Industry leaders hail Prime Minister’s bold vision for a Digital India and appreciate government’s support towards reforms, innovation and collaboration
Industry leaders highlight Prime Minister’s emphasis on need for global framework for digital governance

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقدہ انٹرنیشنل ٹیلی کمیونی کیشن یونین –  ورلڈ ٹیلی کمیونی کیشن اسٹینڈرڈائزیشن اسمبلی(آئی ٹی یو – ڈبلیو ٹی ایس اے) 2024 کے دوران انڈیا موبائل کانگریس کے 8ویں ایڈیشن کا افتتاح کیا۔  ڈبلیو ٹی ایس اے  بین الاقوامی ٹیلی کمیونی کیشن یونین، اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے معیار سازی کے کام کے لیے ایک گورننگ کانفرنس ہے، جو ہر چار سال بعد منعقد ہوتی ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ آئی ٹی یو – ڈبلیو ٹی ایس اے کی میزبانی ہندوستان اور ایشیا- بحر الکاہل میں کی جا رہی ہے۔ یہ ایک اہم عالمی ایونٹ ہے، جس نے 190 سے زیادہ ممالک کے 3000 سے زیادہ صنعت کے رہنماؤں، پالیسی سازوں اور ٹیک ماہرین کو جمع کیا ہے، جو ٹیلی کام، ڈیجیٹل اور آئی سی ٹی کے شعبوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

 

ریلائنس جی آئی او – انفو کام لمیٹڈ کے چیئرمین جناب آکاش امبانی نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی ان کی دور اندیش قیادت کے لیے تعریف کی، جس نے ہندوستان کی نمایاں ڈیجیٹل تبدیلی کو متحرک کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیسری میعاد میں، جناب مودی نے انڈین موبائل کانگریس (آئی ایم سی) کو اختراع اور تعاون کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر جگہ دی ہے، جس سے ڈیجیٹل شعبے میں بے مثال ترقی ہوئی ہے۔ جناب امبانی نے کہا کہ ہندوستان 2جی  رفتار کے ساتھ جدوجہد کرنے والے ملک سے دنیا کی سب سے بڑی ڈیٹا مارکیٹ میں تبدیل ہوگیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موبائل براڈ بینڈ کو اپنانے میں 155ویں نمبر پر آنے سے اس کی موجودہ حیثیت تک ہندوستان کا سفر حکومت اور صنعت کے درمیان ہم آہنگی کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے جن دھن اکاؤنٹس جیسے اقدامات کے ذریعے 530 ملین سے زیادہ بینک کا کھاتہ نہ  رکھنے والے ہندوستانیوں کو جس میں ایک اہم حصہ خواتین کا ہے، شامل کرنے پر روشنی ڈالی۔  جناب امبانی نے کہا کہ ’’مودی جی کی اختراع کے عزم نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ٹیکنالوجی ہمارے ملک کے ہر کونے تک پہنچ جائے اور کسی کو پیچھے نہ چھوڑا جائے‘‘۔  انہوں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو مختلف شعبوں میں ایک تبدیلی کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی تجویز پیش کی، جس کا مقصد 2047 تک ایک ترقی یافتہ ہندوستان ہے اور ایک مضبوط اے آئی ماحولیاتی نظام کو فروغ دیتے ہوئے، ملک کے اندر ہندوستانی ڈیٹا کو برقرار رکھنے کے لیے ڈیٹا سینٹر کی پالیسی کو اپ ڈیٹ کرنے کی اپیل کی ۔

 

ڈیجیٹل انڈیا کے لیے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے وژن پر زور دیتے ہوئے،بھارتی ایئر ٹل کے بانی اور چیئرمین، جناب سنیل بھارتی متل، ہندوستان کے ٹیلی کام سفر کے بارے میں بات کی  اور  ٹیلی کام انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز میں اس کی انقلابی تبدیلی کی پیش رفت پر زور دیا۔  انہوں نے کہا کہ "اصل تبدیلی کا آغاز 2014 میں وزیر اعظم مودی کے 'ڈیجیٹل انڈیا' کے وژن کے ساتھ ہوا، جس نے 4 جی انقلاب کو برپا کیا۔  اس نے لاکھوں لوگوں کو، جس میں  ہمارے دیہی علاقوں کے لوگ شامل ہیں ، اسمارٹ فونز اور ضروری ڈیجیٹل خدمات تک رسائی حاصل کرنے  کے لئے بااختیار بنایا ہے۔" انہوں نے 4 جی  ٹیکنالوجی کے تبدیلی کے اثرات پر روشنی ڈالی، جس نے دیہی علاقوں سمیت لاکھوں لوگوں تک اسمارٹ فونز اور ڈیجیٹل خدمات پہنچائی ہیں۔ انہوں نے پروڈکشن لنکڈ انسینٹیوز (پی ایل آئی) پروگرام کے ذریعے مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے حکومت کے اقدامات پر زور دیا، جس نے ہندوستان کو ٹیلی کام آلات کے مینوفیکچرنگ مرکز کے طور پر پہنچا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم درآمدات پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ پروڈکشن لنکڈ انسینٹیو (پی ایل آئی) پروگرام جیسے اقدامات کے ساتھ، ہم ہندوستان کو ٹیلی کام آلات کے مینوفیکچرنگ مرکز میں تبدیل کر رہے ہیں"۔  مستقبل کے عزائم پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے، متل نے اعلان کیا کہ ہندوستان اگلے 12 سے 18 مہینوں کے اندر شہری اور دیہی علاقوں میں وسیع پیمانے پر رول آؤٹ کے ساتھ 5 جی ٹیکنالوجی میں قیادت کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے لو ارتھ آربٹ (ایل ای او) نیٹ ورکس کی صلاحیت پر بھی تبادلہ خیال کیا، اور کہا کہ  "یہ نیٹ ورکس  ہمارے سب سے زیادہ چیلنج والے خطوں میں کنیکٹیویٹی کے فرق کو پُر کریں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ تمام ہندوستانیوں کو تیز رفتار انٹرنیٹ خدمات تک رسائی حاصل ہو۔"

