Published By : Admin |
August 18, 2023 | 15:56 IST
Share
Recently, I came across two insightful research pieces, which would interest all those passionate about India’s economy: one from SBI Research and another by Mr. Anil Padmanabhan, a noted journalist.
These analyses shed light on something that should make us very happy-
That India is making remarkable progress on achieving equitable and collective prosperity.
I thought of sharing some interesting snippets from these research works:
The research by SBI has pointed out (based on ITR returns) that the weighted mean income has made a commendable leap in the last 9 years, from Rs 4.4 lakh in AY14 to Rs 13 lakh in FY23.
Mr. Padmanabhan's study of ITR data suggests a widening tax base, across various income brackets.
Each bracket has seen a minimum threefold increase in tax filings, some even achieving a nearly fourfold surge.
Further, the research highlights the positive performance, in terms of increase in Income tax filings, across states. When comparing ITR filings between 2014 and 2023, the data paints a promising picture of increased tax participation across all states.
For instance, ITR data analysis shows the state of Uttar Pradesh has emerged as one of the top-performing states when it comes to ITR filings. In June 2014, Uttar Pradesh reported a modest 1.65 lakh ITR filings, but by June 2023, this figure had skyrocketed to an impressive 11.92 lakh.
The SBI report also brings forth an encouraging note, highlighting that our smaller states and that too from the Northeast, namely Manipur, Mizoram, and Nagaland, have exhibited an admirable growth of over 20% in ITR filings in the last 9 years.
This shows that not only have incomes risen but so has compliance. And, this is a manifestation of the spirit of trust which the people have in our Government.
These findings not only reflect our collective efforts but also reiterate our potential as a nation. Growing prosperity augurs well for national progress. Undoubtedly, we are standing at the cusp of a new era of economic prosperity and are on course towards fulfilling our dream ‘Viksit Bharat’ by 2047.
سومناتھ سوابھیمان پَرْو — ایک ہزار سال کی اٹوٹ عقیدت (1026–2026)
January 05, 2026
Share
سومناتھ… اس لفظ کو سنتے ہی ہمارے دل و دماغ میں فخر کا احساس جاگ اٹھتا ہے۔ یہ ہندوستان کی روح کا ابدی اعلان ہے۔ یہ شاندار مندر بھارت کے مغربی ساحل پر گجرات میں پربھاس پٹن نامی مقام پر واقع ہے۔ ’’دواَدش جیوتِرلنگ اسٹوترم‘‘ میں ہندوستان بھر کے بارہ جیوتِرلنگوں کا ذکر ملتا ہے۔ اس اسٹوترم کی ابتدا ان الفاظ سے ہوتی ہے: ’’سوراشٹرے سومناتھم چ...‘‘ جو اس بات کی علامت ہے کہ تہذیبی اور روحانی اعتبار سے سومناتھ کو پہلے جیوتِرلنگ کی حیثیت حاصل ہے۔
