’’حکومت ہند لکشدیپ کی ترقی کے لیے عہد بستہ ہے‘‘

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے لکشدیپ کے اگاتی ہوائی اڈے پر پہنچنے کے فوراً بعد ایک عوامی تقریب سے خطاب کیا۔ وزیر اعظم کا رات کا قیام لکشدیپ میں ہوگا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے لکش دیپ میں موجود وسیع امکانات  کو اجاگر کیا اور اس بات کی طرف اشارہ کیاکہ  آزادی کے بعد لکش دیپ کو طویل  عرصے  سے نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے  اس بات کا ذکر کیا کہ علاقے میں جہاز رانی لائف لائن  ہونے کے باوجود بندرگاہ کا بنیادی ڈھانچہ بہت  کمزور  ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ  بات، تعلیم، صحت اور یہاں تک کہ پٹرول اور ڈیزل پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب حکومت نے اس کی ترقی کا کام صحیح معنوں میں اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ان تمام چیلنجز کو ہماری حکومت دور کر رہی ہے۔‘‘

 

وزیر اعظم مودی نے بتایا کہ پچھلے 10 سالوں کے دوران اگاتی میں بہت سے ترقیاتی پروجیکٹ مکمل ہوئے ہیں اور خاص طور پر ماہی گیروں کے لئے جدید سہولیات تشکیل دینے کا ذکر کیا۔ انہوں نے اس حقیقت کا بھی ذکر کیا کہ اب اگاتی کے پاس ہوائی اڈے کے ساتھ ساتھ ایک  آئس پلانٹ بھی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس کی وجہ سے سمندری خوراک کی برآمد اتاور سمندری خوراک کی ڈبہ بندی  سے متعلق سیکٹر کے لیے نئے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے لکشدیپ سے ٹونا مچھلی کی برآمد کی شروعات کا ذکر کیا جس سے لکشدیپ کے ماہی گیروں کی آمدنی میں اضافہ کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

آج کے ترقیاتی پروجیکٹوں  کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے لکشدیپ کی بجلی اور توانائی کی دیگر ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سولر پلانٹ اور ایوی ایشن فیول ڈپو کے افتتاح کا ذکر کیا۔ وزیر اعظم نے اگاتی جزیرے کے تمام گھروں میں نل کے ذریعہ  پانی کے کنکشن کے بارے میں آگاہ کیا اور غریبوں کے لیے مکانات، بیت الخلا، بجلی اور کھانا پکانے کی گیس کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کی کوششوں کا اعادہ کیا۔ جناب مودی نے لکشدیپ کے لوگوں کے لیے مزید ترقیاتی پروجیکٹوں کی خاطر  کاوارتی میں کل ہونے والے پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے اپنی تقریر کے اختتام پر  کہا کہ  ’’حکومت ہند اگاتی سمیت پورے لکشدیپ کی ترقی کے لیے پوری  عہد بستگی کے ساتھ کام کر رہی ہے‘‘ ۔

پس منظر

لکشدیپ کے اپنے دورے کے دوران  وزیر اعظم 1150 کروڑ روپے سے زیادہ کے ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کریں گے،  انہیں قوم کے نام وقف کریں گے اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔

 

تبدیلی کے ایک بڑے  اقدام میں، وزیر اعظم نے کوچی-لکشدیپ جزائر سب میرین آپٹیکل فائبر کنکشن (کے ایل آئی – ایس او ایف سی ) پروجیکٹ شروع کرکے لکشدیپ جزیرے میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری کے چیلنج پر قابو پانے کا عزم کیا تھا اور اگست 2020 میں لال قلعہ  کی فصیل سے یوم آزادی کی تقریر میں اس کا اعلان کیا تھا۔ اب  یہ منصوبہ اب مکمل ہو چکا ہے اور اس کا افتتاح وزیر اعظم کریں گے۔ اس سے انٹرنیٹ کی رفتار میں 100 گنا سے زیادہ اضافہ ہوگا (1.7 جی بی پی ایس سے 200 جی بی پی ایس تک)۔ آزادی کے بعد پہلی بار لکشدیپ کو سب میرین آپٹک فائبر کیبل کے ذریعے جوڑا جائے گا۔ وقف شدہ آبدوزاو ایف سی  لکشدیپ جزائر میں مواصلاتی بنیادی ڈھانچے میں ایک مثالی تبدیلی کو یقینی بنائے گیاور  تیز اور زیادہ قابل اعتماد انٹرنیٹ خدمات، ٹیلی میڈیسن، ای حکمرانی ، تعلیمی اقدامات، ڈیجیٹل بینکنگ، ڈیجیٹل کرنسی کا استعمال، ڈیجیٹل خواندگی وغیرہ کے قابل بنائے گی۔

