियों के इतिहास को युवापीढ़ी तक पहुंचाने के लिए अभियान चल रहा है। इस दिशा में सेवाश्रम प्रकाशन द्वारा, असम और पूर्वोत्तर के क्रांतिकारियों के बारे में बहुत कुछ किया जा सकता है। मुझे विश्वास है, 12 वर्षों बाद जब ये अखंड कीर्तन होगा, तो आपके और देश के इन साझा प्रयासों से हम और अधिक सशक्त भारत के दर्शन कर रहे होंगे। और इसी कामना के साथ सभी संतों को प्रणाम करता हूं, सभी पुण्य आत्माओं को प्रणाम करता हूं और आप सभी को एक बार फिर बहुत बहुत शुभकामनाएं देता हूं।

धन्यवाद!