اس کا مفہوم یہ ہے: سومناتھ کے شِولِنگ کے دیدار سے انسان تمام گناہوں سے نجات پا لیتا ہے، اپنی جائز اور نیک خواہشات کو حاصل کرتا ہے اور وفات کے بعد جنت میں مقام پاتا ہے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ یہی سومناتھ جو کروڑوں عقیدت مندوں کی عقیدت اور دعاؤں کا مرکز تھا، غیر ملکی حملہ آوروں کے نشانے پر آیا، جن کا مقصد عبادت نہیں بلکہ تخریب تھا۔
سال 2026 سومناتھ مندر کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اس عظیم عبادت گاہ پر پہلے حملے کو ایک ہزار سال مکمل ہو رہے ہیں۔ جنوری 1026 میں محمود غزنوی نے اس مندر پر حملہ کیا تھا، جس کا مقصد تشدد اور بربریت کے ذریعے عقیدے اور تہذیب کی ایک عظیم علامت کو مٹانا تھا۔
تاہم ایک ہزار سال گزر جانے کے باوجود یہ مندر آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ قائم ہے اور اس کا سہرا ان بے شمار کوششوں کو جاتا ہے جن کے ذریعے سومناتھ کو اس کی عظمتِ رفتہ لوٹائی گئی۔ ایسی ہی ایک اہم سنگِ میل کو 2026 میں 75 برس مکمل ہو رہے ہیں۔ 11 مئی 1951 کو، اس وقت کے صدرِ جمہوریہ ہند ڈاکٹر راجندر پرساد کی موجودگی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران بحال شدہ مندر کو عقیدت مندوں کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا تھا۔
ایک ہزار سال قبل 1026 میں سومناتھ پر ہونے والا پہلا حملہ شہر کے باشندوں پر ڈھائے گئے مظالم اور مندر کو پہنچائی گئی تباہی مختلف تاریخی حوالوں میں نہایت تفصیل کے ساتھ درج ہیں۔ جب ان واقعات کو پڑھا جاتا ہے تو دل لرز اٹھتا ہے۔ ہر سطر اپنے اندر غم، درندگی اور ایسے دکھ کا بوجھ سمیٹے ہوئے ہے جو وقت گزرنے کے باوجود کم نہیں ہوتا۔
اس کے اثرات کا اندازہ کیجیے کہ اس نے بھارت اور عوام کے حوصلے پر کیا اثر ڈالا ہوگا۔ آخرکار سومناتھ کو غیر معمولی روحانی اہمیت حاصل تھی۔ یہ سمندر کے کنارے واقع تھا، جو ایک ایسی سماج کو طاقت بخشتا تھا جو معاشی اعتبار سے بھی نہایت مضبوط تھا اور جس کے سمندری تاجر اور جہاز ران اس کی عظمت کے قصے دور دور تک لے کر جاتے تھے۔
اس کے باوجود، میں پورے یقین اور فخر کے ساتھ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ پہلے حملے کے ایک ہزار سال بعد سومناتھ کی کہانی تباہی سے متعین نہیں ہوتی بلکہ یہ بھارت ماتا کے کروڑوں فرزندوں کے ناقابلِ شکست حوصلے اور عزم سے عبارت ہے۔
1026 میں ایک ہزار سال قبل شروع ہونے والی قرونِ وسطیٰ کی بربریت نے دوسروں کو بھی بار بار سومناتھ پر حملہ کرنے کی ’ترغیب‘ دی۔ یہ ہمارے عوام اور ہماری تہذیب کو غلام بنانے کی ایک کوشش کا آغاز تھا، لیکن ہر بار جب مندر پر حملہ ہوا تو ایسے عظیم مرد و خواتین بھی سامنے آئے جنہوں نے اس کے دفاع کے لیے کھڑے ہو کر اپنی جان تک قربان کر دی۔ اور ہر مرتبہ نسل در نسل ہماری عظیم تہذیب کے لوگوں نے خود کو سنبھالا، مندر کی ازسرِ نو تعمیر کی اور اسے نئی زندگی بخشی۔ یہ ہمارے لیے باعثِ افتخار ہے کہ ہم اسی دھرتی کی آغوش میں پلے بڑھے ہیں جس نے اہلیابائی ہولکر جیسی عظیم شخصیات کو جنم دیا، جنہوں نے سومناتھ میں عقیدت مندوں کی عبادت کو ممکن بنانے کے لیے ایک عظیم اور نیک کوشش کی۔