 

آدتیہ برلا گروپ کے چیئرمین، جناب کمار منگلم برلا نے ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کی اہمیت کو مسلسل تسلیم کرنے اور ہندوستان کو مزید مربوط، بااختیار اور جامع ڈیجیٹل قوم کی طرف لے جانے کے لیے کئی سالوں میں کئی اصلاحات متعارف کرانے میں حکومت کی جانب سے قابل اعتماد تعاون پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو وسعت دینے اور لوگوں اور کاروباروں کے لیے یکساں طور پر ڈیجیٹل اپنانے کو تیز کرنے پر حکومت کے مسلسل تاکید  کی تعریف کی۔ ایم ایس ایم ای کے بارے میں وزیر اعظم کے مقولے کو یاد کرتے ہوئے جس کا مطلب بہت چھوٹے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو زیادہ سے زیادہ تعاون کرنا ہے، جناب برلا نے کہا کہ وہ ہندوستان کے چھوٹے کاروباروں میں ڈیجیٹل تبدیلی کو فروغ دے کر انہیں مستقبل کے لیے تیار کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ مدد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے 5جی، آئی او ٹی ، اے آئی اور کلاؤڈ خدمات  جیسی ٹیکنالوجیز پر توجہ مرکوز کرنے پر زور دیا اور اس یقین کا اظہار کیا کہ ایک فروغ پزیر ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے، جو ہندوستان کے ایم ایس ایم ایز کو اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے بااختیار بناتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان نے ٹیلی میڈیسن میں 10 کروڑ ٹیلی کمیونی کیشن مشاورت کا شاندار کارنامہ انجام دیا اور کہا کہ یہ ہر ہندوستانی کے لئے بڑے فخر کی بات ہے۔ پچھلے سال حکومتی ریگولیٹر اور صنعت کی طرف سے حل کیے جانے والے سب سے زیادہ اہم مسائل میں سے ایک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، جناب برلا نے اسپام کنٹرول اور دھوکہ دہی سے تحفظ پر بات کی۔ ہندوستانی ٹیلی کام سیکٹر کی صلاحیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے ڈیجیٹل انڈیا کے وزیر اعظم کے جرات مندانہ وژن کی ستائش کی۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ وہ حکومت کی مسلسل حمایت کے ساتھ اپنا کردار ادا کریں گے، اور وزیر اعظم کے ڈیجیٹل انڈیا کی قسمت کو بروئے  کار لانے میں مدد کریں گے۔ انہوں نے حکومت، شراکت داروں اور پوری ٹیلی کام کمیونٹی کا گزشتہ سال کودرحقیقت ایک غیر معمولی بنانے پر شکریہ ادا کیا۔

