کابینہ نے چندریان-1،2 اور 3 کی سیریز میں چندریان-4 مشن کو منظوری دی
چندریان 3 کے کامیابی کے بعد ، اس بار مون مشن چاند سے زمین پر واپسی کے لیے ٹکنالوجی کا مظاہرہ کرے گا اور چاند سے نمونے بھی لائے گا

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی زیر صدارت مرکزی کابینہ نے مشن چندریان -4 کو منظوری دے دی ہے جس کا مقصد چاند پر کامیابی سے اترنے کے بعد زمین پر واپس آنے کے لیے استعمال ہونے والی ٹکنالوجی کا مظاہرہ کرنا نیز چاند سے نمونے لانا اور زمین پر ان کا تجزیہ کرنا ہے۔ یہ چندریان-4 مشن چاند پر ہندوستان کی لینڈنگ (سال 2040 تک منصوبہ بندی) اور زمین پربحفاظت واپسی کے لیے بنیادی ٹیکنالوجی کی صلاحیتیں حاصل کرے گا۔ ڈاکنگ/انڈاکنگ، لینڈنگ، زمین پر محفوظ واپسی اور چاند کے نمونے جمع کرنے اور تجزیہ کرنے کے لیے درکار کلیدی ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کیا جائے گا۔

حکومت ہند نے امرت کال کے دوران ہندوستانی خلائی پروگرام کے لئے ایک وسیع وژن کا خاکہ پیش کیا ہے جس میں 2035 تک ہندوستانی خلائی اسٹیشن (بھارتیہ انترکش اسٹیشن) اور 2040 تک چاند پر ہندوستانی لینڈنگ کا تصور کیا گیا ہے۔ اس وژن کے حصول کے لئے، گگن یان اور چندریان فالو آن مشنوں کا تصور کیا گیا ہے، جس میں متعلقہ خلائی نقل و حمل اور بنیادی ڈھانچے کی صلاحیتوں کی ترقی شامل ہے۔ چاند کی سطح پر چندریان 3 لینڈر کی محفوظ اور نرم لینڈنگ کے کامیاب مظاہرے نے اہم ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہیں اور ایسی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے جو صرف چند دیگر ممالک کے پاس ہے۔ چاند کے نمونے جمع کرنے اور انہیں محفوظ طریقے سے زمین پر واپس کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کامیاب لینڈنگ مشن کے لیے اگلے مرحلے کا تعین کرے گا۔

اسرو خلائی جہاز کی ترقی اور لانچ کے لیے ذمہ دار ہو گا۔ اس پروجیکٹ کا مؤثر طریقے سے انتظام اور نگرانی اسرو کے قائم کردہ طریقوں کے ذریعے کی جائے گی۔ توقع ہے کہ یہ مشن، منظوری کے 36 ماہ کے اندر صنعت اور تعلیمی اداروں کی شراکت سے مکمل ہو جائے گا۔

تمام اہم ٹیکنالوجی کو مقامی طور پر تیار کرنے کا تصور کیا گیا ہے۔ اس مشن کی تکمیل مختلف صنعتوں کے ذریعہ کی گئی ہے اور یہ تصور کیا گیا ہے کہ روزگار کے اعلیٰ امکانات پیدا  ہوں گے اور معیشت کے دیگر شعبوں میں ٹیکنالوجی کی آمدورفت ہوگی۔

ٹیکنالوجی کے مظاہرے کے مشن "چندریان-4" کے لیے کل 2104.06 کروڑ روپے کی ضرورت ہے۔ لاگت میں خلائی جہاز کی تعمیر اور ایل وی ایم 3 کے دو لانچ وہیکل مشن، ماورائے ارضی گہرے خلائی نیٹ ورک کو سپورٹ کرنا اور ڈیزائن کی توثیق کے لیے خصوصی ٹیسٹ کا انعقاد، اور بالآخر چاند کی سطح پر اترنے اور چاند پر جمع کردہ نمونے کے ساتھ زمین پر محفوظ واپسی کا مشن شامل ہے۔

یہ مشن ہندوستان کو انسانی مشن، قمری نمونوں کی واپسی اور قمری نمونوں کے سائنسی تجزیہ کے لیے اہم بنیادی ٹیکنالوجی میں خود کفیل ہونے کے قابل بنائے گا۔ اس کی تکمیل میں ہندوستانی صنعت کی نمایاں شمولیت ہوگی۔ چندریان-4 سائنس میٹنگوں، ورکشاپ کے ذریعہ ہندوستان کے تعلیمی اداروں کو جوڑنے کا منصوبہ پہلے سے ہی موجود ہے۔ یہ مشن  زمین پر لائے گئے نمونوں کے کیوریشن اور تجزیہ کے لیے بہتر سہولیات کو بھی یقینی بنائے گا، جو کہ قومی اثاثہ ہوں گے۔

 

Explore More
شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Popular Speeches

شری رام جنم بھومی مندر دھوجاروہن اتسو کے دوران وزیر اعظم کی تقریر کا متن
India's first privately developed orbital rocket Vikram-1 set for maiden launch on July 18

Media Coverage

India's first privately developed orbital rocket Vikram-1 set for maiden launch on July 18
NM on the go

Nm on the go

Always be the first to hear from the PM. Get the App Now!
...
Prime Minister speaks with the Amir of Qatar
July 16, 2026
PM conveys heartfelt condolences on the passing of the Father Amir of Qatar
PM recalls the Father Amir’s visionary leadership and his contribution to strengthening India-Qatar relations
The two leaders reaffirm their resolve to carry forward the Father Amir’s legacy

Prime Minister Shri Narendra Modi had a telephone conversation today with the Amir of the State of Qatar, H.H. Sheikh Tamim bin Hamad Al Thani.

Prime Minister conveyed his heartfelt condolences on the passing of H.H. Sheikh Hamad bin Khalifa Al Thani, the Father Amir of Qatar.

Recalling the Father Amir’s significant contributions as the chief architect of modern Qatar, Prime Minister paid tribute to his visionary leadership, and recalled his pivotal role in strengthening India-Qatar relations over the years as well as his deep affection for India and the Indian community in Qatar.

The Amir of Qatar thanked Prime Minister for his call and conveyed his appreciation for the words of support in this difficult hour.

The two leaders reaffirmed their resolve to carry forward the Father Amir’s legacy and further strengthen the India-Qatar Strategic Partnership and people-to-people ties.

They agreed to remain in close touch.