وزیر اعظم نے مجاہدین آزادی اور 'آپریشن وجے' کےجانبازوں کو مبارکبادپیش کی
گوا کے لوگوں نے آزادی اور سوراج کی تحریکوں کو سست پڑنے نہیں دیا۔ انہوں نے ہندوستان کی تاریخ میں آزادی کے شعلے کو سب سے طویل عرصے تک روشن رکھا
"ہندوستان ایک روح ہے جہاں قوم 'خود' سے بالاتر اور سب سےمقدم ہے، جہاں صرف ایک ہی منتر ہے – قوم پہلے، جہاں صرف ایک ہی عزم ہے – ایک بھارت، شریشٹھ بھارت
اگر سردار پٹیل چند سال اور زندہ رہتے تو گوا کو آزادی کے لیے اتنا انتظار نہیں کرنا پڑتا
"ریاست کی نئی شناخت یہ ہے کہ وہ حکمرانی کے ہر کام میں سب سے آگے ہے۔ دوسری جگہوں پر، جب کام شروع ہوتا ہے، یا کام میں پیش رفت ہوتی ہے، تو گوا اسےپورا کر دیتا ہے"
وزیر اعظم نے پوپ فرانسس کے ساتھ ملاقات اور ہندوستان کے تنوع اور متحرک جمہوریت کے تئیں ان کے پیار کو یاد کیا
"قوم نے منوہر پاریکر میں گوا کے کردار کی ایمانداری،ہنراورتندہی کا عکس دیکھا تھا"

نئی دہلی۔ 19  دسمبر       وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے گوا میں 'یوم آزادی گوا'  کے موقع پر منعقدہ تقریبات میں شرکت کی۔ وزیر اعظم نے تقریب میں مجاہدی آزادی اور 'آپریشن وجے' میں شامل ہونے والے فوجیوں کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے متعدد ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کیا، جن میں فورٹ اگوڈا جیل میوزیم کی تزئین و آرائش، گوا میڈیکل کالج میں سپر اسپیشلٹی بلاک، نیو ساؤتھ گوا ڈسٹرکٹ ہسپتال، موپا ہوائی اڈے پر ایوی ایشن اسکل ڈیولپمنٹ سینٹر اور ڈابولم-نویلیم، مارگاؤ میں گیس سے موصل سب اسٹیشن شامل ہیں۔ انہوں نے گوا میں بار کونسل آف انڈیا ٹرسٹ کی انڈیا انٹرنیشنل یونیورسٹی آف لیگل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ گوا کی سرزمین، گوا کی ہوا، گوا کا سمندر، قدرت کے شاندار تحفے سے نوازا گیا ہے۔ اور آج سب کا، گوا کے لوگوں کا یہ جوش، گوا کی آزادی کے فخر میں اضافہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں آزاد میدان میں شہید میموریل میں شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد انہوں نے میرامار میں سیل پریڈ اور فلائی پاسٹ  کا بھی معائنہ کیا ۔ انہوں نے ملک کی جانب سے ’آپریشن وجے‘ کے ہیروز اور سابق فوجیوں کو اعزاز دینے پر بھی خوشی کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے متعدد مواقع فراہم کرنے  اور بہت سارے حیرت انگیز تجربات کے  لیے متحرک گوا کے جذبے کا شکریہ ادا کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ گوا اس وقت پرتگالی تسلط میں آیا جب ہندوستان کا بیشتر حصہ مغلوں کے زیر تسلط تھا۔ اس کے بعد ہندوستان نے کئی نشیب و فراز دیکھے ۔ جناب مودی نے بتایا کہ صدیوں تک اقتدار کے اتھل پتھل کے باوجود بھی نہ تو گوا اپنی ہندوستانیت کو بھولا ہے اور نہ ہی باقی ہندوستان نے گوا کو  فراموش کیا ہے۔ یہ ایک ایسا رشتہ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید مضبوط ہوا ہے۔ گوا کے لوگوں نے بھی آزادی اور سوراج کی تحریکوں کو سست نہیں  پڑنے دیا۔ انہوں نے ہندوستان کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک آزادی کے شعلے کو روشن رکھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان صرف ایک سیاسی طاقت نہیں ہے۔ ہندوستان انسانیت کے مفادات کے تحفظ کا ایک نظریہ اور ایک خاندان ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان ایک جذبہ ہے جہاں قوم 'خود' سے بالاتر ہے اور سب سے مقدم ہے۔ جہاں صرف ایک ہی منتر ہو - قوم پہلے،  جہاں صرف ایک ہی عزم ہے - ایک بھارت، شریشٹھ بھارت۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پورے ہندوستان کے لوگوں کے دلوں میں ایک خلش تھی کیونکہ ملک کا ایک حصہ ابھی بھی آزاد نہیں ہوا تھا اور کچھ ہم وطنوں کو آزادی نہیں ملی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر سردار پٹیل چند سال اور زندہ رہتے تو گوا کو آزادی کے لیے اتنا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ وزیراعظم نے جدوجہد کے ہیروز کو سلام پیش کیا ۔ گوا مکتی ویموچن سمیتی کے ستیہ گرہ میں شامل 31 ستیہ گرہیوں کو اپنی جان گنوانی پڑی۔ انہوں نے سبھی سے زور دے کر کہا کہ وہ ان قربانیوں اور پنجاب کے ویر کرنیل سنگھ بینی پال جیسے ہیروز کے بارے میں سوچیں۔  وزیر اعظم نے کہا، "گوا کی جدوجہدآزادی کی تاریخ صرف ہندوستان کے عزم کی علامت نہیں ہے بلکہ ہندوستان کے اتحاد اور سالمیت کی زندہ دستاویز ہے"۔