آئی ٹی یو کی سکریٹری جنرل محترمہ ڈورین بوگڈان مارٹن نے کہا کہ 2024 ورلڈ ٹیلی کمیونی کیشن اسٹینڈرڈائزیشن اسمبلی اور انڈیا موبائل کانگریس کے موقع پر وزیر اعظم کے ساتھ مشترکہ تقریب میں شرکت کرنا ایک بڑے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آئی ٹی یو اور ہندوستان کے درمیان گہرے تعلقات کی ایک طاقتور علامت ہے اور انہوں نے آئی ٹی یو ایریا آفس اور انوویشن سنٹر کے افتتاح کے دوران گزشتہ سال وزیر اعظم کے ساتھ بامعنی گفتگو کو یاد کیا۔ انہوں نے صرف چند ہفتے قبل نیویارک میں عالمی رہنماؤں کے جمع ہونے اور مستقبل کے معاہدے اور اس کے عالمی ڈیجیٹل کمپیکٹ کو اپنانے کے بارے میں بات کی، جہاں ڈیجیٹل مستقبل کے بارے میں دنیا کو ایک طاقتور پیغام بھیجا گیا۔ انہوں نے عالمی ڈیجیٹل گورننس کی ضرورت پر وزیر اعظم کی تاکید کو یاد کیا اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح  انہوں نے مثالی رہنمائی کرنے اور اس کے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کو پوری دنیا کے ساتھ بانٹنے کے لئے ہندوستان کے عزائم کو بالکل واضح کیا۔ ہندوستان کی جی- 20 صدارت کا حوالہ دیتے ہوئے ، جہاں ڈی پی آئی ایک بہت بڑی ترجیح تھی، محترمہ بوگڈن مارٹن نے آئی ٹی یو کے نالج پارٹنر بننے پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کو متحد ادائیگیوں کے انٹرفیس کے سلسلے میں ہندوستان کی کامیابیوں سے بہت کچھ سیکھنے کو  ملا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معیارات سے اعتماد پیدا ہوتا ہے اور یہ وہ انجن ہے، جو ایسے پلیٹ فارمز کو طاقت دیتا ہے، جو انہیں بڑے پیمانے پر کام کرنے کی اجازت دیتا ہے اور ہر ہندوستانی کو موبائل ڈیوائس تک رسائی کے ذریعے زندگی بدلنے والی خدمات فراہم کرتا ہے۔ محترمہ بوگڈان مارٹن نے مزید کہا کہ اعتماد  شمولیت کی نش ونما کرتی ہے  اور  شمولیت  ہر کسی کے لیے ڈیجیٹل اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی مکمل صلاحیت کو کھول سکتی ہے،جس میں انسانیت کا تیسرا  حصہ  شامل ہے ، جو اب بھی آف لائن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ایشیا میں اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس ہے اور انہوں نے جرات مندانہ اجتماعی اقدام پر زور دیا۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اگلے 10 دنوں میں عالمی ڈیجیٹل گورننس کی بنیاد کے طور پر بین الاقوامی معیارات  کے کردار کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ انہوں  نے اے آئی  کے اخلاقی استعمال پر بھی زور دیا اور تکنیکی ترقی کو ڈیجیٹل شمولیت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی اپیل کی ۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's pace of economic growth shows that its Viksit Bharat dream is not out of reach

Media Coverage

India's pace of economic growth shows that its Viksit Bharat dream is not out of reach
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs valedictory session of National Departmental Summit on Water
September 02, 2026
This marks the first in a series of Summits envisioned by PM to strengthen spirit of Team India and deepen cooperative federalism
PM stresses adoption of a continuous process of review and follow up to act on actionable and time-bound outcomes
Emphasising Jan Bhagidari, PM calls for promoting Jal Utsav to deepen public awareness on water conservation
PM calls for greater adoption of water-saving technologies and learning from global best practices
PM calls for robust water data governance through effective use of AI
PM suggests structured inter-State Study-visits involving public representatives, officials and farmers on water related issues

Prime Minister Shri Narendra Modi today chaired the valedictory session of the two-day National Departmental Summit on Water, organised by the Ministry of Jal Shakti. The Summit is the first in a series of Departmental Summits envisioned by Prime Minister to strengthen the spirit of Team India, deepen cooperative federalism and foster collective ownership of national priorities through closer collaboration between the Centre and the States. It brought together Ministers and senior officials from States and Union Territories for focused deliberations on various dimensions of India’s water security.

Prime Minister appreciated the intensive two-day deliberations and emphasised that the actionable and time-bound action points emerging from the Summit should be pursued through a continuous process of review and learning. He suggested that the Summit should not remain a one-time exercise and called for a continuous process of review and follow-up.

Prime Minister called for sensitising Urban Local Bodies to the challenges arising from urbanisation, including population growth and future water requirements, and suggested organising similar Chintan Shivirs for Urban Local Bodies. He called for greater adoption of water-saving technologies. He also suggested dedicated exhibitions and workshops, including exposure to global best practices, to enable Indian manufacturers and stakeholders to develop and scale efficient solutions.

Emphasising Jan Bhagidari, Prime Minister suggested promoting “Jal Utsav” to create greater awareness among people. Prime Minister called for making de-silting a regular programme and developing clear criteria and SOPs for de-silting. On dam safety, he stressed rigorous preparedness before every monsoon, adherence to prescribed precautions and creating awareness among school students, including through suitable incorporation in educational curricula.

Prime Minister further called for strengthening knowledge and capacity on water management and governance in universities and higher educational institutions. He suggested structured inter-State study-visits involving public representatives, officials and farmers to facilitate practical learning and replication of successful interventions.

Prime Minister called for robust water data governance, with water-sector data brought together, systematically managed, analysed and effectively utilised. He recommended the use of AI for data collection and analysis through a uniform format. He also stressed anticipatory and integrated planning to address water scarcity through suitable utilisation of treated water for agriculture and industrial purposes.

Drawing upon his experience as Chief Minister of Gujarat, Prime Minister noted that instances of water scarcity could be transformed into opportunities through systematic planning, commitment and deployment of adequate resources and capable officers.

Union Minister for Jal Shakti Shri C. R. Patil highlighted four key outcomes of the summit: accelerated completion of water infrastructure projects; strengthening water conservation as a sustained people’s movement; ensuring long-term sustainability of drinking-water sources; and institutionalising effective operation and maintenance of rural drinking-water schemes.