1890 کی دہائی میں سوامی وویکانند نے سومناتھ کا دورہ کیا اور یہ تجربہ ان کے دل کو گہرائی سے چھو گیا۔ انہوں نے 1897 میں چنئی میں ایک لیکچر کے دوران اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’جنوبی ہندوستان کے یہ قدیم مندر اور گجرات کے سومناتھ جیسے مندر تمہیں علم و حکمت کے انبار سکھائیں گے اور کسی بھی تعداد میں پڑھی گئی کتابوں سے بڑھ کر تمہیں اس قوم کی تاریخ کا گہرا شعور عطا کریں گے۔ ذرا غور کرو کہ یہ مندر کس طرح سو حملوں اور سو بار کی تجدید کے نشانات اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں—بار بار تباہ کیے گئے اور بار بار کھنڈرات میں سے ابھر کر کھڑے ہوئے، پہلے کی طرح توانا اور مضبوط! یہی قومی ذہن ہے، یہی قومی زندگی کی دھارا ہے۔ اس کی پیروی کرو تو یہ تمہیں عظمت تک لے جائے گی۔ اگر اسے ترک کر دو تو تمہاری موت یقینی ہے، اس زندگی کی دھارا سے ہٹتے ہی انجام صرف فنا اور نیست و نابودی ہوگا۔‘‘
آزادی کے بعد سومناتھ مندر کی ازسرِ نو تعمیر کی مقدس ذمہ داری سردار ولبھ بھائی پٹیل کے باصلاحیت ہاتھوں میں آئی۔ دیوالی کے موقع پر 1947 میں کیے گئے ایک دورے نے انہیں اس قدر متاثر کیا کہ انہوں نے اعلان کیا کہ اسی مقام پر مندر کی دوبارہ تعمیر کی جائے گی۔ بالآخر 11 مئی 1951 کو سومناتھ میں ایک عظیم الشان مندر نے عقیدت مندوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے اور اس موقع پر بھارت کے پہلے صدرِ جمہوریہ ڈاکٹر راجندر پرساد موجود تھے۔ عظیم سردار صاحب اس تاریخی دن کو دیکھنے کے لیے حیات نہیں تھے، مگر ان کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو کر پوری شان و شوکت کے ساتھ قوم کے سامنے کھڑا تھا۔ اُس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو اس پیش رفت سے زیادہ خوش نہیں تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ معزز صدرِ جمہوریہ اور وزراء اس خصوصی تقریب سے وابستہ ہوں۔ ان کا خیال تھا کہ اس تقریب سے بھارت کی شبیہ پر منفی اثر پڑے گا۔ تاہم ڈاکٹر راجندر پرساد اپنے موقف پر ثابت قدم رہے اور پھر جو ہوا وہ تاریخ بن گیا۔ سومناتھ کا ذکر کے۔ ایم۔ منشی کی خدمات کو یاد کیے بغیر ادھورا ہے، جنہوں نے سردار پٹیل کا نہایت مؤثر انداز میں ساتھ دیا۔ سومناتھ پر ان کے کام، خصوصاً ان کی کتاب ’سوماناتھ: دی شرائن ایٹرنل‘ نہایت معلوماتی اور تعلیمی اہمیت کی حامل ہیں۔
واقعی، جیسا کہ منشی جی کی کتاب کے عنوان سے ظاہر ہوتا ہے، ہم ایک ایسی تہذیب ہیں جو روح اور خیالات کی ابدیت پر کامل یقین رکھتی ہے۔ ہم پختہ طور پر اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ جو چیز ابدی ہے وہ ناقابلِ فنا ہے، جیسا کہ گیتا کے مشہور شلوک ’’نَینَم چھِندَنتی شَسترانی...‘‘ میں بیان کیا گیا ہے۔ ہماری تہذیب کی ناقابلِ تسخیر روح کی اس سے بہتر مثال کوئی نہیں ہو سکتی کہ سومناتھ آج بھی تمام مشکلات اور جدوجہد پر قابو پاتے ہوئے پوری شان کے ساتھ قائم ہے۔