 

انہوں نے کچھ عرصہ قبل اٹلی اور ویٹیکن سٹی کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ وہاں گئے تھے تو انہیں پوپ فرانسس سے ملنے کا موقع ملا تھا۔ ہندوستان کے بارے میں پوپ کا رویہ بھی اتنا ہی زبردست تھا۔ وزیر اعظم نے پوپ کو ہندوستان آنے کی اپنی دعوت کے بارے میں بھی بتایا ۔ ان کی دعوت پر پوپ فرانسس کے ردعمل کو جناب مودی نے ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پوپ فرانسس نے کہا تھا "یہ آپ کا مجھے دیا گیا سب سے بڑا تحفہ ہے"۔ وزیر اعظم نے اس رد عمل کو  ہندوستان کے تنوع، ہماری روشن جمہوریت کے تئیں پوپ کی محبت کے طور پر اجاگر کیا۔ وزیر اعظم نے سینٹ ملکہ کیتیون کے مقدس آثار کو جارجیا کی حکومت کے حوالے کرنے کے بارے میں بھی بات کی۔

حکمرانی میں گوا کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ گوا کی قدرتی خوبصورتی ہمیشہ سے اس کی پہچان رہی ہے لیکن اب یہاں کی حکومت گوا کی ایک اور شناخت کو مستحکم کر رہی ہے۔ ریاست کی نئی پہچان یہ ہے کہ وہ حکمرانی کے ہر کام میں سب سے آگے ہے۔ دوسری جگہوں پر، جب کام شروع ہوتا ہے، یا کام میں پیش رفت ہوتی ہے، گوا اسے  پایہ تکمیل تک پہنچا دیتا ہے۔ وزیر اعظم نے گوا کی شاندار مثال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ  ریاست نے کھلے میں رفع حاجت سے پاک بنانے، ٹیکہ کاری، ’ہر گھر جل‘، پیدائش اور اموات کے اندراج اور لوگوں کے لیے زندگی کی آسانی کو بڑھانے اور  دیگر اسکیموں کے نفاذ میں مثال پیش کی ہے۔ انہوں نے سویم پورنا گوا ابھیان کی کارکردگی کی ستائش کی۔ انہوں نے ریاست کی حکمرانی میں کامیابی کے لیے وزیر اعلیٰ اور ان کی ٹیم کی تعریف کی۔ وزیر اعظم نے ریاست میں سیاحت کے فروغ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بھی بات کی۔ انہوں نے حال ہی میں ختم ہونے والے انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا کے کامیابی سے انعقاد کے لیے ریاست کی ستائش کی۔

وزیر اعظم نے آنجہانی جناب منوہر پاریکر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ، "جب میں گوا کی ان کامیابیوں کو دیکھتا ہوں، اس نئی شناخت کو تقویت ملتی ہے، تو مجھے اپنے دوست منوہر پاریکر جی کی  بھی یاد آتی ہے۔ انہوں نے نہ صرف گوا کو ترقی کی نئی بلندیوں تک پہنچایا بلکہ گوا کی صلاحیت کو بھی وسعت دی۔ کوئی اپنی ریاست، اپنے عوام سے آخری سانس تک کیسے سرشار رہ سکتا ہے؟ ہم نے اسے ان کی زندگی میں دیکھا"۔ انہوں نے کہا  کہ قوم نے منوہر پاریکر میں گوا کے لوگوں کی ایمانداری، ہنر اور تندہی  کا عکس دیکھاتھا ۔

تقریر کا مکمل متن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
From discovery of India to trust in Bharat

Media Coverage

From discovery of India to trust in Bharat
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
عالمی قائدین نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کو طویل ترین عرصے تک بھارت کا منتخب وزیر اعظم بننے پر مبارکباد دی
June 09, 2026

