Share
 
Comments

  1. بھارت کے وزیر اعظم جناب نریندر مودی اور سری لنکا کے وزیر اعظم ہز ایکسیلنسی مہندا راجا پکسا نے آج ایک ورچوئل چوٹی میٹنگ کی جس میں انھوں نے باہمی تعلقات اور باہمی دلچسپی کے  علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر گفتگو کی۔
  2. وزیر اعظم مودی نے وزیر اعظم مہندا راجا پکسا کو اگست 2020 میں سری لنکا میں منعقدہ پارلیمانی انتخاباب میں فیصلہ کن اکثریت حاصل کرنے کے نتیجے میں عہدہ سنبھالنے پر مبارک باد دی۔ وزیر اعظم مہندا راجا پکسا نے نیک خواہشات کے لیے شکریہ ادا کیا اور وزیر اعظم مودی کے ساتھ قریبی تعاون سے کام کرنے کی اپنی شدید خواہش کا اظہار کیا۔
  1. دونوں رہنماؤں نے صدر گوتابایا راجا پکسا اور وزیر اعظم مہندا راجا پکسا کے بالترتیب نومبر 2019 اور فروری 2020 سے بھارت کے کامیاب دوروں کو یاد کیا۔ ان دوروں سے مستقبل کے تعلقات کے لیے ایک واضح سیاسی سمت اور وژن کا تعین ہوا۔
  2. وزیر اعظم مہندا پکسا نے کووڈ-19 وبائی بیماری کے خلاف وزیر اعظم مودی کی مضبوط قیادت کی تعریف کی جو علاقے کے ملکوں کے تئیں باہمی حمایت اور امداد کے وژن پر مبنی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ موجودہ صورتحال باہمی تعلقات کو نئی جہت دینے کے لیے ایک تازہ موقع فراہم کرتی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے خوشی ظاہر کی کہ بھارت اور سری لنکا نے کووڈ-19 وبائی بیماری سے نمٹنے کے لیے قریبی تعاون کے ساتھ کام کیا ہے۔ وزیر اعظم نے وبائی بیماری کے صحت اور اقتصادیات پر پڑنے والے اثرات کو کم سے کم کرنےکےلیے سری لنکا کی ہر ممکن حمایت کے تئیں بھارت کے مسلسل عہد کی تصدیق کی۔
  1. باہمی تعلقات کو مزید رفتار دینے کے لیے دونوں رہنماؤں نے اس بات سے اتفاق کیا:
  1. دہشت گردی اور منشیات کی ناجائز تجارت کے خلاف لڑائی میں تعاون میں اضافہ جس میں انٹیلجنس، اطلاعات کے تبادلے شدت پسندی کو ختم کرنے اور ہنردی مندی کو فروغ دینے کے معاملات بھی شامل ہیں۔
  • ii. حکومت اور سری لنکا کے عوام کی طرف سے شناخت کردہ ترجیحی شعبوں میں مفید اور باصلاحیت ترقیاتی شراکت داری کو جاری رکھنا اور2020-2025 کی مدت کے دوران امپلی منٹیشن آف ہائی امپیکٹ کمیونٹی ڈیولپمنٹ پروجیکٹس (ایچ آئی سی ڈی پی) پر عملدرآمد کے سلسلے میں مفاہمت نامے کے تحت سری لنکا کے رول کو مزید وسیع کرنا۔
  1. چائے باغات کے علاقے میں 10000 ہاؤسنگ یونٹوں کی تعمیر  تیزی سے مکمل کرنے کے لیے ایک ساتھ کام کرنا جس کا اعلان وزیر اعظم مودی نے مئی 2017 میں سری لنکا کے دورے کے دوران کیا تھا۔
  2. دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول میں آسانی پیدا کرنا اور کووڈ-19 وبائی بیماری کی طرف سے درپیش چیلنجوں کے پس منظر میں سپلائی چینوں کے امتزاج کو مضبوط بنانا۔
  • v. بنیادی ڈھانچے اور کنیکٹیویٹی کے پروجیکٹوں کے کام کو جلد مکمل کرنا جن میں باہمی سمجھوتوں اور مفاہمت ناموں کے تحت قریبی صلاح ومشورے کے ذریعے بندرگاہوں اور توانائی کے شعبے شامل ہیں۔ نیزد ونوں ملکوں کے درمیان باہمی طور پر مفید ترقیاتی تعاون میں شراکت داری کے تئیں مضبوط عہد بندی۔
  1. قابل تجدید توانائی کے شعبے میں تعاون کو گہرا کرنا خاص طور پر بھارت کی طرف سے 100 ملین امریکی ڈالر کے قرضے کی   سہولت کے تحت شمسی پروجیکٹوں پر زور دینے کے ذریعے یہ کام انجام دینا۔
  2. زراعت، مویشی پروری، سائنس اور ٹیکنالوجی، صحت کی دیکھ بھال اور آیوش (آیوروید، یونانی، سدھا اور ہومیوپیتھی) کے شعبوں میں تکنیکی تعاون کو بڑھانا نیز پیشہ ور افراد کی اضافہ شدہ ترتیب کے ذریعے ہنرمندی کو فروغ دینا اور اس طرح سے دونوں ملکوں کے جوانوں کی آبادی سے پوری طرح فائدہ اٹھانا۔