یہی روح آج ہماری قوم میں بھی نمایاں ہے جو صدیوں کی یلغاروں اور نوآبادیاتی لوٹ مار پر قابو پاتے ہوئے عالمی ترقی کے روشن ترین مراکز میں سے ایک بن چکی ہے۔ ہماری اقدار اور عوام کے عزم و استقلال نے آج بھارت کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ دنیا بھارت کو امید اور رجائیت کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ وہ ہمارے اختراعی نوجوانوں میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے۔ ہماری فنونِ لطیفہ، ثقافت، موسیقی اور متعدد تہوار عالمی سطح پر مقبول ہو رہے ہیں۔ یوگا اور آیوروید دنیا بھر میں صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دیتے ہوئے اثر ڈال رہے ہیں۔ عالمی سطح کے بعض نہایت سنگین مسائل کے حل بھی بھارت سے سامنے آ رہے ہیں۔
ازمنۂ قدیم سے سومناتھ مختلف شعبۂ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو یکجا کرتا آیا ہے۔ صدیوں پہلے، کالی کل سرواگیہ ہیمنچندر آچاریہ، جو ایک معزز جین راہب تھے، سومناتھ آئے۔ کہا جاتا ہے کہ وہاں عبادت کے بعد انہوں نے یہ شعر پڑھا: ’’بھَو بیج آنکُر جننا راگادیاہ کشَیَمُپگتا یَسّیَ۔‘‘ جس کا مطلب ہے: اُس ذات کو سلام ہے جس میں دنیوی وجود کے بیج فنا ہو چکے ہیں، جس میں خواہش، لگاؤ اور تمام آلائشیں مٹ چکی ہیں۔ آج بھی سومناتھ کے اندر وہی صلاحیت موجود ہے کہ وہ ذہن اور روح کے اندر کسی گہری اور بامعنی کیفیت کو بیدار کر دے۔
1026 میں ہونے والے پہلے حملے کے ایک ہزار سال بعد بھی سومناتھ کے ساحل پر سمندر اسی شدت کے ساتھ گرجتا ہے جیسا کہ اُس وقت گرجتا تھا۔ سومناتھ کے کناروں کو چھوتی ہوئی موجیں ایک کہانی سناتی ہیں۔ ہر حال میں، بالکل موجوں کی طرح یہ بار بار اٹھتا رہا اور پھر کھڑا ہو گیا۔
ماضی کے حملہ آور آج ہوا میں اڑتی ہوئی خاک بن چکے ہیں اور ان کے نام تباہی کے مترادف سمجھے جاتے ہیں۔ وہ تاریخ کے اوراق میں محض حاشیے بن کر رہ گئے ہیں، جبکہ سومناتھ پوری تابانی کے ساتھ آج بھی قائم ہے، افق سے کہیں آگے تک اپنی روشنی بکھیرتا ہوا اور ہمیں اس ابدی روح کی یاد دلاتا ہے جو 1026 کے حملے کے باوجود کمزور نہ پڑی۔ سومناتھ امید کا وہ نغمہ ہے جو ہمیں یہ بتاتا ہے کہ نفرت اور جنون گرچہ لمحاتی طور پر تباہی کی طاقت رکھتے ہیں، مگر نیکی کی قوت پر ایمان اور یقین میں ایسی تخلیقی طاقت ہے جو ہمیشہ کے لیے قائم رہتی ہے۔
اگر سومناتھ مندر، جس پر ایک ہزار سال قبل حملہ ہوا اور جسے بعد ازاں بھی مسلسل حملوں کا سامنا کرنا پڑا، بار بار اٹھ کھڑا ہو سکتا ہے تو ہم بھی یقیناً اپنی عظیم قوم کو اس شان و شوکت کی طرف دوبارہ لے جا سکتے ہیں جو حملوں سے قبل ایک ہزار سال پہلے اس کا خاصہ تھی۔ شری سومناتھ مہادیو کی برکتوں کے ساتھ ہم ایک نئے عزم کے ساتھ وِکست بھارت کی تعمیر کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں، جہاں تہذیبی دانش ہمیں پوری دنیا کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے کی رہنمائی کرے گی۔