وزیراعظم کدمات میں لو ٹمپریچر تھرمل ڈی سیلینیشن (ایل ٹی ٹی ڈی ) پلانٹ قوم کے نام وقف کریں گے۔ اس سے روزانہ 1.5 لاکھ لیٹر پینے کا صاف پانی تیار  ہوگا۔ وزیر اعظم اگاتی اور منیکوئے جزائر میں  کے تمام گھرانوں میں  نل کے ذریعہ پانی کے کنیکشنوں  (ایچ ایف ٹی سی) کو بھی قوم کے نام وقف کریں گے۔ لکشدیپ کے جزائر میں پینے کے پانی کی دستیابی ہمیشہ ایک چیلنج رہی کیوں کہ  یہ ایک  کورل جزیرہ ہونے کی وجہ سے اس میں زمینی پانی کی دستیابی بہت محدود ہے۔ یہ پینے کے منصوبے جزائر کی سیاحتی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں بھی مدد کریں گے، جس سے مقامی روزگار کے مواقع  میں اضافہ ہوگا۔

دیگر پروجیکٹ جو قوم کے نام وقف  کئے جارہے ہیں ان میں کاوارتی میں سولر پاور پلانٹ شامل ہے، جو لکشدیپ کا پہلا بیٹری سے چلنے والا سولر پاور پروجیکٹ ہے۔ اس سے ڈیزل پر مبنی پاور جنریشن پلانٹ پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی ۔

 

وزیر اعظم کالپینی میں بنیادی صحت کی دیکھ بھال کی سہولت کی تزئین و آرائش اور پانچ جزیروں اندروت، چیتلت، کدمت، اگاتی اور منیکوئے میں پانچ ماڈل آنگن واڑی مراکز (نند گھروں) کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔

 

 

 

Click here to read full text speech

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India’s digital economy enters mature phase as video dominates: Nielsen

Media Coverage

India’s digital economy enters mature phase as video dominates: Nielsen
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Cabinet approves increase in the Judge strength of the Supreme Court of India by Four to 37 from 33
May 05, 2026

The Union Cabinet chaired by the Prime Minister Shri Narendra Modi today has approved the proposal for introducing The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Bill, 2026 in Parliament to amend The Supreme Court (Number of Judges) Act, 1956 for increasing the number of Judges of the Supreme Court of India by 4 from the present 33 to 37 (excluding the Chief Justice of India).

Point-wise details:

Supreme Court (Number of Judges) Amendment Bill, 2026 provides for increasing the number of Judges of the Supreme Court by 04 i.e. from 33 to 37 (excluding the Chief Justice of India).

Major Impact:

The increase in the number of Judges will allow Supreme Court to function more efficiently and effectively ensuring speedy justice.

Expenditure:

The expenditure on salary of Judges and supporting staff and other facilities will be met from the Consolidated Fund of India.

Background:

Article 124 (1) in Constitution of India inter-alia provided “There shall be a Supreme Court of India consisting of a Chief Justice of India and, until Parliament by law prescribes a larger number, of not more than seven other Judges…”.

An act to increase the Judge strength of the Supreme Court of India was enacted in 1956 vide The Supreme Court (Number of Judges) Act 1956. Section 2 of the Act provided for the maximum number of Judges (excluding the Chief Justice of India) to be 10.

The Judge strength of the Supreme Court of India was increased to 13 by The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1960, and to 17 by The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1977. The working strength of the Supreme Court of India was, however, restricted to 15 Judges by the Cabinet, excluding the Chief Justice of India, till the end of 1979, when the restriction was withdrawn at the request of the Chief Justice of India.

The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 1986 further augmented the Judge strength of the Supreme Court of India, excluding the Chief Justice of India, from 17 to 25. Subsequently, The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 2008 further augmented the Judge strength of the Supreme Court of India from 25 to 30.

The Judge strength of the Supreme Court of India was last increased from 30 to 33 (excluding the Chief Justice of India) by further amending the original act vide The Supreme Court (Number of Judges) Amendment Act, 2019.