طویل ترین عرصے تک بھارت کا منتخب وزیر اعظم بننے کے لیے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کو عالمی قائدین کی جانب سے مبارکبادی پیغام حاصل ہوئے ہیں۔ دنیا بھر کے عالمی قائدین نے وزیر اعظم کی انقلابی طرز حکومت، گلوبل ساؤتھ کے لیے ان کے آواز اٹھانے، اور ایک مبنی بر شمولیت اور اقتصادی طور پر فعال بھارت کے ان کے وژن کی ستائش کی۔

سری لنکا کے صدر عزت مآب انورا کمارا دسانائیکے  نے  مؤرخہ 8 جون 2026 کو وزیر اعظم کے نام ایک مراسلے میں  حکومت اور سری لنکا کے عوام کی جانب سے انہیں تہہ دل سے مبارکباد  دی، اور کہا: ’’ یہ سنگِ میل نہ صرف آپ کے دورِ اقتدار کے سالوں کا ثبوت ہے، بلکہ اس بات کا بھی گواہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے عوام نے آپ کی قیادت پر بار بار اعتماد اور بھروسے کا اظہار کیا ہے۔‘‘ محترم صدر  بھارت کے قابل ذکر اقتصادی اور سماجی تغیر کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ وزیر اعظم مودی کے وژن نے  سری لنکا سمیت بھارت کی سرحدوں کے  پار متعدد  ممالک کے عوام کو ترغیب فراہم کی ہے۔ وزیر اعظم مودی نے 4-6 اپریل 2025 تک سری لنکا کا دورہ کیا، ان کا اس جزیرے کے ملک کا چوتھا دورہ، جس کے دوران انہیں ایک غیر ملکی معزز کو سری لنکا کا سب سے بڑا شہری اعزاز، ’مترا وبھوشن‘ سے نوازا گیا۔ اس دورے نے بھارت کی ہمسائے کو اولیت کی پالیسی کی ازسر نو تصدیق کی، اور سری لنکا بھارت کی مضبوط شراکت داری کے قریب ترین استفادہ کنندگان میں سے ایک ہے، اس میں 2022 میں سری لنکا کے اقتصادی بحران کے دوران بھارت کا اہم تعاون بھی شامل ہے۔

پاپوا نیو گینی کے وزیر اعظم عزت مآب جیمس ماریپ  ایک ذاتی ویڈیو پیغام میں وزیر اعظم مودی کو ’’ایک مثالی شخصیت اور قیادت کی مثال‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ – ’’200 ملین سے زائد افراد کو ناداری کے دائرے سے نکال کر انہیں اچھی زندگی دینا ایک شانداری کارنامہ ہے۔‘‘ وزیر اعظم ماریپ نے پاپوا نیو گنی کی گہری دوستی اور باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ مئی 2023 میں تیسری 'فورم فار انڈیا-پیسیفک آئی لینڈز کوآپریشن(ایف آئی پی آئی سی-III) سربراہ کانفرنس کے لیے وزیر اعظم مودی کا پاپوا نیو گنی کا تاریخی دورہ، جو کسی بھی بھارتی وزیر اعظم کا پہلا دورہ تھا، بحر الکاہل کے جزائر والے ممالک کے ساتھ بھارت کے روابط میں ایک سنگِ میل لمحہ تھا۔ اس دورے نے گلوبل ساؤتھ کے ایک پرعزم شراکت دار کے طور پر بھارت کے کردار کو اجاگر کیا۔

اس موقع ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی وزیر اعظم عزت مآب کملا پرساد بسیسر نے وزیر اعظم مودی کو مبارکباد دی، اور کہا کہ ’’وزیر اعظم مودی کی قیادت میں، بھارت عالمی معاملات میں ایک اہم آواز کے طور پر ابھرا ہے۔‘‘ انہوں نے معمولی شروعات سے لے کر تین میعادوں تک 1.4 ارب آبادی پر مشتمل ملک کی قیادت کرنے تک کے وزیر اعظم مودی کے سفر پر روشنی ڈالی، اور خارجہ پالیسی، اقتصادی ترقی، بنیادی ڈھانچے، اور سماجی و اقتصادی ترقی میں بھارت کی نمایاں کامیابیوں کو اجاگر کیا۔ وزیر اعظم مودی نے 3 سے 4 جولائی 2025 کو ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کا ایک تاریخی دورہ کیا، جو 26 برسوں میں کسی بھارتی وزیر اعظم کا پہلا باہمی دورہ تھا، اور یہ دورہ ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو میں بھارتی تارکینِ وطن کی آمد کی 180 ویں سالگرہ کے موقع پر ہوا۔