  3. تہذییبی سلسلوں اور مشترکہ ورثوں مثلاً بدھ ازم، آیوروید اور یوگا کے شعبے میں مواقع تلاش کرنے کے ذریعے عوام سے عوام کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنانا۔ بھارت سرکار مقدس شہر کوشی نگر کے لیے سری لنکا سے افتتاحی بین الاقوامی پرواز کے ذریعے بودھ زائرین کے وفد کے بھارت کے دورے میں آسانی پیدا کرے گی۔ جس کا اعلان بودھ مت میں کوشی نگر کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسے ایک بین الاقوامی ہوائی اڈہ بنانے کے سلسلے میں حال ہی میں کیا گیا ہے۔
  4. کنیکٹیویٹی کو بڑھا کر اور دونوں ملکوں کے درمیان سفر کو بحال کرنے کے سلسلے میں  ایئر ببل کے جلد قیام کے ذریعے سیاحت کا فروغ، یہ کام کووڈ-19 وبائی بیماری سے درپیش خطرے کو ذہن میں رکھ کر اور ضروری احتیاطی اقدامات کرکے انجام دیا جائے گا۔
  • x. موجودہ فریم ورک کے مطابق اور اقوام متحدہ کے دیر پا ترقیاتی مقاصد سمیت یکساں امور کے مطابق مسلسل صلاح ومشورے اور باہمی چینلوں کے ذریعے ماہی گیروں سے متعلق معاملات پر توجہ دینا۔
  1.  دونوں ملکوں کی مسلح افواج کے درمیان تعاون کو مستحکم بنانا جن میں  باہمی تبادلوں، سمندری سکیورٹی تعاون اور دفاع نیز سکیورٹی کے شعبوں میں سری لنکا کی مدد بھی شامل ہے۔
  1. وزیر اعظم مہندا راجاپکسا نے دونوں ملکوں کے درمیان بودھ تعلقات کے فروغ کے لیے 15 ملین امریکی ڈالر کی بھارت کی امداد کے وزیر اعظم کے اعلان کا خیر مقدم کیا۔اس مدد سے دونوں ملکوں کے درمیان عوام سے عوام کے درمیان رابطوں کو اور گہرا کرنے میں مدد ملے گی۔ یہ تعلقات بدھ ازم کے بارے میں ہوں گے اور بودھ عبادت گاہوں کی تعمیر / تزئین، ہنرمندی کے فروغ، کلچرل تبادلوں، آثار قدیمہ میں تعاون، دونوں ملکوں میں مہاتما بدھ کے تبرکات،  بودھ اسکالروں اور بھکشوؤں وغیرہ کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنایا جائے گا۔
  2. وزیر اعظم مودی نے سری لنکا کی حکومت سے کہ وہ ایک متحدہ سری لنکا کے اندر مساوات، انصاف، امن اور وقار کے لیے  تمل لوگوں کی خواہشات پر توجہ دے۔ اور یہ کام سری لنکا کے آئین کی تیرہویں ترمیم پر عمل درآمد کے ساتھ مصالحت کے عمل کے ذریعے آگے بڑھایا جاسکتاہے۔ وزیر اعظم مہندا راجا پکسا نے اعتماد ظاہر کیا کہ سری لنکا تملوں سمیت تمام نسلی گروپوں  کی توقعات کو پورا کرنے کے لیے کام کرے گا اور یہ کام  سری لنکا کے عوام کے فیصلے کے مطابق اور آئینی ضابطوں پر عمل درآمد کے مطابق مصالحت کے ذریعے انجام دیا جائے گا۔
  3. دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بڑھتے ہوئے امتزاج کو تسلیم کیا جس میں سارک بمسٹیک، آئی او ا ٓر اے اور اقوام متحدہ سسٹم کے اندر فریم ورک پر عمل درآمد شامل ہے۔
  4. یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ بمسٹیک علاقائی تعاون کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے جو جنوبی ایشیا  کو جنوب مشرقی ایشیا سے جوڑتا ہے ، دونوں رہنماؤں نے سری لنکا کی صدارت میں ہونے والی بمسٹیک چوٹی میٹنگ کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے ایک ساتھ مل کر کام کرنے سے اتفاق کیا۔
  5.  وزیر اعظم مہندا راجا پکسا نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اس زبردست حمایت کے لیے مبارک باد دی جو انھیں بین الاقوامی برادری سے 2021-2022 کے درمیان بھارت کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا غیر مستقل ممبر بننے پر ملی ہے۔
20 تصاویر سیوا اور سمرپن کے 20 برسوں کو بیاں کر رہی ہیں۔
Mann KI Baat Quiz
Explore More
It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi

Popular Speeches

It is now time to leave the 'Chalta Hai' attitude & think of 'Badal Sakta Hai': PM Modi
Terror violence in J&K down by 41% post-Article 370

Media Coverage

Terror violence in J&K down by 41% post-Article 370
...

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
PM chairs high level meeting to review preparedness to deal with Cyclone Jawad
December 02, 2021
Share
 
Comments
PM directs officials to take all necessary measures to ensure safe evacuation of people
Ensure maintenance of all essential services and their quick restoration in case of disruption: PM
All concerned Ministries and Agencies working in synergy to proactively counter the impact of the cyclone
NDRF has pre-positioned 29 teams equipped with boats, tree-cutters, telecom equipments etc; 33 teams on standby
Indian Coast Guard and Navy have deployed ships and helicopters for relief, search and rescue operations
Air Force and Engineer task force units of Army on standby for deployment
Disaster Relief teams and Medical Teams on standby along the eastern coast

Prime Minister Shri Narendra Modi chaired a high level meeting today to review the preparedness of States and Central Ministries & concerned agencies to deal with the situation arising out of the likely formation of Cyclone Jawad.

Prime Minister directed officials to take every possible measure to ensure that people are safely evacuated and to ensure maintenance of all essential services such as Power, Telecommunications, health, drinking water etc. and that they are restored immediately in the event of any disruption. He further directed them to ensure adequate storage of essential medicines & supplies and to plan for unhindered movement. He also directed for 24*7 functioning of control rooms.

India Meteorological Department (IMD) informed that low pressure region in the Bay of Bengal is expected to intensify into Cyclone Jawad and is expected to reach coast of North Andhra Pradesh – Odisha around morning of Saturday 4th December 2021, with the wind speed ranging upto 100 kmph. It is likely to cause heavy rainfall in the coastal districts of Andhra Pradesh, Odisha & W.Bengal. IMD has been issuing regular bulletins with the latest forecast to all the concerned States.

Cabinet Secretary has reviewed the situation and preparedness with Chief Secretaries of all the Coastal States and Central Ministries/ Agencies concerned.

Ministry of Home Affairs is reviewing the situation 24*7 and is in touch with the State Governments/ UTs and the Central Agencies concerned. MHA has already released the first instalment of SDRF in advance to all States. NDRF has pre-positioned 29 teams which are equipped with boats, tree-cutters, telecom equipments etc. in the States and has kept 33 teams on standby.

Indian Coast Guard and the Navy have deployed ships and helicopters for relief, search and rescue operations. Air Force and Engineer task force units of Army, with boats and rescue equipment, are on standby for deployment. Surveillance aircraft and helicopters are carrying out serial surveillance along the coast. Disaster Relief teams and Medical Teams are standby at locations along the eastern coast.

Ministry of Power has activated emergency response systems and is keeping in readiness transformers, DG sets and equipments etc. for immediate restoration of electricity. Ministry of Communications is keeping all the telecom towers and exchanges under constant watch and is fully geared to restore telecom network. Ministry of Health & Family Welfare has issued an advisory to the States/ UTs, likely to be affected, for health sector preparedness and response to COVID in affected areas.

Ministry of Port, Shipping and Waterways has taken measures to secure all shipping vessels and has deployed emergency vessels. The states have also been asked to alert the industrial establishments such as Chemical & Petrochemical units near the coast.

NDRF is assisting the State agencies in their preparedness for evacuating people from the vulnerable locations and is also continuously holding community awareness campaigns on how to deal with the cyclonic situation.

The meeting was attended by Principal Secretary to PM, Cabinet Secretary, Home Secretary, DG NDRF and DG IMD.